خوشیوں کی کنجی

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,647
Reaction score
2,911
Points
930
Location
Manchester U.K
ہر ایک کی یہی خواہش ہوتی ہے کہ وہ خوش رہے اور پرسکون زندگی گزارے۔ بہت سے لوگوں کو آپ نے خوشیوں کی جستجو میں دیکھا ہوگا کہ وہ مختلف دلچسپیوں اور مشاغل میں زندگی کی خوشیاں تلاش کرتے نظر آتے ہیں۔ آپ نے یہ بھی پڑھا اور سنا ہوگا کہ خوشیوں کو خود تلاش کرنا پڑتا ہے۔
یہ تمام باتیں بھی غلط نہیں ، لہذا خوشیوں کو تلاش کرنے کے لئے سب سے پہلے اپنی ذات پر توجہ دیں اپنی صحت کا خیال رکھیں کیونکہ اگر آپ بیمار اور تھکی ہوئی ہوں گی تو ایسی صورت میں خوش رہنا ناممکن ہے۔ زیادہ تر خواتین اپنے آپ پر توجہ نہ دینے کے سبب تھکن اور افسردگی کی کیفیت میں مبتلا رہتی ہیں۔ اپنے آپ پر توجہ دینے سے آپ کی جسمانی صحت ہی نہیں بلکہ ذہنی اور جذباتی صحت بھی خوشگوار رہتی ہے لہذا اس بات کا خیال رکھیں کہ جو کچھ کھا رہی ہیں، وہ آپ کے لئے صحت بخش ہو اور اس کے ساتھ کوئی جسمانی سرگرمی خواہ وہ چہل قدمی ہی کیوں نہ ہو، اپنے معمول میں شامل رکھیں۔ تھوڑا بہت وقت ذہنی تفریح کے کسی مشغلے کو دیں اور پھر ہلکی پھلکی اور پرسکون ہوکر نیند کی وادی میں جائیں۔ آپ دیکھیں گی کہ خوشیاں خودبخود آپ کے دل میں اُتر آئی ہیں!
Please, Log in or Register to view URLs content!

 

faizyG

☆☆☆☆☆☆
Joined
May 18, 2019
Messages
53
Reaction score
49
Points
13
واقعی خوشیوں کی کنجی تو دراصل انسان کے اپنے پاس ہی ہوتی ہے۔لیکن کم فہمی کی بنا پر وہ اپنی خوشیاں دوسروں سے توقعات وابستہ کر کے تلاش کرتا ہے اور پھر نتیجہ مایوسی اور پریشانی کی صورت میں سامنے آتا ہے۔میرے تجربے میں ایسے بہت سے لوگ آتے رہتے ہیں جو خوشیوں بھرے ماحول میں اپنے لئے دکھ اور پریشانیاں نکال لیتے ہیں۔اور کئی ایسے ہیں جو اداس اور پریشان کن حالات میں بھی قہقہے بکھیرتے اور ہنستے ہنساتے رہتے ہیں۔موسم انسان کے اندر ہوتے ہیں۔ ماحول کے مرحونِ منت نہیں ہوا کرتے۔آپ کے اندر کا موسم جیسا ہوگا ویسا ہی آپ کو اپنے اردگرد بھی نظر آئے گا اور محسوس ہوگا۔آپ کی باتیں بہت درست ہیں۔دراصل خوشیوں کی کنجی ہمارے ہی ہاتھ میں ہوتی ہے ۔
بھیکھا بھوکا کوئی نہیں ہر کی گدڑی میں لال
بس گراہ کھولنی نہ جانن اس بھید رہے کنگال
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,647
Reaction score
2,911
Points
930
Location
Manchester U.K
خوشی کیا ہے

ایک طویل عرصے سے ہم اس جدوجہد میں ہیں کہ جان سکیں ، خوشی کیا ہے؟کیوں ضروری ہے ؟ کیسے حاصل کی جاسکتی ہے ؟ توکیا یہ کہنا بجا ہوگا کہ دو حادثات کے درمیان وقفہ امن ہے اور ہر دو تکلیف دہ لمحوں کے درمیان وقفے کو سکون سے تعبیر کریں اور ہرایک غم کے درمیان وقفے کو خوشی کا نام دیں۔
مشہور فلسفی ارسطو نے کہا تھا کہ خوش ہونا انسانی زندگی کا ایک اہم مقصد ہے ۔

اگر ارسطو کی اس بات پر غور کریں کہ خوش ہونا ایک مقصد ہے تو اس مقصد کے حصول میں تو پوری دنیا ہی اپنی زندگی بسر کردیتی ہے ، کوششیں کرتی ہے، جوڑ توڑ کرتی ہے ۔شاید کہ مقصد حاصل ہوجائےاور اسی جدوجہد میں کہیں پھر خوشی گم ہوجاتی ہے ۔

مجھے خبر نہیں غم کیا ہے اور خوشی کیا ہے

یہ زندگی کی ہے صورت تو زندگی کیا ہے

جناب!ہمارے نزدیک تو خوش رہنے کا صحت کے ساتھ بھی براہ راست تعلق ہے۔اس پر بھی دو چار باتیں کرلیتے ہیں۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق

صحت صرف بیماری کی عدم موجودگی کا نام نہیں بلکہ اس سے مرادایسی کیفیت ہے جس میں ایک فرد جسمانی ،ذہنی اورسماجی لحاظ سے مکمل طور پر ٹھیک ہو۔

اس تعریف کو اگر خوشی کانام دیا جائے توغلط نہ ہوگا ۔

چلیں !یہاں طے کرلیتے ہیں کہ آخر خوشی ہے کیا؟

ایسی ذہنی وجذباتی کیفیت جس میں مثبت وخوشگوار جذبات جنم لیتے ہوں ، خوشی کہلاتی ہے۔

خوشی کیفیت کانام ہے تو یقینااس کے کچھ درجات بھی ہوں گےکہ جس کی مدد سے اس کو کیلکولیٹ کیا جاسکے ،

پہلے درجےپر بنیادی ضروریات کو رکھیں توخوشی مادی اشیا کے حصول ہے

دوسرے درجے پر خودی کی پہچان اور دوسروں پر فوقیت و برتری یا فتح ہے

تیسرے نمبر پر دوسروں کی مدد ، ان کو سکون پہنچانا، خوشی کے زمرے میں آتا ہے ۔

آخری نمبر پر براجمان خوشی کو دلی سکون یا اندرونی خوشی بھی کہہ سکتے ہیں۔

خوشی کو سکون ، اطمینان اور کیفیت کی نسبت سے دیکھیں تو ظاہری طور پر اس کا اثر صحت پر ہوگا ، کیسے ؟ چلیےدیکھتے ہیں ۔

خوش رہنے والے لوگوں کی قوتِ مدافعت زیادہ مضبوط ہوتی ہے اورایسے لوگ زیادہ لمبی عمر پاتے ہیں۔

خوشی لوگوں کے دلوں میں وسعت پیدا کرتی‘طمانیت کا احساس بیدار کرتی اور تکالیف سے گزرنے کا حوصلہ دیتی ہے۔

خوشی دیگر انسانوں سے تعلقات میں بہتری لانے میں بھی اہم کردار ادا کرتی ہے۔

خوش مزاج لوگ رشتوں کو بہتر اور کامیاب انداز سے نبھاتے ہیں۔ ایسے لوگ زیادہ تخلیقی اور تعمیری صلاحیتوں کے مالک بھی ہوتے ہیں۔

ذہنی تناؤ خوشی کو کھا جاتا ہے لہٰذا خوش رہنے کے لیے اس پر قابو پاناضروری ہے۔ جن لوگوں میں اس سے نمٹنے کی صلاحیت کم ہوتی ہے‘ وہ مشکل صورت حال میں اچانک گھبرا جاتے ہیں اور حوصلہ چھوڑ جاتے ہیں ۔

وہ کہتے ہیں نا ۔۔کہ ہر دکھ کے بعد سکھ ہے خوشی ہے ،سو! جو بھی ہو، خوش رہنے کے لئے ذہنی تناؤ کا مقابلہ کرنا سیکھنا چاہئے۔ تاکہ ہر لمحہ خوشی آپ کے ساتھ ہو۔

خوشی کیا ہے اور کیوں ضروری ہے جاننے کے ساتھ ہم نے یہ بھی دیکھا کہ خوشی ملتی کیسے ہےوہ کون سے ذرائع ہیں جو ہمارے لیے خوشی کا موجب ہوسکتے ہیں ۔یہ بات تو حقیقت ہے کہ لوگوں کی خوشی کے معیار مختلف ہیں اس لیے ان کے ذرائع بھی الگ اور جدا ہیں، مثلاً کسی تخلیق کارکے لئے اس کی تخلیق‘ کسی شاعر کے لئے اس کی نظم‘کسی کرکٹر کے لئے اس کا اچھا سکور‘کسی بزنس مین کے لئے اس کی کاروباری کامیابی خوشی کا باعث ہوسکتی ہے۔

اگر ہم توقعات کا دائرہ محدود رکھیں تو زیادہ خوش رہیں گے۔جتنی زیادہ توقعات، اتنی ہی زیادہ بے اطمینانی ہوگی۔

یوں سمجھ لیں کہ بچے دنیا کی سب سے خوش مخلوق ہیں ، جہاں بڑے ہوئے توقعات بڑھتی گئیں ، خواہشیں پلتی گئیں اور خوشی ناپید ہوگئی، کیونکہ بچے بڑوں کی طرح کینہ اوربغض نہیں پالتے۔ ابھی لڑے تو اگلے ہی لمحے شیروشکر ہوگئے۔ یہی چیز بڑے بھی اپنی زندگی میں شامل کر لیں تو خوش رہ سکتے ہیں۔ کچھ لوگ روحانیت اور مذہب میں خوشی اور سکون محسوس کرتے ہیں۔روح اگر مطمئن اور پرسکون ہو تو جسم اور دماغ بھی پرسکون اور خوش رہتے ہیں۔

خوش رہنے کے لیے مزید عوامل طے کرلیتے ہیں کہ جن سےہمیں خوشی باہم پہنچتی ہے ،ان میں قابل اعتبار اورقریبی دوست، محبوب سے مستحکم رشتہ،اپنی صلاحیتوں کے مطابق نوکری ، مستحکم معاشی زندگی ، دن میں کم از کم تین مثبت تجربات اور اور اور جو کچھ زندگی میں حاصل ہے ، اس کی قدر کرنا۔

اسی طرح کچھ اور ایسی چیزیں ہیں جو خوشی دینے میں اہم کردار ادا کرتی ہیں ۔ خدا پر یقین، صاحب اولاد ہونا،مزید تعلیم کاحصول، اچھی صحت اور کچھ ناکامیو ں سے تجربہ حاصل کرنا۔

اقوام متحدہ کی ایک رپورٹ کے مطابق 2015ءمیں دنیا کے خوش ترین افراد سوئٹزرلینڈسے تعلق رکھتے تھے۔یونیورسٹی آف آئیووا کے پروفیسر ڈیوڈ واٹسن کہتے ہیں کہ اگر خوش رہنا ہے تو خود کو حسد اور جلن سےآزاد رکھیں،پیرس کی سوبورن یونیورسٹی کی پروفیسرکلاڈیا کے مطابق اپنے منصوبوں اور آرزوں پر توجہ مرکوز رکھیں اور اپنا موازنہ دوسروں سے نہ کریں ۔

آپ کو ایک اور زبردست با ت بتائیں کہ متحدہ عرب امارات نے تو خوشی کی باقاعدہ وزارت قائم کر لی ہے۔

اہود بنت خلفان الرومی کو فروری 2016 میں وزیر خوشی مقرر کیاگیا، انہوں نے پہلی بار سیشن سے بات کرتے ہوئے کہا تھا کہ لوگوں کو خوشی دینا سب سے مشکل کام ہے ،لیکن آگے بڑھنے کے لیے خوشی ایک واحد راستہ ہے ، خوش رہ کر اور دوسروں کو خوش رکھ کر آپ د نیا کی ہر کامیابی سمیٹ سکتے ہیں ،

26 اگست 1789 کو نیشنل اسمبلی آف فرانس نے خوشی کو بنیادی انسانی حق کے طور پر تسلیم کیا ۔

1970 میں بھوٹان کے بادشاہ نے خوشی کو ایک بنیادی انسانی حق قرار دیا ۔ اب اقوام متحدہ کے تحت ہر سال 20 مارچ دنیا بھر میں خوشی کا عالمی دن منایاجاتا ہے ۔
یہ بات واضح ہے کہ اگر معاشرے کے تمام افراد خوش ہوں تو اس سے اقتصادی ترقی کی رفتار تیز ہوجاتی ہے ۔

تو پھر آج سے اور ابھی سے سوچئے کہ خوشی کیسے منانی ہے اور بانٹی ہے اور خوشی کے عالمی دن پر کیا کرنا ہے خاص،
1۔ اپنے آپ سے زیادہ دوسروں کا خیال رکھیے ، اس سے آپ خود خوش رہیں گے ۔

2۔ دوسرے لوگوں کو مناسب وقت دیجیے ۔ ان کو بہترین مشورے اور خیالات دیجیے ۔ دوسروں کو خوش رکھنے کی کوشش کیجیے ۔ اس سے آپ ہی کو خوشی حاصل ہو گی ۔
3۔ لوگوں کے ساتھ اچھے تعلقات استوار کیجیے ۔ یہ انسانی زندگی پر خوشگوار اثر رکھتے ہیں ۔ دوستوں اور خاندان کے افراد کے ساتھ مخلصانہ تعلقات پیدا کیجیے ۔ نت نئے روابط تلاش کیجیے ۔ اس سے آپ خوش رہیں گے ۔
4۔ہمارے جسم کا دماغ سے گہرا رابطہ ہے ۔ ہماری جسمانی صحت بہتر ہو گی تو ہمیں پریشانیوں سے نجات ملے گی اور اس طرح ہم اپنے آپ کو خوش محسوس کریں گے ۔
5۔ جینے کا حوصلہ پیدا کیجیے ۔ ماضی کی تلخیوں کو بھول جایئے اور مستقبل کے خدشات کو ذہن سے جھٹک دیجیے ۔ ابھی کر گزرنے کے بہت سے جہاں باقی ہیں ۔ مزید سیکھنے کا جذبہ ہمارے ذہن کو بیدار رکھتا ہے اور زندگی خوشگوار ہو جاتی ہے ۔
6۔ ہمیشہ نت نئی چیزیں سیکھتے رہیے ۔ اپنے دوستوں سے خیالات شیئر کیجیے ۔ کائنات کی چیزوں کا گہرائی سے مطالعہ شروع کیجیے ۔ اپنی پریشانیوں اور ناکامیوں کو بھول جایئے ۔زندگی میں ہمیں ان چیزوں سے بہت کچھ سیکھنے کا موقع ملتا ہے۔ زندگی کا مقصد اور نصب العین بلند رکھیے ۔ بڑی اور بلند سوچ رکھنے والے لوگ زیادہ خوش رہتے ہیں ۔
7۔ اپنی سوچ مثبت رکھیے ۔ ‘‘ آدھا گلاس بھرا ہوا ہے ’’یہ بہتر ہے اس سے کہ یوں کہا جائے‘‘ آ دھا گلاس خالی ہے ’’ ۔ اپنے ساتھیوں سے مطمئن رہیے ۔ کوئی فرد بھی کامل نہیں ہے ۔ ہم دوسرے لوگوں کو برداشت کریں ، وہ جیسے بھی حال میں ہوں ۔ اس سے ہمیں خوشی حاصل ہو گی ۔

8۔دوسروں کے عیب کی تلاش میں مت رہیے ۔ کسی کی غیبت ہرگز نہ کیجیے اور تقوی اختیار کرلیجیے ۔یقین کیجیے اس سے آپ کا دامن خوشیوں سے بھر جائے گا ۔
تو دیر کس بات کی ۔ آج ہی سے ان باتوں پر عمل پیرا ہو جائیے ۔ پھر دیکھئے کس طرح زندگی خوشیوں سے لبریز ہو جاتی ہے۔

 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,647
Reaction score
2,911
Points
930
Location
Manchester U.K
خوش رہنے کے سادہ اصول!!!

8721_26536182.jpg
کہا جاتا ہے کہ خوشیاں بادل کے اس اجلے ٹکڑے کی طرح ہوتی ہیں جو پل بھر کے لیے سایہ کر کے رخصت ہوجاتا ہے، جب کہ دکھ اور پریشانیاں سردیوں کی طویل راتوں کی طرح کٹنے میں ہی نہیں آتیں۔ہر انسان خوش رہنا چاہتا ہے اور اس کی ساری زندگی خوشی حاصل کرنے کی تگ و دو میں گذرجاتی ہے۔ ہر انسان کے لیے خوشی مختلف معنی رکھتی ہے۔ کچھ دولت پا کر خوش ہوتے ہیں۔ ماں کو اصل خوشی اپنے ننھے بچے کی معصوم مسکراہٹ سے ملتی ہے۔ کچھ لوگوں کے لیے خوشی کا پیمانہ معاشرے میں اعلیٰ رتبہ اور مقام ہوتاہے۔ کچھ لوگ خوشیاں بانٹ کر خوش ہوتے ہیں اور دنیا میں ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن میں خوشی کا احساس دوسروں کو اذیت دینے سے جاگتا ہے۔ خوشی ہر ایک کے لیے مختلف ہے اور ہر کوئی مختلف انداز میں اپنے لیے خوشی تلاش کرتا ہے۔نفسیات کے ماہرین کا کہناہے کہ خوشی کی کوئی مادی حیثیت نہیں ہے۔ وہ انسان کے اندر پھوٹنے والا ایک احساس ہے، جس کے محرکات مختلف ہوسکتے ہیں۔ خوشی کا انحصار ہمارے گردو پیش کے حالات سے بھی ہے۔ ایک چیز جو کسی خاص وقت میں خوشی دیتی ہے ، ضروری نہیں ہے کہ دوسری بار ملنے پر بھی وہ خوشی کے احساس کو گدگدائے۔ ماہرین کا کہناہے کہ ہر انسان خوش رہ سکتا ہے اور اس کے لیے اسے زیادہ تگ و دو کی بھی ضرورت نہیں ہے۔ اسے اگر کچھ چاہیے تو وہ ہے اپنی سوچ اور اپنے انداز میں تھوڑی سے تبدیلی۔ امریکہ کی یونیورسٹی آف الی نوائے کے سائنس دانوں نے اپنے ایک مطالعاتی جائزے میں خوش رہنے کی اہمیت پر زور دیتے ہوئے کہاہے کہ خوش رہنے والے افراد ان لوگوں کی نسبت زیادہ عرصہ جیتے ہیں جو ہر وقت جلتے کڑھتے رہتے ہیں۔ طبی ماہرین کا کہناہے کہ لمبی عمر اور اچھی صحت کی کنجی ہے، خوش رہنا۔خوشی ایک ایسی چیزہے جس کا حصول تقریباً ہر انسان کے اپنے دائرہ اختیار میں ہے۔ چھوٹی چھوٹی چیزیں انسان کو بڑی بڑی خوشیاں دیتی ہیں۔برطانیہ میں حال ہی میں 40 ہزار سے زیادہ گھرانوں پر کیے جانے والے ایک مطالعاتی جائزے سے پتا چلا کہ ایسے گھروں کے لوگ نسبتاً زیادہ خوش پائے گئے جو ہفتے میں کم ازکم تین دن گھر میں ایک ساتھ بیٹھ کر کھانا کھاتے تھے۔ ماہرین کا کہناہے کہ ہماری زیادہ تر خوشیوں کا تعلق دوسروں کی ذات سے جڑا ہوتاہے۔ آپ کا اپنے رشتے داروں اور دوست احباب کے ساتھ تعلق جتنا مضبوط ہوگا، خوش رہنے کے امکان اتنے ہی زیادہ ہوں گے۔ ماہرین کے مطابق میاں بیوی کا تعلق سب سے لطیف اور سب سے قریبی ہوتاہے۔ یہ تعلق جتناگہرا ہوگا، انسان اتنا ہی زیادہ خوش رہ سکے گا۔ اکثر اوقات ڈھارس اورتسلی پریشانی میں کمی لاتی ہے اور اپنا مقصد پانے کی امیداسے خوشی کا احساس دلاتی ہے۔ میاں بیوی ہی ایک دوسرے کا دکھ درد حقیقی معنوں میں بانٹ سکتے ہیں اور ایک دوسرے کے لیے خوشیوں کا دروازہ کھول سکتے ہیں۔ کچھ عرصہ قبل نیویارک کی سٹونی بروک یونیورسٹی کے ایک مطالعاتی جائزے سے پتا چلاتھا کہ انسان کی زندگی میں خوشی کا اصل دور 50 سال کی عمر کے بعد شروع ہوتاہے۔ کیونکہ اس وقت تک انسان اپنی زندگی کے نشیب و فراز دیکھ چکا ہوتاہے۔ اس کے مزاج میں ٹہراؤ آگیا ہوتا ہے اور وہ زیادہ حقیقت پسند ہوگیا ہوتا ہے۔ اس عمر میں پہنچ کر میاں بیوی ایک دوسرے کے سچے رفیق بن چکے ہوتے ہیں اور بچے بھی ماں باپ کے دکھ سکھ میں ساتھ دینے کے قابل ہوچکے ہوتے ہیں۔ ماہرین کہتے ہیں کہ خوش رہنے کے لیے آپ اپنے بچوں ، بہن بھائیوں اور دوستوں میں دلچسپی لیں، ان کی سرگرمیوں میں شرکت کریں، اپنے اور ان کے درمیان فاصلے کم کریں۔ باہمی انسانی تعلقات آپ کو خوشیوں تک لے جانے والا ایک کلیدی زینہ ہے۔اکثر اوقات ہماری پریشانی کی وجہ یہ ہوتی ہے کہ ہم دوسروں سے بہت زیادہ توقعات وابستہ کرلیتے ہیں اور جب وہ پوری نہیں ہوتیں توہمیں دکھ ہوتا ہے۔ لیکن دوسری جانب جب ہمیں توقع سے زیادہ ملتا ہے تو خوشی ہوتی ہے۔ یعنی توقعات جتنی کم ہوں گے، خوش رہنے کا امکان اتنا ہی زیاد ہوگا۔ ایک عرب مفکر کا کہناہے کہ انسان 90 فی صد حالات و واقعات کے رحم وکرم پر ہوتا ہے جب کہ اس کا اپنا دائرہ اختیار صرف 10 فی صدہے۔ ہمارے وسائل چاہے کتنے ہی زیادہ کیوں نہ ہوں، ہم پھر بھی بہت کچھ نہیں کرسکتے۔ ماہرین کا کہناہے کہ اگر آپ خوش رہناچاہتے ہیں تو اپنے لیے ایسے اہداف مقرر کریں ،جنہیں پورا کرنا آپ کے لیے ممکن ہو، خاص طورپر چھوٹے چھوٹے اہداف۔ چھوٹی کامیابی آپ کو بڑی خوشی دے سکتی ہے۔ خوشی کا تعلق ہماری خواہشات سے بھی ہے۔ماہرین کا کہناہے کہ آپ کی خواہشات ایسی ہونی چاہیں جنہیں پورا کرنا آپ کے بس ہو۔ بصورت دیگر سوائے پریشانی کے کچھ ہاتھ نہیں آئے گا۔ گویا دوسرے لفظوں میں قناعت کی عادت اپنائیے۔ماہرین کا کہناہے کہ خوشیاں بانٹنے سے بڑھتی ہیں۔ ہر انسان ، خواہ وہ کتنا ہی مفلس کیوں نہ ہو دوسروں کو کم ازکم ایک مسکراہٹ تو دے سکتاہے۔ اور ایک سچی مسکراہٹ انسان کو جتنی خوشی دے سکتی ہے وہ قیمتی سے قیمتی تحفے سے بھی حاصل نہیں ہوسکتی۔ ٭…٭…٭
 
Top