صبیح بھائی کی کامیابی

Naima

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Messages
1,719
Reaction score
1,729
Points
407
Location
الکمونیا - اسلام آباد
ہانگ کانگ میں تقریبا صبح طلوع ہو چکی تھی ، آج صبیح بھائی تہجد سے بھی پہلے ہی اٹھ گئے تھے ، بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ساری رات وہ سوئے ہی نہیں تھے تو زیادہ مناسب ہوگا، آج کا دن ان کے لیئے بہت اہم تھا، کچھ خوشی اور گھبراہٹ کے ملے جلے سے تاثرات تھے ، آج نہ جانے کتنے سالوں کے بعد صبیح بھائی نے صابن سے منہ دھویا تھا اور اپنا سب سے قیمتی سوٹ ، جو وہ پچھے پندرہ سالوں میں صرف تین بار استعمال کر چکے تھے ، نکال کر پہنا اور پرفیوم سے نہا کر ، ناشتے کی ٹیبل پر پہنچ گئے اور ناشتے کا انتظار کرنے لگے، مگر جب پانچ دس منٹ گزر گئے اور گھر میں خاموشی محسوس ہوئی تو صبیح بھائی کو کچھ تشویش ہوئی ، گھڑی پر نظر پڑی تو ابھی صرف ساڑھے پانچ بجے تھے۔۔۔دھت تیرے کی
😖
صبیح بھائی اپنی تیاریوں میں اتنا مگن تھے کہ انہیں وقت دیکھنے کا خیال ہی نہ رہا، وہ وقت جو وہ سوتے ہوئے گزارتے تھے اور ناشتہ کی میز پر تقریبا اونگھتے ہوئے پہنچتے تھے وہ بھی بیگم کے بیلن کے خوف سے، آج سارا کا سارا ان کی تیاریوں میں گزر گیا کہ انہیں اور کسی چیز کا دھیان ہی نہ رہا، خیر اب اتنی ہمت تو نہ تھی کہ بیگم کو ناشتہ بنانے کا کہتے، خود ہی کچن کا رخ کیا ، جیسے تیسے چائے بنائی ، جو دیکھنےمیں چائے ہرگز نہ لگتی تھی اور ٹر ے میں چائے اور بسکٹ سجا کر ایسے اکڑتے ہوئے ٹیبل تک آئے جیسے آج کوئی میدان فتح کر لیا ہو
:rope:
چائے کا پہلا سپ ہی ناقابل برداشت تھا ، چھ بج چکے تھے اور اب اتنا وقت نہ تھا کہ دوبارہ سے چائے بنانے کا رسک لیا جاتا، اسلیئے چائے کی بجائے دودھ بسکٹ پہ گزارہ کیا اورایک نوٹ کچن کاؤنٹر پہ لکھ کر رکھ دیا کہ وہ ایک ضروری کام سے جا رہے ہیں اور شاید واپسی میں تین چار دن لگ جائیں ، اپنا سوٹ کیس اٹھایا اور جلدی سے گھر سے نکل گئے
:think:
صبیح بھائی نے ایک دن پہلے ہی ایک گاڑی رینٹ پر لے لی تھی، سوٹ کیس اور کچھ ضروری سامان گاڑی میں رکھا اور اپنے سفر پر روانہ ہوگئے
🚗
اب سب سے پہلے وہ اپنے ایک دوست کے گھر گئے، جن کا بہت ہی خوبصورت باغیچہ تھا،وہاں سے صبیح بھائی نے کچھ پھول توڑے اور ایک گلدستہ تیار کیا اور گاڑی آگے بڑھا دی، انہیں اپنے دوست سے نہیں ملنا تھا، یہاں آنے کا مقصد صرف مفت کا گلدستہ حاصل کرنا تھا
💐
کچھ دور جاکے نسبتا غیر آباد علاقہ شروع ہو گیا اور پھر گھنڈرات نظر آنے لگے، دن کا وقت ہونے کے باوجود صبیح بھائی کو خوف محسوس ہو رہا تھا، مگر جس مقصد کے لیئے وہ اس ویرانے تک آئے تھے ، انہیں ہمت کرنی ہی تھی
😨
صبیح بھائی گاڑی کی سپیڈ کافی حد تک بڑھا دی تھی کہ انہیں عجیب سی شڑ شڑ کی آوازیں آنے لگی ، وہ تو پہلے ہی خوف زدہ تھے اور انہوں نے سن رکھا تھا کہ ایسے ویرانوں میں جنات اور چڑیلوں کا بسیرا ہوتا ہے اب تو انہیں یقین ہو گیا کہ کوئی تو ہے جو ان کے پیچھا کر رہا ہے ، گاڑی جتنی تیز ہوتی آواز اتنی ہی بڑھ جاتی، خیر جتنی دعائیں انہیں یاد تھیں سب پڑھ ڈالیں، مگر آواز پہ کوئی فرق نہ پڑا
:ghost-emoji:
خدا خدا کر کے کھنڈرات کا سلسلہ ختم ہوا اور صبیح بھائی نے بڑی ہمت کر کے گاڑی ایک آبادی کے نزدیک روکی، کیونکہ انہیں شدید پیاس لگ رہی تھی اور گھر سے اتنی تیاری سے نکلنے کے باوجود وہ پانی رکھنا بھول گئے تھے، جیسے ہی گاڑی سے اترے انکی نظر پچھلے پہیے کی طرف گئی جس سے ایک بڑا سا شاپر لپٹا ہوا تھا اور وہ آواز یقینا اسی کی تھی ، اوہ ہ ہ۔۔۔صبیح بھائی کو شدت سے خود پر غصہ آیا کہ کیسا احمق ہوں ، جو ایک شاپر سے ڈر گیا،
:blab:
لیکن شکر ہے کہ کسی کو پتا نہیں چلا، یہ سوچ کر وہ مسکرا دیئے اور نزدیکی دکان سے پانی کی بوتل خرید ی
صبیح بھائی کو چلتے ہوئے چار گھنٹے ہو چکے تھے ، تقریبا دس بجے کا وقت تھا اور سورج بھی سر پہ آچکا تھا ، اسلیئے انہوں نے پانی پی کر کچھ دیر گاڑی کو ایک بڑے سے درخت کے سائے میں کھڑا کر کے کچھ دیر آرام کرنے کا سوچا
ارادہ تو یہی تھا کہ آدھے گھنٹے میں یہا ں سے نکلیں گے ، مگر کچھ ہی دیر میں آبادی کی طرف سے لوگوں کا ایک ہجوم آتا دکھائی دیاان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے اور وہ عجیب سی زبان میں کچھ شور مچاتے ہوئے گاڑی ہی کی طرف بڑھ رہے تھے
یہ کیا مصیبت ہے، صبیح بھائی بڑبڑائے لیکن خطرہ بھانپتے ہوئے یہاں سے بھاگ جانے میں ہی عافیت سمجھی اور گاڑی دوڑادی
اس سے آگے کا راستہ انہیں معلوم نہ تھا، اسلیئے گوگل میپ میں لوکیشن سیٹ کی اور منزل کی جانب گامزن ہوگئے
🗺
دوپہر کے دو بج رہے تھے اور نجانے کیسے کیسے علاقوں سے گزر کے صبیح بھائی ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ، جہاں دور دور کسی ذی روح کا نام و نشان نہ تھا اور جس راستے سے وہ آئے سے اسکے علاوہ باقی تین اطراف میں بڑی بڑی جھاڑیاں اگی ہوئی تھی، جہاں گاڑی تو دور کی بات، سائیکل تک لے جانے کی جگہ نہ تھی
:oops:
یہاں کی ایک عجیب بات یہ تھی کہ یہاں موجود جھاڑیاں رنگین تھی ، جیسے سامنے موجود جھاڑیوں کا رنگ جامنی تھا اور دائیں بائیں بالترتیب سرخ اور ہلکا سنہری تھا
اخاہ۔۔یہی تو وہ جگہ تھی جہاں تک صبیح بھائی کو پہنچنا تھا اور وہ مقررہ وقت سے دو گھنٹے پہلے ہی یہاں پہنچ گئے تھے
:yahoo:
صبیح بھائی نے کھانے کے لیئے کچھ سینڈوچ اور پھل رکھے تھے ، وہ کھائے اور مزے سے تین بج کر پینتالیس منٹ کا الارم لگا کر سوگئے
⏰
الارم کی آواز سےجب صبیح بھائی جاگے تو انکے آس پاس کا منظر ہی بدلا ہوا تھا، ایسے جیسے وہاں کوئی تقریب کی تیاریاں ہو رہی ہوں، بہت سے لوگوں کی آوازیں اور کھانوں کی مہک سے صبیح بھائی تو جیسے خوشی سے جھوم ہی اٹھے
🍲
کیونکہ یہ سب ان ہی کے تو اعزاز میں تھا
:D
سفر کی ساری تھکن رفو چکر ہوگئی اور صبیح بھائی ہشاش بشاش سے گاڑی سے باہر نکلے، سب سے پہلے اپنا حلیہ درست کیا اور پھر سے سامنے نظر آتے ایک بڑے سے مارکی میں داخل ہو گئے ، جسکا دو گھنٹے پہلے نام و نشان تک نہ تھا
انکی آمد کی دیر تھی، بینڈ باجے والے جو پہلے ہی الرٹ تھے فورا ہی حرکت میں آگئے اور اسطرح اندر موجود لوگوں کو صبیح بھائی کی آمد کی خبر دی
🥁🎷🎺
اندر تقریبا ڈیڑھ سو کے قریب لوگ موجود تھے ، سب نے ہی نہ صرف گلے مل کر صبیح بھائی کو مبارکباد دی ، بلکہ پھولوں کے ہار بھی ڈالے
:cool:
آج واقعی وہ دن تھا جس کے لیئے صبیح بھائی نے برسوں محنت کی تھی ، اس مقام تک آج تک کوئی نہ پہنچ سکا تھا
اب صبیح بھائی کی آنکھیں اپنے محسن کی تلاش میں تھیں ، وہ چوری شدہ گلدستہ جس پہ راستے سے خریدے ہوئے منرل واٹر کا چھڑکاؤ کرکر کے اسے تازہ رکھنے کی کوشش کی گئی تھی، انکے ہاتھ میں تھا
💐
اتنے میں صبیح بھائی کو اپنے عقب سے بدبو کا جھونکا آتا محسوس ہوا، اور پھر کسی نے انہیں بہت ہی گرمجوشی سے گلے لگا لیا
:blab:
یہ کوئی اور نہیں کھجل سائیں تھے ، صبیح بھائی نے گلدستہ کھجل سائیں کے حوالے کیا او ر پھر دونوں سامنے موجود سٹیج کی طرف بڑھ گئے
اب تو آپ کو صبیح بھائی کی خوشی کی وجہ کا اندازہ ہو ہی گیا ہوگا
:pagal:
خیر پھر بھی ہم بتاتے ہیں کہ صبیح بھائی کو انکی خدمات کے عوض اور اس سے بھی بڑھ کر کھجل سائیں کی ان سے خاص انسیت کی وجہ سے، کھجل سائیں نے صبیح بھائی کو اپنی گدی سونپ دینے کے لیئے اس عالیشان تقریب کا اہتمام کیا تھا
:yahoo:
تقریب کا آغاز ہوا اور کھجل سائیں نے تقریر کی جس میں صبیح بھائی کی خدمات کا بہت ہی کھلے دل سے اعتراف کیا اور ساتھ ہی انہیں کھجل سائیں دوئم کا خطاب بھی دیا
:10xbvw3:
اس کے بعد باقاعدہ طور پر صبیح بھائی کو کھجل سائیں کی گدی پہ بٹھایا گیا اور کچھ رسمی حلف لیا گیا، جسکا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ اس کی پاسداری بھی کرنی ہے
آخر میں صبیح بھائی نے سب کا شکریہ ادا کیا اور خصوصی طور پر کھجل سائیں کے ہاتھ انتہائی عقیدت سے چومے اور برکت کے لیئے اپنی آنکھوں سے لگائے
:clap:
اور اس سارے ڈرامے کے بعد حاضرین کھانے پہ ٹوٹ پڑے اور یوں یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی
:bhook:

صبیح بھائی اس انتہائی حساس گدی کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لیئے کھجل سائیں کے ساتھ انکے آستانے پہ چلے گئے جہاں وہ شاید دو تین روز قیام کریں گے

ہم سب کی جانب سے صبیح بھائی کو کھجل سائیں دوئم کا خطاب اور کھجل سائیں کی اوریجنل گدی بہت بہت مبارک ہو

congratulations-typography-handwritten-lettering-greeting-card-banner_7081-766.jpg
 

Doctor

★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
4,143
Reaction score
4,831
Points
1,614
Location
Rawalpindi - Punjab - Pakistan
سب سے پہلے وہ اپنے ایک دوست کے گھر گئے، جن کا بہت ہی خوبصورت باغیچہ تھا،وہاں سے صبیح بھائی نے کچھ پھول توڑے اور ایک گلدستہ تیار کیا اور گاڑی آگے بڑھا دی، انہیں اپنے دوست سے نہیں ملنا تھا، یہاں آنے کا مقصد صرف مفت کا گلدستہ حاصل کرنا تھا
پکی پکی مسٹر بین والی حرکات
:lol::lol::lol::lol:
 

Doctor

★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
4,143
Reaction score
4,831
Points
1,614
Location
Rawalpindi - Punjab - Pakistan
طرف گئی جس سے ایک بڑا سا شاپر لپٹا ہوا تھا اور وہ آواز یقینا اسی کی تھی ، اوہ ہ ہ۔۔۔صبیح بھائی کو شدت سے خود پر غصہ آیا کہ کیسا احمق ہوں ، جو ایک شاپر سے ڈر گیا،
ویسے اس شاپر میں تھا کیا؟
:blab:
 

Naima

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Messages
1,719
Reaction score
1,729
Points
407
Location
الکمونیا - اسلام آباد
ویسے اس شاپر میں تھا کیا؟
:blab:
اس شاپر میں ایک جن تھا
کسی نے بوتل کی بجائے شاپر میں بند کر دیا تھا ، لیکن صبیح بھائی کی قسمت اچھی تھی کہ شاپر کھلنے کی بجائے ٹائر پر لپٹ گیا اور جن کا قیمہ بن گیا
:pagal:
 

صبیح

★★★☆☆☆
Dynamic Brigade
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
1,880
Reaction score
2,326
Points
620
Location
Central
ہاہاہا،بہت خوب
:ouu:


ناشتہ کی میز پر تقریبا اونگھتے ہوئے پہنچتے تھے وہ بھی بیگم کے بیلن کے خوف سے
ناشتے کی میز پر پہچانے کے پیچھے کا محرک ڈاکٹر بھائی سے ملتا جلتا ہے لہذا ڈاکٹر بھائی سے مجھے نہ ملائیں ان کی بیگم جو ان سے کرتی ہیں ضروری نہیں کہ ہر بیگم ویسا ہی کریں میرے ساتھ تومیری بیگم بہت اچھا کرتی ہیں ناشتہ تیار کرکے سامنے رکھ دیتی ہیں جو مزے دار ہوتا ہے اور میں کھا کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اگر بھول گیا ہوں تو آج پچھلے سارے ناشتوں کا مجموعی شکریہ اللہ میاں کو ادا کرکے آئندہ کی توفیق مانگتا ہوں۔
:D

خیر اب اتنی ہمت تو نہ تھی کہ بیگم کو ناشتہ بنانے کا کہتے، خود ہی کچن کا رخ کیا ، جیسے تیسے چائے بنائی ، جو دیکھنےمیں چائے ہرگز نہ لگتی تھی اور ٹر ے میں چائے اور بسکٹ سجا کر ایسے اکڑتے ہوئے ٹیبل تک آئے جیسے آج کوئی میدان فتح کر لیا ہو
یعنی فاتح کچن؟:pagal:
چائے کا پہلا سپ ہی ناقابل برداشت تھا ، چھ بج چکے تھے اور اب اتنا وقت نہ تھا کہ دوبارہ سے چائے بنانے کا رسک لیا جاتا، اسلیئے چائے کی بجائے دودھ بسکٹ پہ گزارہ کیا اورایک نوٹ کچن کاؤنٹر پہ لکھ کر رکھ دیا کہ وہ ایک ضروری کام سے جا رہے ہیں اور شاید واپسی میں تین چار دن لگ جائیں ، اپنا سوٹ کیس اٹھایا اور جلدی سے گھر سے نکل گئے
میں جو چائے بناتا ہوں وہ بہت اچھی قابل برداشت ہوتی ہے،یہ والی چائے کی پتی ڈاکٹر بھائی کی الکمونیا کی تھی اور دودھ بھی خشک پاؤڈر ،لہذا ان اجزاء سے مل کر اچھی چائے نہیں بن سکتی، اگر آپ بناسکتی ہیں تو خود بنا کر تجربہ ہمارے ساتھ شئیر کریں
:ouu:
اب سب سے پہلے وہ اپنے ایک دوست کے گھر گئے، جن کا بہت ہی خوبصورت باغیچہ تھا،وہاں سے صبیح بھائی نے کچھ پھول توڑے اور ایک گلدستہ تیار کیا اور گاڑی آگے بڑھا دی، انہیں اپنے دوست سے نہیں ملنا تھا، یہاں آنے کا مقصد صرف مفت کا گلدستہ حاصل کرنا تھا
گھر دوست کا باغ صبیح کا
:D
جیسے ہی گاڑی سے اترے انکی نظر پچھلے پہیے کی طرف گئی جس سے ایک بڑا سا شاپر لپٹا ہوا تھا اور وہ آواز یقینا اسی کی تھی ، اوہ ہ ہ۔۔۔صبیح بھائی کو شدت سے خود پر غصہ آیا کہ کیسا احمق ہوں ، جو ایک شاپر سے ڈر گیا،
شاپر کے اندر بریانی تھی ، جو آپ نےایک دعوت سے ایکسٹرا پلیٹ منگوا کر اس میں ڈالی ، لیکن راستے میں آپ کی چِپ نے تھک کر ریسٹ کیا تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر دشمن چیل اور کوؤں نے شاپر پر حملہ کردیا ،بچا کھچا شاپر سڑک پر ہی پھینک گئے جو ٹائر سے چپک گیا ،سارے راستے شاپر پر ناعمہ باجی کا اثر رہا اور وہ چڑیل کی طرح آوازیں نکالتا رہا شاید کچھ کہہ رہا تھا :pagal: ۔۔۔

مگر کچھ ہی دیر میں آبادی کی طرف سے لوگوں کا ایک ہجوم آتا دکھائی دیاان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے اور وہ عجیب سی زبان میں کچھ شور مچاتے ہوئے گاڑی ہی کی طرف بڑھ رہے تھے
شاپر کی وجہ سے انہیں ناعمہ باجی کی خوشبو آئی اور ان کے پرانے زخم ہری مرچ کی طرح ہرے ہوگئے۔۔۔بس جی نہ جانے کون کون سے جنم کے بدلے چکانے کا عزم لے کر ویرانوں سے ڈنڈے لاٹھیاں لے کر نکلے ، جو ہاتھ لگا سمندری لہروں کی طرح بڑھتے لپکتے ہوئے حملہ آور ہوئے مجھے دیکھ ٹھٹکے کہ ناعمہ باجی آج کس روپ میں ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے آئیں ہیں،میرے وہاں سے جانے پر ناعمہ باجی کے بارے میں ان کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوا ہوگا ۔۔۔۔لیکن کوئی گارنٹی نہیں کہ کسی موڑ پر ان کا سامنا ناعمہ باجی سے ہوجائے تو آگے سوچ کر ہی عافیت کی دعا نکلتی ہے۔۔۔۔
:lol::lol::lol:

اتنے میں صبیح بھائی کو اپنے عقب سے بدبو کا جھونکا آتا محسوس ہوا، اور پھر کسی نے انہیں بہت ہی گرمجوشی سے گلے لگا لیایہ کوئی اور نہیں کھجل سائیں تھے
کھجل سائیں سے اس طرح آج سے پہلے کسی نے نہیں ملوایا تھا۔ بابا کھجل سائیں کی بدبو نہیں وہ تو خوشبو تھی ۔
:p
خیر پھر بھی ہم بتاتے ہیں کہ صبیح بھائی کو انکی خدمات کے عوض اور اس سے بھی بڑھ کر کھجل سائیں کی ان سے خاص انسیت کی وجہ سے، کھجل سائیں نے صبیح بھائی کو اپنی گدی سونپ دینے کے لیئے اس عالیشان تقریب کا اہتمام کیا تھا
یہ ایک غلط خبر تھی جو بابا کھجل سائیں نے لوگوں کو کھجل کرنے کی غرض سے اپنی گدی میرے نام کرنے کے حوالے سے شو آف کیا، درحقیقت بابا جی ہی گدی کے مالک ہیں اور رہیں گے۔گدی کسی کو ملنے والی نہیں ہے۔
:ymad:
تقریب کا آغاز ہوا اور کھجل سائیں نے تقریر کی جس میں صبیح بھائی کی خدمات کا بہت ہی کھلے دل سے اعتراف کیا اور ساتھ ہی انہیں کھجل سائیں دوئم کا خطاب بھی دیا
اس واقعہ کو پر اثر انداز میں لکھنے پرکھجل سائیں نے کھجل سائیں دوئم کا خطاب بھی ناعمہ باجی کو دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جس پر ضروری نہیں کہ کبھی عمل درآمد بھی ہوگا۔
:lol:
صبیح بھائی اس انتہائی حساس گدی کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لیئے کھجل سائیں کے ساتھ انکے آستانے پہ چلے گئے جہاں وہ شاید دو تین روز قیام کریں گے
ان تین دنوں کے اندر بابا کھجل سائیں نے کہا کہ ڈاکٹر بھائی اور ناعمہ باجی ہی گدی کے حقیقی وارث ہیں،یہ امانت نما گدی انہی کی ہے اس کی ضمانت بابا کھجل سائیں خود ہیں۔
:pagal::pagal::pagal::pagal::pagal:
مبارک ہو ناعمہ باجی اور ڈاکٹر بھائی جس چیز کی ضمانت کھجل سائیں دیں اس پر سوائے ہنسنے کے اور کِیا ہی کیاجاسکتا ہے؟۔

تب ہی بیگم کے لیے نوٹ پر لکھا تھا کہ 4 دن بعد آؤں گا۔
:handshake:
بہت خوب ودھیا کہانی لکھی ہے۔شاباش
 

PakArt UrduLover

Staff member
★★★★☆☆
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,647
Reaction score
2,911
Points
930
Location
Manchester U.K
ہاہاہا،بہت خوب
:ouu:



ناشتے کی میز پر پہچانے کے پیچھے کا محرک ڈاکٹر بھائی سے ملتا جلتا ہے لہذا ڈاکٹر بھائی سے مجھے نہ ملائیں ان کی بیگم جو ان سے کرتی ہیں ضروری نہیں کہ ہر بیگم ویسا ہی کریں میرے ساتھ تومیری بیگم بہت اچھا کرتی ہیں ناشتہ تیار کرکے سامنے رکھ دیتی ہیں جو مزے دار ہوتا ہے اور میں کھا کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اگر بھول گیا ہوں تو آج پچھلے سارے ناشتوں کا مجموعی شکریہ اللہ میاں کو ادا کرکے آئندہ کی توفیق مانگتا ہوں۔
:D


یعنی فاتح کچن؟:pagal:


میں جو چائے بناتا ہوں وہ بہت اچھی قابل برداشت ہوتی ہے،یہ والی چائے کی پتی ڈاکٹر بھائی کی الکمونیا کی تھی اور دودھ بھی خشک پاؤڈر ،لہذا ان اجزاء سے مل کر اچھی چائے نہیں بن سکتی، اگر آپ بناسکتی ہیں تو خود بنا کر تجربہ ہمارے ساتھ شئیر کریں
:ouu:

گھر دوست کا باغ صبیح کا
:D


شاپر کے اندر بریانی تھی ، جو آپ نےایک دعوت سے ایکسٹرا پلیٹ منگوا کر اس میں ڈالی ، لیکن راستے میں آپ کی چِپ نے تھک کر ریسٹ کیا تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر دشمن چیل اور کوؤں نے شاپر پر حملہ کردیا ،بچا کھچا شاپر سڑک پر ہی پھینک گئے جو ٹائر سے چپک گیا ،سارے راستے شاپر پر ناعمہ باجی کا اثر رہا اور وہ چڑیل کی طرح آوازیں نکالتا رہا شاید کچھ کہہ رہا تھا :pagal: ۔۔۔


شاپر کی وجہ سے انہیں ناعمہ باجی کی خوشبو آئی اور ان کے پرانے زخم ہری مرچ کی طرح ہرے ہوگئے۔۔۔بس جی نہ جانے کون کون سے جنم کے بدلے چکانے کا عزم لے کر ویرانوں سے ڈنڈے لاٹھیاں لے کر نکلے ، جو ہاتھ لگا سمندری لہروں کی طرح بڑھتے لپکتے ہوئے حملہ آور ہوئے مجھے دیکھ ٹھٹکے کہ ناعمہ باجی آج کس روپ میں ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے آئیں ہیں،میرے وہاں سے جانے پر ناعمہ باجی کے بارے میں ان کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوا ہوگا ۔۔۔۔لیکن کوئی گارنٹی نہیں کہ کسی موڑ پر ان کا سامنا ناعمہ باجی سے ہوجائے تو آگے سوچ کر ہی عافیت کی دعا نکلتی ہے۔۔۔۔
:lol::lol::lol:


کھجل سائیں سے اس طرح آج سے پہلے کسی نے نہیں ملوایا تھا۔ بابا کھجل سائیں کی بدبو نہیں وہ تو خوشبو تھی ۔
:p


یہ ایک غلط خبر تھی جو بابا کھجل سائیں نے لوگوں کو کھجل کرنے کی غرض سے اپنی گدی میرے نام کرنے کے حوالے سے شو آف کیا، درحقیقت بابا جی ہی گدی کے مالک ہیں اور رہیں گے۔گدی کسی کو ملنے والی نہیں ہے۔
:ymad:

اس واقعہ کو پر اثر انداز میں لکھنے پرکھجل سائیں نے کھجل سائیں دوئم کا خطاب بھی ناعمہ باجی کو دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جس پر ضروری نہیں کہ کبھی عمل درآمد بھی ہوگا۔
:lol:

ان تین دنوں کے اندر بابا کھجل سائیں نے کہا کہ ڈاکٹر بھائی اور ناعمہ باجی ہی گدی کے حقیقی وارث ہیں،یہ امانت نما گدی انہی کی ہے اس کی ضمانت بابا کھجل سائیں خود ہیں۔
:pagal::pagal::pagal::pagal::pagal:
مبارک ہو ناعمہ باجی اور ڈاکٹر بھائی جس چیز کی ضمانت کھجل سائیں دیں اس پر سوائے ہنسنے کے اور کِیا ہی کیاجاسکتا ہے؟۔

تب ہی بیگم کے لیے نوٹ پر لکھا تھا کہ 4 دن بعد آؤں گا۔
:handshake:
بہت خوب ودھیا کہانی لکھی ہے۔شاباش
اتنی ساری وضاحتیں
 

PakArt UrduLover

Staff member
★★★★☆☆
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,647
Reaction score
2,911
Points
930
Location
Manchester U.K
ہانگ کانگ میں تقریبا صبح طلوع ہو چکی تھی ، آج صبیح بھائی تہجد سے بھی پہلے ہی اٹھ گئے تھے ، بلکہ اگر یوں کہا جائے کہ ساری رات وہ سوئے ہی نہیں تھے تو زیادہ مناسب ہوگا، آج کا دن ان کے لیئے بہت اہم تھا، کچھ خوشی اور گھبراہٹ کے ملے جلے سے تاثرات تھے ، آج نہ جانے کتنے سالوں کے بعد صبیح بھائی نے صابن سے منہ دھویا تھا اور اپنا سب سے قیمتی سوٹ ، جو وہ پچھے پندرہ سالوں میں صرف تین بار استعمال کر چکے تھے ، نکال کر پہنا اور پرفیوم سے نہا کر ، ناشتے کی ٹیبل پر پہنچ گئے اور ناشتے کا انتظار کرنے لگے، مگر جب پانچ دس منٹ گزر گئے اور گھر میں خاموشی محسوس ہوئی تو صبیح بھائی کو کچھ تشویش ہوئی ، گھڑی پر نظر پڑی تو ابھی صرف ساڑھے پانچ بجے تھے۔۔۔دھت تیرے کی
😖
صبیح بھائی اپنی تیاریوں میں اتنا مگن تھے کہ انہیں وقت دیکھنے کا خیال ہی نہ رہا، وہ وقت جو وہ سوتے ہوئے گزارتے تھے اور ناشتہ کی میز پر تقریبا اونگھتے ہوئے پہنچتے تھے وہ بھی بیگم کے بیلن کے خوف سے، آج سارا کا سارا ان کی تیاریوں میں گزر گیا کہ انہیں اور کسی چیز کا دھیان ہی نہ رہا، خیر اب اتنی ہمت تو نہ تھی کہ بیگم کو ناشتہ بنانے کا کہتے، خود ہی کچن کا رخ کیا ، جیسے تیسے چائے بنائی ، جو دیکھنےمیں چائے ہرگز نہ لگتی تھی اور ٹر ے میں چائے اور بسکٹ سجا کر ایسے اکڑتے ہوئے ٹیبل تک آئے جیسے آج کوئی میدان فتح کر لیا ہو
:rope:
چائے کا پہلا سپ ہی ناقابل برداشت تھا ، چھ بج چکے تھے اور اب اتنا وقت نہ تھا کہ دوبارہ سے چائے بنانے کا رسک لیا جاتا، اسلیئے چائے کی بجائے دودھ بسکٹ پہ گزارہ کیا اورایک نوٹ کچن کاؤنٹر پہ لکھ کر رکھ دیا کہ وہ ایک ضروری کام سے جا رہے ہیں اور شاید واپسی میں تین چار دن لگ جائیں ، اپنا سوٹ کیس اٹھایا اور جلدی سے گھر سے نکل گئے
:think:
صبیح بھائی نے ایک دن پہلے ہی ایک گاڑی رینٹ پر لے لی تھی، سوٹ کیس اور کچھ ضروری سامان گاڑی میں رکھا اور اپنے سفر پر روانہ ہوگئے
🚗
اب سب سے پہلے وہ اپنے ایک دوست کے گھر گئے، جن کا بہت ہی خوبصورت باغیچہ تھا،وہاں سے صبیح بھائی نے کچھ پھول توڑے اور ایک گلدستہ تیار کیا اور گاڑی آگے بڑھا دی، انہیں اپنے دوست سے نہیں ملنا تھا، یہاں آنے کا مقصد صرف مفت کا گلدستہ حاصل کرنا تھا
💐
کچھ دور جاکے نسبتا غیر آباد علاقہ شروع ہو گیا اور پھر گھنڈرات نظر آنے لگے، دن کا وقت ہونے کے باوجود صبیح بھائی کو خوف محسوس ہو رہا تھا، مگر جس مقصد کے لیئے وہ اس ویرانے تک آئے تھے ، انہیں ہمت کرنی ہی تھی
😨
صبیح بھائی گاڑی کی سپیڈ کافی حد تک بڑھا دی تھی کہ انہیں عجیب سی شڑ شڑ کی آوازیں آنے لگی ، وہ تو پہلے ہی خوف زدہ تھے اور انہوں نے سن رکھا تھا کہ ایسے ویرانوں میں جنات اور چڑیلوں کا بسیرا ہوتا ہے اب تو انہیں یقین ہو گیا کہ کوئی تو ہے جو ان کے پیچھا کر رہا ہے ، گاڑی جتنی تیز ہوتی آواز اتنی ہی بڑھ جاتی، خیر جتنی دعائیں انہیں یاد تھیں سب پڑھ ڈالیں، مگر آواز پہ کوئی فرق نہ پڑا
:ghost-emoji:
خدا خدا کر کے کھنڈرات کا سلسلہ ختم ہوا اور صبیح بھائی نے بڑی ہمت کر کے گاڑی ایک آبادی کے نزدیک روکی، کیونکہ انہیں شدید پیاس لگ رہی تھی اور گھر سے اتنی تیاری سے نکلنے کے باوجود وہ پانی رکھنا بھول گئے تھے، جیسے ہی گاڑی سے اترے انکی نظر پچھلے پہیے کی طرف گئی جس سے ایک بڑا سا شاپر لپٹا ہوا تھا اور وہ آواز یقینا اسی کی تھی ، اوہ ہ ہ۔۔۔صبیح بھائی کو شدت سے خود پر غصہ آیا کہ کیسا احمق ہوں ، جو ایک شاپر سے ڈر گیا،
:blab:
لیکن شکر ہے کہ کسی کو پتا نہیں چلا، یہ سوچ کر وہ مسکرا دیئے اور نزدیکی دکان سے پانی کی بوتل خرید ی
صبیح بھائی کو چلتے ہوئے چار گھنٹے ہو چکے تھے ، تقریبا دس بجے کا وقت تھا اور سورج بھی سر پہ آچکا تھا ، اسلیئے انہوں نے پانی پی کر کچھ دیر گاڑی کو ایک بڑے سے درخت کے سائے میں کھڑا کر کے کچھ دیر آرام کرنے کا سوچا
ارادہ تو یہی تھا کہ آدھے گھنٹے میں یہا ں سے نکلیں گے ، مگر کچھ ہی دیر میں آبادی کی طرف سے لوگوں کا ایک ہجوم آتا دکھائی دیاان کے ہاتھوں میں ڈنڈے تھے اور وہ عجیب سی زبان میں کچھ شور مچاتے ہوئے گاڑی ہی کی طرف بڑھ رہے تھے
یہ کیا مصیبت ہے، صبیح بھائی بڑبڑائے لیکن خطرہ بھانپتے ہوئے یہاں سے بھاگ جانے میں ہی عافیت سمجھی اور گاڑی دوڑادی
اس سے آگے کا راستہ انہیں معلوم نہ تھا، اسلیئے گوگل میپ میں لوکیشن سیٹ کی اور منزل کی جانب گامزن ہوگئے
🗺
دوپہر کے دو بج رہے تھے اور نجانے کیسے کیسے علاقوں سے گزر کے صبیح بھائی ایک ایسی جگہ پہنچ گئے ، جہاں دور دور کسی ذی روح کا نام و نشان نہ تھا اور جس راستے سے وہ آئے سے اسکے علاوہ باقی تین اطراف میں بڑی بڑی جھاڑیاں اگی ہوئی تھی، جہاں گاڑی تو دور کی بات، سائیکل تک لے جانے کی جگہ نہ تھی
:oops:
یہاں کی ایک عجیب بات یہ تھی کہ یہاں موجود جھاڑیاں رنگین تھی ، جیسے سامنے موجود جھاڑیوں کا رنگ جامنی تھا اور دائیں بائیں بالترتیب سرخ اور ہلکا سنہری تھا
اخاہ۔۔یہی تو وہ جگہ تھی جہاں تک صبیح بھائی کو پہنچنا تھا اور وہ مقررہ وقت سے دو گھنٹے پہلے ہی یہاں پہنچ گئے تھے
:yahoo:
صبیح بھائی نے کھانے کے لیئے کچھ سینڈوچ اور پھل رکھے تھے ، وہ کھائے اور مزے سے تین بج کر پینتالیس منٹ کا الارم لگا کر سوگئے
⏰
الارم کی آواز سےجب صبیح بھائی جاگے تو انکے آس پاس کا منظر ہی بدلا ہوا تھا، ایسے جیسے وہاں کوئی تقریب کی تیاریاں ہو رہی ہوں، بہت سے لوگوں کی آوازیں اور کھانوں کی مہک سے صبیح بھائی تو جیسے خوشی سے جھوم ہی اٹھے
🍲
کیونکہ یہ سب ان ہی کے تو اعزاز میں تھا
:D
سفر کی ساری تھکن رفو چکر ہوگئی اور صبیح بھائی ہشاش بشاش سے گاڑی سے باہر نکلے، سب سے پہلے اپنا حلیہ درست کیا اور پھر سے سامنے نظر آتے ایک بڑے سے مارکی میں داخل ہو گئے ، جسکا دو گھنٹے پہلے نام و نشان تک نہ تھا
انکی آمد کی دیر تھی، بینڈ باجے والے جو پہلے ہی الرٹ تھے فورا ہی حرکت میں آگئے اور اسطرح اندر موجود لوگوں کو صبیح بھائی کی آمد کی خبر دی
🥁🎷🎺
اندر تقریبا ڈیڑھ سو کے قریب لوگ موجود تھے ، سب نے ہی نہ صرف گلے مل کر صبیح بھائی کو مبارکباد دی ، بلکہ پھولوں کے ہار بھی ڈالے
:cool:
آج واقعی وہ دن تھا جس کے لیئے صبیح بھائی نے برسوں محنت کی تھی ، اس مقام تک آج تک کوئی نہ پہنچ سکا تھا
اب صبیح بھائی کی آنکھیں اپنے محسن کی تلاش میں تھیں ، وہ چوری شدہ گلدستہ جس پہ راستے سے خریدے ہوئے منرل واٹر کا چھڑکاؤ کرکر کے اسے تازہ رکھنے کی کوشش کی گئی تھی، انکے ہاتھ میں تھا
💐
اتنے میں صبیح بھائی کو اپنے عقب سے بدبو کا جھونکا آتا محسوس ہوا، اور پھر کسی نے انہیں بہت ہی گرمجوشی سے گلے لگا لیا
:blab:
یہ کوئی اور نہیں کھجل سائیں تھے ، صبیح بھائی نے گلدستہ کھجل سائیں کے حوالے کیا او ر پھر دونوں سامنے موجود سٹیج کی طرف بڑھ گئے
اب تو آپ کو صبیح بھائی کی خوشی کی وجہ کا اندازہ ہو ہی گیا ہوگا
:pagal:
خیر پھر بھی ہم بتاتے ہیں کہ صبیح بھائی کو انکی خدمات کے عوض اور اس سے بھی بڑھ کر کھجل سائیں کی ان سے خاص انسیت کی وجہ سے، کھجل سائیں نے صبیح بھائی کو اپنی گدی سونپ دینے کے لیئے اس عالیشان تقریب کا اہتمام کیا تھا
:yahoo:
تقریب کا آغاز ہوا اور کھجل سائیں نے تقریر کی جس میں صبیح بھائی کی خدمات کا بہت ہی کھلے دل سے اعتراف کیا اور ساتھ ہی انہیں کھجل سائیں دوئم کا خطاب بھی دیا
:10xbvw3:
اس کے بعد باقاعدہ طور پر صبیح بھائی کو کھجل سائیں کی گدی پہ بٹھایا گیا اور کچھ رسمی حلف لیا گیا، جسکا مقصد ہرگز یہ نہیں تھا کہ اس کی پاسداری بھی کرنی ہے
آخر میں صبیح بھائی نے سب کا شکریہ ادا کیا اور خصوصی طور پر کھجل سائیں کے ہاتھ انتہائی عقیدت سے چومے اور برکت کے لیئے اپنی آنکھوں سے لگائے
:clap:
اور اس سارے ڈرامے کے بعد حاضرین کھانے پہ ٹوٹ پڑے اور یوں یہ تقریب اختتام پذیر ہوئی
:bhook:

صبیح بھائی اس انتہائی حساس گدی کی ذمہ داریوں کو سمجھنے کے لیئے کھجل سائیں کے ساتھ انکے آستانے پہ چلے گئے جہاں وہ شاید دو تین روز قیام کریں گے

ہم سب کی جانب سے صبیح بھائی کو کھجل سائیں دوئم کا خطاب اور کھجل سائیں کی اوریجنل گدی بہت بہت مبارک ہو

View attachment 1693
بڑی محنت اور شوق سے کہانی لکھی ہے۔اس پر سٹوری ریٹ دینا ہی ہوگا۔
 

Naima

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Messages
1,719
Reaction score
1,729
Points
407
Location
الکمونیا - اسلام آباد
ہاہاہا،بہت خوب
:ouu:
tks:
:D

ناشتے کی میز پر پہچانے کے پیچھے کا محرک ڈاکٹر بھائی سے ملتا جلتا ہے لہذا ڈاکٹر بھائی سے مجھے نہ ملائیں ان کی بیگم جو ان سے کرتی ہیں ضروری نہیں کہ ہر بیگم ویسا ہی کریں میرے ساتھ تومیری بیگم بہت اچھا کرتی ہیں ناشتہ تیار کرکے سامنے رکھ دیتی ہیں جو مزے دار ہوتا ہے اور میں کھا کر اللہ کا شکر ادا کرتا ہوں اگر بھول گیا ہوں تو آج پچھلے سارے ناشتوں کا مجموعی شکریہ اللہ میاں کو ادا کرکے آئندہ کی توفیق مانگتا ہوں۔
:D
ظاہر سی بات ہے آپ نے یہ بات کبھی بھی نہیں ماننی، اور ہم بھی شاید آپ کی بات کا یقین کر لیتے اگر موبائی لائی لانگ کا قصہ نہ جانتے ہوتے
:ouu:

یعنی فاتح کچن؟:pagal:
آہو :pagal:

میں جو چائے بناتا ہوں وہ بہت اچھی قابل برداشت ہوتی ہے،یہ والی چائے کی پتی ڈاکٹر بھائی کی الکمونیا کی تھی اور دودھ بھی خشک پاؤڈر ،لہذا ان اجزاء سے مل کر اچھی چائے نہیں بن سکتی، اگر آپ بناسکتی ہیں تو خود بنا کر تجربہ ہمارے ساتھ شئیر کریں
:ouu:
آپ چائے بنا کر ہمارے ساتھ شیئر کیجیئے تبھی ہم آپ کی اس بات کو مان سکتے ہیں،
:think:
اور ہمارا کیا ہے، بھائی ہمارا تو روز کا کام ہے، ہم تو دنیا میں چائے بنا نے کے لیئے ہی تو آئے ہیں
:lol: :lol:

گھر دوست کا باغ صبیح کا
:D
کھلم کھلا دھاندلی
:pagal:

شاپر کے اندر بریانی تھی ، جو آپ نےایک دعوت سے ایکسٹرا پلیٹ منگوا کر اس میں ڈالی ، لیکن راستے میں آپ کی چِپ نے تھک کر ریسٹ کیا تو اس موقع سے فائدہ اٹھا کر دشمن چیل اور کوؤں نے شاپر پر حملہ کردیا ،بچا کھچا شاپر سڑک پر ہی پھینک گئے جو ٹائر سے چپک گیا ،سارے راستے شاپر پر ناعمہ باجی کا اثر رہا اور وہ چڑیل کی طرح آوازیں نکالتا رہا شاید کچھ کہہ رہا تھا :pagal: ۔۔۔
میری چِپ، کیا یہ میری بلی کا نام ہے ؟ لیکن میری تو کوئی بلی ہی نہیں ہے
:think:

شاپر کی وجہ سے انہیں ناعمہ باجی کی خوشبو آئی اور ان کے پرانے زخم ہری مرچ کی طرح ہرے ہوگئے۔۔۔بس جی نہ جانے کون کون سے جنم کے بدلے چکانے کا عزم لے کر ویرانوں سے ڈنڈے لاٹھیاں لے کر نکلے ، جو ہاتھ لگا سمندری لہروں کی طرح بڑھتے لپکتے ہوئے حملہ آور ہوئے مجھے دیکھ ٹھٹکے کہ ناعمہ باجی آج کس روپ میں ان کے زخموں پر نمک چھڑکنے آئیں ہیں،میرے وہاں سے جانے پر ناعمہ باجی کے بارے میں ان کا غصہ کچھ ٹھنڈا ہوا ہوگا ۔۔۔۔لیکن کوئی گارنٹی نہیں کہ کسی موڑ پر ان کا سامنا ناعمہ باجی سے ہوجائے تو آگے سوچ کر ہی عافیت کی دعا نکلتی ہے۔۔۔۔
:lol::lol::lol:
اب سمجھ آئی وہ قبیلہ بلی خور تھا، ورنہ تو پہلے مجھے کچھ اور ہی وجہ سمجھ آرہی تھی
:unsure:

کھجل سائیں سے اس طرح آج سے پہلے کسی نے نہیں ملوایا تھا۔ بابا کھجل سائیں کی بدبو نہیں وہ تو خوشبو تھی ۔
:p
رئیلی؟؟
:pagal:

یہ ایک غلط خبر تھی جو بابا کھجل سائیں نے لوگوں کو کھجل کرنے کی غرض سے اپنی گدی میرے نام کرنے کے حوالے سے شو آف کیا، درحقیقت بابا جی ہی گدی کے مالک ہیں اور رہیں گے۔گدی کسی کو ملنے والی نہیں ہے۔
:ymad:
:think:
ہم نے سیٹلائٹ سے ساری تقریب کو براہ راست دیکھا ہے، ہم کیسے آپ کی بات کایقین کریں

اس واقعہ کو پر اثر انداز میں لکھنے پرکھجل سائیں نے کھجل سائیں دوئم کا خطاب بھی ناعمہ باجی کو دینے کا فیصلہ کرلیا ہے جس پر ضروری نہیں کہ کبھی عمل درآمد بھی ہوگا۔
:lol:
یہ صرف آپ کی ایک دیرینہ خواہش ہے اور کچھ نہیں اور ایسا واقعی کبھی نہیں ہوگا، کیونکہ یہ اعزاز آپ پہلے ہی اپنے نام کر چکے ہیں
:ouu:

ان تین دنوں کے اندر بابا کھجل سائیں نے کہا کہ ڈاکٹر بھائی اور ناعمہ باجی ہی گدی کے حقیقی وارث ہیں،یہ امانت نما گدی انہی کی ہے اس کی ضمانت بابا کھجل سائیں خود ہیں۔
:pagal::pagal::pagal::pagal::pagal:
مبارک ہو ناعمہ باجی اور ڈاکٹر بھائی جس چیز کی ضمانت کھجل سائیں دیں اس پر سوائے ہنسنے کے اور کِیا ہی کیاجاسکتا ہے؟۔
:lol:

تب ہی بیگم کے لیے نوٹ پر لکھا تھا کہ 4 دن بعد آؤں گا۔
:handshake:
بہت خوب ودھیا کہانی لکھی ہے۔شاباش
:thanksyou:
:handshake:
 

Naima

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Messages
1,719
Reaction score
1,729
Points
407
Location
الکمونیا - اسلام آباد

صبیح

★★★☆☆☆
Dynamic Brigade
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
1,880
Reaction score
2,326
Points
620
Location
Central
بڑی محنت اور شوق سے کہانی لکھی ہے۔اس پر سٹوری ریٹ دینا ہی ہوگا۔
گڈ انکل !سٹوری ریٹ دینا ہی ہوگا پر آپ نے اس قدر زور ڈالا ہے کہ اس کے اندر سے آواز نکلی ہے "متھے پونڈ کنال کرکے"۔
:lol:
 

صبیح

★★★☆☆☆
Dynamic Brigade
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
1,880
Reaction score
2,326
Points
620
Location
Central
tks:
:D


ظاہر سی بات ہے آپ نے یہ بات کبھی بھی نہیں ماننی، اور ہم بھی شاید آپ کی بات کا یقین کر لیتے اگر موبائی لائی لانگ کا قصہ نہ جانتے ہوتے
:ouu:


آہو :pagal:


آپ چائے بنا کر ہمارے ساتھ شیئر کیجیئے تبھی ہم آپ کی اس بات کو مان سکتے ہیں،
:think:
اور ہمارا کیا ہے، بھائی ہمارا تو روز کا کام ہے، ہم تو دنیا میں چائے بنا نے کے لیئے ہی تو آئے ہیں
:lol::lol:


کھلم کھلا دھاندلی
:pagal:


میری چِپ، کیا یہ میری بلی کا نام ہے ؟ لیکن میری تو کوئی بلی ہی نہیں ہے
:think:


اب سمجھ آئی وہ قبیلہ بلی خور تھا، ورنہ تو پہلے مجھے کچھ اور ہی وجہ سمجھ آرہی تھی
:unsure:


رئیلی؟؟
:pagal:


:think:
ہم نے سیٹلائٹ سے ساری تقریب کو براہ راست دیکھا ہے، ہم کیسے آپ کی بات کایقین کریں


یہ صرف آپ کی ایک دیرینہ خواہش ہے اور کچھ نہیں اور ایسا واقعی کبھی نہیں ہوگا، کیونکہ یہ اعزاز آپ پہلے ہی اپنے نام کر چکے ہیں
:ouu:


:lol:


:thanksyou:
:handshake:
واہ جی واہ باجی بونگیاں ایسی جیسے گنوں کی گنڈیریاں چوسی ہوئیں
تبھی آپ کہہ رہی تھیں کہ وہ والا حصہ اسلام آباد سے جدا کردیا گیا ہے۔۔:ymad: ۔۔۔
 

Naima

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Messages
1,719
Reaction score
1,729
Points
407
Location
الکمونیا - اسلام آباد
واہ جی واہ باجی بونگیاں ایسی جیسے گنوں کی گنڈیریاں چوسی ہوئیں
تبھی آپ کہہ رہی تھیں کہ وہ والا حصہ اسلام آباد سے جدا کردیا گیا ہے۔۔:ymad: ۔۔۔
ویسے مجھے لگ رہا ہے کہ آپ میرے پکے پکے دشمن بنتے جا رہے ہیں، ہم آپ کی بھلائی کی بھی بات کریں تو آپ اس میں سے بھی پنگا نکال ہی لیتے ہیں
:think:
 

Naima

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Messages
1,719
Reaction score
1,729
Points
407
Location
الکمونیا - اسلام آباد

صبیح

★★★☆☆☆
Dynamic Brigade
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
1,880
Reaction score
2,326
Points
620
Location
Central
ویسے مجھے لگ رہا ہے کہ آپ میرے پکے پکے دشمن بنتے جا رہے ہیں، ہم آپ کی بھلائی کی بھی بات کریں تو آپ اس میں سے بھی پنگا نکال ہی لیتے ہیں
:think:
آپ ڈاکٹر بھائی کی باتوں میں آکر بھلائی کی باتوں سے دور ہوگئی ہیں۔
:lol:
 

Naima

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Messages
1,719
Reaction score
1,729
Points
407
Location
الکمونیا - اسلام آباد
آپ ڈاکٹر بھائی کی باتوں میں آکر بھلائی کی باتوں سے دور ہوگئی ہیں۔
:lol:
آپ چِپ کے زیر اثر ہونے کی وجہ سے یہیں بھول گئےہیں کہ بھلائی کی باتیں ہوتی کیا ہیں
:maro2:
 
Top