گناہ کا حقیقی تصور

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
5:54 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,966
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
117.51
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
گناہ سے بچنے کے لیے گناہ کو سمجھنا بہت ضروری ہے کہ گناہ کیا ہے؟ گناہ دراصل خدائی قوانین کی خلاف ورزی کا نام ہے۔ اس لحاظ سے دیکھا جائے تو خدائی قوانین کی کئی اقسام ہیں۔ ایک قسم مادی قوانین کی ہے جیسے کشش ثقل کا قانون۔ جو اس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے اونچی جگہ سے بلا سہاراچھلانگ لگائے گا تو اس کی سزا زخمی یا ہلاک ہونا لازمی ہے۔
دوسرے قوانین اخلاقی قوانین ہیں ۔ ان قوانین کا منبع ہماری فطرت یا ضمیر ہے۔ ان قوانین کی خلاف ورزی بھی گناہ ہے۔ جیسے چوری کرنا

، کسی پر ظلم کرنا ، جھوٹ بولنا، دھوکہ دینا وغیرہ۔ ان قوانین کی خلاف ورزی کی سزا بھی نافذ ہوتی ہے لیکن یہ سزا مادی قوانین کے برعکس فوری طور پر نظر نہیں آتی۔ مثال کے طور پر ایسا نہیں ہوتا کہ ایک شخص نے دھوکہ دیا اور اس کی ٹانگ ٹوٹ گئی۔ اس کے برعکس یہ اخلاقی انحراف آہستہ آہستہ جمع ہوتے رہتے ہیں اور وقت آنے پر اس دنیا میں سزا مل جاتی ہے ۔ اور اگر اس دنیا میں یہ سزا پوری نہ ہو تو گناہ اس کی روحانی وجود کے ساتھ لگ کر اگلی دنیا میں منتقل ہوجاتے ہیں۔
تیسری قسم کے قوانین مذہبی قوانین ہیں۔ ان قوانین کا منبع مختلف مذاہب کے ماننے والوں کے عقیدے اور شریعت ہوتی ہے۔ ان میں زیادہ ترتو اخلاقی قوانین ہی ہوتے ہیں جو مختلف انداز میں بیان ہوتے ہیں۔ اس کے علاوہ مذاہب کے عقائد اور ان کی د ی ہوئی شریعتوں کے احکامات ہوتے ہیں۔ جیسے مسلمانوں کوپانچ نمازوں کا حکم ہے، یہود کے ہاں سبت یعنی ہفتے کے دن کا احترام وغیرہ۔ ان قوانین کو دل سے درست مان لینے کے بعد ان سے انحراف بھی حقیقت میں خدا کے حکم سے انحراف کے زمرے میں آتا ہے۔ ان کی سزا کا معاملہ بھی اخلاقی قوانین ہی کی مانند ہے۔
گناہ کی ایک اور قسم اجتماعی معاملات سے متعلق انحراف ہے۔ اگر کوئی قوم اجتماعی طور پر کسی اخلاقی، مادی یا مذہبی قانون کی خلاف ورزی کرتی ہے تو اس کی سزا پوری قوم کو بھگتنا پڑتی ہے۔ مثال کے طور پر کوئی قوم نااہل لوگوں کو کسی ادارے میں بھرتی کرلیتی ہے تو اس کا خمیازہ ان سروسز کی بری کوالٹی کی صورت میں نمودار ہوتا ہے۔ اسی طرح اگر کوئی قوم بحیثیت مجموعی کسی اخلاقی برائی کی مرتکب ٹہرتی ہے تو اس کا خمیازہ بھی قوم کو بھگتنا پڑتا ہے۔
خلاصہ یہ کہ گناہ سے مراد خدائی قوانین کی خلاف ورزی ہے ۔ یہ قوانین مادی ، اخلاقی، مذہبی اور اجتماعی قوانین ہیں ۔ ان قوانین کی سزا کا اپنا میکنزم ہے۔ البتہ عام طور پر گناہ سے مراد صرف مذہبی قوانین کی خلاف ورزی سمجھا جاتا ہے۔

Dr. Muhammad Aqil​
ڈاکٹر محمد عقیل
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks