مطالعہ کی عادت

Bail Gari

Thread Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
11:09 PM
Threads
28
Messages
204
Reaction score
195
Points
39
Location
Pakistan
Gold Coins
8.00
📚📚✒
مطالعہ سے کیا ملتا ہے ؟
*۔۔۔مطالعہ انسان کے لئے اخلاق کا معیار ہے۔(علامہ اقبالؒ )
*۔۔۔ بری صحبت سے تنہائی اچھی ہے، لیکن تنہائی سے پریشان ہو جانے کا اندیشہ ہے، اس لئے اچھی کتابوں کے مطالعے کی ضرورت ہے۔(امام غزالیؒ )
*۔۔۔ تیل کے لئے پیسہ نہ ہونے کی وجہ سے میں رات کو چوکیداروں کی قندیلوں کے پاس کھڑے ہوکر کتاب کا مطالعہ کرتا تھا۔
(حکیم ابو نصر فارابی ؒ )
*۔۔۔ورزش سے جسم مضبوط ہوتا ہے اورمطالعے کی دماغ کے لئے وہی اہمیت ہے جو ورزش کی جسم کے لئے۔ (ایڈیسن)
*۔۔۔ مطالعہ سے انسان کی تکمیل ہوتی ہے۔ (بیکن)
*۔۔۔مطالعے کی عادت اختیار کرلینے کا مطلب یہ ہے کہ آپ نے گویا دنیا جہاں کے دکھوں سے بچنے کے لئے ایک محفوظ پناہ گاہ تیار کرلی ہے۔
(سمر سٹ ماہم)
*۔۔۔ تین دن بغیر مطالعہ گزار لینے کے بعد چوتھے روز گفتگو میں پھیکا پن آجاتا ہے۔
(چینی ضرب المثل)
*۔۔۔انسان قدرتی مناظر اورکتابوں کے مطالعے سے بہت کچھ سیکھ سکتا ہے۔ (سسرو)
*۔۔۔ مطالعے کی بدولت ایک طرف تمہاری معلومات میں اضافہ ہوگا اوردوسری طرف تمہاری شخصیت دلچسپ بن جائے گی۔ (وائٹی)
*۔۔۔دماغ کے لئے مطالعے کی وہی اہمیت ہے جو کنول کے لئے پانی کی۔ (تلسی داس)
*۔۔۔مطالعہ کسی سے اختلاف کرنے یا فصیح زبان میں گفتگو کرنے کی غرض سے نہ کرو بلکہ ’’تولنے‘‘ اور’’سوچنے‘‘کی خاطر کرو۔ (بیکن)
*۔۔۔جس طرح کئی قسم کے بیج کی کاشت کرنے سے زمین زرخیز ہو جاتی ہے، اسی طرح مختلف عنوانات پر کتابوں اوررسالوں وغیرہ کا مطالعہ انسان کے دماغ کو منور بنادیتا ہے۔ (ملٹن)
*۔۔۔ جو نوجوان ایمانداری سے کچھ وقت مطالعے میں صرف کرتا ہے، تو اسے اپنے نتائج کے بارے میں بالکل متفکر نہ ہونا چاہئے۔ ( ولیم جیمز)
*۔۔۔ مطالعے سے خلوت میں خوشی، تقریر میں زیبائش، ترتیب وتدوین میں استعداد اور تجربے میں وسعت پیدا ہوتی ہے۔ (بیکن)
*۔۔۔ وہ شخص نہایت ہی خوش نصیب ہے جس کو مطالعہ کا شوق ہے، لیکن جو فحش کتابوں کا مطالعہ کرتا ہے اس سے وہ شخص اچھا ہے جس کو مطالعہ کا شوق نہیں ( میکالے)
*۔۔۔ مطالعہ ذہن کو جلا دینے کے لئے اوراس کی ترقی کے لئے ضروری ہے۔ (شیلے)
*۔۔۔ دنیا میں ایک باعزت اورذی علم قوم بننے کے لئے مطالعہ ضروری ہے مطالعہ میں جو ہر انسانی کو اجاگر کرنے کا راز مضمر ہے۔ (گاندھی جی)
*۔۔۔ اکثر دیکھا گیا ہے کہ کتابوں کے مطالعے نے انسان کے مستقبل کو بنادیا ہے۔ (جیفر سن)
*۔۔۔ تم مطالعہ اس لئے کرو کہ دل ودماغ کو عمدہ خیالات سے معمور کر سکونہ کہ اس طمع سے کہ تھیلیاں روپوں سے بھر پور ہوں۔ (سینکا)
📚📚📚📚📚📚📚📚
نقل چسپاں۔وٹس ایپ میسیج
__________________​
 

Mr. X

Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Popular
💖 ITD Lover 💖
The Gladiator
The Dark Knight
The Men in Black
Joined
Apr 25, 2018
Local time
11:09 PM
Threads
1,059
Messages
2,191
Reaction score
4,093
Points
1,264
Gold Coins
2,610.05
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
بہت عمدہ
اشتراک کرنے کا شکریہ​
 

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
6:09 PM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,966
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
117.42
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
یوں تو زبانیں سیکھنا مضامین پڑھنا اور مطالعہ کرنا نہ صرف علم میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ انسان کی ذہنی صلاحتیوں کو بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے تاہم کچھ زبانوں میں یہ قدرتی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ دماغ کی افزائش کو تیزی سے بڑھانے میں مدد گارہوتی ہیں ان میں اردو کو بھی یہ مقام حاصل ہے اس لیے بھارت میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اردو اشعار پڑھنے سے ایک طرف روحانی سکون ملتا ہے تو دوسری طرف یہ دماغی صلاحیتوں کو تیزی سے پروان چڑھانے میں مدد گار ہوتی ہے۔




لکھنو میں سینٹر فار بائیو میڈیکل ریسرچ کے نیورو سائنس کے شعبہ میں کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اردوشاعری بالخصوص ہم آواز ردیف اور قافیہ رکھنے والے اشعار دماغ کے مرکزی فنکشنز کو کنٹرول کرنے والے حصوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اردو شاعری اور اچھی نثر کے مطالعہ سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت، اچھے اور برے میں تمیز، جذباتی عناصر، اسٹریس سے جنگ، معلومات کے حصول اور مشاہدہ کرنے کی صلاحیتوں کی تیزی سے افزائش ہوتی ہے جب کہ اس کی بدولت یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا عمل سست ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ یہ معذور بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت کوبڑھانے میں بھی مددگار ہوتی ہے۔

ریسرچ کے بانی اتام کمار کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج مخصوص مضمون کے مطالعہ کے دوران ذہن کے پردے پر بننے والے نقشوں کی بنیاد پر حاصل کیے گئے ہیں، ان نقشوں کو’’ فنکشنل میگنیٹک ریسونینس امیجنگ ‘‘ تکنیک استعمال کرتے ہوئے ترتیب دیا گیا اور یہ ایسی تکنیک ہے جو دنیا بھر میں ذہن کی ساخت اور اس کے کاموں کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

اتام کمار کا کہنا تھا کہ اس عمل کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ زبان دماغ پر مخصوص پیٹرن تخلیق کرتی ہے جن کی دماغ میں موجود نیورون سے تعلق پیدا کرکے نشان دہی کی جاتی ہے جب کہ تمام زبان کا بنیادی پیٹرن ایک ہی جیسا ہوتا ہے لیکن جب انتہائی باریک بینی سے یعنی مائیکرو لیول پر مطالعہ کیا جاتا ہے تو اس میں زبان کا اسکرپٹ اور بولنے کا لہجہ یا فونیٹک زبانوں کی خصوصیات کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے اس کے علاوہ زبانوں کی خصوصیات کو آرتھو گرافی یعنی نظر آنے والے حروف (گرافیم) اور لکھے گئے لفظوں کو آواز میں تبدیل کرنے کے عمل (فونیم) کے درمیان فرق کر کے بھی جانچا جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران اس تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے زبانوں کو آسانی سے سمجھنے والی (ٹرانسپیرنٹ) اور مشکل سے سمجھ آنے والی (ڈیپ) میں تقسیم کیا گیا جس کے مطابق ہندی اور جرمن ٹرانسپیرنٹ جب کہ انگلش اور فرنچ ڈیپ زبان قرار پائی لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو ’’ڈیپسٹ‘‘ یعنی سب سے زیادہ گہری زبان قراردی گئی کیوں کہ اس میں دیگر دو زبانوں کے مقابلے میں 2 اہم خصوصیات اس کے حروف کے لکھنے کا پیچیدہ طریقہ اور دوسرا لکھنے کی سمت اسے ڈیپیسٹ بناتی ہیں۔

اتام کمار نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اردو کی اس گہرائی کی بدولت اس کو پڑھنے والے کے دماغ کے غالب اوپری اور درمیانی حصے تیزی سے سرگرم ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے دماغ کے علم و آگہی رکھنے والے اہم ترین اجزا تیزی سے حرکت کرتے ہیں اور خاص طور پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت سب سے اہم ہے جو اچھے اور برے کرنے کی صلاحیت اور کسی بھی عمل کے نتائج کا ادراک پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولوگ کئی زبانوں کے ماہر ہوتے ہیں ان کی یادداشت بڑھاپے میں بھی تیزی سے کام کرتی ہے۔

 

Bail Gari

Thread Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
11:09 PM
Threads
28
Messages
204
Reaction score
195
Points
39
Location
Pakistan
Gold Coins
8.00
یوں تو زبانیں سیکھنا مضامین پڑھنا اور مطالعہ کرنا نہ صرف علم میں اضافے کا باعث بنتا ہے بلکہ انسان کی ذہنی صلاحتیوں کو بڑھانے میں بھی اہم کردار ادا کرتا ہے تاہم کچھ زبانوں میں یہ قدرتی صلاحیت ہوتی ہے کہ وہ دماغ کی افزائش کو تیزی سے بڑھانے میں مدد گارہوتی ہیں ان میں اردو کو بھی یہ مقام حاصل ہے اس لیے بھارت میں کی جانے والی ایک نئی تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اردو اشعار پڑھنے سے ایک طرف روحانی سکون ملتا ہے تو دوسری طرف یہ دماغی صلاحیتوں کو تیزی سے پروان چڑھانے میں مدد گار ہوتی ہے۔




لکھنو میں سینٹر فار بائیو میڈیکل ریسرچ کے نیورو سائنس کے شعبہ میں کی گئی تحقیق میں کہا گیا ہے کہ اردوشاعری بالخصوص ہم آواز ردیف اور قافیہ رکھنے والے اشعار دماغ کے مرکزی فنکشنز کو کنٹرول کرنے والے حصوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ سائنسدانوں کا کہنا ہے کہ اردو شاعری اور اچھی نثر کے مطالعہ سے فیصلہ کرنے کی صلاحیت، اچھے اور برے میں تمیز، جذباتی عناصر، اسٹریس سے جنگ، معلومات کے حصول اور مشاہدہ کرنے کی صلاحیتوں کی تیزی سے افزائش ہوتی ہے جب کہ اس کی بدولت یادداشت اور ذہنی صلاحیتوں میں کمی کا عمل سست ہو جاتا ہے اور اس کے ساتھ یہ معذور بچوں میں سیکھنے کی صلاحیت کوبڑھانے میں بھی مددگار ہوتی ہے۔

ریسرچ کے بانی اتام کمار کا کہنا ہے کہ اس تحقیق کے نتائج مخصوص مضمون کے مطالعہ کے دوران ذہن کے پردے پر بننے والے نقشوں کی بنیاد پر حاصل کیے گئے ہیں، ان نقشوں کو’’ فنکشنل میگنیٹک ریسونینس امیجنگ ‘‘ تکنیک استعمال کرتے ہوئے ترتیب دیا گیا اور یہ ایسی تکنیک ہے جو دنیا بھر میں ذہن کی ساخت اور اس کے کاموں کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے استعمال کی جاتی ہے۔

اتام کمار کا کہنا تھا کہ اس عمل کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ زبان دماغ پر مخصوص پیٹرن تخلیق کرتی ہے جن کی دماغ میں موجود نیورون سے تعلق پیدا کرکے نشان دہی کی جاتی ہے جب کہ تمام زبان کا بنیادی پیٹرن ایک ہی جیسا ہوتا ہے لیکن جب انتہائی باریک بینی سے یعنی مائیکرو لیول پر مطالعہ کیا جاتا ہے تو اس میں زبان کا اسکرپٹ اور بولنے کا لہجہ یا فونیٹک زبانوں کی خصوصیات کو ایک دوسرے سے الگ کرتا ہے اس کے علاوہ زبانوں کی خصوصیات کو آرتھو گرافی یعنی نظر آنے والے حروف (گرافیم) اور لکھے گئے لفظوں کو آواز میں تبدیل کرنے کے عمل (فونیم) کے درمیان فرق کر کے بھی جانچا جاتا ہے۔

تحقیق کے دوران اس تکنیک کا استعمال کرتے ہوئے زبانوں کو آسانی سے سمجھنے والی (ٹرانسپیرنٹ) اور مشکل سے سمجھ آنے والی (ڈیپ) میں تقسیم کیا گیا جس کے مطابق ہندی اور جرمن ٹرانسپیرنٹ جب کہ انگلش اور فرنچ ڈیپ زبان قرار پائی لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ اردو ’’ڈیپسٹ‘‘ یعنی سب سے زیادہ گہری زبان قراردی گئی کیوں کہ اس میں دیگر دو زبانوں کے مقابلے میں 2 اہم خصوصیات اس کے حروف کے لکھنے کا پیچیدہ طریقہ اور دوسرا لکھنے کی سمت اسے ڈیپیسٹ بناتی ہیں۔

اتام کمار نے مزید وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ اردو کی اس گہرائی کی بدولت اس کو پڑھنے والے کے دماغ کے غالب اوپری اور درمیانی حصے تیزی سے سرگرم ہوجاتے ہیں جس کی وجہ سے دماغ کے علم و آگہی رکھنے والے اہم ترین اجزا تیزی سے حرکت کرتے ہیں اور خاص طور پر فیصلہ کرنے کی صلاحیت سب سے اہم ہے جو اچھے اور برے کرنے کی صلاحیت اور کسی بھی عمل کے نتائج کا ادراک پیدا کرتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ جولوگ کئی زبانوں کے ماہر ہوتے ہیں ان کی یادداشت بڑھاپے میں بھی تیزی سے کام کرتی ہے۔

معلوماتی
مفید اضافہ
شکریہ
 

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
6:09 PM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,966
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
117.42
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks