بیس سال بعد / او ہنری / ترجمہ : وسیم احمد علیمی

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,439
Reaction score
3,628
Points
1,986
Location
Manchester U.K
Gold Coins
343.39
Silver Coins
9,932.86
Diamonds
1.00
بیس سال بعد / او ہنری / ترجمہ : وسیم احمد علیمی
انگریزی سے ترجمہ
Please, Log in or Register to view URLs content!
پولیس والا علاقے کی نگرانی کی لیے با رعب انداز میں نکل پڑا تھا۔اسکا یہ رعب عادتاً تھا ،اور ناظرین کی نظر میں تھوڑا سا ریاکارانہ بھی۔رات کے محض دس بجے تھے، سرد ہواؤں کے جھونکے چل رہے تھے جن میں بارش کی خنکی کا اثر تھا اور گلیاں تقریبا خالی ہو چکی تھیں۔
جب وہ افسرخاموش شاہراہ پر اپنے ڈنڈے کو پر لطف اور پیچیدہ انداز میں حرکت دیتے ہوئے جا رہا تھا تو اسکی یہ ہلکی پھلکی شیخی اور دلیرانہ ہیئت ٹھیک کسی محافظِ امن کی ایک عمدہ تصویر معلوم ہوتی تھی۔ گردو نواح بہت جلد سنسان ہوگیا تھا ۔ ہاں ، کبھی کبھی کسی تمباکو کی دوکان یا رات بھر کھلے رہنے والے قہوہ خانوں سے روشنی کی جھلک آجاتی تھی، مگر اکثریت ان دوکا نوں کی تھی جن کا تعلق تجارتی امور سے تھا اورجوشام ڈھلتے ہی بند ہوچکی تھیں۔
ابھی پولیس والا اس مخصوص بلاک کا آدھا راستہ ہی طے کر پایا تھا کہ اچانک اس نے اپنی رفتار دھیمی کردی، کیونکہ ایک تاریک ہارڈ ویئر کی دوکان کے داخلی دروازے پر ایک شخص اپنے منھ میں ایک بجھا ہوا سیگریٹ لئے ٹیک لگائے کھڑا تھا ، جیسے ہی پولیس والا اس کی طرف بڑھا وہ فورا بول پڑا ’’سب ٹھیک ہے افسر صاحب ! میں تو بس ایک دوست کا انتظار کر رہا ہوں ، یہ ایک وعدہ ہے جو بیس سال پہلے کیا گیا تھا ۔ سننے میں تھوڑا مضحکہ خیز ہے نا؟اگر آپ اس بات کو یقینی بنائیں کہ سب ٹھیک ہے تو میں وضاحت کروں۔۔۔۔سالوں پہلے یہاں ’بگ جو براڈیز ریستوراں‘نامی ایک ہوٹل ہوا کرتا تھا۔۔۔‘‘
پولیس والے نے کہا ’’پانچ سال پہلے تک تو اس کا وجود تھا ، پھر اسے منہدم کردیا گیا‘‘۔
پھر اس شخص نے ماچس سے اپنا سیگریٹ سلگایا ۔ ماچس کی روشنی میں ایک چوڑے چکلے جبڑے والا دھندلا سا چہرہ نظر آیا جس کی نگاہ میں انتظار اور داہنے ابرو کے قریب ایک چھوٹا سا سفید زخم کا نشان تھا ۔اس کی گلو بند میں ہیرے کا ایک بڑا سا بٹن نہایت نرالے ڈھنگ سے جڑا ہوا تھا ۔
’’بیس سال قبل اسی شب کو اپنے عزیز دوست اور زمین پر سب سے بھلے انسان ’جمی ویلز‘ کے ساتھ بگ ’جو براڈیز‘ ہوٹل میں میں نے رات کا کھانا کھایا تھا ۔ ہم دونوں یہاں نیویارک میںدو بھا ئیوں کی طرح پلے بڑھے تھے ۔میری عمر اٹھارہ سال تھی اور جمی بیس سال کا تھا ۔اگلی صبح اپنی قسمت بنانے کے لیے میں مغرب کو روانہ ہونے والا تھا ۔ اور جمی کو بھلا کون نیو یارک سے باہر نکال سکتاتھا ! کیونکہ جناب کے خیال میں کائنات میں رہنے کو بس یہی ایک جگہ تھی ۔اس رات ہم دونوں نے وعدہ کیا تھا کہ ہماری حالت خواہ کیسی بھی ہو اور چاہے کتنی ہی لمبی مسافت طے کرنی پڑے ، بیس سال بعد ٹھیک اسی جگہ اسی وقت ہم دونوں ایک دوسرے سے ملاقات کرنے آئیں گے ۔ ہم نے اندازہ کیا تھا کہ بیس سال کے اندر ہماری قسمت میں جو ہونا رہے گا وہ ہو جا ئے گا۔‘‘
’’بات بہت دلچسپ ہے ، اور اس سے زیادہ دلچسپ ہے ملاقاتوں کے درمیان کا لمبا عرصہ ۔ کیا یہاں سے جانے کے بعد تمہیں اپنے دوست کی کوئی خبر نہیں ملی ؟‘‘ افسرنے دریافت کیا۔
’’جی ، ایک دفعہ ہم نے خط و کتابت کی ۔ لیکن ایک دو سال بعد ہم دونوں ایک دوسرے کی دسترس سے دور ہو گئے ۔ آپ تو جانتے ہی ہیں کہ مغرب نہایت پر لطف جگہ ہے ، اسی لیے میں مست ہو کے اسکا چکر لگاتا رہا ۔
مگر یہ بات حتمی ہے کہ اگر جمی حیات سے ہوگا تو آج کی شب وہ یہاں مجھ سے ملنے ضرور آئے گا، کیونکہ وہ اس ارضِ گیتی پر بہت سچا ، ثابت قدم اور بھلا آدمی تھا ،وہ اس وعدہ کو کبھی نہیں بھول سکتا ۔ہزاروں میل طے کر کے آج کی شب میں اس دروازے پر کھڑا ہوں ، اگر میرا دیرینہ رفیق آجائے تو ان سب کی قیمت وصول ہے۔‘‘
پھر اس منتظر شخص نے اپنی جیب سے ایک خوبصورت گھڑی نکالی جس کی ڈھکن میں چھوٹے چھوٹے ہیرے جڑے ہوے تھے ۔
اس نے کہا ’’دس بجنے میں تین منٹ کم ہیں ۔ ٹھیک دس بجے ہم دونوں ہوٹل کے دروازے پر جدا ہوئے تھے ۔‘‘
ـ’’تو ویلز کی محبت آپ کو مغرب سے باہر کھینچ لائی ہے نا؟‘‘
پولیس والے نے پوچھا۔
’’جی، بالکل! مجھے امید ہے کہ جمی نے بھی آدھا ہی سہی کچھ نہ کچھ سرمایہ اکٹھا کر لیا ہوگا،اگرچہ وہ سیدھا سادہ تھا مگر ایک طرح کا جفاکش انسان تھا۔مجھے اپنا منصب حاصل کرنے کے لیے کچھ ایسے تیز و طرار لوگوں سے مقابلہ کرنا پڑا جو میراسب کچھ چھیننے کے در پے تھے ۔
نیو یارک میں تو انسان ایک نالے میں اٹک کے رہ جائے ۔ایک اچھا عہدہ تو مغرب میں ہی مل سکتا ہے ۔‘‘
’’میں جا رہا ہوں ، امید کرتا ہوں کہ تمہا رادوست صحیح سلامت تم سے آن ملے ۔ کیا تم متعینہ وقت تک ہی اسکا انتظار کروگے ؟‘‘اس نے کہا
’’نہیں۔۔۔میں کم از کم آدھاگھنٹہ مزید انتظار کروںگا۔اگر جِمّی روئے زمین پر کہیں بھی زندہ ہے تو اس آدھے گھنٹے کے درمیان یہاں ہوگا ۔خداحافظ آفسر!‘‘
پولیس والے نے آہستہ قدموں سے لوٹتے ہوے شب بخیر کہا اور اپنا ڈنڈا گھماتے ہوے رخصت ہو گیا ۔
اب ہلکی ہلکی بارش ہو رہی تھی اور ہوا بھی تیز ہو چکی تھی ۔کچھ راہگیر خاموشی کے ساتھ کالر اٹھا کر ، ہاتھوں کو جیبوں میں چھپا کر تیزی سے گزر رہے تھے ۔آہنی آلات کی دوکان پر کھڑا شخص جو اپنے بچپن کے یار سے کیا ہوا ایک بے تکا سا وعدہ وفا کرنے ہزاروں میل طے کرکے آیا تھا، سیگریٹ کے کش لیتا رہا اور انتظار کرتا رہا ۔
ابھی بیس منٹ گزرے تھے کہ اوور کوٹ میںملبوس،کانوں کو کالر سے چھپا کر ایک دراز قامت شخص سمتِ مخالف سے آتا نظرآیا ۔
وہ سیدھے اس منتظر شخص کے پاس آیا اور ترددآمیز لہجے میں پوچھنے لگا
’’کیا تمہارا نام ’باب’‘ہے ؟ـ‘‘
منتظر شخص نے بے ساختہ پکا را ’’کیا تم ‘جمی ویلز ‘ہو ‘‘
ـ’’خدا مہربان ہے ـ!‘‘
نو وارد شخص نے کہا ۔پھر دونوں نے مصافحہ کیا ۔
’’یقینا تم ‘باب’ہی ہو ؟ مجھے اعتماد تھا کہ اگر تمہارا وجود باقی ہے تو تم مجھ سے ملنے ضرور آؤگے ۔خیر! بیس سال ایک عرصہ ٔ دراز ہو تا ہے ۔
باب،کاش وہ پرانا ہو ٹل اب تک ہو تا تو ہم دونوں ایک بار پھر ساتھ ساتھ کھاناکھاسکتے ۔‘‘
’’مغرب میں کیسا چل رہا ہے‘‘
’’بہت اچھا ،وہاں میری ہر مراد پوری ہوئی‘‘۔
’’جمی ،تم تو بہت بدل گئے ،میںنے تصور بھی نہیں کیا تھا کہ تم مزید دو تین انچ لمبے ہو جاؤگے‘‘ ۔ـ
’’ارے ہاں !جب میں بیس کا ہوا تب جاکے میرے قدمیں ہلکی سی درازگی آئی‘‘ــــــ ــ۔
ـ’’جمی نیویارک میں ٹھیک چل رہا ہے نا؟ـ‘‘
’’ہاں اعتدال ہے، شہر کے ایک شعبے میں ایک چھوٹے سے منصب پر فائز ہوں ۔آئو نا باب!یہیں قریب میری شناخت میں ایک جگہ ہے وہیں چل کے گزشتہ یادوں پر تفصیلی گفتگو کرتے ہیں ‘‘۔
دونوں کاندھے سے کاندھا ملا کے گلی میں چل پڑے ۔
مغرب سے آنے والا شخص جس کی خود پسندی برائے نام کامیابی کی وجہ سے مزید بڑھ چکی تھی وہ اپنی آپ بیتی سنا نے لگا ۔ اور دوسرا شخص اپنے کوٹ کے اندر دبک کر اسکی باتیں دلچسپی سے سن رہا تھا ۔
گلی کے کنارے ایک دوا کی دوکان برقی لائٹ کے قمقموں سے سجی ہوئی تھی ۔یہ دونوں جوں ہی اس کی روشنی میں پہنچے ، دونوں نے معا ًایک دوسرے کا چہرہ دیکھا ، مغربی شخص نے ٹھہرتے ہوئے فورا اپنی باہیں الگ کرلیں اور قطعِ کلامی کرتے ہوے یوں گویا ہوا :
’’تم جمی ویلز نہیں ہو ۔میںنے مانا کہ بیس سال ایک عرصۂ طویل ہوتا ہے مگر اتنا بھی نہیں کہ کسی کی ناک انسان سے بندر کی ہو جا ئے‘‘۔
’’ہاں ، مگر یہی عرصہ کسی اچھے انسان کو برا بنا دیتا ہے ‘‘
دراز قامت شخص نے کہا ۔
’’بیچارے باب! تم گزشتہ دس منٹ سے پولیس کی حراست میں ہو ۔شیکاگو پولیس کے مطابق تمہارا گزر اس راستے سے ہو سکتا تھا اس لیے انہوں نے بذریعۂ تار ہمیں اطلاع دی کہ انہیں تم سے کچھ بات کرنی ہے ۔بھلائی اسی میں ہے تم بلا کسی چو ںو چرا کے میرے ساتھ چلو۔پولیس اسٹیشن جانے سے قبل یہ ایک خط ہے جو کسی نے تمہیں دینے کو کہا تھا۔یہ خط اس گشت کن پولیس ،ویلز کی جانب سے ہے ‘‘۔
مغربی شخص نے اس کاغذ کے چھوٹے سے ٹکڑے کو وا کیا ۔جب اس نے پڑھنا شروع کیا تو اس کا ہاتھ مستحکم تھا مگر جیسے جیسے اس نے خط مکمل کیا اس کے ہاتھوں میں لرزش طاری ہو گئی۔ خط کا مضمون نہایت مختصر تھا:
’’باب! میں وعدہ کے مطابق متعین وقت و مقام
پر حاضر تھا۔مگر جب تم نے سگریٹ سلگانے کے
لیے ماچس کی تیلی جلائی تو اس کی روشنی میں مجھے
جو چہرہ نظر آیا وہ ایک ایسے مجرم کا تھا جس کی تلاش
شیکاگو پولیس کو تھی ۔میں خود تمہیں گرفتار کیوںکر کرتا؟
اس لیے میں واپس آگیا اور یہ کام ایک سادہ لباس
افسرکو سونپا اور تمہیں گرفتار کرنے بھیج دیا”۔
[تمہارادوست] جمّی

انگریزی افسانہ :After Twenty Years
۔مشہورامریکی افسانہ نگار ولیم سڈمی پورٹر معروف بہ او ہنری
Please, Log in or Register to view URLs content!

O Henery​
ترجمہ : وسیم احمد علیمی (شعبۂ اردو ، جامعہ ملیہ اسلامیہ ،نئی دہلی )
ڈاکٹر بھیم راؤامبیڈکر ہاسٹل ،کمرہ نمر6، جامعہ ملیہ اسلامیہ نئی دہلی
 
Last edited:
Top