لفظ "بابر "یا "ببر"کی تحقیق قسط اول

Afzal339

Thread Starter
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
Designer
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
511
Reaction score
766
Points
595
Gold Coins
72.50
Silver Coins
638.41
Diamonds
0.00
مؤرخین نے مشہور مغل بادشاہ ظہیرالدین بابرکے حوالے سے یہ بات نقل کی ہے کہ ظہیر الدین کو اپنی ماں "بابر" اس لیے کہاکرتی تھی کہ اس لفظ یعنی "بابر" کا معنی "شیر "یا "ببر شیر" ہے ۔مگر جب ہم نے لفظ "بابر" کے لیے لغات چیک کیے تو معلوم ہوا کہ یہ لفظ اردو لغات کے علاوہ کسی اور زبان کی لغت میں نہیں ہے جب کہ اردو لغات میں بھی اس لفظ سے درج ذیل معنی مراد لیے جاتے ہیں ۔یعنی اس زبان میں بھی اس لفظ سے "شیر" یا "ببر شیر" کا معنی مراد نہیں لیا جاتا ہے ۔
اردو زبان میں لفظ "بابر" کے معنی
نمبر ایک :
ایک قسم کی گھاس جس کا بان بٹا جاتاہے ، مونجھ
نمبر دو:ایک قسم کی مٹھائی جس کا نام "بابر" ہے
نمبر تین :حرف "یا" کے ساتھ ہو یعنی "بابری "تو اس سے (سر کے لمبے بال ، چھٹی ہوئی لٹ ، زلف) ، (سر کے بال جو لمبے اور نہ کشے ہوئے ہوں) ،( نباتیات یعنی صتر ہندی ، جنگلی تلسی یا ریھان صحرائی ؛ لاط) اور اس کے علاوہ کوئی بھی چیزمشہور مغل بادشاہ ظہرالدین بابر سے منسوب ہو مراد ہوتی ہے۔جیسا کہ بابری مسجد یعنی ظہیر الدین بابر والی مسجد
اب حیرانی کی بات یہ ہے کہ مغل بادشاہ کی ماں لفظ "بابر" سے کس دلیل کی بنیاد پر "شیر" مراد لے رہی تھی ۔تلاش بسیارکےبعدیہ عقدہ کچھ اس طرح کھلا کہ پشتو زبان میں لفظ "ببر"جس کا معنی ہے "مرد کے مشابہ داڑھی والا شیر" المعروف "ببر شیر"
اور لفظ "بابر" کی ہیت سے معلوم ہوتا ہے کہ شاید مغل بادشاہ کو اپنی والدہ "ببر" کہا کرتی تھی ۔ لیکن ناقل اور کاتب نے غلطی یہ کی کہ لفظ "ببر" کو "بابر" لکھ دیا ۔ اور یہ غلطی اردو زبان میں اب غلط العام کی صورت اختیار کرچکی ہے ۔یعنی لفظ "ببر" لفظ "بابر" بن چکا ہے ۔
اب یہ یہاں پر یہ اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ اگر لفظ "ببر"ہی اصل ہے تو اس سے لفظ" بابر" کیسے بنا ؟
تو اس کا ایک جواب تویہ ہے کہ شایداردو زبان میں موجود لفظ " بابر" کی وجہ سے لفظ "ببر"ناقل اور کاتب کی غلطی کی وجہ سےلفظ "بابر"سمجھا گیاہو۔
دوسرا جواب یہ ہے کہ ممکن ہے کہ دوسری زبان سے نقل ہونے کی وجہ سے اس میں تغیر آیا ہو اور ایسا اکثر ہوتا ہے یعنی یہ تغیر صرف اس لفظ میں نہیں ہوا ہے بلکہ ایک زبان سے دوسری زبان میں منقول اکثر الفاظ کا یہی حال ہوتا ہے جو لفظ "ببر" کا ہوا ہے ۔
اور چونکہ اردو میں تمام الفاظ دیگر زبانوں سے لیے گئے ہیں تو انھیں "مشرف بہ اردو " ہونے کے بعد ان کے نہ صرف قواعد اور معنی بلکہ شکل تک بدل دیے گئے ہیں ۔تو ممکن ہے کہ لفظ "ببر" بھی پھر لفظ "بابر" بن گیا ہو۔
لفظ "ببر" کا پشتو زبان سے منقول ہونے پرآگے ہم کچھ دلائل کا ذکر کریں گے۔ جن میں سے اس کی پہلی دلیل پشتو زبان میں "ببر"کےکئی معنی ہیں جو دلائل کے متصل ذکر ہوں گے لیکن اس سے پہلے اس کا معنی دیگر زبانوں میں کیا ہے ؟وہ ملاحظہ کیجیے ۔
لفظ "ببر" سے عربی زبان میں ایک معنی مراد ہے اور وہ ہے "مرد کے مشابہ داڑھی والا شیر" المعروف " ببر شیر" حیاۃ الحیوان میں اول "با" کے زبر اور ثانی "با" کے زیر "کے ساتھ لفظ "ببر" ہے اس کتاب میں اس اس نام سے مراد درندے کے دو نام اور بھی لکھے ہیں "برید" اور "فرانق"
صاحب حیاۃالحیوان مزید لکھتے ہیں کہ یہ جانور ہندوستان میں پایاجاتاہے اس لیے اس سے تو یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ جانور عرب میں نہیں پایا جاتا تھا۔ جب یہ جانور عرب میں نہیں پایا جاتا تو پھر یہ بھی ثابت ہوگیا کہ لفظ "ببر" بھی عربی زبان کا لفظ نہیں ہے۔
کیوں کہ اصول ہے کہ ایک چیز جہاں سب سے پہلے پائی جاتی ہے ۔اس کے لیے نام بھی وہاں کے اہل زبان وضع کرتے ہیں تو چونکہ "ببر" عرب کے بجائے ہندوستان ، افریقا اورافغانستان میں پایاجاتا ہے ۔اس لیے اس کا نام بھی عرب واضعین نے وضع نہیں کیا ہوگا بلکہ یہ درندہ جہاں جہاں پایا گیا ہوگا وہیں کے واضعین نے اس کے لیے نام بھی وضع کیا ہوگا ۔
جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ یہ لفظ عربی زبان کا نہیں تو اب اسے مقامی زبانوں میں تلاش کیا جائے یعنی سنسکرت ،ہندی ،فارسی ،اوراردو وغیرہ میں
سنسکرت اور ہندی میں یہ لفظ نہیں ہے ،فارسی کی قدیم لغات اس لفظ "ببر"سے خالی ہیں جب کہ جدید لغات نے اگر چہ اسے جگہ دی ہے مگر یہ اصل کی دلیل نہیں بن سکتی ، اردو بعد میں وجود میں آئی ہے۔ان زبانوں کے علاوہ بھی کچھ زبانیں بچتی ہیں مگر جب ہم اس کے پشتو زبان سے منقول ہونے پر مزیددلائل دیں گے تو اس سے خود بخود دیگر زبانوں کی رد ہوجائے گی ۔نیز یہاں پر لفظ "ببر" سے پشتو زبان میں مراد معنی بھی ذکر کیے جائیں گے ۔
نمبر ایک :پشتو زبان میں لفظ "ببر"کا ایک معنی "مرد کے مشابہ داڑھی والا شیر" ہے اس کے علاوہ بھی اس لفظ سے کئی معنی مراد ہیں جو آگے آرہے ہیں یعنی جب واضع نے پہلی بار "ببر" دیکھا ہوگا تو اس نے "ببر" میں موجود صفات کا معائنہ کرنے کے بعد اس درندے کے لیے اپنی زبان میں اس لفظ کے انتخاب کاسوچا ہوگا جس سے اس درندے کوتمام صفات کےاحاطے کے ساتھ نام ملے۔ اور وہ تمام رعایت لفظ "ببر" میں موجود ہےجو انشاء اللہ آگے آپ ملاحظہ کرلیں گے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ کسی بھی چیز کے لیے جب بھی نام وضع ہوا ہے تو اس نام سے معنی مراد ضرور ہوتا ہے وہ ایک الگ مسئلہ ہے کہ بعض موضوع ناموں کے معنی متروک الاستعمال ہونے کی وجہ سے مفقود ہوچکے ہیں ۔ جن کا علم اب بڑی گہری تحقیق کے بعد ہوتا ہے یہی وجہ ہے کہ پشتو زبان میں رشتوں کے نام کی وضعیت اور ان سے مراد معنی پر میری ایک کتاب زیر تالیف ہے جس میں اسی حوالے سے بحث کی گئی ہے جو انشاء اللہ عن قریب موبائل سکرین پر آپ کی نظروں اور پرنٹڈ کتاب کی شکل میں آپ کے ہاتھوں میں ہوگی ۔
نمبر دو:بہادر اوردلیرانسان کے لیے بھی لفظ"ببر" مستعمل ہے ۔مذکر کے لیے لفظ "ببر"اور مؤنث کے لیے لفظ "ببرہ" استعمال ہوتا ہے ۔
نمبر تین : غصے میں رہنے والے شخص کے لیے بھی یہ لفظ مستعمل ہے۔ مذکر کے لیے لفظ "ببر"اور مؤنث کے لیے لفظ "ببرہ" استعمال ہوتا ہے ۔
نمبر چار:سرکش مرد اور عورت کے لیے بھی تانیث اور تذکیر کے فرق کے ساتھ مستعمل ہے ۔
نمبر پانچ:جس شخص کے وجود کے کسی بھی حصے پر گھنے بال ہو ایسے شخص کو بھی "ببر" کہاجاتا ہے۔ لیکن اس میں قدرے اضافت کی وسعت ہے وہ اس طور پر کہ اگر بال سر پر زیادہ ہوتو اسے "ببرسرے" ، گدی پر ہو تو اسے"ببر سٹے" ، چہرے پر ہو تو "ببر مخے"، داڑھی گھنی ہو تو "ببر گیرے" ،کان پر بال ہو تو "ببر غوگے"کچھ اور اعضاء میں بھی اضافت کے علاوہ باقی وجود پر ہو تو اسے صرف"ببر"اور "ببرہ" تانیث اور تذکیر کے فرق کے ساتھ کہاجاتاہے ۔
نوٹ: لفظ "ببر سرے" سے ذکرکردہ معنی کے علاوہ بھی کچھ اور معنی مراد لیے جاتے ہیں مثلا
پراگندہ بالوں والا ،بکھرے بالوں والا اورپریشان حال کے لیے بھی لفظ "ببر سرے"مذکر کے لیے اور "ببرسری" مؤنث کے لیے مستعمل ہے ۔
نمبر چھ: گنجان آبادی
نمبر سات: گھناجنگل ب
نمبر آٹھ :گنجان خاندان
نمبر نو:گھنی فصل
نمبر دس :مطلق گھنا
نمبر گیارہ :مطلق گنجان
نمبر بارہ :مطلق بہادری،دلیری
نمبر تیرہ:ٹنڈ یا شیو کرنے کے بعد جب بال دوبارہ نکلتے ہیں تو اس کو بھی "ببر" کہتے ہیں ۔
نمبر چودہ: ناہموار کے معنی میں استعمال ہوتا ہے ۔
نمبر پندرہ: اٹک مکٹ کے لیے بھی مستعمل ہے ۔
ایک اعتراض اور اس کا جواب
اعتراض یہ ہے کہ آزاد دائرۃ المعارف پر ایک صاحب نے لکھا ہے کہ "ببر شیر "سمجھاجانے والا ہی اصل میں شیر(مرد کے مشابہ داڑھی والا) ہے اور جو "عام شیر" سمجھاتاہے وہی "ببر" ہے یعنی انگلش میں لوئن سمجھاجانے والا"شیر" ہی ہےاور ٹائیگر سمجھاجانے والا "ببر"ہی ہے ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ پشتو زبان میں لفظ "ببر"کےتمام معنوں کا گہرائی سے مطالعہ کرنے کے بعد دو طرح کے مجموعی معنی ثابت ہورے ہیں
نمبر ایک :دلیری اور بہادری
نمبر دو: گھنا ،گنجان اوربال وغیرہ
اور ہم جانتے ہیں کہ یہ دونوں چیزیں"مرد کے مشابہ داڑھی والے شیر" میں ہی پائی جاتی ہیں عکس میں نہیں اس لیےلفظ "ببر"سےمرد کے مشابہ داڑھی والا شیر مراد لیا جائے نہ کہ عکس کیوں کہ عکس یعنی عام کے لیے تو لفظ "شیر" ہی کافی ہے ۔
دو اعتراضات اور ان کے جوابات
اول اعتراض یہ ہے
کہ کیا یہ ممکن نہیں ہے کہ لفظ "ببر" تو کسی اور زبان سے آیا ہو مگر پشتو میں بھی مستعل ہو اور وہیں پر اس درندے میں موجود صفات کو اس نام سے مراد لینا بعد میں شروع ہوا ہے ۔
اس کا جواب یہ ہے کہ اصولی طور پر نام وضع بعد میں ہوتا ہے اس نام سے مراد معنی پہلے سے موجود ہوتا ہے ۔ چنانچہ پشتونوں نے جب پہلی دفعہ جہاز دیکھا تھا تو اسی وقت اس کا نام "الوتکہ"اڑنے والا رکھا تھا اب اگر کوئی یہ کہے کہ لفظ "الوتکہ" سے اڑنے والا معنی جہاز کے اڑنے کی صفت کی وجہ سے پشتو زبان میں وضع نام کے بعد آیا ہے تو میں امید کرتا ہوں کہ ایک عام پڑھا لکھا پشتون بھی اس بات کو قبول نہیں کرے گا ۔ دوسری بات یہ کہ یہ لفظ جن زبانوں میں موجود ہے وہیں پر اس سے درندے کے نام کے علاوہ کوئی اور معنی مراد نہیں لیا جاتا ہے ۔ اور یہ بات اس لفظ کے دیگر زبانوں سے نہ ہونے کی ایک بڑی دلیل ہے ۔لہذا یہ اعتراض درست نہیں ہے
دوسرا اعتراض یہ ہے کہ فارسی زبان میں دونوں قسم کے درندوں کے لیے ایک ہی نام "شیر"استعمال ہوا ہے اسی طرح پشتو زبان میں "ببر شیر" کے لیے لفظ "ببر" نام مستعمل ہے اگر "شیر " سے من وجہ اور" ببر" سے مطلقا ایک ہی درندہ مراد ہے تو پھر اردو زبان میں "ببر شیر" کہنے کی کیا ضرورت ہے صرف شیر یا صرف"ببر"ہی کہہ دیتے تو بات کافی تھی ۔
تو اس کا جواب یہ ہے کہ یہ بات درست ہے کہ لفظ "شیر" فارسی میں مطلقاہے یہ لفظ دونوں قسم کے شیر کے لیے مستعمل ہےمرد کے مشابہ داڑھی والے کے لیے بھی اور عکس کے لیے بھی مگر لفظ "ببر" پشتو میں خاص ہے جس سے مرد کے مشابہ داڑھی والاشیر ہی مراد ہے۔اورعام شیر کے لیے تو پشتو میں " زمرے یا منزرے" نام مستعمل ہیں ۔
چونکہ اردو کئی زبانوں کا مجموعہ ہے تو اس میں واضع نے شایداطلاق میں تخصیص یعنی "شیر" مطلق کو "شیر " خاص بنانے کے لیےلفظ "ببر" کو بطور صفت استعمال کیا ہے اس لیے اب یہ"گل روز" نام کی طرح ہوگیا ہے یعنی لفظ " گل" سے من وجہ مطلق پھول اور من وجہ گلاب کا پھول بھی مراد لیا جاسکتا ہے اور اسی طرح " روز" کا معنی گلاب کا پھول ہے ۔تو جیسے"گل روز " درست ہے اسی طرح "ببر شیر" کو بھی درست ماناجائے ۔البتہ پشتو میں "ببر شیر" کے لیے صرف "ببر" کا نام ہی کافی ہے ۔
لیکن "آب زم زم کا پانی" کہنا غلط ہے کیوں کہ آب کا معنی بھی پانی ہے یعنی یا تو"آب زم زم کہے یا زم زم کا پانی دونوں سے الگ الگ ایک جیسا معنی حاصل ہوتا ہے ۔اس لیے آب زم زم یا زم زم کاپانی دونوں میں سے ایک کہنا کافی ہوگا نہ کہ آب زم زم کا پانی کہنا کیوں کہ اس صورت میں دو ایک معنی والے مختلف زبانوں کے الفاظ کا تکرار آرہاہے جو زبانوں کے قواعد کے روء سے درست نہیں ہے ۔
ایک ضمنی اعتراض پیدا ہوتا ہے کہ چند فارسی کی جدید لغات نےلفظ "ببر" کو "مرد کے مشابہ داڑھی کے بغیر "شیر" کے لیے استعمال کیا ہے جس سے دو چیزیں ثابت ہوتی ہیں۔
اولا :یہ لفظ پشتوزبان کا نہیں بلکہ فارسی زبان کا ہے
ثانیا : اس سے مراد"مرد کے مشابہ داڑھی والا شیر "نہیں بلکہ عام شیر ہے
اس کا جواب ماقبل میں ہم دے چکے ہیں اولا:کہ اس لفظ کے متعلق فارسی کی قدیم لغات خاموش ہیں لہذا جدید لغات کی کتابت بطور دلیل پیش نہیں کی جاسکتی ہے ۔ کیوں کہ ممکن ہے کہ یہ لفظ یعنی "ببر" اب وہاں بھی استعمال ہونا شروع ہوگیا ہو۔
اسی سے ثانیا کا اعتراض بھی رفع ہورہاہے کہ جب لفظ ہی فارسی زبان کا ثابت نہیں ہورہاہے تو اب اس سے کیا مراد ہے اور کیا نہیں یہ دعوی بھی فارسی زبان کا قابل قبول نہیں ہے۔اب ذرا اردو زبان میں اس لفظ "ببر"سے مراد معنی بھی ملاحظہ کیجیے ۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔​
 
Top