وطن جوشؔ ملیح آبادی

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
6:02 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
115.25
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
اے وطن پاک وطن روح روان احرار
اے کہ ذروں میں ترے بوئے چمن رنگ بہار
اے کہ خوابیدہ تری خاک میں شاہانہ وقار
اے کہ ہر خار ترا رو کش صد روئے نگار
ریزے الماس کے تیرے خس و خاشاک میں ہیں
ہڈیاں اپنے بزرگوں کی تری خاک میں ہیں
پائی غنچوں میں ترے رنگ کی دنیا ہم نے
تیرے کانٹوں سے لیا درس تمنا ہم نے
تیرے قطروں سے سنی قرأت دریا ہم نے
تیرے ذروں میں پڑھی آیت صحرا ہم نے
کیا بتائیں کہ تری بزم میں کیا کیا دیکھا
ایک آئینے میں دنیا کا تماشہ دیکھا
تیری ہی گردن رنگیں میں ہیں بانہیں اپنی
تیرے ہی عشق میں ہیں صبح کی آہیں اپنی
تیرے ہی حسن سے روشن ہیں نگاہیں اپنی
کج ہوئیں تیری ہی محفل میں کلاہیں اپنی
بانکپن سیکھ لیا عشق کی افتادوں سے
دل لگایا بھی تو تیرے ہی پری زادوں سے
پہلے جس چیز کو دیکھا وہ فضا تیری تھی
پہلے جو کان میں آئی وہ صدا تیری تھی
پالنا جس نے ہلایا وہ ہوا تیری تھی
جس نے گہوارے میں چوما وہ صبا تیری تھی
اولیں رقص ہوا مست گھٹائیں تیری
بھیگی ہیں اپنی مسیں آب و ہوا میں تیری
اے وطن آج سے کیا ہم ترے شیدائی ہیں
آنکھ جس دن سے کھلی تیرے تمنائی ہیں
مدتوں سے ترے جلووں کے تماشائی ہیں
ہم تو بچپن سے ترے عاشق و سودائی ہیں
بھائی طفلی سے ہر اک آن جہاں میں تیری
بات تتلا کے جو کی بھی تو زباں میں تیری
حسن تیرے ہی مناظر نے دکھایا ہم کو
تیری ہی صبح کے نغموں نے جگایا ہم کو
تیرے ہی ابر نے جھولوں میں جھلایا ہم کو
تیرے ہی پھولوں نے نو شاہ بنایا ہم کو
خندۂ گل کی خبر تیری زبانی آئی
تیرے باغوں میں ہوا کھا کے جوانی آئی
تجھ سے منہ موڑ کے منہ اپنا دکھائیں گے کہاں
گھر جو چھوڑیں گے تو پھر چھاؤنی چھائیں گے کہاں
بزم اغیار میں آرام یہ پائیں گے کہاں
تجھ سے ہم روٹھ کے جائیں بھی تو جائیں گے کہاں
تیرے ہاتھوں میں ہے قسمت کا نوشتہ اپنا
کس قدر تجھ سے بھی مضبوط ہے رشتہ اپنا
اے وطن جوش ہے پھر قوت ایمانی میں
خوف کیا دل کو سفینہ ہے جو طغیانی میں
دل سے مصروف ہیں ہر طرح کی قربانی میں
محو ہیں جو تری کشتی کی نگہبانی میں
غرق کرنے کو جو کہتے ہیں زمانے والے
مسکراتے ہیں تری ناؤ چلانے والے
ہم زمیں کو تری ناپاک نہ ہونے دیں گے
تیرے دامن کو کبھی چاک نہ ہونے دیں گے
تجھ کو جیتے ہیں تو غم ناک نہ ہونے دیں گے
ایسی اکسیر کو یوں خاک نہ ہونے دیں گے
جی میں ٹھانی ہے یہی جی سے گزر جائیں گے
کم سے کم وعدہ یہ کرتے ہیں کہ مر جائیں گے

 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks