موزے والیوں کے نام!

Doctor

Thread Starter
★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
3,366
Reaction score
4,072
Points
1,362
Location
Rawalpindi
بشکریہ عامر سعید بھائی

ایک گاؤں میں ایک باپردہ خاتون رہتی تھیں جن کی ڈیمانڈ تھی کہ شادی اس سے کریں گی جو انہیں باپردہ رکھے گا ایک نوجوان اس شرط پر نکاح کے لیے رضامند ہوجاتا ہے دونوں کی شادی ہوجاتی ہے ۔

وقت گذرتا رہتا ہے یہاں تک کہ ایک بیٹا ہوجاتا ہے ۔ ایک دن شوہر کہتا ہے کہ میں سارا دن کھیتوں میں کام کرتا ہوں ۔ کھانے کے لیے مجھے گھر آنا پڑتا ہے جس سے وقت کا ضیاع ہوتا ہے تم مجھے کھانا کھیتوں میں پہنچادیا کرو بیوی راضی ہوجاتی ہے ۔

وقت گذرتے گذرتے ایک اور بیٹا ہوجاتا ہے جس پر شوہر کہتا ہے کہ اب گذارا مشکل ہے تمہیں میرے ساتھ کھیتوں میں ہاتھ بٹانا پڑے گا یوں وہ باپردگی سے نیم پردے تک پہنچ جاتی ہے اور تیسرے بیٹے کی پیدائش پر اس کا شوہر مکمل بے پردگی تک لے آتا ہے ۔

وقت گذرتا رہتا ہے یہاں تک اولاد جوان ہوجاتی ہے۔

ایک دن یونہی بیٹھے بیٹھے شوہر ہنسنے لگتا ہے بیوی سبب پوچھتی ہے تو کہتا ہے کہ بڑا تو پردہ پردہ کرتی تھی آخر کار تیرا پردہ ختم ہوگیا ۔۔ کیا فرق پڑا پردے اور بے پردگی کا زندگی تو اب بھی ویسے ہی گذر رہی ہے ۔ وہ بولتی ہے کہ تم ساتھ والے کمرے میں چھپ جاؤ میں تمہیں پردے اور بے پردگی کا فرق سمجھاتی ہوں شوہر کمرے میں چھپ جاتا ہے ۔


عورت اپنے بال بکھیرے رونا پیٹنا شروع کردیتی ہے پہلے بڑا بیٹا آتا ہے ۔ رونے کا سبب پوچھتا ہے کہتی ہے تیرے باپ نے مارا ہے بڑا بیٹا ماں کو سمجھاتا ہے کہ اگر مارا ہے تو کوئی بات نہیں وہ آپ سے محبت بھی تو کرتے ہیں آپ کا یال رکھتے ہیں ۔ وہ سمجھا بجھا کر چلا جاتا ہے۔

عورت پھر سے رونے کی ایکٹنگ کرتی ہے اور منجھلے بیٹے کو بلا کر بتاتی ہے کہ تیرے باپ نے مجھے مارا منجھلا بیٹا کو غصہ آتا ہے وہ باپ کو برا بھلا کہتے ہوئے ماں کو سمجھا بجھا کر چپ کروا کر چلا جاتا ہے آخر کار عورت یہی ڈرامہ چھوٹے بیٹے کے سامنے کرتی ہے چھوٹا بیٹا تو غصہ سے آگ بگولہ ہوجاتا ہے اور زور زور سے گالیاں بکتے ہوئے ڈنڈا اٹھاتا ہے اور کہتا ہے کہ ابھی باپ کی خبر لیتا ہوں ۔

پھر عورت شوہر کو بلا کر بولتی ہے کہ پہلا میرے پردے کے وقت پیدا ہوا تو اس نے تیرا پردہ رکھا دوسرا نیم پردے کے زمانے میں پیدا ہوا تو تیری آدھی لاج رکھ لی جبکہ تیسرا جو مکمل بے پردگی کے زمانے میں ہوا تو وہ مکمل طور پر تیرا عزت کا پردہ اتارنے گیا ہے ۔


حاصل کلام: پردہ عورت کا فطری تقاضا ہے جو خالق مرد وزن کی طرف سے قاعدہ بھی ہے ۔۔ جس کی بے شمار حکمتیں خالق ہی جانتا ہے اور یہ دنیاوی قاعدہ بھی ہے کہ اگر آپ کسی مشین کو چلانے کے لیے کمپنی کی ہدایات چھوڑ کر عقل سے چلانے کی کوشش کریں گے تو مشین کی بربادی یقینی ہے یہی وجہ ہے کہ جو لوگ (مغربی دنیا) یہ تجربہ (عورت کی آزادی) کرچکے ہیں ان سے پوچھو کہ آج وہاں ریپ کا تناسب کیا ہے؟ ان کے معاشرے میں ماں بہن بیوی بیٹی کو کیا مقام حاصل ہے ؟ اور پھر وہاں کی اولادیں اپنے والدین کے ساتھ کیا سلوک کرتے ہیں یہ بھی کسی سے پوشیدہ نہیں اور مشرقی معاشرہ میں آج بھی ماں بہن بیوی بیٹی کو کیا مقام حاصل ہے ؟ اور ہمارے معاشرے میں عورت کس قدر محفوظ ہے یہ بتانے کی ضرورت نہیں اور جس قدر ماں باپ اپنے بچوں کی تربیت اسلامی اصولوں کے مطابق کرتے ہیں اسی قدر بچوں سے خدمت کا لطف اٹھاتے رہتے ہیں۔
 
Top