دماغ سے متعلق تھوڑی سے بحث قسط اول

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
8:49 PM
Threads
206
Messages
593
Reaction score
956
Points
460
Gold Coins
420.37
غور و فکر کا مقام انسانی جسم میں دل اور دماغ میں سے کونسا ہے اس حوالے سے قدیم رائے دل کے متعلق تھی جب کہ جدید سائنس میں دماغ کی طرف اشارہ کیا گیا ہے
دل
دل جو سینے کے اندر قدرے بائیں جانب ، اُلٹے پان سے مِلتی ہوئی شِکل کا اک عضو ہے جس کی حرکت پر خون کی گردش کا مدار ہے ، یہ مرکب ہے گوشت و عصب و لیف اور غشاء سخت سے اور سرچشمہ ہے حرارتِ غریزی اور روح حیوانی کا ، اسی کی حرکت کے بند ہونے سے جسم اور روح کا رشتہ ختم ہو جاتا ہے
دل شعور کے تشکیل کردہ ایک ٹکڑے کا نام ہے اور شعور ایک ایسا کلیہ ہے جس سے احساسات ، جذبات اور یاداشت کی ایک جامع توجیہ ہوتی ہے شعور کا مقام انسانی جسم میں دماغ ہے اس کی تین کیفیات ہیں
شعور ، تحت الشعور اور لاشعور
شعور
دماغ کی سکرین پر جو چیزیں مشاہدے کے بعد رہتی ہیں اس کیفیت کو شعور کہتے ہیں
تحت الشعور
جب یہ چیزیں دماغ کی سکرین سے غائب ہوجائیں تو یہ کیفیت پھر تحت الشعور کہلاتی ہے
لاشعور
اور کچھ عرصہ گذرنے کے بعد والی کیفت لاشعور کہلاتی ہے

لاشعور میں جانی والی چیزوں کو تھوڑی بہت کوشش کے بعد دماغ کی سکرین پر شعور کیفیت کے تحت لایا جاسکتا ہے
دل اور دماغ میں سوچ کہا ں پیدا ہوتا ہے
اس حوالے سے مذہب اسلام کا مطالعہ کرنے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ غور و فکر کی نسبت دل کی طرف گئی ہے جس پر لوگوں کو سائنس کی جدید تحقیق کی روشنی میں یہ اعتراض ہوا کہ دل کیسے سوچ وبچار کرتا ہے؟
حالانکہ سائنس سے ثابت ہے کہ سوچنے کا کام تو دماغ کرتا ہے
اس کا ایک جواب یہ ہے
کہ دماغ کو چونکہ خون دل سے سپلائی ہوتا ہے تو ممکن ہے کہ خون کے سپلائی کے ساتھ ساتھ سوچنے کا حکم بھی جاری ہوتا ہو یعنی دماغ تب ہی سوچتا ہو جب دل اسے حکم دے

اس کی مثال شاید یہ بھی بنتی ہو کہ کسی ملک کا سربراہ جب کسی کام کا حکم دیتا ہے تو پھر اس پر عمل در آمد کے لیے کوئی ادارہ ہوتا ہے اور وہ ادارہ اس کام کو انجام دیتا ہے لیکن ادارے کے کام کے باوجود بھی اس کام کی نسبت اس ادارے کے بجائے سربراہ کی طرف کی جاتی ہے حالانکہ کام ادارے نے کیا ہوتا ہے یہی حال دل اور دماغ کا بھی ہے کہ سوچنے کا کام تو دماغ کرتا ہے لیکن حکم دل کی طرف سے آنے کی وجہ سے غور و فکر کی نسبت دل کی طرف کی گئی ہو
اور چونکہ محققین بھی اسی نتیجے پر پہنچے ہیں
کہ حکمت و بصیرت کا فعل اکیلا دماغ سرانجام نہیں دیتا ہے بلکہ دماغ کے ساتھ ساتھ دل کی دھڑکن بھی چلتی ہے
ان کا مزید کہنا ہے
کہ عقلمندی کے فیصلوں کے لیے دل کی دھڑکنیں اور سوچ کا عمل ایک ساتھ ملکر کام کرتا ہے ۔
نیز محققین کا اب یہ بھی ماننا ہے
کہ دل کی دھڑکنوں کے اتارچڑھاؤ سے ایک شخص کی عقل متاثر ہوتی ہے۔
محققین کی ایک اور جماعت نے
عقل مندانہ فیصلوں پر دل کی دھڑکنوں کے اثرات کی نشاندہی کی ہے
ان کا مزید کہنا ہے
کہ دل کی دھڑکن کی رفتار اور سوچنے کےعمل کے درمیان تعلق موجود ہے،جو پیچیدہ مسائل کے بارے میں عقلمندانہ وجوہات تلاش کرنے کے لیے ملکر کام کرتا ہے۔

محققین کی ایک اور جماعت کہتی ہے
کہ دل کی دھڑکنوں میں زیادہ مختلف حالتوں کے حامل افراد نے عقلمندانہ استدلال کے لیے زیادہ سے زیادہ صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا
دوسرا جواب یہ ہے
کہ قرآن مجید میں لفظ قلب کا استعمال عرفا کیا گیا ہے۔ چونکہ اہل عرب کچھ افعال کو قلب سے منسوب کرتے تھے۔ قرآن مجید نے اس تصور کی تردید کی کوئی ضرورت نہیں سمجھی اورانسانی شخصیت کے کچھ خصائص کے لیے وہی الفاظ اور اسالیب استعمال کیے ہیں جو عرب کرتے تھے۔
قرآن کے پیش نظر چونکہ صرف ہدایت ہے اسے عربوں کی نفسیات، فلکیات، بائیو لوجی اورحیوانیات وغیرہ میں اصلاح سے کوئی غرض نہیں تھی۔ اس لیے اس نے انسانی شخصیت کی ایک جہت یا انسانی دماغ کے ایک وظیفے کے لیے جو اپنی جگہ پر ایک حقیقت ہے مروج لفظ قلب کو اپنے مدعا کے اظہار کے لیے استعمال کیا تاکہ اس کی بات کماحقہ مخاطب تک پہنچے

تیسرا جواب یہ ہے
کہ سائنسی تحقیقات جتنی بھی ہیں اس کے بارے میں یہ بات تو یقینی ہے کہ وہ آج کچھ ہوتی ہیں اور کل کچھ ہوں گی مثلا دماغ کے متعلق ایک سائنسی تحقیق یہ تھی کہ کوئی انسان بھی اپنے دماغ کا سو فیصد حصہ استعمال نہیں کرتا جب کہ جدید سائنسی تحقیق نے اس کی دھجیاں اڑادی اور یہ ثابت کردیا کہ یہ تحقیق عبث تھی اس کے علاوہ ہزاروں کے حساب سے ایسی تحقیقات موجود ہیں جو پہلے کچھ تھیں اور اب کچھ ہیں اور مستقبل میں ان کے کچھ اور ہونے کے امکانات ہیں یعنی کسی تحقیق کے سو فیصد درست ہونے کے بارے میں کوئی بھی یقین سے دعوی نہیں کرسکتاتو جب بات ایسی ہے پھر ایسی تحقیق کی بنیاد پر مذہب پر اعتراض کرنا کیسے درست ہوسکتا ہے ؟
چوتھا جواب یہ ہے
کہ مذہب نے ساری بحث صرف انسان کے ہدایت سے متعلق کی ہے اس نے اگر چہ بعض مواقوع پر فنون یعنی سائنسی علوم سے بھی بحث کی ہے مگر شروع اور اکثر وقت کے عرف کے حساب سے اور اس کے باوجود یہ مذہب کا خاصہ نہیں رہاہے اس لیے ہمیں بھی سائنس اور مذہب میں جوڑ کی تکلف کی ضرورت نہیں کیوں کہ مذہب کی حقانیت اٹل حقیقتوں سے ثابت ہے

۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اس حوالے سے مزید جوابات بھی ہیں جنھیں طوالت کے خوف اور موضوع نہ ہونے کی وجہ سے ترک کررہاہوں کیوں کہ میرے اس مضمون کا موضوع انسانی دماغ ہے۔میں اس میں انسانی دماغ کے حوالے سے محققین کی تحقیق کے حوالے سے بات کروں گا ۔ ویسے یہ مضمون میں نے صرف اپنے لیے جمع کیا تھا مگر بعد میں کچھ وجوہات کی وجہ سے آپ دوستوں سے شیئر کرنا پڑا۔ان میں سے
ایک وجہ یہ ہے
کہ جہاں اس میں خطا نظر آئے یا مذہب سے ٹکراؤ نظر آئےتو آپ دوست اس کی نشاندہی فرمائے تاکہ اس کی درستی کی جاسکے
دوم وجہ یہ ہے
کہ اس مضمون سے افادہ عام ہو
سوم وجہ یہ ہے
کہ محفوظ کرنے کی نیت بھی ہے تا کہ بوقت ضرورت اسے کہیں سے بھی پڑھ سکوں
دماغ کی اصل کیا ہے
دماغ مختلف اقسام کے خلیات سے مل کر بنتا ہے، ان خلیات میں سے کچھ تو اصل کام کرنے والے خلیات ہوتے ہیں جن کو عصبون کہا جاتا ہے جبکہ کچھ خلیات ان اصل کام کرنے والے خلیات یعنی عصبون کو سہارا اور امداد فراھم کرنے والے خلیات ہوتے ہیں ان امدادی خلیات کو سریشہ کہا جاتا ہے۔دماغ کے ان اصل کام کرنے والے خلیات اور امدادی خلیات کی مثال کو آپ یوں سمجھ سکتے ہیں
کہ جیسے کسی گھر میں بجلی کے تار بچھائے جاتے ہیں، گھر میں پھیلائے جانے والے اس بجلی کے نظام میں کچھ حصے تو اصل کام کرنے والے ہوتے ہیں جیسے تاریں وغیرہ جو بجلی کو پنکھے یا استری تک لے کر جاتے ہیں جبکہ باقی حصے جیسے لکڑی یا پلاسٹک کے ڈبے وغیرہ ان بجلی کے تاروں کو سہارا فراہم کرنے کے لیے استعمال میں لائے جاتے ہیں ؛ بس آپ سمجھنے میں آسانی کی خاطر کسی گھر میں بچھائے گئے بجلی کے نظام میں موجود اصل تاروں کو دماغ کے عصبون اور لکڑی یا پلاسٹک کے ڈبوں کو دماغ کے سریشہ خلیات کے طور پر تصور کر سکتے ہیں۔
دماغ کے عصبون خلیات ایسے ہی معلومات کو ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل کرتے ہیں کہ جیسے بجلی کے تار بجلی کو منتقل کرتے ہیں۔ جس طرح بجلی تاروں میں کرنٹ کی صورت میں ایک جگہ سے دوسری جگہ تک سفر کرتی ہے اسی طرح دماغ کی معلومات یعنی سوچ اور خیالات وغیرہ بھی کرنٹ کی صورت میں تار نما عصبون خلیات میں سفر کرتے ہوئے ایک جگہ سے دوسری جگہ پہنچتے ہیں۔
تار نما عصبون خلیات کا تانا بانا دماغ میں ایک نہایت ہی نازک اور بہت ہی اعلٰی تنظیم کے ساتھ یوں بنا گیا ہے جیسے کوئی مہنگا قالین دھاگوں کے تانوں بانوں سے بن دیا جاتا ہے۔ یہ تار نما خلیات اپنے اپنے مخصوص راستے رکھتے ہیں اور اپنے اندر سفر کرنے والی معلومات و خیالات کو بالکل درست اور صحیح صحیح مقام تک پہنچا دیتے ہیں۔
مثال کے طور پر وہ خلیات جو درد یا تکلیف کی معلومات کو پہنچانے کے ذمہ دار ہوتے ہیں وہ اگر آپ کے ہاتھ پر کوئی سوئی چبھ جائے تو درد کی معلومات کو مخصوص راستے سے گذرتے ہوئے دماغ کے اس حصے میں لے کر جاتے ہیں جو درد کو محسوس کرنے کا کام کرتا ہے اور اسی طرح آنکھ اور دیکھنے کی قوت سے تعلق رکھنے والے عصبون خلیات نظر آنے والی چیزوں کی معلومات کو مخصوص راستوں سے گذارتے ہوئے دماغ کے اس حصے میں پہنچا دیتے ہیں جو دیکھنے کا کام کرتا ہے۔
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
12:49 AM
Threads
844
Messages
12,173
Reaction score
14,159
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,356.67
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
سبحان اللہ، یہ تو معلومات کے ایک وسیع سمندر کی سیر شروع ہوگئی ہے۔ اللہ پاک استقامت نصیب فرمائے آمین
اشتراک کا شکریہ​
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks