افسانہ - چور، تحریر اشفاق احمد

ناعمہ وقار

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Staff member
Charismatic
Champion
Writer
Popular
Mysterious
Joined
May 8, 2018
Local time
12:45 AM
Threads
111
Messages
3,145
Reaction score
4,598
Points
943
Location
اسلام آباد - پاکستان
Gold Coins
857.49
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Single Thread Highlight for 1 Week.
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.

ایک چور رات کے اندھیرے میں ایک غریب خاندان کے گھر میں چوری کی نیت سے داخل ہوتاہے۔ کمرے میں داخل ہوکر ایک الماری کھولتا ہے جس میں دواوں کی شیشیاں بھری ہوتی ہیں۔ اسی الماری کے خانے میں سے اسے ایک لفافہ ملتا ہے جس میں ایک سو ستر روپے اور ایک خط رکھا ہوتا ہے۔ چور لفافہ منہ میں دبا کر مسروروشادمان نکل جاتا ہے۔ گھر پہنچ کر لفافہ کھولتا ہے اور خط نکال کر پڑھتا ہے۔

خط میں کسی شکیلہ بیگم نے اپنے بھائی کو اپنے بیمار بیٹے کے علاج کے لئے رقم نہ دینے پر شکوہ کیا تھا اور لکھا تھا کہ ادھار وغیرہ لے کر علاج کے لئے رقم مہیا کرلی گئی ہے اور وہ بیٹے کو بغرضِ علاج پنڈی لیجانے والی تھیں۔ یہ حقیقیت جان کر چور کو سویا ہوا ضمیر بیدار ہوگیا۔ رات اس نے سخت اضطراب میں کاٹی اور صبح رقم لوٹانے گھر سے نکلا مگر اسے جائے واردات پر پولیس والے تفتیش کرتے نظر آئے۔ وہ خوفزدہ ہوکر داتا دربار چلا گیا۔ اسکا ضمیر اسے چین نہ لینے دیتا تھا۔ اگلے دن وہ پھر شکیلہ بیگم کے گھر کی طرف گیا۔ اس نے چاہا کہ رجسٹری کا لفافہ پیسوں سمیت اندر اچھا ل دے لیکن ہمت نہ ہوئی۔

چور رات پھر اپنے ضمیر سے لڑتا را اور بالآخر اس کے آگے ہتھیار ڈال دئیے۔ صبح کو نہا دھو کر سیدھا شکیلہ بیگم کے گھر پہنچا کنڈی کھٹکھٹا کر انتظار کرنے لگا کہ جونہی دروازہ کھلے وہ لفافہ اندر پھینک کر روانہ ہوجائے گا۔ دروازہ کھلا لیکن چور کی ہمت نہ ہوئی۔ اس نے یونہی بات بنادی اور وہاں سے چلا آیا۔

اسکے ضمیر نے پھر اس کی لعنت ملامت شروع کردی اور بالآخر اس کی قوت مدافعت جواب دے گئی۔ اس نے ایک ٹرانزسٹر ریڈیو چرا کر بیچ دیا اور قصور وقت گزارنے چلا گیا لیکن یہاں بھی اس کا ضمیر آسودہ نہ ہوسکا۔ ایک ہفتے کے بعد وہ پھر لاہور آیا اور سیدھا شکیلہ بیگم کے گھر پہنچا۔ جب وہ گلی کے موڑ پر پہنچا تو اندر سے بچے کا جنازہ باہر نکل رہاتھا۔ بچے کی حالت بہت خراب تھی۔چور نے آگے بڑھ کر میت کو کندھا دیا۔ بہت سے لوگ باتیں کررہے تھے اور چور کو برا بھلا کہہ رہے تھے جس نے سفرخرچ کی رقم چرا کے بچے کی جان لے لی تھی۔

چور کے ضمیر نے اس کی گردن پر زور سے دھپا مارا۔ وہ سڑک پر گر گیا۔ لوگوں نے پکڑ کر اسے اٹھایا۔ جنازہ میانی صاحب پہنچ گیا۔ تدفین سے فارغ ہوکر لوگ گھروں کو لوٹ گئے۔ چور نے پھولوں کی ایک ٹوکری خریدی اور سقے کو پیسے دے کر ساری قبر پر چھڑکاو کروایا اور سارے پھول قبر پر ڈال دیے اور بہت دیر وہاں بیٹھا رہا۔ اس نیک کام کی بدولت اس کے ضمیر کا بوجھ بالکل ختم ہوگیا​
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Joined
Apr 25, 2018
Local time
12:45 AM
Threads
845
Messages
12,176
Reaction score
14,162
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,357.01
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
جیسا ضمیر ویسا بوجھ اور ویسے ہی بوجھ کا اترنا
:alkamunia:

اچھا انتخاب ہے کم از کم چند لمحے تو سوچنا پڑا کہ کیا رپلائے کروں
 

ناعمہ وقار

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Staff member
Charismatic
Champion
Writer
Popular
Mysterious
Joined
May 8, 2018
Local time
12:45 AM
Threads
111
Messages
3,145
Reaction score
4,598
Points
943
Location
اسلام آباد - پاکستان
Gold Coins
857.49
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Single Thread Highlight for 1 Week.
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
جیسا ضمیر ویسا بوجھ اور ویسے ہی بوجھ کا اترنا
:alkamunia:

اچھا انتخاب ہے کم از کم چند لمحے تو سوچنا پڑا کہ کیا رپلائے کروں
درست فرمایا، کچھ تحاریر ایسی ہی ہوتی ہیں کہ انسان لاجواب ہو جاتا ہے
 

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
8:45 PM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,958
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
112.77
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
افسانہ - چور، تحریر اشفاق احمد
سر اشفاق احمد صاحب بہت عمدگی سے زائچہ بناکر سممجھاتے تھے۔اللہ انھیں کروٹ کروٹ جنت میں اعلّی مقام عنائت کرے۔آمین
 

ناعمہ وقار

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Staff member
Charismatic
Champion
Writer
Popular
Mysterious
Joined
May 8, 2018
Local time
12:45 AM
Threads
111
Messages
3,145
Reaction score
4,598
Points
943
Location
اسلام آباد - پاکستان
Gold Coins
857.49
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Single Thread Highlight for 1 Week.
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
افسانہ - چور، تحریر اشفاق احمد
سر اشفاق احمد صاحب بہت عمدگی سے زائچہ بناکر سممجھاتے تھے۔اللہ انھیں کروٹ کروٹ جنت میں اعلّی مقام عنائت کرے۔آمین
آمین
 

خزانے کا بھید

★★★★★★
Staff member
Charismatic
Expert
Writer
Popular
P A K I S T A N
Joined
May 5, 2018
Local time
3:45 AM
Threads
180
Messages
4,862
Reaction score
6,449
Points
1,181
Location
آئی ٹی درسگاہ
Gold Coins
1,381.69
Username Change
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
،شئیرنگ کے لیے شکریہ،اشفاق احمد مرحوم عظیم انسان تھے
اس افسانے کو پڑھ کر مجھے اس میں دو جگہوں پر سقم نظر آئے جو یونی کوڈ میں ڈھالنے کی وجہ سے ہوسکتے ہیں یا پھر انہوں نے یہ مثال کسی محفل میں سمجھائی ہوگی جسے اردو میں لکھا گیا ہے ۔

اشفاق احمد مرحوم صاحب نے یہ افسانہ اپنے علم و تجربے کی بنا پر لکھا ہے ورنہ چور کا ضمیر محض قبر پر پھول ڈالنے سے مطمئن کیسے ہوگیا، نابالغ بچے جنتی ہیں بخشے بخشائے، والدہ کے دکھ کامدوا کرکے ہی وہ چور اپنے ضمیر کو مطمئن کرسکتا تھا۔
محض قبر پر بھول ڈالنے سے قبر کے اندر میت پر جو گزرتی ہے وہ پھولوں سے اور قبر پر پانی کے چھڑکاؤ سے تعلق نہیں رکھتا،
دوسری صورت وہی ہے کہ آدمی اپنےعلم کی بنا پرہی اجتہاد قائم کرے بہرحال اشفاق احمد نے افسانے میں وہ چیز بیان مزید ڈیٹیل میں بیان نہیں کی۔

مولانا رومی نےبھی نے ایک حکایت بیان کی
ایک چور ایک باغ میں گھس گیا اور آم کے درخت پر چڑھ کر آم کھانے لگا
اتفاقًا باغبان بھی وہاں آپہنچا اور چور سے کہنے لگا اوبے شرم یہ کیا کر رہے ہو؟
چور مسکرایا اور بولا
ارے بے خبر یہ باغ اللہ کا ہے اور میں اللہ کا بندہ ہوں ، وہ مجھے کھلا رہا ہے اور میں کھا رہا ہوں ، میں تو اسکا حکم پورا کر رہا ہوں ، ورنہ تو پتہ بھی اس کے حکم کے بغیر حرکت نہیں کر سکتا
باغبان نے چور سے کہا
جناب! آپ کا یہ وعظ سن کر دل بہت خوش ہوا ۔ ذرا نیچے تشریف لائیے تاکہ میں آپ جیسے مومن باللہ کی دست بوسی کرلوں۔ سبحان اللہ اس جہالت کے دور میں آپ جیسے عارف کا دم غنیمت ہے مجھے تو مدت کے بعد توحید ومعرفت کا یہ نکتہ ملا ہے جو کرتا ہے خدا ہی کرتا ہے۔ اور بندے کا کچھ بھی اختیار نہیں قبلہ ذرا نیچے تشریف لائیے
چور اپنی تعریف سن کر پھولا نہ سمایا اور جھٹ سے نیچے اتر آیا پھر
جب وہ نیچے آیا تو باغبان نے اسکو پکڑ لیا اور رسی کے ساتھ درخت سے باندھ دیا ۔ پھر خوب مرمت کی ، آخر میں جب ڈنڈا اٹھایا تو چور چلا اٹھا ، کہ ظالم کچھ تو رحم کرو ، میرا اتنا جرم نہیں جتنا تو نے مجھے مار لیا ہے ۔ باغبان نے ہنس کر اس سے کہا کہ جناب ابھی تو آپ نے فرمایا تھا کہ جو کرتا ہے اللہ کرتا ہے ، اللہ کے حکم کے بغیر کوئی کچھ نہیں کر سکتا ، اگر پھل کھانے والا اللہ کا بندہ تھا تو مارنے والا بھی تو اللہ کا بندہ ہے اور اللہ کے حکم سے ہی مار رہا ہے کیونکہ اس کے حکم کے بغیر تو پتہ بھی نہیں ہلتا
چور ہاتھ جوڑ کر کہنے لگا خدارا مجھے چھوڑ دے اصل مسئلہ میری سمجھ میں آگیا ہے کہ بندے کا بھی کچھ اختیار ہے
باغبان نے کہا اور اسی اختیار کی وجہ سے اچھے یا برے کام کا ذمہ داربھی ۔
( کاپی پیسٹ حکایت رومی )
 
Last edited:
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks