اِس واقعے کو اب تو۔۔۔ کئی سال ہو گئے

ناعمہ وقار

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Staff member
Charismatic
Champion
Writer
Popular
Mysterious
Joined
May 8, 2018
Local time
10:44 AM
Threads
111
Messages
3,145
Reaction score
4,598
Points
943
Location
اسلام آباد - پاکستان
Gold Coins
857.05
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Single Thread Highlight for 1 Week.
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
خوابوں کی دیکھ بھال میں آنکھیں اُجڑ گئیں
تنہائیوں کی دُھوپ نے چہرا جلا دیا
لفظوں کے جوڑنے میں عبارت بکھر چلی
آئینے ڈھونڈنے میں کئی عکس کھو گئے
آئے نہ پھر وہ لوٹ کے اِک بار جو گئے
وہ دن، وہ وقت ، وہ رُت ، وہ موسم ، وہ سرکشی
اے گردشِ حیات ، اے رفتارِ ماہ و سال
کیا جمع اِس زمین پہ ہو نگے نا پھر کبھی
جو ہمسفر فراق کی دلدل میں کھو گئے
پتے جو گِر کے پیڑ سے رستوں کے ہو گئے
کیا پھر کبھی نہ لوٹ کے آئے گی وہ بہار
کیا پھر کبھی نہ آنکھ میں اُترے گی وہ دھنک
جس کے وُفورِ رنگ سے
جھلکی ہوئی ہوا __ کرتی ہے آج تک
اِک زُلف میں سجائے ہوئے پھولوں کا انتظار
لمحے زمانِ ہجر کے پھیلے کچھ اس طرح
ریگِ روانِ دشت کی تمثال ہو گئے
اِس دشت پر سراب میں بھٹکے ہیں اس قدر
نقشِ قدم تھے جتنے بھی، پا مال ہو گئے
اب تو کہیں پہ ختم ہو رستہ گمان کا
شیشے میں دل کے سارے یقین بال ہو گئے
جس واقعے نے آنکھ سے چھینی تھی میری نیند
اِس واقعے کو اب تو۔۔۔ کئی سال ہو گئے

امجد اسلام امجد
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks