داڑھی اور مونچھ

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★★★
Charismatic
Designer
Expert
Most Reactions 260
Most Posts 813
Most Helpful
Most Popular
ITD Supporter
Persistent Person
Most Valuable
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Messages
6,297
Reaction score
5,084
Points
2,854
Location
Manchester U.K
Gold Coins
179.62
Silver Coins
27,900
Diamonds
1.02770
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.
داڑھی اور مونچھ پر پورا پورا اختیار مردوں کا ہے عورتوں کا ان سے دور کا بھی علاقہ نہیں ۔ سچ پوچھیۓ توداڑھی اور مونچھ عورت و مرد کے درمیان خط فاصل کا درجہ رکھتی ہیں تاہم کچھ لوگ ان سے یکسر عاری ہوتے ہیں جس کے سبب ان کی جنس مشکوک ہو جاتی ہے۔

بہر کیف! چہرے پرداڑھی اور مونچھ جمانااپنے اپنے مزاج پر منحصر ہے۔ مرزا غالب کے چہرے سے ٹوپی اور داڑھی کے سبب روحانیت ٹپکتی تھی لیکن وہ شراب کے رسیا تھے چنانچہ ولی نہ بن سکے لہٰذا اس پر انہوں نے تاسف کا اظہار کیا ہے ؎

یہ مسائلِ تصوف یہ تیرا بیان غالبؔ

تجھے ہم ولی سمجھتے جو نہ بادہ خوار ہوتا

برعکس ایں ہمہ ڈاکٹر سر محمد اقبالؔ کو مومن بلکہ مردِ مومن کہنا زیادہ بہترہے لیکن حیرت انگیزطور پر ان کی داڑھی کے بجاۓ گھنی مونچھیں تھیں۔ ہمارے ایک عالم(کاغذی عالم) نے جو خیر سے مسجد کے امام بھی ہیں، اپنی علمیت کا اظہار یوں کیا ہے کہ اقبالؔ کو ”علامہ“ کہنا سراسرغلط ہے کیوں کہ ان کی داڑھی نہیں، مونچھیں تھیں۔ حالاںکہ ”علامہ“ کوئی سند نہیں، لقب ہے۔ جو ان کی علمیت کے اعتراف میں قوم کی طرف سے ملا ہے۔ ”علامہ“ کے معنی علم والا ہے۔ جن کے پاس فارسی، انگریزی اور فلسفہ کے علاوہ قانون کی سند بھی ہو وہ یقیناً علامہ کہلانے کا مستحق ہے علاوہ ازیں سرکارِانگلشیہ نے انہیں”سر“ اور علماٶں نے دین اور قرآن کے خداداد علم کے اعتراف میں”رحمت اللہ علیہ“ کے خطاب سے نوازا ہے۔ ایسے میں یہ محاورہ سو فیصد صادق آتا ہے کہ”میاں کی دوڑ مسجدتک“ ۔۔۔۔۔۔۔ شاید امام موصوف کے دل میں یہ بات ہو کہ علم پر صرف داڑھی والوں کا اختیار ہے مونچھ والوں کا نہیں۔ حالاںکہ کسی مذہبی صحیفہ میں اس طرح کی تخصیص نہیں بقول شاعر ؎

جو بڑھ کے خود اٹھا لے ہاتھ میں مینا اسی کا ہے

حیرت اس بات کی ہے کہ امام صاحب کی نظراقبال تک ہی محدودرہی مشہور شاعر رضا علی وحشتؔ اور جمیل مظہری کے علاوہ بہتوں کے نام کے ساتھ علامہ کا لاحقہ لگا ہوا ہے جن کی داڑھیاں نہیں تھیں ۔ سچ مچ دکانداری کے لۓ خوبصورت سائن بورڈ کا ہونا ضروری ہے لیکن اندر مال کی کوالیٹی بھی اچھی ہونی چاہئے ورنہ دکان کا دیوالیہ ہونا یقینی ہے۔

ڈاکٹر سر محمد اقبالؔ کی موچھوں پر یہ پہلا اعتراض نہیں اقبالؔ کے ایک واقعہ کا ذکربھی کرتا چلوں کہ سیالکوٹ میں ایک مولانا ان کے دوست ہوا کرتے تھے روز کا ملنا جلنا تھا ایک دن مولانا نے اقبالؔ کو مخاطب کرکے کہا بھئ آپ کو متعدد مضامین کے علاوہ دین اور قرآن پر بھی دسترس حاصل ہے جس کا شہرہ چہار داںگ عالم میں ہے۔ جس کے سبب بلا شبہ آپ ملک و بیرون ملک کے عالموں میں بہتوں پربھاری ہیں ایسے میں آپ کو مونچھ کی بجاۓ داڑھی رکھ لینی چاہیے۔

ڈاکٹر محمد اقبالؔ کے پاس مختلف ڈگریوں کے علاوہ قانون کی سند بھی تھی نیز اسلامی ”لاء“ سے بھی واقف تھے انہوں نے برجستہ جواب دیاکہ باپ کی وراثت میں بیٹی کا حصہ بھی نکلتا ہے پہلےآپ کی اپنی جائداد میں سے اپنی بہن کا حق ادا کر دیجیۓ میں داڑھی رکھ لوں گا۔۔۔۔۔۔۔ اقبالؔ نے آگے لکھا ہے کہ مولانا سے یہ نہ ہوسکا اور میں نے داڑھی نہیں رکھی۔

اردو شعراء میں اقبالؔ کو یہ امتیاز حاصل ہے کہ انکے اشعار ہر مکتبہء فکر کے دانشور خصوصاً پیشہ ورمقرر خطیب و امام اپنی تقریر میں گرمی پیدا کرنے کی خاطراستعمال کرنا ضروری سمجھتے ہیں وہیں کچھ ان کے اس شعر کے سبب خار کھاۓ رہتے ہیں ؎

قوم کیا چیز ہےقوموں کی امامت کیا ہے

اس کو کیا سمجھیں گے بیچارےدو رکعت کے امام

داڑھی اور مونچھ کلی طور پر کسی شخص کا نجی معاملہ ہے اسی طرح زبان و دین کا معاملہ بھی ہے۔ کچھ جیالے ایسے بھی ہیں جو تمام حد بندیوں کو توڑ کر اپنی زبان اور مذہب کے علاوہ دوسری زبان حتی’کہ دین پر بھی دسترس حاصل کرنے میں کامیاب ہو جاتے ہیں،احترام بھی کرتے ہیں گو وہ اہل ایمان نہیں، انہی ہستیوں میں آنجہانی ہیرا لعل چوپڑا بھی تھے وہ محض بیس بائس برس قبل مشہور زمانہ درسگاہ کلکتہ یونیورسیٹی میں شعبہء عربی کے صدرتھے۔ ظاہر ہے آنجہانی نہ صرف عربی زبان بلکہ قرآن کی باریکیوں کے علاوہ دین کے شناور بھی تھے چند آیات چند احادیث ان کا سرمایہ نہیں تھا۔ گو ان کی بھی داڑھی نہیں تھی اور نہ ہی وہ اہل ایمان تھے لہٰذا اس حقیقت سے انکار کی گنجائش نہیں کہ ؎

پیڑ جنگل میں بھی اگتا ہے تو پھل دیتا ہے

اس تناظر میں انشاء اللہ انشاء کا یہ شعر پوری طرح صادق آتا ہے کہ؎

ہزار شیخ نے داڑھی بڑھائ سنکی سی

مگر وہ بات کہاں مولوی مدن کی سی

بہر کیف! کچھ لوگوں کوخواہ مخواہ عیب جوئ کی لت ہوتی ہے کسی کو مونچھ پر اعتراض ہے تو کوئ اپنی فطرت کی تسکین کی خاطرداڑھی میں بھی تنکا تلاش کر لیتا ہے۔ چنانچہ میں نے سرے سے داڑھی ہی نہیں رکھی ڈاکٹر سر محمد اقبالؔ کی طرح تو نہیں ہلکی پھلکی مونچھ ضرور رکھ لی ہے کہ مردانگی کا بھرم قائم رہے اورکسی کو میری جنس سے متعلق مغالطہ نہ ہو۔
 
Top