موزے والیوں کے نام!

Doctor

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
10:25 AM
Threads
855
Messages
12,808
Reaction score
14,587
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,417.96
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
بشکریہ عامر سعید بھائی

ایک گاؤں میں ایک باپردہ خاتون رہتی تھیں جن کی ڈیمانڈ تھی کہ شادی اس سے کریں گی جو انہیں باپردہ رکھے گا ایک نوجوان اس شرط پر نکاح کے لیے رضامند ہوجاتا ہے دونوں کی شادی ہوجاتی ہے ۔

وقت گذرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک بیٹا ہوجاتا ہے ۔ ایک دن شوہر کہتا ہے کہ میں سارا دن کھیتوں میں کام کرتا ہوں ۔ کھانے کے لیے مجھے گھر آنا پڑتا ہے جس سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے تم مجھے کھانا کھیتوں میں پہنچادیا کرو بیوی راضی ہوجاتی ہے ۔

وقت گذرتے گذرتے ایک اور بیٹا ہوجاتا ہے جس پر شوہر کہتا ہے کہ اب گذارا مشکل ہے تمہیں میرے ساتھ کھیتوں میں ہاتھ بٹانا پڑے گا یوں وہ باپردگی سے نیم پردے تک پہنچ جاتی ہے اور تیسرے بیٹے کی پیدائش پر اس کا شوہر مکمل بے پردگی تک لے آتا ہے ۔

وقت گذرتا رہتا ہے یہاں تک اولاد جوان ہوجاتی ہے۔

ایک دن یونہی بیٹھے بیٹھے شوہر ہنسنے لگتا ہے بیوی سبب پوچھتی ہے تو کہتا ہے کہ بڑا تو پردہ پردہ کرتی تھی آخر کار تیرا پردہ ختم ہوگیا ۔۔ کیا فرق پڑا پردے اور بے پردگی کا زندگی تو اب بھی ویسے ہی گذر رہی ہے ۔ وہ بولتی ہے کہ تم ساتھ والے کمرے میں چھپ جاؤ میں تمہیں پردے اور بے پردگی کا فرق سمجھاتی ہوں شوہر کمرے میں چھپ جاتا ہے ۔


عورت اپنے بال بکھیرے رونا پیٹنا شروع کردیتی ہے پہلے بڑا بیٹا آتا ہے ۔ رونے کا سبب پوچھتا ہے کہتی ہے تیرے باپ نے مارا ہے بڑا بیٹا ماں کو سمجھاتا ہے کہ اگر مارا ہے تو کوئی بات نہیں وہ آپ سے محبت بھی تو کرتے ہیں آپ کا یال رکھتے ہیں ۔ وہ سمجھا بجھا کر چلا جاتا ہے۔

عورت پھر سے رونے کی ایکٹنگ کرتی ہے اور منجھلے بیٹے کو بلا کر بتاتی ہے کہ تیرے باپ نے مجھے مارا منجھلا بیٹا کو غصہ آتا ہے وہ باپ کو برا بھلا کہتے ہوئے ماں کو سمجھا بجھا کر چپ کروا کر چلا جاتا ہے آخر کار عورت یہی ڈرامہ چھوٹے بیٹے کے سامنے کرتی ہے چھوٹا بیٹا تو غصہ سے آگ بگولہ ہوجاتا ہے اور زور زور سے گالیاں بکتے ہوئے ڈنڈا اٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ ابھی باپ کی خبر لیتا ہوں ۔

پھر عورت شوہر کو بلا کر بولتی ہے کہ پہلا میرے پردے کے وقت پیدا ہوا تو اس نے تیرا پردہ رکھا دوسرا نیم پردے کے زمانے میں پیدا ہوا تو تیری آدھی لاج رکھ لی جبکہ تیسرا جو مکمل بے پردگی کے زمانے میں ہوا تو وہ مکمل طور پر تیرا عزت کا پردہ اتارنے گیا ہے ۔


حاصل کلام: پردہ عورت کا فطری تقاضا ہے جو خالق مرد وزن کی طرف سے قاعدہ بھی ہے ۔۔ جس کی بے شمار حکمتیں خالق ہی جانتا ہے اور یہ دنیاوی قاعدہ بھی ہے کہ اگر آپ کسی مشین کو چلانے کے لیے کمپنی کی ہدایات چھوڑ کر عقل سے چلانے کی کوشش کریں گے تو مشین کی بربادی یقینی ہے یہی وجہ ہے کہ جو لوگ (مغربی دنیا) یہ تجربہ (عورت کی آزادی) کرچکے ہیں ان سے پوچھو کہ آج وہاں ریپ کا تناسب کیا ہے؟ ان کے معاشرے میں ماں بہن بیوی بیٹی کو کیا مقام حاصل ہے ؟ اور پھر وہاں کی اولادیں اپنے والدین کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں اور مشرقی معاشرہ میں آج بھی ماں بہن بیوی بیٹی کو کیا مقام حاصل ہے ؟ اور ہمارے معاشرے میں عورت کس قدر محفوظ ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں اور جس قدر ماں باپ اپنے بچوں کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق کرتے ہیں اسی قدر بچوں سے خدمت کا لطف اٹھاتے رہتے ہیں۔
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks