ادبی چمچے منشایاد کی شگفتہ تحریر

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,439
Reaction score
3,612
Points
1,986
Location
Manchester U.K
Gold Coins
343.14
Silver Coins
9,724.86
Diamonds
1.00

15267_63647518.jpg
ادب میں چمچوں کی تقسیم اس طرح ہو سکتی ہے، ہم یہاں صرف دو قسموں کے چمچوں کا ذکر کریں گے۔ پہلی قسم وقتی ضرورت کے لیے کام کرتی ہے۔ یوں سمجھ لیجئے کہ یہ وہ قسم ہے جو آئس کریم کے ساتھ ملتی ہے اور جسے آئس کریم کھانے کے بعد پھینک دیا جاتا ہے۔ اس قسم میں ’واہ‘… ’واہ وا‘… اور …’واہ وا واہ‘ اس کی ارتقائی منزلیں ہیں۔ یہ قسم زیادہ تر مشاعروں میں کام آتی ہے۔ یہ چمچے یہ دیکھے بغیر کہ شاعر کا تو سن خیال کس بلندی پر پرواز کر رہا ہے اور کر بھی رہا ہے یا کھونٹے سے بندھا صرف دولتیاں جھاڑ رہا ہے۔ داد و تحسین کے ڈونگرے برساتے رہتے ہیں۔ شاعر مشاعرہ پڑھنے سے پہلے یقین کر لیتا ہے کہ وہ موجود ہیں اور وہ موجود ہوتے ہیں۔ دوسری قسم ان چمچوں کی ہے جو ڈش کے ساتھ دستر خوان تک آتے ہیں۔ ان کی بھی قسمیں ہیں۔ میٹریل کے لحاظ سے بھی یہ کئی طرح کے ہو سکتے ہیں، پلاسٹک کے، بھرت کے، ایلومینیم کے، لوہے کے، پیتل کے اور سٹین لیس سٹیل کے۔ کبھی چاندی کے بھی ہوتے تھے لیکن اب وہ صرف گھٹی دینے کے کام آتے ہیں۔ کسی ادیب یا شاعر کے ہاں شہرت کی دیگ چڑھتی ہے تو چمچوں کی ضرورت پیش آتی ہے۔ یہاں غلط فہمی کا ازالہ کر دینا ضروری ہے کہ ہم ادیبوں اور شاعروں کے پرستان اور فینز کی بات نہیں کر رہے، خالص چمچوں کی بات کر رہے ہیں جو اپنی زنگ آلود ذہنیتوں سمیت شاعروں، ادیبوں کو گھیرے رکھتی ہیںا ور آکاس بیل کی طرح ان سے چمٹے رہتے ہیں اور جس طرح بڑے بڑے بادشاہ اور حکمران خوشامد کے میٹھے زہر سے ہلاک ہوتے رہتے تھے۔ اسی طرح یہ لوگ ادیب کو ادیب اعظم اور شاعر کو شاعر اعظم کہہ کر ان کا عاداعظم نکال لیتے ہیں اور بے چارہ شاعر یا ادیب بہت جلد بھول جاتا ہے کہ وہ وارڈ کمیٹی یا زیادہ سے زیادہ یونین کونسل کے علاقے کا عظیم ترین شاعر ہے یا براعظم کا۔ ادب میں مبالغہ کو ویسے بھی بڑی اہمیت حاصل ہے اور مبالغہ کو حسن مبالغہ کہا جاتا ہے (خدا کا شکر ہے کہ غلو اور اغراق کو حسن غلو اور حسن اغراق نہیں کہا جاتا) اُردو فارسی شاعری میں اس کی مثالیں ہر جگہ بکھری پڑی ہیں۔ نئے ادب میں بھی اسے بڑا بلند مقام حاصل ہے۔ آپ جس قدر مبالغہ آمیز، غیر فطری اور چونکا دینے والی بات کہیں گے اتنا ہی ادب میں نیا پن ہو گا اور اگر آپ بالکل بے تکی ہانکیں، کہیں کی اینٹ کہیں کا روڑا، جیسے ملیریا بخار میں آدمی ہذیان بکتا ہے۔ جیسے مرگی کے دورے سے پہلے مریض محسوس کرتا ہے یا جیسے لوگ عام طور پر نہیں سوچتے تو آپ جدید ادب تخلیق کر سکیں گے۔ وہ الگ بات ہے کہ خود آپ کی سمجھ میں بھی نہ آئے کہ آپ کی اس بے ربط تحریر کا مطلب کیا ہے؟ نئے پن اور جدیدیت کے تجربات کے لیے بہت ضروری ہے کہ کچھ مطلب نکالنے زندہ باد کہنے اور نعرے لگانے والوں کا تعاون حاصل ہو ایسے کام کے آدمیوں کو آپ جو چاہے نام دیں۔ ادبی محفلوں میں اور خاص کر تنقیدی اجلاس ہو تو شاعر اور ادیب ان کے بغیر نہیں آتے۔ راقم الحروف کو چند برس پہلے ایک ادبی انجمن کی ہفتہ وار کارروائی لکھنے کا موقع ملا۔ شروع شروع میں یہ کام بڑا مشکل اور محنت طلب معلوم ہوا اور شارٹ ہینڈ سے ناواقفیت بڑی کھلتی تھی۔ مگر چند ہی ہفتوں بعد ساری مشکلات آسان ہوتی نظر آئیں اور پتہ چل گیا کہ کون چمچہ ہ اور کون صاحب چمچہ… نیز کون کس کو مکھن لگاتا ہے ۔ چمچوں نے پیٹنٹ قسم کے جملے اور پیراگراف رٹ رکھے تھے۔ ہر تحریر کے متعلق وہی جملے اور باتیں دہرائی جاتی تھیں۔ ٭…٭…٭
 

Doctor

★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Most Helpful
Developer
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
5,338
Reaction score
6,445
Points
2,642
Location
Rawalpindi - Punjab - Pakistan
Gold Coins
272.25
Silver Coins
12,590.38
Diamonds
0.00
Automatic Thread Bump for 1 Week.
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
بہت خوب
اس قسم کے چمچے صرف ادیبوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ کئی شعبہ ہائے جات کے لوگ یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں گویا کہ یہ ایک ہمہ گیر صفت ہے جسے اکثر لوگ اپنی مقبولیت کو اونچا دکھانے کے لئے مصنوعی طور پر اختیار کرتے ہیں حالانکہ




:alkamunia:
 

صبیح صبیح

Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
Expert
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
2,636
Reaction score
3,262
Points
1,402
Location
Central
Gold Coins
71.87
Silver Coins
4,023.85
Diamonds
0.00
Thread Highlight Unlimited
Automatic Thread Bump for 1 Week.
Change Username Style.
طنزو مزاحیہ کاٹ دار جملوں پر مشتمل زبردست تحریر ہے
 

صبیح صبیح

Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
Expert
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
2,636
Reaction score
3,262
Points
1,402
Location
Central
Gold Coins
71.87
Silver Coins
4,023.85
Diamonds
0.00
Thread Highlight Unlimited
Automatic Thread Bump for 1 Week.
Change Username Style.
بہت خوب
اس قسم کے چمچے صرف ادیبوں کے ساتھ خاص نہیں بلکہ کئی شعبہ ہائے جات کے لوگ یہ طریقہ اختیار کرتے ہیں گویا کہ یہ ایک ہمہ گیر صفت ہے جسے اکثر لوگ اپنی مقبولیت کو اونچا دکھانے کے لئے مصنوعی طور پر اختیار کرتے ہیں حالانکہ




:alkamunia:
ناصرف ہمہ گیر بلکہ تاریخی صفت ہے۔

خوشامد ایک زہر ہے جسے لوگ استعمال کرکے اپنے مفادات حاصل کرتے ہیں اور خوشامد ہی انسان کی کمزوری بھی ہے جس کے جال میں بڑے بڑے پھنس جاتے ہیں۔

ایسا ناصرف الفاظ کے ذریعے ہوتا ہے بلکہ انداز و حرکات سے بھی خوشامد ہوتی ہے۔

کبھی بھی آنکھوں اور مسکراہٹ سے بھی خوشامد ہوتی ہے۔

تحفے تحائف سے بھی
دعوتوں سے بھی

حقیقی اور کھرا انسان ایسا نہیں کرتا وہ حق اور سچ پر قائم رہتا ہے اور اس کے کہنے و لکھنے میں کسی چھوٹے و بڑے ،صاحب اختیار ذی وقار کی پرواہ نہیں کیا کرتا، جو اسے اچھا لگتا ہے اس کی تعریف کرتا ہے اور جو برا لگے اس کے متعلق کھل اظہار خیال کرتا ہے۔
وہ امر بالمعروف وعنہی عن منکر کا داعی ہوتا ہے۔

ایسے لوگوں کو لوگ پسند نہیں کرتے تاریخ میں علماء کو بھی اس لیے پسند نہیں کیا گیا کہ وہ شوگر کوٹڈ دین کیوں نہیں پیش کرتے اور جو ایسا کرتے وہ منظور نظر ہوتے۔
علما ئے حق کو شہید بھی کیا گیا اور انہیں کوڑوں و صعوبت بند کی سزائیں بھی ہوئیں
کسی نے سچ کہا ہے کہ سچ وہی ہے جو لوگ سننا چاہیں۔

اور آج کے دور میں یہی بہتر ہے کہ آدمی وہ کہے جو لوگ سننا پسند کریں خواہ مخواہ کسی کو اپنا دشمن نہیں بنانا چائیے کیونکہ زندگی کے دیگر شعبوں میں بھی آج کا انسان کتنا مخلص و سچا ہے کہ وہ اس صفت کے چھوٹنے کی پرواہ کرے گا،۔
 
Top