موبائل فون کا نشہ

Doctor

Thread Starter
★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
3,314
Reaction score
4,028
Points
932
Location
Rawalpindi
اس وقت جس سے پوچھیے اس کے پاس وقت نہیں، ہر کوئی رونا روتا ہے کہ وقت نہ جانے جاتا کہاں ہے، زیادہ تر لوگوں کے پاس جواز ہے کہ اگر ان کے پاس وقت ہوتا تو وہ ایسا کر دیتے ویسا کر دیتے لیکن اس سوال کا جواب نہیں ہے کہ یہ وقت آخر جاتا کہاں ہے!

بڑی تعداد میں لوگوں کا وقت جاتا ہے موبائل کے استعمال میں۔ باقی دنیا کو تو رہنے دیں ،صرف پاکستان میں پاکستان ٹیلی کمیونی کیشن اتھارٹی کے فراہم کردہ اعداد و شمار کے مطابق موبائل فون استعمال کرنے والوں کی تعداد 15 کروڑ سے زائد ہے۔

کسی بھی چیز کے استعمال کے لیے اعتدال پہلی شرط ہوتی ہے۔موبائل کے استعمال کے معاملے میں بھی توازن کے بگڑ جانے سے معاملہ گڑبڑ ہوجاتا ہے۔ آپ خود کو بھی نیچے دی گئی کسوٹی پر پرکھیں، کہیں آپ بھی موبائل کی عادت میں مبتلا ہو کر اپنا قیمتی وقت ضائع تو نہیں کر رہے؟

اپنے موبائل میں وقت دیکھتے ہیں اور پھر فوری طور پر بھول جاتے ہیں؟



آپ کو کہیں بہت ضروری کام سے پہنچنا تھا۔آپ نے اپنے موبائل فون کی اسکرین روشن کر کے وقت دیکھا اور اس روشن اسکرین کے واپس تاریک ہوتے ہی آپ بھول گئے کہ آپ نے وقت دیکھا تھا اور آپ کو ایک دفعہ مزید وقت دیکھنا پڑا۔

آپ کو اپنے موبائل فون اسکرین کو بلاوجہ روشن کر کے بار بار دیکھنے کی اتنی عادت ہوچکی ہوتی ہے کہ آپ کسی ضروری کام کے لیے فون کی اسکرین دیکھنا بھول چکے ہوتے ہیں۔

آپ کا موبائل کسی بھی ضروری کام سے زیادہ ضروری ہو چکا ہے



آپ اپنی میٹنگ شروع ہونے کا انتظار کرتے ہوئے اپنے ساتھی سے کام کی بات کرنے کی بجائے فوری اپنے موبائل کی طرف متوجہ ہو کر اپنی غیر اہم ای میلز اور پیغامات دیکھنا شروع کر دیتے ہیں۔یہ وہی ای میلز اور پیغامات ہوسکتے ہیں جنھیں آپ پہلے اراداتاً غیر ضروری سمجھ کر چھوڑ چکے ہوتے ہیں۔

آپ کا موبائل فون ہمہ وقت آپ کے پاس رہتا ہے



بے شک آپ کھانا کھاتے ہوئے موبائل سے پیغام نہیں بھیجتے ہوں گے لیکن اس وقت بھی آپ کا فون آپ کی جیب ، پرس یا میز پر پلیٹ کے ساتھ ہی رکھا ہوگا۔ جی ! وہ اس وقت سائلینٹ موڈ میں ہوگا۔لیکن آپ کے ساتھ ہی آپ کے دسترس میں آپ کی نظر میں ہوگا۔آپ اپنے موبائل فون کی اسکرین سے اس قدر محبت میں گرفتار ہو چکے ہیں کہ اس سے فراق کا ایک لمحہ بھی بھاری گزرتا ہے۔

آپ موبائل پر اپنے اندازے سے زیادہ وقت صرف کرتے ہیں



آپ نے موبائل ہاتھ میں پکڑا صرف ایک نظر ڈالنے کے لیے اور جب سر اٹھا کر دیکھا تو آپ کو اندازہ ہوتا ہے کہ ایک لمحہ نہیں آپ آدھا گھنٹا موبائل فون کی اسکرین کو دے چکے ہیں۔اس کے لیے آپ اسکرین پر ایک ٹائمر یا الارم لگا سکتے ہیں جو آپ کو وقتاً فوقتاً احساس دلاتا رہے گا کہ آپ کا کتنا وقت گزر چکا ہے۔لیکن اگر آپ واقعی موبائل فون کی محبت میں گرفتار ہو چکے ہیں تو پھر ایسے کئی ٹائمر یا الارم بھی مل کر آپ کا کچھ نہیں بگاڑ سکتے۔

آپ اپنے موبائل کا چارجر ہر وقت اپنے ساتھ رکھتے ہیں



اپنے موبائل فون کی بیٹری کو اپنے موبائل فون کی عمر کم ہونے کا قصور وار مت ٹھہرائیں۔اگر آپ کو جلدی جلدی بیٹری چارج کرنے کی ضرورت پڑتی ہے تو اس کی ایک وجہ موبائل فون کی اسکرین پر آپ کا زیادہ وقت گزارنا بھی ہو سکتا ہے۔

آپ کو ہر وقت موبائل فون کی بیٹری ختم ہونے کا دھڑکا لگا رہتا ہے



آپ کے موبائل فون کی بیٹری کا 20 فی صد رہ جانے کا مطلب یہ نہیں ہے کہ آپ اس دنیا میں کسی کے رابطے میں بھی نہیں رہے اور اب آپ بالکل اکیلے رہ گئے ہیں۔آپ کے پاس اب کوئی راستہ نہیں ہے، ایسے میں آپ کیا کرتے ہیں؟ ہر کسی سے چارجر کا پوچھنا شروع کرکے یا کسی سے ادھار لے کر یا پھر اپنی جیب یا بیگ سے فوراً ایک چارجر نکال کر سکھ کا سانس لے کر کسی پلگ کی تلاش میں نکل جاتے ہیں۔

کچھ لوگوں نے اس کا مستقل حل بھی نکال لیا ہے۔ وہ پلگ کی تلاش کی بجائے اپنے پاس پاور بینک رکھتے ہیں۔

آپ موبائل پر ملنے والے نوٹیفکیشن مسلسل چیک کرتے رہتے ہیں

آپ موبائل فون کی پکار سنے بغیر یا تھرتھراہٹ محسوس کیے بغیر ہی موبائل فون کی اسکرین دیکھتے رہتے ہیں کہ کہیں کوئی پیغام آپ کے دیکھنے سے رہ تو نہیں گیا۔اور ایسا آپ ہر دس منٹ کے بعد کرتے ہیں۔ضروری نہیں کہ ہر بار موبائل دیکھنے پر آپ کو کوئی نیا نوٹیفکیشن مل جائے لیکن یہ معلوم ہونے کے باوجود آپ ایسا ہی کرتے ہیں۔

بار بار موبائل فون کی تھر تھراہٹ محسوس ہوتی ہے



کئی بار آپ کو ایسا محسوس ہوتا ہے کہ آپ کا موبائل فون وائبریٹ کررہا ہے لیکن جب آپ اپنا موبائل ہاتھ میں لے کر اسکرین دیکھنا شروع کرتے ہیں تو اسکرین پر کچھ بھی نیا موجود نہیں ہوتا اور پھر آپ کو معلوم ہوتا ہے یہ آپ کا وہم تھا۔ ایسا آپ عادتاً کرتے ہیں۔

آپ ڈرائیونگ پر مکمل دھیان نہیں دے پاتے

یہ بات تو سب کو معلوم ہوتی ہے اور ہونی بھی چاہیے کہ گاڑی کی ڈرائیونگ سیٹ پر بیٹھنے کا مطلب ہوتا ہے کہ آپ کا دھیان اب صرف گاڑی چلانے پر ہونا چاہیے۔اب چاہے یہ ڈرائیونگ کتنے ہی گھنٹوں پر محیط کیوں نہ ہو۔

اگر آپ کو 5 سیکنڈ بھی دستیاب ہوتے ہیں تو آپ فوراً اپنے موبائل کی اسکرین کو روشن کر لیتے ہیں۔حالانکہ آپ کو یقین ہوتا ہے کہ آپ دوستوں اور خاندان کے تمام افراد کے لیے بہت اہم ہیں، وہ کچھ گھنٹوں کے لیے آپ کے جواب کا انتظار کر سکتے ہیں۔لیکن آپ پھر بھی بے صبری دکھا جاتے ہیں۔

آپ کی دنیا صرف سوشل میڈیا تک محدود ہے



آپ اگر اپنی زندگی کے ایک ایک لمحے سے سوشل میڈیا پر خود سے وابستہ لوگوں کو آگاہ رکھتے ہیں۔ابھی کہاں گئے ، کیا کھایا ، کس کو دیکھا ، کیسا محسوس کیا۔یہ سب سوشل میڈیا پر ایک ایک لمحہ تصویری شکل میں موجود رہتا ہے لیکن حقیقی دنیا میں آپ کے ارد گرد کے لوگوں کو آپ کی بالکل بھی خبر نہیں ہوتی۔

آپ کا دن شروع اور ختم موبائل فون کی اسکرین دیکھنے سے ہوتا ہے

صبح آنکھ کھلتے ہی سب سے پہلے موبائل فون کی جگمگاتی اسکرین آپ کو اپنی طرف متوجہ کر لیتی ہے اور رات کو اسکرین تاریک کرکے ہی آپ آنکھیں بند کرتے ہیں تو موبائل سے زیادہ آپ کے لیے کوئی اہم نہیں ہے۔

آپ کا موبائل فون بیگ یا جیب کی بجائے ہاتھ میں رہتا ہے



کپڑوں میں ایک عدد یا اس سے زائد جیب ہونے کے باوجود یا پھر بیگ میں موبائل کے لیے خصوصی جگہ ہوتے ہوئے بھی موبائل آپ کے ہاتھ میں رہتا ہے تو اس کا مطلب یہ ہوا کہ یہ آپ کے لیے بہت عزیز ہو چکا ہے۔

آپ ایک کی بجائے دو اسکرینز بیک وقت استعمال کرتے ہیں



آفس میں یا اپنے ذاتی کام کے لیے کمپیوٹر اسکرین دیکھنے کے ساتھ ساتھ عادتاً موبائل کی اسکرین بھی دیکھتے ہی رہتے ہیں تو آپ اس چھوٹی سی اسکرین سے خاص انسیت رکھتے ہیں۔

آپ کتاب چھوڑ کر ایک چھوٹی سی اسکرین پر کتاب یا کالم یا کچھ اور پڑھنا چاہتے ہیں۔آپ ٹی وی یا اسکرین دیکھنے کی بجائے موبائل کی چھوٹی سی اسکرین پر ہی فلموں ڈراموں یا دیگر وڈیوز سے لطف اندوز ہوتے ہیں اور گاڑی یا آفس یا گھر میں اسپیکرز کی بجائے اپنے کان میں موبائل سے آواز سننا پسند کرتے ہیں تو سمجھ لیں کہ معاملہ گڑ بڑ ہے۔
اگر آپ میں یہ عادات ہیں تو آپ کو موبائل فون کی لَت لگ چکی ہے
اگر بات اس نہج تک پہنچ جائے کہ لوگوں کو آپ سے بالمشافہ ملاقات کرتے ہوئے آپ سے وعدہ لینا پڑے کہ آپ موبائل فون کا استعمال نہیں کریں گے تو پھر موبائل فون کے استعمال میں اعتدال کی طرف آنے کا سوچ لیں۔۔۔
 

UrduLover

★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,059
Reaction score
2,481
Points
904
Location
Manchester U.K
کافی تفصیلی مضمون لکھا گیا ہے۔لگتا لکھنے والے کہ پاس تو ٹائم ہی ٹائم تھا جو اتنا بڑا مضمون مو بایئل لکھ دیا۔اسے تو پڑھنے کیلئے بھی کافی وقت درکار ہے۔قسطوں میں پڑھنا پڑے گا۔
 

bluemoon

☆☆☆☆☆
Expert
Writer
Joined
Jan 16, 2019
Messages
61
Reaction score
106
Points
66
Location
Malaysia
واقعی لوگوں نےجس حساب سے آج کل موبائل استعمال کرناشروع کردیا ہے، بالکل ایسا ہی لگتا ہے جیسے یہ ایک لت ہے۔
کوئی چیز جتنی بھی اچھی ہی کیوں نہ ہو، ہر کام یا چیز کو اعتدال کے ساتھ استعمال کرناچاہیے۔
 

UrduLover

★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,059
Reaction score
2,481
Points
904
Location
Manchester U.K
ہر کام یا چیز کو اعتدال کے ساتھ استعمال کرناچاہیے۔
جی ہاں؟ میرے ہاں بچے اپنے اپنے گھر علیحدہ رہتے ہیں اور کام کام کاج اور فاصلے کیوجہ سے ہفتہ میں ایکدن چار گھنٹہ کی ملاقات رات آٹھ بجے واپسی یہ کہہ ہو جاتی ہے ۔ بچوں کو سلانا ہے۔اور ہمارے حصے کے چا رگھنٹے کی ملاقات بھی بچوں کی گیم کھیلنے اور انکے ماں باپ کی موبایئل استعمال کرنے میں گزر جاتی ہے۔اور ایسے ہی ہم دادا دادی پھر سے سارا ہفتہ انتظار میں گزارتے ہیں کہ کب بچوں کو دیکھیں گے۔ بچےجب آتے ہیں عید جیسا ماحول ہو جاتا ہے اور چند منٹوں کے بعد وہ گیم اور موبایئل ہمیں دشمن کیطرح محسوس ہوتا ہے۔
 
Last edited:

Sabih Tariq

★★★☆☆
Dynamic Brigade
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
1,413
Reaction score
2,073
Points
592
Location
Central
واقعی لوگوں نےجس حساب سے آج کل موبائل استعمال کرناشروع کردیا ہے، بالکل ایسا ہی لگتا ہے جیسے یہ ایک لت ہے۔
کوئی چیز جتنی بھی اچھی ہی کیوں نہ ہو، ہر کام یا چیز کو اعتدال کے ساتھ استعمال کرناچاہیے۔
بھئی اعتدال والی بات تو کسی ایسے کام میں ہو جس میں ضرورت تک تعلق رہے،مثلاً کھانا کھانا، سات اٹھ گھنٹے سو لینا،تھوڑا سا وقت نکال کر باہر گھوم پھرکر آجانا،یا بازار مارکیٹ سے کوئی چیز خرید کر لوٹ آنا۔
موبائل فون کے اندر پوری کی پوری سیاست گھس آئی ہے جو کبھی ختم نہیں ہوتی، سوشل میڈیا میں روزانہ کے ایشوز پر لوگ اپنی رائے دینا ،تبصرے کرنا اتناضروری خیال کرتے ہیں جیسا کہ بھوکا آدمی رغبت سے لذیذ ڈش تناول کرتاہے۔
ہر کوئی کچھ نہ کچھ تبصرہ کرتاعین سعادت سمجھتاہے، بعض ایسے بھی ہیں جو صرف تجسس کی بنیاد پر لکھتے تو کچھ نہیں لیکن پڑھتے ضرور ہیں،۔۔۔فیس بک ، وٹس ایپ،ٹوئیٹر،اخبارات،ٹی وی کھیل کھلاڑی اداکار،اور نجی پراڈکشنز،چیزوں کی خریدو فروخت،پرائس انفو،ٹیکنالوجی وغیرہ۔انہی کیساتھ موبائل فون پر روابط ،الارم و ریمائینڈر کی سیٹنگ،ذاتی معلومات ،ڈائری ،میمو نوٹس،وغیرہ وغیرہ،کہاں جانا ہے کل کیا کرنا ہے،گوگل میپ سے ارگرد کی معلومات یہ اور بہت کچھ اپنی ضرورت کے تحت اسی سمارٹ فون سے لوگ فوائد سمیٹ رہے ہیں،لہذا یہ چھوٹا سا فون انٹرنیٹ سے جڑ کر بہت سارے کاموں کے لیے مفید آلہ ثابت ہوچکا ہےتبھی دن بدن لوگ اس کے عادی ہورہے ہیں۔
نقصانات کا پہلو بھی ہے لیکن تب ہی جب فضول لاحاصل سوشل میڈیا پر سیاسی لیڈروں کے بیانات وغیرہ پر تبصرے کیے اور پڑھے جائیں۔اگر ایک حد تک استعمال کیاجائے اور وقت پر دیگر کام بھی ہورہے ہوں تو پھر اس کا موجودہ دور میں انسانی زندگی کے اندربڑا اہم کردار نظرآتاہے جو مثبت بھی ہے اور سہولت کار بھی۔
جی ہاں؟ میرے ہاں بچے اپنے اپنے گھر علیحدہ رہتے ہیں اور کام کام کاج اور فاصلے کیوجہ سے ہفتہ میں ایکدن چار گھنٹہ کی ملاقات رات آٹھ بجے واپسی یہ کہہ ہو جاتی ہے ۔ بچوں کو سلانا ہے۔اور ہمارے حصے کے چا رگھنٹے کی ملاقات بھی بچوں کی گیم کھیلنے اور انکے ماں باپ کی موبایئل استعمال کرنے میں گزر جاتی ہے۔اور ایسے ہی ہم دادا دادی پھر سے سارا ہفتہ انتظار میں گزارتے ہیں کہ کب بچوں کو دیکھیں گے۔ بچےجب آتے ہیں عید جیسا ماحول ہو جاتا ہے اور چند منٹوں کے بعد وہ گیم اور موبایئل ہمیں دشمن کیطرح محسوس ہوتا ہے۔
اللہ تعالیٰ آپ کے لیے آسانی والا معاملہ پیش فرمائے جان کر افسوس ہوا۔واقعی بچوں کےوالد ین سے زیادہ دادا دادی بچوں کوچاہتے ہیں،اور ان کی محبت میں بڑی بے بسی و بے اختیاری ہوتی ہے۔
بقول لارڈ نذیز کےوالدین پر بچوں کی تربیت تعلیم کا بوجھ ہوتاہے جبکہ دادا دادی اس بوجھ سے آزاد ہوتے ہیں اس لیے وہ پوتے پوتیوں کو بہت زیادہ چاہتے ہیں۔
 
Top