افسانہ - چور، تحریر اشفاق احمد

ناعمہ وقار

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Contest Winner
Dynamic Brigade
Writer
Joined
May 8, 2018
Messages
2,226
Reaction score
2,417
Points
1,227
Location
اسلام آباد - پاکستان
Gold Coins
18.23
Silver Coins
4,272.86
Diamonds
0.00
Automatic Thread Bump for 1 Week.
Single Thread Highlight for 1 Week.
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.

ایک چور رات کے اندھیرے میں ایک غریب خاندان کے گھر میں چوری کی نیت سے داخل ہوتاہے۔ کمرے میں داخل ہوکر ایک الماری کھولتا ہے جس میں دواوں کی شیشیاں بھری ہوتی ہیں۔ اسی الماری کے خانے میں سے اسے ایک لفافہ ملتا ہے جس میں ایک سو ستر روپے اور ایک خط رکھا ہوتا ہے۔ چور لفافہ منہ میں دبا کر مسروروشادمان نکل جاتا ہے۔ گھر پہنچ کر لفافہ کھولتا ہے اور خط نکال کر پڑھتا ہے۔

خط میں کسی شکیلہ بیگم نے اپنے بھائی کو اپنے بیمار بیٹے کے علاج کے لئے رقم نہ دینے پر شکوہ کیا تھا اور لکھا تھا کہ ادھار وغیرہ لے کر علاج کے لئے رقم مہیا کرلی گئی ہے اور وہ بیٹے کو بغرضِ علاج پنڈی لیجانے والی تھیں۔ یہ حقیقیت جان کر چور کو سویا ہوا ضمیر بیدار ہوگیا۔ رات اس نے سخت اضطراب میں کاٹی اور صبح رقم لوٹانے گھر سے نکلا مگر اسے جائے واردات پر پولیس والے تفتیش کرتے نظر آئے۔ وہ خوفزدہ ہوکر داتا دربار چلا گیا۔ اسکا ضمیر اسے چین نہ لینے دیتا تھا۔ اگلے دن وہ پھر شکیلہ بیگم کے گھر کی طرف گیا۔ اس نے چاہا کہ رجسٹری کا لفافہ پیسوں سمیت اندر اچھا ل دے لیکن ہمت نہ ہوئی۔

چور رات پھر اپنے ضمیر سے لڑتا را اور بالآخر اس کے آگے ہتھیار ڈال دئیے۔ صبح کو نہا دھو کر سیدھا شکیلہ بیگم کے گھر پہنچا کنڈی کھٹکھٹا کر انتظار کرنے لگا کہ جونہی دروازہ کھلے وہ لفافہ اندر پھینک کر روانہ ہوجائے گا۔ دروازہ کھلا لیکن چور کی ہمت نہ ہوئی۔ اس نے یونہی بات بنادی اور وہاں سے چلا آیا۔

اسکے ضمیر نے پھر اس کی لعنت ملامت شروع کردی اور بالآخر اس کی قوت مدافعت جواب دے گئی۔ اس نے ایک ٹرانزسٹر ریڈیو چرا کر بیچ دیا اور قصور وقت گزارنے چلا گیا لیکن یہاں بھی اس کا ضمیر آسودہ نہ ہوسکا۔ ایک ہفتے کے بعد وہ پھر لاہور آیا اور سیدھا شکیلہ بیگم کے گھر پہنچا۔ جب وہ گلی کے موڑ پر پہنچا تو اندر سے بچے کا جنازہ باہر نکل رہاتھا۔ بچے کی حالت بہت خراب تھی۔چور نے آگے بڑھ کر میت کو کندھا دیا۔ بہت سے لوگ باتیں کررہے تھے اور چور کو برا بھلا کہہ رہے تھے جس نے سفرخرچ کی رقم چرا کے بچے کی جان لے لی تھی۔

چور کے ضمیر نے اس کی گردن پر زور سے دھپا مارا۔ وہ سڑک پر گر گیا۔ لوگوں نے پکڑ کر اسے اٹھایا۔ جنازہ میانی صاحب پہنچ گیا۔ تدفین سے فارغ ہوکر لوگ گھروں کو لوٹ گئے۔ چور نے پھولوں کی ایک ٹوکری خریدی اور سقے کو پیسے دے کر ساری قبر پر چھڑکاو کروایا اور سارے پھول قبر پر ڈال دیے اور بہت دیر وہاں بیٹھا رہا۔ اس نیک کام کی بدولت اس کے ضمیر کا بوجھ بالکل ختم ہوگیا​
 

Doctor

★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Most Helpful
Developer
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
5,380
Reaction score
6,535
Points
2,642
Location
Rawalpindi - Punjab - Pakistan
Gold Coins
277.17
Silver Coins
13,946.40
Diamonds
0.00
Automatic Thread Bump for 1 Week.
Thread Highlight Unlimited
Single Thread Highlight for 1 Week.
Change Username Style.
جیسا ضمیر ویسا بوجھ اور ویسے ہی بوجھ کا اترنا
:alkamunia:

اچھا انتخاب ہے کم از کم چند لمحے تو سوچنا پڑا کہ کیا رپلائے کروں
 

ناعمہ وقار

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Contest Winner
Dynamic Brigade
Writer
Joined
May 8, 2018
Messages
2,226
Reaction score
2,417
Points
1,227
Location
اسلام آباد - پاکستان
Gold Coins
18.23
Silver Coins
4,272.86
Diamonds
0.00
Automatic Thread Bump for 1 Week.
Single Thread Highlight for 1 Week.
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
جیسا ضمیر ویسا بوجھ اور ویسے ہی بوجھ کا اترنا
:alkamunia:

اچھا انتخاب ہے کم از کم چند لمحے تو سوچنا پڑا کہ کیا رپلائے کروں
درست فرمایا، کچھ تحاریر ایسی ہی ہوتی ہیں کہ انسان لاجواب ہو جاتا ہے
 

PakArt UrduLover

Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,439
Reaction score
3,628
Points
1,986
Location
Manchester U.K
Gold Coins
343.39
Silver Coins
9,936.86
Diamonds
1.00
افسانہ - چور، تحریر اشفاق احمد
سر اشفاق احمد صاحب بہت عمدگی سے زائچہ بناکر سممجھاتے تھے۔اللہ انھیں کروٹ کروٹ جنت میں اعلّی مقام عنائت کرے۔آمین
 

ناعمہ وقار

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Contest Winner
Dynamic Brigade
Writer
Joined
May 8, 2018
Messages
2,226
Reaction score
2,417
Points
1,227
Location
اسلام آباد - پاکستان
Gold Coins
18.23
Silver Coins
4,272.86
Diamonds
0.00
Automatic Thread Bump for 1 Week.
Single Thread Highlight for 1 Week.
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
افسانہ - چور، تحریر اشفاق احمد
سر اشفاق احمد صاحب بہت عمدگی سے زائچہ بناکر سممجھاتے تھے۔اللہ انھیں کروٹ کروٹ جنت میں اعلّی مقام عنائت کرے۔آمین
آمین
 

صبیح صبیح

Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
Expert
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
2,649
Reaction score
3,288
Points
1,402
Location
Central
Gold Coins
72.87
Silver Coins
4,162.89
Diamonds
0.00
Thread Highlight Unlimited
Automatic Thread Bump for 1 Week.
Change Username Style.
،شئیرنگ کے لیے شکریہ،اشفاق احمد مرحوم عظیم انسان تھے
اس افسانے کو پڑھ کر مجھے اس میں دو جگہوں پر سقم نظر آئے جو یونی کوڈ میں ڈھالنے کی وجہ سے ہوسکتے ہیں یا پھر انہوں نے یہ مثال کسی محفل میں سمجھائی ہوگی جسے اردو میں لکھا گیا ہے ۔

اشفاق احمد مرحوم صاحب نے یہ افسانہ اپنے علم و تجربے کی بنا پر لکھا ہے ورنہ چور کا ضمیر محض قبر پر پھول ڈالنے سے مطمئن کیسے ہوگیا، نابالغ بچے جنتی ہیں بخشے بخشائے، والدہ کے دکھ کامدوا کرکے ہی وہ چور اپنے ضمیر کو مطمئن کرسکتا تھا۔
محض قبر پر بھول ڈالنے سے قبر کے اندر میت پر جو گزرتی ہے وہ پھولوں سے اور قبر پر پانی کے چھڑکاؤ سے تعلق نہیں رکھتا،
دوسری صورت وہی ہے کہ آدمی اپنےعلم کی بنا پرہی اجتہاد قائم کرے بہرحال اشفاق احمد نے افسانے میں وہ چیز بیان مزید ڈیٹیل میں بیان نہیں کی۔

مولانا رومی نےبھی نے ایک حکایت بیان کی
ایک چور ایک باغ میں گھس گیا اور آم کے درخت پر چڑھ کر آم کھانے لگا
اتفاقًا باغبان بھی وہاں آپہنچا اور چور سے کہنے لگا اوبے شرم یہ کیا کر رہے ہو؟
چور مسکرایا اور بولا
ارے بے خبر یہ باغ اللہ کا ہے اور میں اللہ کا بندہ ہوں ، وہ مجھے کھلا رہا ہے اور میں کھا رہا ہوں ، میں تو اسکا حکم پورا کر رہا ہوں ، ورنہ تو پتہ بھی اس کے حکم کے بغیر حرکت نہیں کر سکتا
باغبان نے چور سے کہا
جناب! آپ کا یہ وعظ سن کر دل بہت خوش ہوا ۔ ذرا نیچے تشریف لائیے تاکہ میں آپ جیسے مومن باللہ کی دست بوسی کرلوں۔ سبحان اللہ اس جہالت کے دور میں آپ جیسے عارف کا دم غنیمت ہے مجھے تو مدت کے بعد توحید ومعرفت کا یہ نکتہ ملا ہے جو کرتا ہے خدا ہی کرتا ہے۔ اور بندے کا کچھ بھی اختیار نہیں قبلہ ذرا نیچے تشریف لائیے
چور اپنی تعریف سن کر پھولا نہ سمایا اور جھٹ سے نیچے اتر آیا پھر
جب وہ نیچے آیا تو باغبان نے اسکو پکڑ لیا اور رسی کے ساتھ درخت سے باندھ دیا ۔ پھر خوب مرمت کی ، آخر میں جب ڈنڈا اٹھایا تو چور چلا اٹھا ، کہ ظالم کچھ تو رحم کرو ، میرا اتنا جرم نہیں جتنا تو نے مجھے مار لیا ہے ۔ باغبان نے ہنس کر اس سے کہا کہ جناب ابھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ جو کرتا ہے اللہ کرتا ہے ، اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کر سکتا ، اگر پھل کھانے والا اللہ کا بندہ تھا تو مارنے والا بھی تو اللہ کا بندہ ہے اور اللہ کے حکم سے ہی مار رہا ہے کیونکہ اس کے حکم کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہلتا
چور ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا خدارا مجھے چھوڑ دے اصل مسئلہ میری سمجھ میں آگیا ہے کہ بندے کا بھی کچھ اختیار ہے
باغبان نے کہا اور اسی اختیار کی وجہ سے اچھے یا برے کام کا ذمہ داربھی ۔
( کاپی پیسٹ حکایت رومی )
 
Last edited:
Top