اسلامک بزرگانہ ہستیاں

UrduLover

Thread Starter
★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,059
Reaction score
2,481
Points
904
Location
Manchester U.K
پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ

پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ دینی و دنیوی تعلیمات سے یکساں مزین تھے ۔ آپ نے سید المرسلین کے فرمان کے مطابق تعلیم کیلئے چین سے بھی آگے کا سفر کیا۔ تبلیغ دین حنیف کی خاطر دنیا کے کونے کونے تک گئے۔ آپ باعمل عالم، صوفی باشریعت اور پیر طریقت تھے۔ وکی پیڈیا سے دستیاب معلومات کے مطابق ضیاءالامت جسٹس پیر محمد کرم شاہ الازہریؒ ایک عظیم صوفی و روحانی بزرگ ہونے کے ساتھ ساتھ ایک مایہ ناز مفسر، سیرت نگار، ماہر تعلیم، صحافی، صاحب طرز ادیب اور دیگر بیشمار خوبیوں کے مالک تھے۔ تفسیر ضیاءالقرآن، سیرت طیبہ کے موضوع پر ضیا¿النبی صلی اللہ علیہ وسلم، 1971 سے مسلسل اشاعت پذیر ماہنامہ ضیائے حرم لاہور،شاہکار کتاب سُنت خیر الانام، فقہی، تاریخی، سیاسی، معاشی، معاشرتی اور دیگر اہم موضوعات پر متعدد مقالات و شذرات آپ کی علمی، روحانی اور ملی خدمات کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔پیدائش جولائی 1918ءسوموار کی شب بعد نماز تراویح بھیرہ شریف ضلع سرگودھا میں ہوئی۔ خاندانی روایت کے مطابق آپکی تعلیم کا آغاز قرآن کریم سے ہوا۔ محمدیہ غوثیہ پرائمری سکول کا آغاز 1925ء میں ہوا۔ پرائمری سکول میں اس وقت چار کلاسز ہوتی تھیں اس لحاظ سے اس سکول میں آپکی تعلیم کا سلسلہ 1925ءسے 1929ءتک رہا اس کے بعد آپ نے 1936ء میں گورنمنٹ ہائی سکول بھیرہ سے میٹرک کا امتحان پاس کیا۔ آپؒ نے حضرت مولانا محمد قاسم بالا کوٹی سے فارسی کتب کریما، پندنامہ، مصدر فیوض، نامِ حق پڑھیں اور صرف و نحو اور کافیہ بھی پڑھیں۔ اسکے بعد مولانا عبدالحمید صاحب سے الفیہ، شرح جامی، منطق کے رسا ئل، قطبی، میر قطبی، مبزی، ملا حسن اور سنجانی جیسی کتابیں پڑھیں۔ دیگر کئی علما سے بھی آپ نے علم دین کی بعض دوسری مشہور و معروف کتابیں پڑھیں۔ 1941ء میں اورینٹیل کالج لاہور میں داخلہ لیا اور فاضل عربی میں شیخ محمد عربی، جناب رسول خان صاحب، مولانا نورالحق جیسے اساتذہ سے علم حاصل کیا۔ علوم عقلیہ و نقلیہ سے فراغت کے بعد دورہ حدیث شیخ الاسلام حضرت خواجہ قمر الدین سیالوی کے حکم پر حضرت صدرالافاضل مولانا سید محمد نعیم الدین مراد آبادی سے 1942ءسے 1943ءتک مکمل کیا اور بعض دیگر کتب بھی پڑھیں۔ 1945ء میں جامعہ پنجاب سے بی اے کا امتحان اچھی پوزیشن سے پاس کیا۔ ستمبر 1951ء میں جامعہ الازہر مصر میں داخلہ لیا اور ساتھ ہی ساتھ جامعہ قاہرہ سے ایم اے کیا۔ جامعہ الازہر سے ایم فِل نمایاں پوزیشن سے کیا۔ یہاں آپ نے تقریباً ساڑھے تین سال کا عرصہ گزارا۔ 1981ء میں 63 سال کی عمر میں آپ وفاقی شرعی عدالت کے جج مقرر ہوئے اور 16 سال تک اس فرض کی پاسداری کرتے رہے۔ آپ نے متعدد تاریخی فیصلے کئے جو عدالتی تاریخ کا حصہ بن چکے ہیں۔آپ کی تصانیف میں، ضیاءالقرآن : 3500 صفحات اور 5 جلدوں پر مشتمل ہے، یہ تفسیر آپ نے 19 سال کے طویل عرصہ میں مکمل کی۔
جمال القرآن : قرآن کریم کا خوبصورت محاوراتی اردو ترجمہ جسے انگریزی میں بھی ترجمہ کیا گیا۔ ضیاءالنبی : 7 جلدوں پر مشتمل عشق و محبتِ رسول سے بھرپور سیرت کی یہ کتاب عوام و خواص میں انتہائی مقبول ہے۔ سُنتِ خیر الانام : بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی کے نصاب میں شامل یہ کتاب سنت اور حدیث کی اہمیت اور حجیت کے موضوع پر لکھی گئی ہے۔ یہ آپ کی پہلی کاوش ہے جو آپ نے جامعہ الازہر میں دورانِ تعلیم تالیف کی۔ 1971ء میں آپ نے ماہنامہ ضیائے حرم کا اجراءکیا جو تاحال مسلسل شائع ہو رہا ہے۔
آپ کو کثیر تعداد میں قومی و عالمی اعزازات سے نوازا گیا۔ جن میں ستارہ امتیازسے حکومت پاکستان نے 1980ءمیں آپ کی علمی و اسلامی خدمات کے اعتراف میں اعزاز سے نوازا۔ نت الامتیاز مصر کے صدر حسنی مبارک نے 6 مارچ 1993ءمیں دنیائے اسلام کی خدمات کے صلے میں دیا۔ سندِ امتیاز حکومت پاکستان اور حکومت آزاد کشمیر نے 1994ء میں سیرت کے حوالے سے آپ کی گراں قدر خدمات کے اعتراف میں دی۔ الدائرہ الفخری ڈاکٹر احمد عمر ہاشم نے جامعہ الازہر کا یہ سب سے بڑا اعزاز آپ کو دیا۔
9 ذوالحجہ 1418ھ بمطابق 7 اپریل 1998ء بروز منگل رات طویل علالت کے بعد آپ کا وصال ہوا۔ آپؒ کے وصال پر پورے عالمِ اسلام سے امت مسلمہ کے عوام و خواص نے جس محبت و عقیدت کا اظہار کیا وہ ایک ضرب المثل بن گیا۔ آپ کی تربت آپ کی وصیت کے مطابق دربار عالیہ حضرت امیر السالکین میں آپ کے دادا جان حضرت پیر امیر شاہ کے بائیں جانب کھودی گئی۔ وصال سے چند ماہ بعد 12 ما رچ بروز جمعتہ المبارک سے مرزا محمد آصف صاحب نے دربار عالیہ میں موجود تینوں قبور کا مشتر کہ تخت بلند کر کے انہیں بہترین قسم کے پتھر سے پختہ کر دیا۔ پیر صاحب کا عرس ہر سال 19، 20 محرم کو ہوتا ہے۔ اسی مناسب سے آپ کی دینی ملی اور قومی خدمات اور شخصیت کے مختلف پہلووں کو اجاگر کرنے اوران سے رہنمائی لینے کیلئے سالانہ سیمینار کا انعقاد کیا جاتا ہے۔ ہفتہ یکم دسمبر2012 بمطابق 16محرم الحرام1434 ہجری کو لاہور کے آواری ہوٹل میں 7ویں سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس کا اہتمام نوائے وقت میں نورِ بصیرت کے تخلیق کار رضاءالدین صدیقی صاحب نے حسبِ سابق کیا۔ رضاءالدین صدیقی نے اپنے رہبر و مرشد کی اجازت سے زاویہ فاونڈیشن لاہور کی بنیاد رکھی جس نے نہ صرف تصوف کی معتبر کتب کی اشاعت کا بیڑا اٹھایا بلکہ ضیا¿الامت جسٹس پیر محمد کرم الازہری کی یاد میں علمی و روحانی تصوف سیمینارز کا انعقاد کر کے خانقاہی نظام اور صوفیا کے متعلق اُٹھنے والے شکوک و شبہات کا شافی و کافی ازالہ کیا ہے۔ یہ سیمینار علم، عشق اور گداز سے معمور ہوتے ہیں جن میں شرکت کرنےوالے اخلاص، ادب، علم اور عشق کی سوغات لےکر جاتے ہیں اور پورا سال اس سیمینار کے انعقاد کے منتظر رہتے ہیں۔ علمی و روحانی سیمینار کی صدارت پیر محمد امین الحسنات شاہ نے فرمائی۔ کمپیئرنگ کی ذمہ داری زاویہ فاونڈیشن کے چیئرمین رضا ءالدین صدیقی نے سرانجام دی۔آغاز قاری عبدالواحد کی مسحور کن تلاوت سے ہوا۔ مہمانانِ گرامی و مقررین میں سرگودہا یونیورسٹی کے شعبہ انگلش کے معروف پروفیسر صاحبزادہ احمد ندیم رانجھا، جامعہ الازہر کے اُستاذ ڈاکٹر حافظ محمد منیر الازہری،سابق ڈائریکٹر مذہبی امور محکمہ اوقاف پنجاب، ڈاکٹر طاہر رضا بخاری ، خواجہ محمد یار فریدی گڑھی اختیار خان، رحیم یار خان کے گدی نشین خواجہ قطب الدین فریدی اورجناب ڈاکٹر عامر لیاقت حسین شامل تھے۔چیئرمین زاویہ فاونڈیشن رضاءالدین صدیقی نے بتایا کہ ایک شخص نے مجھ سے فون پر رابطہ کر کے اعتراض کیا کہ شخصیت پرستی کب ختم ہو گی؟ اس شبہ کے ازالہ کیلئے صدیقی صاحب نے بتایا کہ ایک دفعہ ایک یہودی نے امام محمد کا شہرہ سُنا تو حاضرِ خدمت ہوا، سوال و جواب کئے، متانت، خلوص اور تاثیر دیکھ کر بے ساختہ کہا کہ اگر چھوٹا محمد اتنا خوبصورت ہے تو بڑا محمد کتنا خوبصورت ہو گا جن کا یہ غلام ہے۔ بزرگوں کی یاد میں سیمینار منعقد کرنا شخصیت پرستی نہیں بلکہ شخصیت شناسی ہے اور اس طرح حقیقت کا احساس ہوتا ہے کہ مشکوٰة نبوت سے اکتساب نور کرنے والے کتنے حسین ہوا کرتے ہیں۔ یقین نہیں آتا تو ضیاءالامت کی شخصیت دیکھ لو
۔ ہم تو دنیا کو بتانا چاہتے ہیں کہ جس کے دل میں رسول اللہ صلی اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت جلوہ گر ہوتی ہے اس کے وجود میں حسن سمٹ آتا ہے۔ سیمینار کے صدر نشین، ضیاءالامت کے جانشین پیر محمد امین الحسنات شاہ (چیئرمین متحدہ علماءبورڈ پنجاب) نے اپنے خطاب میں فرمایا پہلے پروردگار نے دشمنوں کی زبان سے صادق و امین کہلوایا پھر اعلان نبوت کروایا، گویا جسے منصب ملے وہ صادق و امین ہونا چاہئے۔ ضیاءالامت بھی صادق و امین تھے، جب آپ خواجہ محمد شریف (سابق چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ) کی دعوت پر تشریف لے گئے تو کسی نے آپ کو سید کرم شاہ کہا تو آپ نے کھڑے ہو کر نہایت عاجزی سے کہا کہ لوگو! میں سید نہیں ہوں ،میں سادات کا غلام ہوں۔ میرا خاندان ہاشمی ہے۔ ساری سعادتیں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے قدمین کے صدقہ ہیں۔ والد گرامی نے دارالعلوم محمدیہ غوثیہ کی بنیاد ایک کمرے سے رکھی، آج سینکڑوں بلڈنگیں اور ادارے اسی ایک کمرے کی خیرات ہیں۔آپ نے اس حقیقت سے بھی آگاہ کیا کہ ضیا¿الامت اپنے بیٹوں کو اکٹھا کر کے نصیحت فرماتے : دو باتوں (-i امانت -ii بے تدبیری سے گریز) کی تم گارنٹی دو تیسری بات (کہ تمہیں کبھی کمی نہیں آئے گی) کی میں گارنٹی دیتا ہوں۔ قبلہ پیر صاحب نے فرمایا کہ امانت ممکن ہے لیکن بے تدبیری سے بچنا ازحد مشکل ہے۔ آپ نے یہ بھی بتایا کہ دنیا کے پاس سب کچھ ہے لیکن کردار نہیں ہے اور کردار صرف محمد عربی صلی اللہ علیہ وسلم کے غلاموں کے پاس ہے، اس حوالے سے آپ نے نیویارک میں مقیم ایک مسلم طالب علم کا واقعہ بھی سُنایا کہ اُس نے ایک خاتون کا پرس، جو اس کی ٹیکسی میں بھول گئی تھی جس میں ہزاروں ڈالر تھے، کسی طرح اس تک واپس پہنچایا اور جب اُس نے انعام دیا تو یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ یہ میرے کنٹریکٹ کا حصہ تھا، میں نے اپنا فرض ادا کیا ہے۔یہ بات نیویارک میں پھیل گئی جب یہ بات مئیر کو معلوم ہوئی تو اس نے بلایا اور ایک نئی ٹیکسی کا اس کیلئے مفت اعلان کیا تو اُس مسلمان طالب علم نے یہ کہہ کر معذرت کر لی کہ ہمارے پیارے نبی نے صداقت و امانت بیچنے سے منع فرمایا ہے۔​
 

UrduLover

Thread Starter
★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,059
Reaction score
2,481
Points
904
Location
Manchester U.K
مخدوم محمد ہاشم ٹھٹویؒ کی خدمات
Name:  0.jpg Views: 3 Size:  16.4 KB

معروف آزاد
سندھ کو صوفیا کی زمین کہا جاتا ہے۔ یہاں بہت سے معروف صوفیا پیدا ہوئے یا دوسرے خطوں سے آ کر مقیم ہوئے۔ سندھ کے معروف صوفیا اور عالم دین میں مخدوم محمد ہاشم ٹھٹوی کا شمار بھی ہوتا ہے۔ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹویؒ سندھ کے علم و ادب کے حوالے سے معروف شہر ٹھٹہ سے تعلق رکھنے والے اٹھارویں صدی کے محدث، فقیہ اور قادر الکلام شاعر تھے۔ آپ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ آپ نے سب سے پہلے قرآن پاک کا سندھی زبان میں ترجمہ کیا۔ کلہوڑا دور کے حاکمِ سندھ میاں غلام شاہ کلہوڑا نے انہیں ٹھٹہ کا قاضی القضاۃ مقرر کیا۔ اس دور میں سندھ کا حددواربع آج سے قدرے مختلف تھا۔ مخدوم ہاشمؒ ایک عالم دین ہونے کے ساتھ ساتھ ایک بڑی جاگیر کے بھی مالک تھے۔ ان کے وعظ، تقریروں اور درس و تدریس سے متاثر ہو کر بہت سے لوگ مسلمان ہوئے۔ ان کی تصانیف و تالیفات عربی، فارسی اور سندھی زبانوں میں ہیں۔ انہوں نے قرآن، تفسیر، سیرت، حدیث، فقہ اور ارکان اسلام سمیت کئی اسلامی موضوعات پر کتب تحریر کیں۔ آپؒ ٹھٹہ کی مرکزی مسجد کے امام تھے۔ آپؒ نے اپنی ایک معروف تصنیف ’’مداح نامہ سندھ‘‘ میں سندھی معاشرے اور ثقافت میں اسلام کے بارے میں بحث کی ہے۔ آپؒ کی ایک اور معروف کتاب ’’الباقیات الصالحات‘‘ میں ازواج مطہراتؓ کی حیات کے بارے میں تفصیلات درج ہیں۔ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹویؒ 1692ء کو پیدا ہوئے۔آپؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے والد مخدوم عبد الغفور ٹھٹوی سے حاصل کی۔ آپؒ کے والد اپنے دور کے عالم تھے اور ابتدا میں سیہون میں رہائش پذیر تھے۔ بعد میں ٹھٹہ کے علاقے میر پور بٹھورو میں آباد ہو گئے۔ آپؒ کے والد نے آپؒ کو قرآن پاک حفظ کرایا اور ابتدائی تعلیم دی۔ بعدازاں آپؒ نے مزید تعلیم کے لیے ٹھٹہ شہر کا رخ کیا۔ اس وقت یہ شہر علم و ادب کے حوالے سے پورے خطے میں مشہور تھا۔ یہ آج کے ٹھٹہ سے بہت مختلف تھا یہاں مساجد اورمدارس کی تعداد سیکڑوں میں تھی۔ یہ ثقافت، معیشت اور تعلیم کی آماج گاہ تھا۔ یہ کلہوڑہ حکومت کے عروج کا دور تھا۔ یہاں انہوں نے مخدوم محمد سعید ٹھٹوی سے عربی کی تعلیم حاصل کی۔ پھر مخدوم ضیا الدین ٹھٹوی سے علم حدیث کی تعلیم حاصل کی۔ آپؒ نے کم عمری میں بنیادی فارسی اور عربی علوم کی تکمیل کی۔ اپنی ذہانت کی وجہ سے آپؒ نے اس دور کے عالموں کو بہت متاثر کیا اور عوام میں بھی آپؒ کو مقبولیت حاصل ہوئی۔ اس دوران آپؒ کے والد کی وفات ہوئی جنہیں سیہون میں سپردِ خاک کیا گیا۔ مخدوم ہاشمؒ کو حجازِ مقدس کے سفر کے دوران میں تحصیلِ علم کا موقع ملا اور انہوں نے حج کی سعادت حاصل کرنے کے علاوہ مکہ اور مدینہ منورہ کے مشہور علما اور محدثین سے حدیث، فقہ، عقائد اور تفسیر کا علم حاصل کیا اور سندیں حاصل کیں۔ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹویؒ نے تحصیلِ علم کے بعد بٹھورو کے نزدیکی گاؤں بہرام پور میں سکونت اختیار کی اور وہاں کے لوگوں کو دین اسلام کی اشاعت، ترویج کے لیے وعظ اور تقریروں کا سلسلہ شروع کیا مگر روایات کے مطابق وہاں کے لوگوں کو مخدوم ہاشمؒ کے وعظ و تقریروں کی اہمیت کا اندازہ نہ ہوا، اسی لیے مخدوم ہاشمؒ دل برداشتہ ہو کر بہرام پور سے ٹھٹہ شہر میں آ گئے اور یہاں دین اسلام کی اشاعت و ترویج، تصنیف و تالیف اور درس و تدریس کا سلسلہ جاری رکھا۔ یہاں آپؒنے اپنی بہت سی اہم تصانیف مکمل کیں۔ آپؒ نے دین اسلام کے فروغ اور استقامت کے لیے سندھ کے حکمرانوں کے نام خطوط لکھے اور فقہی مسائل پر فتاویٰ جاری کیے۔ آپؒ جس مسجد میں درس وتدریس اور تصنیف کا کام کیا وہ ہاشمی مسجد کہلاتی تھی جو تالپوروں کے عہد تک قائم رہی۔ مخدوم محمد ہاشم ٹھٹویؒ کا پہلا سفر کم سنی میں بٹھورو سے ٹھٹہ بسلسلہ حصول تعلیم تھا۔دوسرا اور اہم سفر حرمین شریفین کا تھا جس کا مقصد حج کا فریضہ ادا کرنے کے ساتھ اعلیٰ تعلیم کا حصول تھا۔ مخدوم محمد ہاشمؒ نے یہ سفر تقریباً31 سال کی عمر میں کیا۔ اس سفر میں انہوں نے حج کی سعادت حاصل کرنے کے ساتھ ساتھ علمِ حدیث، تفسیر، قواعد، فقہ اور قرأت کی تعلیم حاصل کی۔ مخدوم محمد ہاشمؒ نے بھٹ شاہ کے بہت سے سفر کیے اور شاہ عبد اللطیف بھٹائیؒ سے ملاقاتیں کیں۔ آپؒ کا مزار ٹھٹہ میں تاریخی مکلی قبرستان کے قریب ہے۔ آپؒ کے قبر کے ساتھ دیگر بہت سی اہم شخصیات سپردخاک ہیں۔ ان میں عبیداللہ سندھی اورحسام الدین راشدی شامل ہیں۔۔ ٭…٭…٭
 

UrduLover

Thread Starter
★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,059
Reaction score
2,481
Points
904
Location
Manchester U.K
Name:  0.jpg Views: 5 Size:  40.9 KB

فیض رسول
شیخ نصیر الدین محمود چراغ دہلی بن یحییٰؒ، حضرت نظام الدین اولیاؒ کے مشہور اور بزرگ ترین خلفا میں تھے۔ ان کے والد یحییٰ لاہور میں پیدا ہوئے۔ بعد میں وہ اودھ چلے آئے اور وہیں حضرت نصیرالدینؒ پیدا ہوئے۔ ابھی نو برس کے تھے کہ چراغ دہلیؒ کے والد کا انتقال ہو گیا۔ ماں نے ان کی پرورش کی۔ 25 برس کی عمر کو پہنچ کر انہوں نے ترک و تجرید کا طریقہ اختیار کیا اور محاسبہ نفس اور ریاضت و عبادت میں سات سال تک مشغول رہے اور ہمیشہ نماز باجماعت ادا کی۔ 43 برس کی عمر میں وہ دہلی آئے۔ حضرت نظام الدینؒ نے انتقال سے قبل وصیت کی کہ اغیار کے آزار اور سرزنش پر صبر کریں۔ مرشد کے انتقال کے بعد چراغ دہلیؒ 32 برس زندہ رہے اور فقر، صبر اور تسلیم و رضا کو اپنا شیوہ بنائے رکھا اور اپنے پیر کے بتائے ہوئے اصولوں پر چلتے رہے۔ 768ھ1367/ء میں آپؒ کا انتقال ہوا۔محمد تغلق کے دور میں آپؒ کو بھی مشکلوں کا سامنا کرنا پڑا لیکن فیروز تغلق کے ساتھ آپؒ کے تعلقات بہتر تھے اور آپؒ نے اس کی تخت نشینی کی تائید بھی کی تھی۔ آپؒ نے کسی کو جانشین نہیں بنایا اور اس طرح حضرت معین الدین چشتیؒ سے شروع ہونے والا سلسلہ آپؒ پر ختم ہوا۔ آپؒ نے کوئی تصنیف نہیں چھوڑی البتہ حمید شاعر قلندر نے آپؒ کے ملفوظات جمع کیے اور اس کتاب کو خیرالمجالس کا نام دیا۔ اس میں آپؒ کی سوانح عمری بھی شامل ہے۔آ پ کے چند ارشادات یہ ہیں: ٭ جو شخص ذکر الٰہی کرتا ہے خدا اس کا جلیس ہوتا ہے۔٭ راتوں کو بیدار ہو کہ نزول انوار اکثر راتوں ہی میں ہوتا ہے۔ ٭ جو خود کو گناہوں سے بچاتا ہے، اسے اطاعت میں لذت ملتی ہے۔ ٭ اگر طلب دنیا میں خیر کی نیت ہو تو وہ فی الحقیقت طلب آخرت ہے۔ ٭ سالک کو عبادت میں ذوق و شوق حاصل ہو تو یہی اس کی غذا بن جاتا ہے۔ اگر یہ حاصل نہ ہو تو پھر عبادت سالک کے لیے اشتہا کا باعث ہوتی ہے۔​

__
 

UrduLover

Thread Starter
★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,059
Reaction score
2,481
Points
904
Location
Manchester U.K
علامہ سید احمد سعیدکاظمیؒ کی دینی خدمات​


صاحب زادہ ذیشان کلیم معصومی
حضرت علامہ سید احمد سعید کاظمی ؒکی ذات بابرکات علمی روحانی کمالات میں اپنا ثانی نہیں رکھتی۔ان کا ظاہر وباطن ایک سا تھا ۔ آپؒ کی ولادت 1332ھ،1913ء کو امروہ کے ایک علمی گھرانے میں ہوئی۔ آپؒ کے والد ماجد علامہ سید محمد مختار کاظمیؒاپنے وقت کے نامور علماء میں شمار ہوتے تھے۔ آپؒ کا سلسلہ نسب حضرت سیدنا امام موسیٰ کاظمؒ سے جا ملتا ہے چنانچہ اسی نسبت سے آپؒ کاظمی کہلاتے ہیں۔ ابھی چند برس کے تھے کہ آپؒ کے والد گرامی دنیافانی سے پردہ فرماگئے۔ والد محترم کے وصال کے بعد آپؒ کے برادر اکبر علامہ سید محمد خلیل کاظمی محدث امروہی نے آپ کی تعلیم وتربیت کی ذمہ داری نبھائی۔ اس وقت کے جید علماء میں آپ نہایت ممتاز مقام کے حامل تھے اور ان دنو ں شاہ جہانپور کے مدرسہ جامعہ بحرالعلوم میں درس وتدریس فرما رہے تھے جس وجہ سے حضرت سیداحمد سعید کاظمیؒ کو حصول تعلیم میں کوئی دشواری درپیش نہ ہوئی اور صرف سولہ برس کی قلیل مدت و عمر میں علوم و فنون سے فراغت حاصل کرکے سند حاصل کی۔ حضرت سید شاہ حسین اشرفی کچھوچھویؒنے ایک پروقار تقریب میں صدر الافاضل مولانا نعیم الدین مراد آبادی ؒ،علامہ نثار احمد کانپوری،ؒجیسی جید علمی شخصیات کی موجودگی میں دستار بندی فرمائی۔ تعلیم سے فارغ ہوکرآپؒ 1929ء میں لاہور تشریف لائے۔ یہاں علامہ سید دیدار علی شاہ اور علامہ سید احمد ابوالبرکات ؒجیسی عظیم اکابر ہستیوں کی صحبت آپؒ کو میسر آئی۔ ایک دن آپؒ لاہور کی تاریخی و قدیم درسگاہ جامعہ نعمانیہ دیکھنے گئے۔ وہاں علامہ حافظ محمد جمالؒ مسلم الثبوت کادرس دے رہے تھے۔ آپؒ درس میں بیٹھ گئے۔ جب آخر میں طلبہ سے سوال وجواب کا سلسلہ شروع ہوا تو آپؒ نے بھی اس میں حصہ لیا ۔آپؒ کی دینی قابلیت اور ذہانت نے حافظ محمد جمال ؒکو اس قدر متاثر کیا کہ بعد میں انہوں نے تفصیلی گفتگو کر کے آپؒ کو جامعہ نعمانیہ میں مدرس کے عہدے کی پیشکش کی جسے آپؒ نے بخوشی قبول فرما لیا۔ آپؒ کا مسند تدریس پر رونق افروز ہونے اور علمی جاہ و جلال کا جلد ہی دور دور تک چرچا ہونے لگا اور عاشقان علم گروہ در گروہ یہاں آنے لگے۔ پھر وطن کی یاد نے آپؒ کو ستایا تو آپؒ آبائی علاقہ امروہ چلے گئے اور وہیں مدرسہ محمدیہ حنفیہ میں درس وتدریس شروع فرما دی۔ تقریبا ً چاربرس بعد آپؒ اوکاڑہ کے حکیم جان عالم کے بے حد اصرار پر اوکاڑہ تشریف لے آئے۔ یہاں ایک سال درس وتدریس اور اشاعت اسلام میں مشغول رہے۔ ایک روز حضرت خواجہ غریب نواز ؒکے عرس پاک کے تقریبات میں شرکت کے لئے آپؒ ملتان حاضر ہوئے۔ یہاں آپؒ نے جو سحر انگیز خطاب فرمایا تو حاضرین کے دل نور معرفت سے جگمگا نے لگے، پھر خطاب سے متاثر ہو کر ملتان کے اکابرعلماء و مشائخ نے آپؒ کو ملتان میں سکونت اختیار کرنے کی دعوت دی اور آپؒ نے ہمیشہ ہمیشہ کے لئے ملتان کو اپنا مسکن بنا لیا ۔یہاں اپنے گھر پر ہی درس وتدریس شروع کر دی۔ دور دراز سے لوگ حصول علم کی خاطر آنے لگے تو جگہ تنگ ہونے لگی۔ 1935ء میں ملتان میں آپؒ نے ایک عظیم الشان درسگاہ جامعہ انوارالعلوم کے نام سے قائم فرمائی اور تاحیات یہیں سے علم وفن کے گوہر لٹاتے رہے۔ آپؒ تحریک پاکستان کے موقع پر بھی علماء و مشائخ کے ہر اول دستہ میں شامل رہے ۔ آپؒ نے اکابر علماء ومشائخ کی رفاقت میں قیام پاکستان کے لئے بھرپور سعی کی اور جگہ جگہ جلسے جلوس اورتحریر و تقریر کے ذریعہ قیام پاکستان کی راہ ہموار کی۔ آپؒ نے قرارداد پاکستان کی تجوید و توثیق کے لئے علماء ومشائخ کے ساتھ بنارس میں ہونے والی آل انڈیا سنی کانفرنس میں بھی شرکت کی۔ قیام پاکستان کے بعدآپؒ نے تحریک ختم نبوت میں بھی بھرپور حصہ لیا۔ آپؒ اعلیٰ حضرت امام احمد رضا خان بریلوی کی عظیم شخصیت اور ان کی تعلیمات سے بے حد متاثر تھے جس کا اثر آپؒ کی پوری زندگی پر محیط ہے۔ آپؒ کے علمی کارناموں میں سے ایک بڑا کارنامہ قرآن پاک کا اردو ترجمہ ہے جو کہ البیان کے نام سے معروف عام ہے۔ آپؒ کا وصال مبارک 25رمضا ن المبارک 1986ء کو ہوا۔
 

UrduLover

Thread Starter
★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,059
Reaction score
2,481
Points
904
Location
Manchester U.K
حضرت سلطان باہوؒ
Name:  0.jpg Views: 2 Size:  34.7 KB

اکرم شیخ
پنجابی زبان کے تیسرے کلاسیک صوفی شاعر حضرت سلطان باہو المعروف سلطان العارفینؒ ضلع جھنگ تحصیل شورکوٹ کے ایک مضافاتی گاؤں ’’قہرگان‘‘ میں 1039 ہجری بمطابق 1631 عیسوی میں پیدا ہوئے۔ ان کے والد کا نام بازید محمد تھا جو مغلیہ خاندان کے پانچویں بادشاہ شاہجہان کی فوج میں ایک اہم عہدے پر فائز تھے۔ ایک روایت کے مطابق شاہجہان کے خلاف ہونے والی بغاوت کو کچلنے کے صلہ میں انہیں ’’قہرگان‘‘ کا گاؤں جاگیر کے طور پر ملا تھا۔ بادشاہ کے درباری اور منصب دار ہونے کے باوجود ان کی طبیعت اور مزاج میں درویشی اور فقیری غالب تھی۔ اسلم لودھی نے اپنے ایک تحقیقی مضمون میں یہ بھی لکھا ہے کہ : شاہ جہاں کے لئے بہادری کے بہت سے کارنامے انجام دینے والا نوجوان بازید محمد عشق حقیقی میں اتنا ڈوب چکا تھا کہ اس نے شاہی دربار میں یہ عریضہ بھیجا کہ میں نے اپنی آئندہ زندگی صرف اور صرف خدا کی راہ میں وقف کر دی ہے۔ چنانچہ میں اب کسی ذمہ داری اور خدمت کو سرانجام دینے سے قاصر ہوں۔ چا رونا چار اس کی یہ درخواست منظور کر لی گئی مگر ہند کے حاکم شاہجہان کے اصرار پر اپنی معاشی کفالت کے لئے اسے شورکوٹ کے نزدیک ایک جاگیر قبول کرنا ہی پڑی جو بازید محمد نے وہاں کی ایک خانقاہ اور مدرسے کے اخراجات کے لئے وقف کر دی۔ گھر والوں کو جب بازید کی طویل گمنامی کے بعد اتا پتا معلوم ہوا تو وہ اسے واپس لانے کے خواہش مند ہوئے مگر بازید کی زوجہ بی بی راستی جو ایک پرہیز گار اور دنیاوی آلایشوں سے پاک خاتون تھیں، ان پر واضح کیا کہ اب وہ واپس کبھی نہ آئیں گے۔ ہم خدا کی رضا سے اس فانی دنیا کو ترک کر چکے ہیں۔ میرے پاس اللہ کی ایک مقدس امانت پرورش پا رہی ہے۔ جو مادرزادولی ہو گا اور جس کا ظہور چناب کے علاقے میں ہو گا۔ سو تم انہیں واپس لانے کا خیال ترک کر دو بلکہ مجھے بھی ان کے پاس پہنچا دو۔ چنانچہ جلد ہی بی بی راستی بھی اپنے شوہر بازید محمد کے پاس شورکوٹ پہنچ گئیں اور شورکوٹ کی فضا اللہ ہو، اللہ ہو! کے ورد سے جھومنے لگی۔ دونوں میاں بیوی دن رات اللہ ہو! کا ورد کرتے۔ پھر ایک دن ان کے اللہ ہو! کے ورد میں ایک نوزائیدہ بچے کی معصوم کلکاریوں کی گونج بھی ہم آہنگ ہو گئی۔ سلطان باہوؒ کا اصلی نام باہو اور سلطان تھا اور یہ نام ان کی والدہ راستی بی بی کا تجویز کردہ تھا جو اللہ کے صفاتی نام ’’وہاب‘‘ کی مقلوبی صورت ہے کہ …… وہاب کے حروف کو الٹ کر پڑھا جائے تو ’’باہو‘‘ بنتا ہے سلطان باہوؒ کے والد ان کے زمانۂ کمسنی میں ہی اللہ کو پیارے ہو گئے تھے۔ اس لئے سلطان باہوؒ کی تعلیم و تربیت ان کی والدہ نے کچھ اس طرح کی کہ انہیں کسی مکتب مدرسہ یا درسگاہ کی ضرورت محسوس نہیں ہوئی۔ شیخ سلطانؒ نے علوم کے حصول کے لئے کوچہ گردی اور صحرا نو ردی کا سلسلہ اختیار کیے رکھا۔ آپؒ تجسس کی مسافت کے راستوں کو طے کرتے مختلف درویشوں اور فقیروں سے ملے، لیکن کوئی بھی آپؒ کی کسوٹی پر پورا نہ اترا۔ علم کے سفر میں آپؒ نے لاتعداد فقرا سے بغداد کے شاہ حبیب اللہ قادریؒ کا تذکرہ سنا تو ان سے ملاقات کی خواہش دل میں مچلی۔ سو اس شوق کی تکمیل کی خاطر آپؒ نے ہندوستان سے عراق تک کا طویل سفر طے کرنے کے لئے رختِ سفر باندھا اور بغداد جا پہنچے۔ شیخ حبیبؒ نے سلطان باہوؒ کو اپنے شیخ عبدالرحمن قادریؒ کی طرف جانے کی ہدایت کی جو دلی میں فروکش تھے۔ سلطان باہوؒ نے اسی وقت رختِ سفر باندھا۔ بغداد کو خدا حافظ کہا اور ہندوستان کی طرف چل پڑے۔ ابھی دلی سے دور ہی تھے کہ ایک شخص دوڑتا ہوا آپؒ کے پاس آیا اور آگے بڑھ کر سلطان باہوؒ کے پاؤں عزت سے چھونے کے بعد احتراماً ان سے ایک قدم پیچھے ہٹ کر خانقاہ کی طرف اشارہ کر کے کہنے لگا۔ ’’حضرت! ادھر چلنا ہے‘‘۔ یہ شیخ عبدالرحمن قادریؒ کا بھیجا ہوا خادم تھا، جنہوں نے مراقبہ میں سلطان باہوؒ کو اپنی طرف آتا ہوا دیکھ لیا تھا چنانچہ انہوں نے ایک خادم کو آپؒ کی رہنمائی کے لئے روانہ کر دیا۔ جیسے ہی خادم کی معیت میں سلطان باہوؒ شیخ عبدالرحمنؒ کے روبرو پہنچے تو شیخؒ بنا کچھ کہے انہیں تخلیے میں لے گئے اور ایک بھرپور نگاہ مرکوز کی۔ ان کی نگاہ میں ایک عجیب سی تاثیر تھی اور اس وقت سلطانؒ کو وہ سب کچھ حاصل ہو گیا جس کی چاہ میں وہ برسوں سے خاک چھانتے پھر رہے تھے جس نعمت کے لئے وہ در در سر گرداں تھے۔ وہ سب کچھ ایک لمحے میں ان پر منکشف ہو گیا۔ اسرار و رموز کا سمندر ان کی آنکھوں میں اتر گیا۔ شیخؒ کی اس ایک نگاہ نے سلطان باہوؒ کو غیر معمولی صلاحیتوں کا مالک بنا دیا۔ ایک طویل عرصہ کے بعد شیخ سلطان باہوؒ واپس لوٹے اور تبلیغ و تلقین کا سلسلہ شروع کر دیا۔ خانقاہ درویشوں سے بھری رہتی۔ لنگر خانے کا انتظام بی بی راستی نے سنبھال لیا۔ راہوں سے بھٹکے بد نصیب افراد آتے اور آنکھوں میں مشعلیں روشن کر کے خانقاہ سے لوٹتے۔ سلطان باہوؒ نے آبائی جاگیر سے ایک تنکا تک کبھی نہ لیا۔ ضروریات زندگی کی خاطر بیلوں کی جوڑی خرید کر کاشتکاری شروع کر دی مگر فصل کاٹنے سے پہلے ہی اسے دوسروں کے لئے چھوڑ دیا۔ روکھی سوکھی کھا کر اور موٹا لباس پہن کر گزارا کرتے۔ ایک روایت کے مطابق انہوں نے چار شادیاں کیں جن سے آٹھ بیٹے ہوئے جب کہ دوسری روایت میں دو بیٹیاں اور چار بیٹے درج ہیں اس طرح ان کے بھرپور دنیاوی زندگی گزارنے کی بھی نشاندہی ہوتی ہے۔​
 

UrduLover

Thread Starter
★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,059
Reaction score
2,481
Points
904
Location
Manchester U.K
درباروں کے شہر ملتان میں علی چوک سے رشید آباد چوک کی طرف جانے والی سڑک پر شمس الفقرا حضرت شاہ شمس سبزواریؒ کا ایک بہت بڑے احاطے میں دربار شریف واقع ہے۔ جہاں روزانہ سینکڑوں عقیدت مند حاضری دیتے اور منتیں، مرادیں مانگنے کے ساتھ ساتھ لنگر تقسیم کرتے دکھائی دیتے ہیں۔ دربار کی طرف مڑنے والے راستے کے دونوں طرف کافی ساری دکانیں ہیں جہاں تبرکات و دیگر اشیا فروخت ہوتی ہیں جو حاضری دینے والوں کے لیے دلچسپی کا باعث ہیں۔ صبح سے رات گئے تک وہاں عقیدت مندوں کا رش دکھائی دیتا ہے۔ ملتان کے علاوہ مضافاتی علاقوں اور پاکستان بھر سے زائرین یہاں آتے اور دلی سکون حاصل کرتے ہیں۔ حضرت شاہ شمسؒ کے میلے کا پھیلاؤکبھی دربار شریف کے احاطے کے اردگرد ایک کلومیٹر تک ہوتا تھا۔ دربار کے ساتھ ایک بہت بڑا گراؤنڈ تھا جو اب شاہ شمس پارک میں تبدیل ہو گیا ہے۔ وہاں ملک بھر سے آنے والے لوگ اپنی اپنی دکانیں سجاتے، سرکس، موت کا کنواں، چڑیا گھر، تھیٹر، اور طرح طرح کے کرتب دکھانے والے لوگ یہاں آ کر میلے کی رونق بڑھاتے ہیں۔ اس زمانے میں لاؤڈسپیکر عام تھا اور جگہ جگہ لاؤڈ سپیکر لگے ہوتے تھے۔ شور کی وجہ سے کانوں پڑی آواز سنائی نہیں دیتی تھی۔ اس میلے میں اپنے وقت کے نامور گلوکار عالم لوہار، عنایت حسین بھٹی و دیگر بھی آتے اور کئی کئی دن تک اپنی آواز کا جادو جگاتے تھے۔ اس میلے میں رش کی انتہا ہوتی تھی۔ گراؤنڈ کچا ہونے کی وجہ سے بہت دھول اڑتی تھی مگر اس کی کوئی بھی پروا نہیں کرتا تھا۔ جلیبیوں کی بڑی بڑی عارضی دکانیں سجتی تھیں، جہاں بہت رش دیکھنے کو ملتا تھا۔ جنرل ضیاالحق کے دور حکومت میں اس تاریخی میلے کو نہ جانے کیوں ختم کر دیا گیا۔ پرانی صورت میں میلے کی بحالی کی امید تب ختم ہو گئی جب اس جگہ پر عوام کے لیے ایک بڑا تفریحی پارک اور اس کے اندر جھیل بنا دی گئی۔ کروڑوں روپے کی لاگت سے تعمیر ہونے والا یہ پارک بھی حضرت شاہ شمسؒ کے نام سے منسوب کیا گیا ہے جہاں روزانہ لوگ تفریح کے لیے آتے ہیں۔ پندرہ روزہ میلہ اب صرف تین روزہ رہ گیا ہے۔ اس میں خاص تبدیلی یہ بھی آ گئی کہ اب صرف دربار کے احاطے میں ہی تقریبات ہوتی ہیں۔ عوامی تفریح کی چیزیں وہاں دکھائی نہیں دیتیں۔ اس تین روزہ عرس میں پاکستان بھر سے عقیدت مند شریک ہوتے ہیں اور مذہبی تسکین حاصل کرتے ہیں۔ حضرت شاہ شمس سبزواریؒ اپنے وقت کے کاملین اور نابغہ روزگار اولیا میں شمار ہوتے تھے۔ آپ ؒکے والد گرامی کا نام سید صلاح الدین تھا اور آپؒ کی پیدائش 560ھ میں غزنی کے شہر سبزوار میں ہوئی۔ اسی نسبت سے آپؒ کو سبزواری کہا جاتا ہے۔ آپؒ نے ابتدائی تعلیم اپنے چچا حضرت عبدالہادی سے حاصل کی جو کہ اس وقت کے بہت بڑے جید علمائے کرام میں گنے جاتے تھے۔ انہوں نے آپؒ کو جدید مذہبی علوم سے روشناس کیا۔ خصوصاً تمام ظاہری علوم، فقہ، تفسیر حدیث اور حفظ قرآن سے آراستہ کیا۔ 579ھ میں جب آپؒ کی عمر صرف 19برس تھی تب آپؒ کو آپ کے والد تبلیغ کی غرض سے بدخشاں لے گئے۔ یہ سفر کشمیر جا کر اختتام پذیر ہوا۔ اس سارے سفر کے دوران آپ ؒنے اپنے چچا کے ساتھ بے شمار لوگوں کو اندھیروں سے نکالا اوراسلام کی طرف راغب کیا۔ ہزاروں سورج پرست لوگوں کو دائرہ اسلام میں داخل کیا۔ 586ھ میں آپؒ کی شادی ہو گئی۔ رب کریم نے آپؒ کو دو بیٹے عطا کیے جن کے نام سید نصیرالدین محمد اور سیدعلاؤالدین احمد تھے۔ آپؒ کے دوسرے بیٹے ’’زندہ پیر‘‘ کے لقب سے مشہور ہوئے۔ حضرت شاہ شمس سبزواریؒ کو تبریز بہت پسند تھا چنانچہ والد محترم سے اجازت لے کر بغرض تبلیغ وہاں چلے گئے۔ وہاں کے حالات کی وجہ سے حضرت شمس الدین سبزواری کے لیے ہجرت کے سوا کوئی راستہ نہ بچا اور والد کی شہادت کے بعد واپس تشریف لے آئے۔ حضرت شاہ شمسؒ بغداد تشریف لے گئے لیکن فرمانروا سے اختلاف کی وجہ سے آپؒ کو ملک بدر کر دیا گیا۔ پھر ملتان تشریف لے آئے۔ آپؒ نے یہاں بھر پور تبلیغ کی اور بڑی تعداد میں لوگوں کو مسلمان کیا۔ آپؒ کی کئی روایات اور کرامات مشہور ہوئیں۔ حضرت شاہ شمس سبزواریؒ کا موجودہ مزار ملتان کے تاریخی قلعہ پر واقع ہے جس میں ایک مسجد بھی تعمیر کی گئی ہے یہ تعمیر 1194ھ میں مکمل ہوئی جہاں یہ شعر درج ہے۔ چراغ و مسجد و محراب و منبر ابوبکرؓ و عمرؓ عثمانؓ و حیدرؓ خوبصورت محراب اور عمارت دلکشی کا باعث ہے۔ ان کے عرس کا آغاز ہو گیا ہے اور ملک بھر سے زائرین کی آمد کا سلسلہ جاری ہے۔
 

UrduLover

Thread Starter
★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,059
Reaction score
2,481
Points
904
Location
Manchester U.K
ابن البناالمراکشی

معروف آزاد​
ابو العباس احمد بن محمد بن عثمان الازدی المراکشی، ابن البنا کے نام سے مشہور ہوئے کیونکہ ان کے والد ’’بنا‘‘ (تعمیراتی کام کرنے والا) تھے، وہ ’’المراکشی‘‘ کے لقب سے بھی معروف ہوئے کیونکہ وہ مراکش میں رہے اور وہیں تعلیم پائی اور وہیں انتقال کیا۔. ان کے بارے میں مؤرخوں میں اختلاف پایا جاتا ہے، کہیں پر ان کی تاریخِ وفات 721 ہجری درج ہے تو کہیں پر 723 ہجری، کچھ کا خیال ہے کہ وہ غرناطہ میں پیدا ہوئے اور کچھ لوگ مراکش ان کی جائے پیدائش بتاتے ہیں، اسی طرح ان کے سالِ پیدائش میں بھی اختلاف پایا جاتا ہے مگر حتمی طور پر ان کا سالِ پیدائش 639 اور 656 ہجری کے درمیان کوئی سال بتایا جاتا ہے۔ابن البنا بہت سارے علوم کے ماہر تھے، لیکن ریاضی اور اس سے متعلق علوم میں خاص شہرت پائی، وہ ایک زرخیز سائنس دان تھے، انہوں نے عدد، حساب، ہندسہ، جبر اور فلکیات پر ستر سے زائد کتب ورسائل لکھے جن کی اکثریت ضائع ہو گئی اور مغربی سائنس دان ان کی مکتوبات میں سے بہت کم مواد تلاش کر پائے، لیکن جو کر پائے اس کا زیادہ تر حصہ انہوں نے اپنی زبان میں ترجمہ کر لیا تب ان پر انکشاف ہوا کہ حساب، جبر اور فلکیات کے بہت سارے بنیادی نظریات کا سہرا ابن البناکے سر جاتا ہے۔ ابن البنا کی شہرت کی ایک بڑی وجہ ان کی کتاب ’’کتاب تلخیص اعمال الحساب‘‘ ہے جو ان کی مشہور اور نفیس ترین تصنیف ہے، یہ کتاب سولہویں صدی عیسوی کے اواخر تک مغرب میں پڑھائی جاتی رہی، اس کتاب کے علاوہ ابن البنا کی جبر ومقابلہ پر دو اور مشہور کتابوں ’’کتاب الاصول والمقدمات فی الجبر والمقابلہ‘‘ اور ’’کتاب الجبر والمقابلہ‘‘ کو بھی نظر انداز نہیں کیا جاسکتا، ان کی دیگر قابل ذکر تصانیف میں ان کا ہندسہ پر ایک رسالہ، فلکیاتی زیچ اور ’’کتاب المناخ‘‘ ہے جس میں فلکی ٹیبل اور ان کی تیاری کے بارے میں تفصیل سے بیان کیا گیا ہے، ابن البنا نے انیسویں اور بیسوی صدی کے سائنسدانوں کی بھی بھربور توجہ حاصل کی۔​
 

UrduLover

Thread Starter
★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,059
Reaction score
2,481
Points
904
Location
Manchester U.K
شیخ احمد سرہندیؒ اور مغل بادشاہ

جاوید اقبال​
شیخ احمد سرہندیؒ مغل بادشاہ اکبر کے عہدِ حکومت میں اسلام کے ساتھ انتہائی ناروا اور افسوسناک سلوک کی وجہ سے بہت ملول اور دل گرفتہ رہتے تھے اور ہندوستان میں شریعت کی بحالی و تنفیذ پر اصرار کرتے تھے۔ انھوں نے اسلام میں توحید کی تشریح جس انداز میں کی، اس نے اکبر کی مذہبی پالیسی کے خلاف زبردست مزاحمتی جوش پیدا کر دیا۔ ان کے پیروکاروں کا ایک جمِ غفیر ان کے گرد جمع ہوگیا۔ انھوں نے اپنے نظریۂ وحدت الشہود کی تبلیغ و اشاعت کے لیے اپنے پیروکاروں کو مختلف علاقوں کی طرف روانہ کیا۔ انھوں نے بارسوخ سرکاری عہدے داروں سے خط کتابت شروع کی، جو متاثر ہوکر ان کے حلقۂ ارادت میں شامل ہوگئے۔ ان کے مکتوبات ان کے پیروکاروں نے جمع کیے، مرتب کیے اور ان کی زندگی میں شائع کیے۔ تاہم ان کا مشن اکبر کے عہد میں کامیاب نہ ہوسکا۔ جب اکبر کا بیٹا جہانگیر تخت نشین ہوا (1605ئ) تو شیخؒ نے اکبر کی مذہبی پالیسی کے خلاف باقاعدہ ایک فعال تحریک کا آغاز کیا۔ یہ مذہبی پالیسی جہانگیر نے بھی اختیار کی تھی۔ یہ تحریک صرف مغل فوج تک محدود تھی، کیونکہ شیخ احمدؒ کے پیروکار مختلف علاقوں میں جا کر سپاہیوں سے حلف اٹھواتے تھے کہ وہ ایسے احکام پر عمل درآمد نہ کریں گے جو اسلام سے متصادم ہوں۔ اس پر جہانگیر کے وزیر آصف جاہ نے شہنشاہ کو مشورہ دیا تھا کہ ایک حکم کے ذریعے سپاہیوں کو شیخؒ کے مریدوں سے ملنے جلنے یا حلف اٹھانے کی ممانعت کی جائے۔ آصف جاہ نے شہنشاہ کو شیخ احمدؒ کی گرفتاری اور حراست کا مشورہ بھی دیا۔ چنانچہ شیخ احمدؒ ایک سیاسی ملزم بن گئے اور انھیں جہانگیر کے روبرو، دربار میں پیش ہونے کا حکم ہوا (1619ئ)۔ ان پر الزام یہ عائد کیا گیا کہ اپنے مکتوبات میں انھوں نے نعوذبااللہ کفر و الحاد کی تلقین کی ہے اور شہنشاہ کے حضور سجدۂ تعظیمی ادا نہ کرکے آداب کی توہین کی ہے۔ چنانچہ سزا کے طور پر شیخؒ کو گوالیار کے قلعے میں دو سال تک مقید رکھا گیا۔ روضۃ القیومیہ کا مصنف لکھتا ہے کہ اس قید کے خلاف شیخؒ کے مریدوں نے، بالخصوص جو فوج میں تھے، بغاوت کردی۔ اسی وجہ سے کابل کے گورنر مہابت خان نے بھی بادشاہ کے خلاف علمِ بغاوت بلند کر دیا۔ شیخؒ کی رہائی کے بعد شہنشاہ جہانگیر نے ان کا استقبال پوری عزت و تکریم کے ساتھ کیا۔ اپنی بقایا زندگی میں شیخ احمدؒ نے شہنشاہ کے مشیر کی حیثیت سے کام کیا۔ شیخ احمدؒ نے تلقین کی کہ مسلمانوں کو سنتِ رسولؐ کا اتباع کرنا چاہیے۔ علما کو تحریک دی کہ وہ صرف قرآن و حدیث پر اپنی توجہ مرکوز رکھیں۔ انھوں نے شریعت کو طریقت سے بالاتر قرار دیا۔ شیخ احمدؒ نے مغلیہ سلطنت کو دوبارہ اسلام کی طرف لے جانے کے لیے متعدد مطالبات پیش کیے، مثلاً سجدۂ تعظیمی کی رسم منسوخ کی جائے، منہدم مساجد دوبارہ تعمیر کرائی جائیں، گئوکشی کو ممنوع قرار دینے والے قوانین منسوخ کیے جائیں، جزیے کی وصولی بحال کی جائے، شریعت کے مناسب نفاذ کے لیے مفتیوں، قاضیوں اور محتسبوں کا تقرر کیا جائے۔ تمام بدعتوں کو یکسر ختم کیا جائے اور جن لوگوں کو اس عرصے میں ظالمانہ احکام کی خلاف ورزی میں قید کیا گیا ہے، انھیں رہا کیا جائے۔ جہانگیر کے عہد میں اِن مطالبات (اصلاحات) میں سے کسی ایک پر بھی عمل نہیں کیا گیا۔ تاہم شیخ احمدؒ کے شہنشاہ جہانگیر کا مشیر بننے سے بہت پہلے سلسلۂ نقشبندیہ (مجدّدیہ) چند اہم سرکاری افسروں پر اپنا اثر ڈالنے میں کامیاب ہوچکا تھا۔ جہانگیر کو ایک باعقیدہ مسلمان کی حیثیت سے اکبر سے بہتر خیال کیا جاتا تھا، حالانکہ اس نے اپنے عہد میں اکبر کی مذہبی پالیسی جاری رکھی تھی۔ شاہجہان جو جہانگیر کے بعد تخت نشین ہوا، شیخ احمد سرہندی کا، اور بعد میں ان کے جانشین محمد معصوم کا پیروکار تھا۔ چنانچہ شاہجہان کے عہد میں سجدۂ تعظیمی کی رسم بند کردی گئی اور اس کی جگہ سلام گزاری کی ایک نئی شکل رائج کی گئی لیکن مغل دربار میں دوسری باتوں میں کوئی تبدیلی نہیں آئی۔ محمد شبلی نے مغل حکمرانوں کے خلاف اسلامی نقطۂ نظر سے ایک طویل فردِ جرم قائم کی ہے۔ مثلاً وہ رقم طراز ہیں کہ ہندوؤں نے اس مذہبی آزادی کا غلط فائدہ اٹھایا جو اکبر نے انھیں عطا کی تھی۔ انھوں نے اسلام کو جبراً ہندومت میں ضم کرنے کی کوشش کی۔۔۔ انھوں نے آباد مسجدوں کو مندروں میں بدل لیا۔ یہ صورتِ حال جہانگیر اور شاہجہان کے عہدِحکومت میں، بالخصوص شاہجہان کے اواخر عہد تک جاری رہی، جب مرکزی حکومت کا نظم و نسق داراشکوہ کے ہاتھ میں چلا گیا۔ سترہویں صدی میں مغل انڈیا نے شاہجہان کے بیٹوں کی اقتدار کے لیے کشمکش کا عجب تماشا دیکھا۔ اورنگ زیب نے اپنے بھائیوں سے جنگیں کیں اور ان کو قتل کردیا۔ اس نے اپنے باپ کو قید خانے میں ڈال دیا۔۔۔ اورنگ زیب اور داراشکوہ میں جو کشمکش ہوئی، وہ صرف مطلق اقتدار یا تخت حاصل کرنے کی جنگ نہ تھی، بلکہ دو متخالف طرزِ فکر کی جنگ تھی۔ اب وہ مقام آن پہنچا تھا کہ مسلمانانِ ہند کو حتمی فیصلہ کرنا تھا کہ یا تو ہندومت میں ضم ہوجائیں یا راسخ العقیدہ اسلام سے رجوع کرکے اپنا جدا گانہ تشخص برقرار رکھیں۔ اورنگ زیب کے تخت نشین ہوتے ہی مغلوں کی مذہبی پالیسی میں زبردست انقلاب آگیا۔ اورنگ زیب نے تمام غیراسلامی رسموں اور طریقوں کا خاتمہ کردیا۔ شمسی کیلنڈر کی جگہ ہجری کیلنڈر رائج کیا گیا۔۔۔ مسلمانوں میں اسلام کا مذہبی نظم و ضبط قائم کرنے کے لیے مذہبی سنسرشپ کا محکمہ ’’حسبہ‘‘ بحال کردیا گیا۔​
 

UrduLover

Thread Starter
★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,059
Reaction score
2,481
Points
904
Location
Manchester U.K
ناصر الدین محمود

عمیر احمد قادری​
ناصر الدین محمود برصغیر کے نیک، رحم دل ، عبادت گزار اور سادہ مزاج حکمران تھے آپ 1229ئ626/ ھ کو پیدا ہوئے اس وقت برصغیر پر ان کے والد شمس الدین التتمش حکمران تھے جو علم دوست اور نیک سیرت حکمران تھے۔ جب ان کا انتقال ہو گیا تو ناصر الدین ابھی صرف سات برس کے تھے اس لئے ان کے بڑے بیٹے رکن الدین نے اقتدار سنبھالا لیکن وہ زیادہ عرصے حکومت نہ کر سکے اور پھر اقتدار ان کی بہن رضیہ سلطانہ کے پاس چلا گیا لیکن وہ بھی تین برس سے زیادہ حکومت نہ کر سکیں۔ لوگ ان کے خلاف ہو گئے اور ایک لڑائی میں وہ جاں بحق ہو گئیں۔ اس کے بعد معزالدین بہرام اور علاؤالدین مسعود نے بھی حکومت کی لیکن حالات خراب ہوتے رہے، اسی دوران ناصرالدین محمود کو بہرائچ کا حاکم مقرر کر دیا گیا۔ اس وقت ناصرالدین کی عمر 16 برس تھی لیکن انھوں نے ابتدا ہی سے اپنی انتظامی صلاحیتوں کی بنا پر اس علاقے کی بہت اچھی حکومت سنبھالی، عوام سے عدل اور نیکی کا برتائو کرتے رہے، جنگی مہمات میں خود شرکت کرتے اور رعایا کی خوشحالی پر خصوصی وجہ دیتے اور ذاتی زندگی میں عبادت و ریاضت ذکر و اذکار اور شب بیداری میں مشغول رہتے، عشق رسالت مآبؐ بھی آپ کے اندر موجود تھا۔ اسی دوران مرکز کی حکومت کمزور ہوتی رہی تو ناصر الدین کو مرکز کی حکومت بچانے کے لئے دہلی بلا لیا گیا۔ انھوں نے تخت پر بیٹھتے ہی ایسے فیصلے کیے کہ مملکت مضبوط ہونا شروع ہو گئی۔ آپ خود جنگوں میں حصہ لیتے لیکن ان کامیابیوں کی اصل وجہ آپ کا تقویٰ، خوف خدا اور دین سے رغبت تھی۔روایت کے مطابق ایک دفعہ آپ کی اہلیہ محترمہ نے آپ سے شکایت کی کہ آپ اتنی بڑی حکومت کے فرمانرواں ہیں اور مجھے گھر کے کام کاج خود کرنے پڑتے ہیں اور روٹیاں بھی پکانی پڑتیں ہیں جس سے میرے ہاتھ جل جاتے ہیں کیوں نہ بیت المال سے رقم لے کر ایک خادمہ کا انتظام کر لیا جائے یہ سن کر ناصر الدین کہنے لگے یہ بیت المال کا پیسہ بندگان خدا کا ہے میں کیسے اس میں خیانت کر سکتا ہوں اور اہلیہ کو صبر کی تلقین کی۔ آپ اپنے ذاتی اخراجات پورے کرنے کے لئے خود محنت کر کے کماتے ۔ آپ فن خطاطی کے ماہر تھے جسے آپ نے ذریعہ معاش بھی بنایا۔ ناصر الدین طبعاً امن پسند ،صلح جو اور نرم طبیعت کے مالک تھے لیکن جب بات مملکت کے دفاع کی ہوتی تو کسی بھی جنگ سے خوف نہیں کھاتے تھے۔ انھوں نے برصغیر پر بیس برس حکومت کی اور اپنے نائب بلبن کی مدد سے اپنی مملکت کو ٹکڑے ٹکڑے ہونے اور منگولوں کے وحشیانہ حملوں سے بچایا۔ ناصر الدین محمود کے دور میںجو علمی کارنامے ہوئے ان میں سے تاریخ کی مشہور کتاب طبقات ناصری تصنیف ہو ئی۔ یہ کتاب مولانا منہاج السراج نے لکھی اور اپنے عزیزدوست ناصرالدین محمودکے نام پر رکھی یہ کتاب بائیس حصوں پر مشتمل ہے اور ہر حصہ اس کا طبقہ کہلاتا ہے۔ اس میںمولانا نے زمانہ قبل از تاریخ سے لے کر اپنے وقت تک کے تاریخی واقعات بیان کئے۔ یہ کتاب جب ناصر الدین محمود کو پیش کی گئی تو آپ بہت خوش ہوئے اور یہ کتاب سات سو برس سے زائد گزر جانے کے بعد آج بھی بہت کارآمد ہے۔ 18 فروری1266 کو اس عظیم حکمران کا انتقال ہوا اور آپ کو دہلی کے علاقے ملک پور میں سپرد خاک کر دیا گیا۔​
 
Top