لفظ افغان کی تحقیق قسط اول

Afzal339

Thread Starter
★★☆☆☆☆
Dynamic Brigade
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
494
Reaction score
714
Points
280
بغرض معلومات و اصلاح یہ پوسٹ کررہاہوں ۔
مشہور پشتو لغات میں اس لفظ کے درج ذیل معنی لکھے ہیں
پختونستان کا رہائشی ، افغانستان کا رہائشی خواہ پشتون کا غیرہی کیوں نہ ہویعنی فارسی وان ،ازبک اورتاجک ہی کیوں نہ ہو، پشتو زبان ، پشتون آدمی یا کوئی بھی چیز جس کا بنیادی طور پر افغانستان سے تعلق ہو مثلاً افغان لوگ، افغان خوراک، افغان ثقافت، افغان قالین وغیرہ
لفظ "افغان"کا ذکر پرانی کتابوں میں
اس لفظ"افغان"کا ذکرقوم کے نام کی حیثیت سے دو ہزار سال قبل چینی سیاح ہیونگ سانگ کی لکھی گئی کتاب میں ملتا ہے ۔ اس کے بعد دسویں صدی میں لکھی گئی جغرافیہ کی کتاب" حدود العالم" میں بھی اس کا ذکر ملتا ہے۔ اس کے علاوہ بھی کچھ کتبوں اور کتابوں میں اس سے قبل اور بعد کی تاریخوں میں یہ نام "اغوان"افگان،ابگان،اباگان اور اوگان کی شکلوں میں مذکور ہے جن میں سے کچھ کا ذکر عن قریب آئے گا ۔
پشتون قوم کو "افغان" کہنے کی وجہ
پشتون قوم کے لیے "افغان" نام کیوں استعمال ہوتا ہے اس کے بارے میں کافی اقوال ہیں جو ذیل میں نقل کیے جائیں گے ۔
نمبر ایک :اس قوم پر جب بخت نصر نے عرصہ حیات تنگ کر دیا تو یہ لوگ اس ظلم کے خلاف "آہ فغاں" کرتے تھے۔ اس قوم کی" آہ فغان "کی وجہ سے ان کا نام" آہ فغان" پڑا جو یا تو اول کلمے میں قانون اختصار یا دونوں کلموں کے کثرت سےاستعمال کی وجہ سے حرف "ہ" کے حذف کے بعدلفظ "افغان" بن گیا ۔
نوٹ :لفظ "آہ"کا معنی تو مشہورہے اور لفظ "فغان" کے معنی ہیں
شور، فرياد، واويلا، گلہ، شکايت، افسوس
نمبر دو:ان کے جد امجد کا نام " افغان" تھا ۔ جو بعد میں ان کی قوم کا نام ٹھہرا۔ یہ توجیہ تومضبوط ہے مگر میرے علم کے مطابق پشتونوں کے مشہور شجروں میں "افغان" نام کا کوئی بندہ نہیں گزرا ۔اگر ایسا ہے تو یہ توجیہ بھی کمزور ٹھہرے گی۔
نمبر تین : اس قوم کو سب سے پہلے ایرانیوں نے "افغان"نام سے مخاطب کیا تھا ۔مگر اس کی وجہ کیا تھی ؟ یہ مجھے ابھی تک کہیں مرقوم نہیں ملی ۔ نیز اس حوالے سے کچھ اور اعتراضات بھی بنتے ہیں جو طوالت کے خوف سے ترک کررہاہوں ۔
نمبر چار: بعض اہل علم کے نزدیک لفظ "افغان "لفظ"اوگانا "کی بگڑی شکل ہے ہندی ہیت دان "ورمہ مہرا" کی کتاب" برہت سیمتا" میں اس قوم کے لیے یہی نام "اوگانا"استعمال ہوا ہے ۔ اور یہ اس طرح ہے کہ لفظ "اوگانا حرف "و" اور حرف "گ" ثقالت کے قانون کی وجہ سے "ف"اور"غ" سے بدلنے کی وجہ سے " افغانہ " بنا پھر حرف"الف" قانون اختصاری کی وجہ سےحذف کے بعد لفظ "افغان " بن گیا۔
مگر میرا خیال ہے کہ لفظ "اوگانا" کی کوئی اصل نہیں بلکہ یہ خود ہی لفظ "افغان" کی بگڑی شکل ہے وہ اس طور پر کہ افغانیوں میں ایک طبقہ اس لفظ کو" افغان "نہیں بلکہ "اوغان "کہتے ہیں اس کے علاوہ آٹھویں صدی ہجری کے تواریخ "ظفرنامہ"،"ملفوظات تیموری" اور مطلع السعدین میں پختونوں کے لیے لفظ "اوغان" ہی استعمال کیا گیا ہے ۔
پھر اہل ہند میں کچھ لوگ حرف "غ" کی ادائے گی پر قادر نہیں ہیں تو وہ لوگ حرف"غ" کی جگہ حرف "گ" بولتے ہیں جس کا نتیجہ "اوگان" آئے گا ۔ پھر "اوگان "سے "اوگانا" کیسے بنا ؟ تو اس کا جواب یہ ہے کہ چونکہ پشتون منادی مذکر کے آخر میں "الف" لگاتے ہیں ۔ مثلا
افغان سے افغانا ،اوغان سے اوغانا ،اوگان سے اوگانا
اور میرا مشاہدہ ہے کہ عام طور پر یہی قانون منادی غیر پشتون طبقے کے لیے غلط فہمی کا سبب بنتا ہے ۔ مثلا جب پشتون ایک دوسرے کو بلاتے ہیں تو منادی نام کچھ اس طرح ہوتے ہیں
کبیر سے کبیرا،صغیر سے صغیرا ،جعفر سے جعفرا ،خان سے خانا ،عارف سے عارفا اور افغان سے افغانا
یہی وجہ ہے کہ پھر بعض اوقات غیر پشتون طبقے کو یہ غلط فہمی ہوجاتی ہے کہ شاید کبیر کا نام کبیرا ہے یا صغیر کا نام صغیراہےیا افغان کا نام افغانا ہے وعلی ھذا القیاس
نوٹ : لفظ " اوغہ"نام اور"غان"نسبت جمع ہوکرلفظ "اوغان" ہو گیا اور یہ "اوغان"بھی قانون ثقل کی وجہ سے " افغان"بنا کیوں کہ ایک طبقے کی زبان پر حرف"و"ثقیل ہے اور ایک طبقےکی زبان پر حرف "ف" ثقیل ہے۔
نمبر چار :بعض اہل علم کا کہنا ہے کہ لفظ " افغان" اصل میں لفظ "ابگان" تھا جس کا ذکر تیسری صدی کے ایک ایرانی کتبے میں ملتا ہے ۔ پھرحرف"گ"بدلا حرف"غ" سے ثقالت کے قانون کی وجہ سے اور حرف "ب"خلاف القیاس حرف "ف" سے بدل گئی ۔ اسی طرح یہ نام" افغان" بنا۔
نمبر پانچ :بعض اہل علم کے مطابق لفظ "افغان" اصل میں لفظ "اباگان" تھا جس میں حرف "گ" کی جگہ حرف"غ" ثقالت کے قانون کی وجہ سے آیا پھرحرف "ب" خلاف القیاس حرف"ف" سےبدل گئی اور حرف"الف"یا تو اول کلمے میں قانون اختصار کی وجہ سے گرا ہے یا پھر دونوں کلموں کے کثرت سے استعمال ہونے کی وجہ سے گرگیا۔جو پھر" افغان" بن گیا ۔
نوٹ : اباگان کا معنی ہے باپ اور دادا ،یا صرف ددھیال
نمبر چھ:بعض اہل علم کے مطابق لفظ "افغان""اوگان" سے بنا ہے جس کا پس منظر یہ بتایا جاتا ہے کہ تیسری صدی کی جغرافیہ کی کتاب حدود العالم میں لکھا ہے نیز الُعتبی (تاریخ یمنی) اور البیرونی نے بھی ذکر کیا ہے۔ کہ فریدون کے زمانے میں ایک مشہور اور نامور پہلوان "اوگان" تھا اس زمانے میں بہادراور دلیر لوگوں کو اس کے نام سے تشبیہ دی جاتی تھی۔ فردوسی نے اپنے "شاہنامہ" میں مشہور بہادروں کو "اوگان" سے تشبیہ دی ہے۔ چنانچہ پشتونوں کی اکثریت پہلوانی کی شوقین کی ہونے سے اس نام سےموسوم ہوگئی ۔ یوں پھرلفظ "اوگان" ان کا نام بھی کہلایا ۔باقی رہی یہ بات کہ لفظ "اوگان" سے لفظ "افغان" کیسے بنا تو اس پر ماقبل میں بحث ہوچکی ہے ۔
نمبر سات:بعض اہل علم کا کہنا ہے قدیم ایران کے شاہی خاندان کے بادشاہ "دارا اول" نے کتبہ نقش رستم میں خود کو ایرانی کا بیٹا اور "آریا کی اولاد" سے موسوم کیا ہے
اس کتبہ میں "آریہ" کا تلفظ "اُرِئی" ہے۔ جس میں قانون امکانی کے تحت ابتدا میں لفظ "اَرِیَ" بنا پھر لفظ"غان" نسبتی لگ کر لفظ "اری غان" ہو گیا ہوگا یا تو اول کلمے میں قانون اختصار یا پھر دونوں کلموں کے کثرت سے استعمال سے سے حرف "ر "خارج ہو گئی ہوگی۔ پھر حرف" ی" کو حرف"و" سے قانون کی وجہ سے بدلا جس کے بعدلفظ " اوغان" بن گیا ۔ پھر "اوغان" سے" افغان " کیسےبنا اس پر ماقبل میں بحث ہوچکی ہے ۔
لیکن میرے خیال سے یہ انتہائی کمزور بات ہے۔ایک تو اس میں قانون امکانی استعمال ہوا ہے جوزبانوں کا انتہائی کمزور قانون ہے۔دوسری بات یہ ہے کہ بڑی دور کی کوڑی استعمال کی گئی ہے ۔
نوٹ : فارسی میں نسبت کے لیے لفظ "گان" استعمال ہوتا ہے۔ مثلاً گر گان،شرمزگان،چادگان، خوارسگان ،ریگان،شادگان،کردگان،گلپایگان،نوبندگان وغیرہ
جب کہ پشتو میں نسبت کے لیے لفظ "غان " استعمال ہوتا ہے۔ یہ شہروں اور علاقوں کے ناموں میں عام استعمال ہوا ہے۔ مثلاً لمغان، شبرغان، پغان، دامغان اور کاغان وغیرہ
نمبر آٹھ:بعض اہل علم کے مطابق لفظ "افغان "لفظ "اوغان "سے ہے اور لفظ "اوغان لفظ "اوغہ"کی جمع ہے اہل علم کا یہ طبقہ اس کا پس منظر یہ بیان کرتے ہیں ۔افغانستان کے ترکوں میں ایک قبیلہ جس کا نام "غز "تھا۔ جس کی جمع لفظ"اغوز" تھا ۔ اب یا تو لفظ "اغوز" سے فرد واحد کے لیےقانون اختصار کی وجہ سےلفظ"اوغہ"نکلا ہے
یا پھر اس قبیلے کو مقامی رنگ میں ڈھل جانے کی وجہ سے یہ نام بولاجاتا تھا جیسا کہ ایک روایت یہ بھی بیان کی جاتی ہے کہ لفظ "اوغہ" ان ترک قبائل کے لیےبولاجاتا تھا جنہوں نے مقامی ثقافت، زبان اور مذہب اختیار کر لیا تھا۔
پھر "اوغہ"کی جمع""اوغان"بنی اور اور اس کے ساتھ ساتھ یہ نام تمام مقامی قبائل کے لیے بھی بولاجانے لگا اور بعد میں لوگ یہ بھول گئے کہ یہ لفظ صرف ترک نژاد قبائل کے لیے استعمال ہوتا تھا۔ یہی وجہ ہے کہ آج بھی افغانستان میں ہزارہ قوم افغانی پشتونوں کو "اوغہ" کہتے ہیں ۔
نمبر نو:لفظ "افغان" اصل میں لفظ "افنان"سے بنا ہے اور افنان ایک مشہور بادشاہ کے وزیر کا نام تھا ۔ اور سب پشتون قوم ان کی اولاد ہے مگر یہ بھی اتنہائی کمزور بات ہے۔ کیوں کہ میرے علم کے مطابق پشتونوں کے مشہور شجروں میں یہ نام مذکور نہیں ہے ۔
نمبر دس: " پختانہ د تاریخ پہ رنڑا کیی" نامی تاریخی کتاب میں ذکر ہے کہ پختون قوم کے جد امجد قیس عبدالرشید کو "بطان" کے لقب کے ساتھ اہل عرب نے ان کی قوم "افغان" نام بھی دیا تھا
نمبر گیارہ : انڈیکا کے مترجم مسٹر کرنڈل کی تحقیق کے مطابق لفظ "افغان" سنسکرت زبان کے لفظ کی بگڑی ہوئی شکل ہے۔یہ لفظ کون سا ہے یہ مجھے نہیں ملا ۔
نمبر بارہ : ڈاکٹر محمد نواز خان محمود اپنی کتاب ”فرنگی راج اور غیرت مند مسلمان“ میں لکھتے ہیں کہ افغان کی نسل بنی اسرائیل(حضرت یعقوب علیہ السلام) سے ہے، اُنکے جدِ امجد کا نام افاغنہ تھا جو بنی اسرائیل کے بادشاہ طالوت کا پوتا تھا۔
یعنی "افغان " "افاغنہ" سے بنا ہے جس میں قلب مکانی کے قانون سے حرف "الف" حرف "غ" کی جگہ اور حرف"غ" حرف "الف" کی جگہ آیا تو"افغانہ"بنا پھر قانون اختصار کی وجہ سے یا کثرت استعمال کی وجہ سےحرف "ہ" کے حذف کے ساتھ"افغانہ" سے "افغان" بنا۔
نمبر تیرہ : لفظ "افغان"اصل میں لفظ "اغوان" تھا جس میں پہلے قلب مکانی ہوئی یعنی حرف"و" حرف "غ" کی جگہ آیا اور حرف "غ" حرف"و" کی جگہ پر جس سے لفظ "اوغان" بنا پھر اوغان سے ماقبل میں ذکر کردہ قانونں کی روشنی میں لفظ "افغان" بنا​
Please, Log in or Register to view URLs content!
 

Naima

Staff member
★★★★☆☆
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Messages
1,719
Reaction score
1,729
Points
407
Location
الکمونیا - اسلام آباد
:umda:
 
Top