رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نشانی

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
10:32 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,958
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
112.68
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی نشانی
حضرت عبداللہ بن انیس رحمتہ اللہ علیہ نے یہ حدیث بیان کی کہ مجھے(عبداللہ بن انیس کو)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد فرمایا اور ارشاد فرمایا: ”مجھے خبر ملی ہے کہ سفیان بن نبیح الھذلی نے میرے خلاف جنگ کرنے کے لیے
فوجیں تیار کر رکھی ہیں اور وہ اس وقت نخلہ یا عرنہ میں ہے ،تم جاؤ اور اسے قتل کر ڈالو۔“


علامہ محمد ولیدالاعظمی العراقی
حضرت عبداللہ بن انیس رحمتہ اللہ علیہ نے یہ حدیث بیان کی کہ مجھے(عبداللہ بن انیس کو)نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یاد فرمایا اور ارشاد فرمایا:
”مجھے خبر ملی ہے کہ سفیان بن نبیح الھذلی نے میرے خلاف جنگ کرنے کے لیے فوجیں تیار کر رکھی ہیں اور وہ اس وقت نخلہ یا عرنہ میں ہے ،تم جاؤ اور اسے قتل کر ڈالو۔



میں نے عرض کیا:
”یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وسلم)ذر ا اس کی علامت اور حلیہ تو بتادیں تا کہ میں اسے پہچان سکوں۔“
آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”جب تم اسے دیکھو گے تو تمہیں شیطان کا تصور آئے گا اور تمہارے اور اس کے درمیان پختہ نشانی یہ ہوگی کہ اسے دیکھ کر تم کو اپنے جسم میں کپکپی محسوس ہو گی۔



چنانچہ میں اپنی تلوار لے کر نکلا یہاں تک کہ میں اس تک جا پہنچا۔


میں نے دیکھا کہ وہ اُونٹوں کے کجاوں میں سوار خواتین کو نیچے اتار رہا ہے ۔اور پڑاؤ کا ارادہ کررہا ہے ۔یہ عصر کا وقت تھا جو نہی میں نے اسے دیکھا مجھے بالکل ویسا ہی محسوس ہوا جیسا رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے بیان فرمایا تھا۔
میں نے کپکپی محسوس کر ،بہر حال میں اس کی جانب بڑھا۔اچانک مجھے خیال آیا کہ میرے اور اس کے درمیان معاملہ طول نہ پکڑ جائے اور میری نمازِ عصر فوت نہ ہو جائے۔

میں نے الگ ہو کر نماز ادا کی اور پھر سیدھا اس کی جانب بڑھا۔جب میں اس کے پاس پہنچا تو اس نے پوچھا:
”کون ہو؟“
میں نے جواب دیا:
”ایک عربی ہوں ۔میں تمہارے بارے میں بہت کچھ جانتا ہوں تم نے اس شخص (رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم)کا مقابلہ کرنے کے لیے جو فوج تیار کررکھی ہے اس کی شہرت نے مجھے تمہاری طر ف متوجہ کیا ہے اور میں حاضر ہو گیا۔


اس نے میری بات سنی تو فخر سے کہنے لگا:
”اچھا! تم نے جو کچھ سنا ہے وہ بالکل ٹھیک ہے ۔میں اس (نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم )کو ختم کرنے کے لیے تیار ہوں۔“
اس کے بعد وہ چل پڑا۔میں بھی اس کے ساتھ ساتھ تھوڑی دور تک چلتا رہا ۔جب میں نے محسوس کیا کہ وہ میری تلوار کی زد میں ہے تو میں نے اس پر ایک پھر تیلا حملہ کیا اور اسے قتل کر ڈالا۔

اسے قتل کرکے میں نے اپنی راہ لی اور اس کی بیویوں کو روتا اور بین کرتا ہوا چھوڑکر ان کی آنکھوں سے غائب ہو گیا۔
جب میں مدینہ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مجھے دیکھتے ہی فرمایا:
”تم نے فلاح اور کامیابی پالی۔“
میں نے عرض کیا:
”یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وسلم )میں نے اسے قتل کردیا ہے۔


آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”تو نے سچ کہا۔“
اس کے بعد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم مجھے اپنے گھر لے گئے اور ایک عصا عطا فرمایا اورفرمایا :
”اے عبداللہ بن انیس!یہ عصا پکڑ لو۔اسے اپنے پاس رکھنا۔“
میں آ پ صلی اللہ علیہ وسلم کے گھر سے وہ عصالیے مسجدِ نبوی آیا تو لوگ منتظر تھے۔مجھے دیکھتے ہی انہوں نے پوچھا:
”یہ عصا کیسا ہے؟“
میں نے کہا:
”یہ عصا مجھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے عطا فرمایا ہے اور حکم دیا ہے کہ اسے اپنے پاس رکھوں۔


انہوں نے کہا:
”کیا تو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس واپس جا کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم سے یہ نہیں پوچھے گا یہ یہ عصا کس لیے عطا کیا گیا ہے ؟“
میں نے ان کی بات مان لی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ ولم کے پاس واپس جا کر پوچھا:
”یا رسول اللہ!(صلی اللہ علیہ وسلم)آپ نے مجھے یہ عصا کس لیے عطا فرمایا ہے؟“
یہ سن کر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
”یہ میرے اور تیرے درمیان قیامت کے دن نشانی ہو گا۔

اس دن بہت کم لوگوں کو ٹیک لگانے کے لیے کوئی سہارا ملے گا مگر تم اس عصا پر ٹیک لگا لیا کرو گے۔قیامت کے دن مجھ سے ضرور ملنا۔“
ابن اسحاق رحمتہ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ حضرت عبداللہ بن انیس رضی اللہ تعالیٰ عنہ اپنی تلوار کے ساتھ ساتھ اس عصا کو بھی ہمیشہ اپنے پاس رکھا کرتے تھے ۔موت کے وقت بھی یہ عصا آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ کے پاس تھا اور آپ رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے وصیت فرمائی کہ عصا ان کے ساتھ کفن میں لپیٹ دیا جائے اور ان کے ساتھ ہی دفن کردیا جائے ۔چنانچہ ان کی وصیت کو پورا کیا گیا اور عصا ان کے ساتھ ہی دفن کیا گیا۔
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks