مستی میں فروغِ رخِ جاناں نہیں دیکھا

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,647
Reaction score
2,911
Points
930
Location
Manchester U.K
پوری غزل
شاعر: اصغر گونڈوی

مستی میں فروغِ رخِ جاناں نہیں دیکھا
سنتے ہیں بہار آئی گلِستاں نہیں دیکھا


زاہد نے مِرا حاصلِ ایماں نہیں دیکھا
رخ پر تِری زلفوں کو پریشاں نہیں دیکھا


آئے تھے سبھی طرح کے جلوے مِرے آگے
میں نے مگر اے دیدۂ حیراں نہیں دیکھا


اِس طرح زمانہ کبھی ہوتا نہ پر آشوب
فِتنوں نے تِرا گوشۂ داماں نہیں دیکھا


ہر حال میں بس پیشِ نظر ہے وہی صورت
میں نے کبھی روئے شبِ ہجراں نہیں دیکھا


کچھ دعویِ تمکِیں میں ہے معذور بھی زاہد
مستی میں تجھے چاک گریباں نہیں دیکھا


رودادِ چمن سنتا ہوں اِس طرح قفَس میں
جیسے کبھی آنکھوں سے گلستاں نہیں دیکھا


مجھ خستہ و مہجور کی آنکھیں ہے ترستی
کب سے تجھے اے سروِ خراماں نہیں دیکھا


کیا کیا ہوا ہنگامِ جنوں یہ نہیں معلوم
کچھ ہوش جو آیا تو گریباں نہیں دیکھا


شائستۂ صحبت کوئی ان میں نہیں اصغر
کافر نہیں دیکھے کہ مسلماں نہیں دیکھا

 
Top