آیئں قائد اعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش منایئں

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
10:31 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
115.06
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
آایئں قائد اعظم محمد علی جناح کا یومِ پیدائش منایئں

Itdarsgha PakArt
Please, Log in or Register to view URLs content!





بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی 142ویں سالگرہ آج منائی جارہی ہے، قائد اعظم 25 دسمبر 1876 کوکراچی میں پیدا ہوئے۔

قائد اعظم محمد علی جناح کے والد کا نام جناح بھائی پونجا اور والدہ کانام مٹھی بائی تھا، قائداعظم کے بہن بھائیوں میں رحمت ، مریم ،احمد علی ، بندے علی ،شیریں اور فاطمہ جناح شامل تھے۔

ایمی بائی اور مریم المعروف رتی بائی قائد اعظم کی شریک حیات تھیں، قائد اعظم کی واحد اولادان کی بیٹی دینا جناح تھیں جو مریم المعروف رتی بائی کے بطن سے پیدا ہوئیں ۔

لنکن ان سے بیرسٹری کی تربیت حاصل کرنے والے قائد اعظم محمد علی جناح نے بمبے ہائیکورٹ میں بطور وکیل خود کو رجسٹرڈ کروایا اور 1896میں اپنی عملی زندگی کا آغاز لندن گراہم ٹریڈنگ کمپنی میں اپرنٹس شپ کرکے کیا۔

قائداعظم نے اپنی سیاسی زندگی کا آغاز 1906ءمیں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت سے کیا،قائد اعظم 1913ءمیں آل انڈیامسلم لیگ میں شامل ہوگئے۔

اپنی سیاست کے ابتدائی ادوار میں انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کے لئے کام کیا، 1916ء میں آل انڈیا مسلم لیگ اور آل انڈیا کانگریس کے مابین ہونے والے میثاق لکھنؤ کو مرتب کرنے میں بھی انہوں نے اہم کردار ادا کیا۔

آزادی کےموقع پر آپ 7اگست 1947کو کراچی پہنچے، قائد اعظم آخری باراسٹیٹ بینک آف پاکستان کی افتتاحی تقریب میں شریک ہوئے،انہوںنے 11ستمبر1948میں وفات پاگئے ۔

قائدہ اعظم کی نمازہ جنازہ میں لگ بھگ 6لاکھ افراد نے شرکت کی،انہیں کراچی میں سپردخاک کیا گیا۔
 
Last edited:

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
10:31 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
115.06
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
10:31 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
115.06
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited

دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کو ختم نہیں کرسکتی
آج بانی ٔ پاکستان محمد علی جناح کی سالگرہ عقیدت و احترام سے منائی جارہی ہے ، اس موقع پر ہم آپ کے لیے پیش کررہے ہیں ان کے کچھ ایسے رہنما اقوال جو کہ رہتی دنیا تک پاکستان اور پاکستانیوں کے لیے مشعل راہ ثابت ہوں گے۔
بانی پاکستان کا ویسے تو ایک ایک لفظ سنہری حروف سے لکھے جانے کے قابل ہیں لیکن آج ہم یہاں ان کے آٹھ منتخب فرمودات آپ کے لیے پیش کررہے ہیں۔
بحیثیت قوم ہمیں یقین رکھنا چا ہیے کہ ہمارے لیے ہمارے قائد کا ہر لفظ حکم کا درجہ رکھتا ہے اور ان کے فرمودات کی پاسداری اور ان کے دکھائے ہوئے راستے پر چل کرہی ہم ایک پائیدا راور مستحکم مملکت کی منزل کو حاصل کرسکتے ہیں۔​
مجھے اس میں کوئی شک نہیں کہ اتحاد، یقینِ محکم اورتنظیم ہی وہ بنیادی نکات ہیں جو نہ صرف یہ کہ ہمیں دنیا کی پانچویں بڑی قوم بنائے رکھیں گے بلکہ دنیا کی کسی بھی قوم سے بہتر قوم بنائیں گے

قائدِ اعظم محمد علی جناح کراچی 28 دسمبر،​

1947​

ہم سب پاکستانی ہیں اور ہم میں سےکوئی بھی سندھی ، بلوچی ، بنگالی ، پٹھان یا پنجابی نہیں ہے۔ ہمیں صرف اور صرف اپنے پاکستانی ہونے پر فخر ہونا چاہئیے۔​

قائدِ اعظم محمد علی جناحجون​

15،​

1948​

انصاف اور مساوات میرے رہنماء اصول ہیں اور مجھے یقین ہے کہ آپ کی حمایت اور تعاون سے ان اصولوں پر عمل پیرا ہوکر ہم پاکستان کو دنیا کی سب سے عظیم قوم بنا سکتے ہیں۔​


1545638383209.png
قائدِ اعظم محمد علی جناحقانون ساز اسمبلی 11 اگست ، 1947​

دنیا کی کوئی قوم اس وقت تک ترقی نہیں کرسکتی جب تک اس کی خواتین مردوں کے شانہ بشانہ معاشرے کی تعمیر و ترقی میں حصہ نہ لیں۔ عورتوں کو گھر کی چار دیواری میں بند کرنے والے​

انسانیت کے مجرم ہیں۔​

1545638436984.png
قائدِ اعظم محمد علی جناح مسلم یونیورسٹی یونین 1944​

پاکستان کی داستان ‘ اس کے لئے کی گئی جدوجہد اور اس کا حصول‘ رہتی دنیا تک انسانوں کے لئے رہنماء رہے گی کہ کس عظیم مشکلات سے نبرد آزما ہوا جاتا ہے۔​

1545638492518.png
قائدِ اعظم محمد علی جناحچٹاگانگ 23 مارچ ، 1948​

یہ آپ کا اختیار ہے کہ کسی حکومت کو طاقت عطاکریں یا برطرف کردیں لیکن اس کے لئے ہجوم کا طریقہ استعمال کرنا ہرگز درست نہیں ہے۔ آپ کو اپنی طاقت کا استعمال سیکھنے کے لئے نظام کو سمجھنا ہوگا۔ اگر آپ کسی حکومت سے مطمئن نہیں ہیں توآئین آپ کو مذکورہ حکومت برطرف کرنے کا اختیاردیتا ہے لہذا آئینی طریقے سے ہی یہ عمل انجام پذیردیا جاناچاہئے۔​

 

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
10:31 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
115.06
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
ملکت ِخداداد پاکستان کے بانی اورہردل عزیزرہنماء قائد اعظم محمد علی جناح 25 دسمبر 2018کی آج 142 ویں سالگرہ ہے، آپ دسمبر 1876 کو کراچی میں پیدا ہوئے تھے ، مسلمانوں کے حقوق اورعلیحدہ وطن کے حصول کے لئے انتھک جدوجہد نے ان کی صحت پر منفی اثرات مرتب کئے۔ سن 1930 میں انہیں تپِ دق جیسا موزی مرض لاحق ہوا جسے انہوں نے اپنی بہن محترمہ فاطمہ جناح اور چند قریبی رفقاء کے علاوہ سب سے پوشیدہ رکھا۔ قیام پاکستان کے ایک سال بعد 11 ستمبر 1948 کو قائد اعظم اپنے خالق ِحقیقی سے جاملے۔

قائد اعظم محمد علی جناح نے اپنی زندگی کے آخری ایام انتہائی تکلیف دہ صورتحال میں گزارے، ان کا مرض شدت پر تھا اور آپ کو دی جانے والی دوائیں مرض کی شدت کم کرنے میں ناکام ثابت ہورہیں تھیں۔

ان کے ذاتی معالج ڈاکٹرکرنل الٰہی بخش اوردیگر معالجین کے مشورے پر وہ چھ جولائی 1948 کو آب و ہوا کی تبدیلی اورآرام کی غرض کے لئے کوئٹہ تشریف لے آئے، جہاں کا موسم نسبتاً ٹھنڈا تھا لیکن یہاں بھی ان کی سرکاری مصروفیات انہیں آرام نہیں کرنے دیں رہیں تھیں لہذا جلد ہی انہیں قدرے بلند مقام زیارت میں واقع ریزیڈنسی میں منتقل کردیا گیا، جسے اب قائد اعظم ریزیڈنسی کہا جاتا ہے۔

اپنی زندگی کے آخری ایام قائدِ اعظم نے اسی مقام پر گزارے لیکن ان کی حالت سنبھلنے کے بجائے مزید بگڑتی چلی گئی اور نوستمبر کو انہیں نمونیا ہوگیا ان کی حالت کے پیشِ نظرڈاکٹر بخش اورمقامی معالجین نے انہیں بہترعلاج کے لئے کراچی منتقل کرنے کا مشورہ دیا۔

گیارہ ستمبر کو انہیں سی ون تھرٹی طیارے کے ذریعے کوئٹہ سے کراچی منتقل کیا گیا جہاں ان کی ذاتی گاڑی اورایمبولینس انہیں لے کرگورنر ہاؤس کراچی کی جانب روانہ ہوئی۔ بد قسمتی کہ ایمبولینس راستے میں خراب ہوگئی اور آدھے گھنٹے تک دوسری ایمبولینس کا انتظارکیا گیا۔ شدید گرمی کے عالم میں محترمہ فاطمہ جناح اپنے بھائی اورقوم کے محبوب قائد کو دستی پنکھے سے ہوا جھلتی رہیں۔

کراچی وارد ہونے کے دوگھنٹے بعد جب یہ مختصرقافلہ گورنرہاؤس کراچی پہنچا توقائداعظم کی حالت تشویش ناک ہوچکی تھی اوررات دس بج کر بیس منٹ پر وہ اس دارِفانی سے رخصت فرما گئے۔

ان کی رحلت کے موقع پر انڈیا کے آخری وائسرے لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا کہنا تھا کہ ’’اگر مجھے معلوم ہوتا کہ جناح اتنی جلدی اس دنیا سے کوچ کرجائیں گے تو میں ہندوستان کی تقسیم کا معاملہ کچھ عرصے کے لئے ملتوی کردیتا، وہ نہیں ہوتے تو پاکستان کا قیام ممکن نہیں ہوتا‘‘۔

قائد اعظم کے بدترین مخالف اور ہندوستان کے پہلے وزیرِاعظم جواہر لعل نہرو نے اس موقع پر انتہائی افسردگی کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ ’’ میں ایک طویل عرصے سے انہیں ناپسند کرتا چلا آیا ہوں لیکن اب جب کہ وہ ہم میں نہیں رہے تو ان کے لئے میرے دل میں کوئی تلخی نہیں ، صرف افسردگی ہے کہ انہوں نے جو چاہا وہ حاصل کرلیا لیکن اس کی کتنی بڑی قیمت تھی جو انہوں نے اداکی‘‘۔

قائد اعظم کی وفات کے 67سال بعد بھی ا ن کی وفات کے موقع پر ہزاروں افراد کی ان کی لحد پر حاضری اورشہرشہرمنعقد ہونے والی تقریبات اس امر کی گواہی دیتی ہیں کہ پاکستانی قوم ان سے آج بھی والہانہ عقیدت رکھتی ہے۔
 
Last edited:

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
10:31 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
115.06
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
قائد اعظم محمد علی جناح ایک عہد کا نام ہے، قائد اعظم محمد علی جناح پچیس دسمبر اٹھارہ سو چھیتر میں پیدا ہوئے، انہوں نے ابتدائی تعلیم کا آغاز اٹھارہ سو بیاسی میں کیا، قائد اعظم اٹھارہ سو ترانوے میں اعلی تعلیم کے حصول کے لئے انگلینڈ روانہ ہوگئے جہاں آپ اعلی تعلیم حاصل کی، اٹھارہ سو چھیانوے میں قائد اعظم نے بیرسٹری کا امتحان پاس کیا اور وطن واپس آگئے۔


محمد علی جناح نے اپنی سیاسی سرگرمیوں کا آغاز انیس سو چھ میں انڈین نیشنل کانگریس میں شمولیت سے کیا تاہم انیس سو تیرہ میں محمد علی جناح نے آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کرلی، آپ نے خودمختار ہندوستان میں مسلمانوں کے سیاسی حقوق کے تحفظ کی خاطر مشہور چودہ نکات پیش کیے۔​


قائد اعظم کی قیادت میں برِّصغیر کے مسلمانوں نے نہ صرف برطانیہ سے آزادی حاصل کی، بلکہ تقسیمِ ہند کے ذریعے پاکستان کا قیام عمل میں آیا اور آپ پاکستان کے پہلے گورنر جنرل بنے۔​


پچیس دسمبراٹھارہ سوچھیترکو کراچی میں جناح پونجا کے گھرجنم لینے والے بچے نے برصغیر کی نئی تاریخ رقم کی اور مسلمانوں کی ایسی قیادت کی جس کے بل پر پاکستان نے جنم لیا ، بہت کم لوگ ایسے ہوتے ہیں جو تاریخ کا دھارا بدل دیتے ہیں اور ایسے لوگ تو اور بھی کم ہوتے ہیں جو دنیا کا نقشہ بدل کر رکھ دیتے ہیں۔

قائداعظم محمد علی جناح ان میں سے ایک ہیں، قائد اعظم محمدعلی جناح کی زندگی جرات،انتھک محنت ،دیانتداری عزم مصمم ،حق گوئی کاحسن امتزاج تھی، برصغیر کی آزادی کے لئے بابائے قوم کامؤقف دو ٹوک رہا، نہ کانگریس انہیں اپنی جگہ سے ہلا کسی نہ انگریز سرکار ان کی بولی لگا سکی ۔​


شیکسپیئرکا کہنا ہے کہ کچھ لوگ پیدائشی عظیم ہوتے ہیں اور کچھ اپنی جدوجہد اور کارناموں کی بدولت عظمت پاتے ہیں ۔ بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کا شمار بھی ان لوگوں میں ہوتا ہے جو اپنی جدوجہد اور لازوال کارناموں کی بدولت عظمت کے میناروں کو چھوتے ہیں۔​


جہاں ایک طرف اقبال نے اپنی انقلابی شاعری سے قوم کو جھنجوڑا وہاں آپ نے اپنی سیاسی بصیرت ،فہم و فراست اور ولولہ انگیز قیادت کے ذریعے ان کو آل انڈیا مسلم لیگ کے پلیٹ فارم پر یکجا کیا۔ یوں پاکستان کا قیام جو بظاہر دیوانے کا خواب دکھائی دیتا تھا ممکن بنا۔​
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
10:31 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
115.06
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
10:31 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
115.06
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
علامہ سید سلیمان ندوی​
عظیم سیرت نگار، برِ صغیر پا ک و ہند کے معروف سیاستدان اور صحافی جناب سید سلیمان ندوی نے ١٩١٦ء میں مسلم لیگ کے لکھنئو اجلاس میں قائدِ اعظم کی شان میں یہ نذرانہ عقیدت پیش کیا۔​

اک زمانہ تھا کہ اسرار دروں مستور تھے

کوہ شملہ جن دنوں ہم پایہ سینا رہا

جبکہ داروئے وفا ہر دور کی درماں رہی

جبکہ ہر ناداں عطائی بو علی سینا رہا

جب ہمارے چارہ فرما زہر کہتے تھے اسے

جس پہ اب موقوف ساری قوم کا جینا رہا

بادہء حبِ وطن کچھ کیف پیدا کر سکے

دور میں یونہی اگر یہ ساغر و مینا رہا

ملتِ دل بریں کے گو اصلی قوا بیکار ہیں

گوش شنوا ہے نہ ہم میں دیدہء بینا رہا

ہر مریضِ قوم کے جینے کی ہے کچھ کچھ امید

ڈاکٹر اس کا اگر " مسٹر علی جینا" رہا


مولانا ظفر علی خان​
"تاریخ ایسی مثالیں بہت کم پیش کر سکے گی کہ کسی لیڈر نے مجبور و محکوم ہوتے ہوئے انتہائی بے سرو سامانی اور مخالفت کی تندوتیز آندھیوں کے دوران دس برس کی قلیل مدت میں ایک مملکت بنا کر رکھ دی ہو" ۔


علامہ عنایت اللہ مشرقی
خا کسار تحریک کے بانی اور قائدِ اعظم کے انتہائی مخالف علامہ مشرقی نے قائد کی موت کا سن کر فرمایا - "اس کا عزم پایندہ و محکم تھا۔ وہ ایک جری اور بے باک سپاہی تھا، جو مخالفوں سے ٹکرانے میں کوئی باک محسوس نہ کرتا تھا"۔​


لیاقت علی خان​
پا کستان کے پہلے وزیرِ اعظم اور قائد کے دیرینہ ساتھی نواب زادہ لیاقت علی خان نے کہا تھا۔ "قا ئدِاعظم بر گزیدہ ترین ہستیوں میں سے تھے جو کبھی کبھی پیدا ہوتی ہیں ۔ مجھے یقین ہے کہ تاریخ ان کا شمار عظیم ترین ہستیوں میں کرے گی"​
 
Last edited:

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
10:31 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
115.06
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
علامہ اقبال نے کہا ہے
نگہ بلند ، سخن دلنواز ، جاں پرسوز​
یہی ہے رخت سفر میر کارواں کے لئے

اور اللہ کے کرم سے ہمیں ، ہم برصغیر کے مسلمانوں کو ، پاکستان کے حصول کی جدوجہد کے دوران ان صفات کا حامل میر کارواں میسر آیا جس نے ہمیں حصول پاکستان کی منزل تک پہنچایا اس میر کارواں کو دنیا محمد علی جناح کے نام سے جانتی ہے اور ہم نے فرط عقیدت سے جسے قائد اعظم کہا اور یہ لقب اس کی سچی قیادت کے تاج میں ایک تابناک ہیرے کی طرح جگمگایا۔

قائد کی قیادت ، ان کی شخصیت کی صداقت کے حوالے سے ملی وحدت کی علامت بن گئی اور بہ حیثیت مسلمان ہماری صدیوں کی عظمت رفتہ کی بازیافت کے امکانات روشن ہوگئے ان کی رہنمائی نے ہمارے اندر خود شناسی کا جوہر بیدار کیا ان کے کردار کے جلال ، عزم کے جمال اور گفتار کی صداقت نے ہمیں ”ایمان ، اتحاد اور تنظیم“ کے معانی سمجھائے اور ان کا نام ہمارے ملی تشخص کی علامت بن گیا۔ حصول پاکستان کی تحریک کے دوران ایک زمانہ ہمیں حیرت سے دیکھنے لگا تھا کہ یہ کیسی قوم ہے اور یہ کیسا قائد ہے جو نہ مخالف کی طاقت سے گھبراتے ہیں نہ تعداد سے ، منزل کی دشواریوں سے دل شکستہ ہوتے ہیں نہ خطرات سے ، انہیں نہ دھوکہ دیا جاسکتا ہے ، نہ خوفزدہ کیا جاسکتا ہے نہ خریدا جاسکتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ برصغیر کی ملت اسلامیہ کے عزم ، ارادے ، بے خوفی اور جذبہ ایمانی نے ایک پیکر خاکی کی شکل اختیار کرلی تھی اور محمد علی جناح نام پایا تھا۔ میاں بشیر احمد مرحوم نے بالکل سچ کہا تھا۔
ملت کا پاسباں ہے محمد علی جناح
ملت ہے جسم ، جاں ہے محمد علی جناح
رکھتا ہے تاب اور تواں دس کروڑ کی
کہنے کو ناتواں ہے محمد علی جناح​

حقیقت یہ ہے کہ قائد اعظم کے معیار کی کامیابی دنیا میں بہت کم رہنماؤں کو میسر ہوئی ہے ان کی مخالفت پر دو بہت بڑی طاقتیں کمربستہ تھیں یعنی انڈین نیشنل کانگریس اور برطانوی حکومت۔ پھر جس وقت انہوں نے حصول پاکستان کے لئے مسلمانوں کی قیادت کا فیصلہ کیا اس وقت بظاہر برصغیر کے مسلمان منتشر اور کمزور نظر آرہے تھے قائد اعظم کی قیادت ہمیں بتاتی ہے کہ​
انسانوں کی زندگی میں عزم و ہمت اور صداقت کی کتنی اہمیت ہے۔ حقیقت یہ ہے

کہ یقین افراد کا سرمایہ تعمیر ملت ہے
یہی قوت ہے جو صورت گر تقدیر ملت ہے​

سچے ایمان اور عقیدے کی توانائی اس مادی دنیا میں بھی سب سے محکم توانائی ہے۔ قائد اعظم صرف ہمارے وکیل نہیں تھے وہ اس فکر کا عملی نمونہ تھے جس نے اقبال کی شاعری کو توانا اور محکم بنایا ہے۔ اسلام ظاہر پرستی سے عبارت نہیں ، اسلام کی شرط اول فکر کی ضمانت اور خیال کی پاکیزگی ہے۔ اسلام مصلحت کوشی نہیں ہے ، اسلام اعلان حق ہے ، محض عقل کی مصلحت کے تحت مسلمان بنے رہنا کافی نہیں ، دل کی گہرائیوں میں ایمان کی کیفیت کا اترنا ضروری ہے۔ قائد اعظم کی ساری زندگی گواہ ہے کہ سستی شہرت کے وہ کبھی طالب نہیں ہوئے اور منفی سیاست ان پر کبھی غالب نہیں آئی۔ قائد اعظم نے کبھی کوئی ایسی روش اختیار نہیں کی جس سے انہیں مسلمانوں میں جذباتی ناموری حاصل ہوجاتی۔ اس کے باوجود ان کی سیاست اور ان کی قیادت پر برصغیر کے مسلمانوں نے جس والہانہ انداز میں بھروسہ کیا اس کی کوئی مثال عصری تاریخ میں نہیں ملتی۔ یہ اعزاز منفی سیاست سے حاصل نہیں ہوسکتا تھا۔قوموں کی زندگی میں حقیقی اہمیت تو افکار کی ہوتی ہے اور ان تحریکوں کی جو ان افکار سے پیدا ہوتی ہیں لیکن تحریکوں کی روح وہ افراد ہوتے ہیں جن کے حسن عملی اور اعلیٰ کردار سے وہ افکار قومی زندگی میں شرپذیر ہوتے ہیں اور اسی روشنی میں قومیں آزمائش کے مرحلوں سے گزر کر کامیابی کی منزلوں تک پہنچتی ہیں۔قیام پاکستان ایک سمت برصغیر کی امت مسلمہ کے لئے ایک تاریخ ساز کامیابی کی علامت ہوا تو دوسری سمت مخالف قوتوں کے لئے یہ شدید ناکامی اور محرومی کی علامت بھی بنا چنانچہ اس قدر واضح ناکامی کے بعد ان قوتوں نے اپنی حکمت عملی تبدیل کردی ہے۔ اب کوششیں یہ ہورہی ہیں کہ ان مقاصد کو ہی فکری انتشار کا نشانہ بنایا جائے جن کے حصول کے لئے پاکستان کے قیام کی جدوجہد کی گئی ہے۔ تاریخ کے آئینے میں قائد اعظم کے خدوخال بہت نمایاں ، بہت روشن ہیں۔ انسان کی شخصیت کی طرح تاریخ کا آئینہ بھی پہلو دار ہوتا ہے اور اس آئینے میں قائد اعظم کی شخصیت کا ہر پہلو نمایاں اور آئینے کی طرح ہی صاف و شفاف ہے۔ حصول علم میں بھرپور محنت سے کامیابی حاصل کی ، وکالت کے فرائض ادا کرتے ہوئے زندگی بھر دیانت اور امانت سے کام لیا، دل میں حصول آزادی کی لگن تھی لیکن برصغیر کے مسلمانوں کے ملّی تشخص کو کبھی فراموش نہیں کیا۔ ہندو مسلم اتحاد کا علمبردار ہونا ہی اس کا بھرپور ثبوت ہے کہ وہ نظری اور عملی دونوں اعتبار سے مسلمانوں کی جداگانہ قومیت کے قائل تھے۔ انہوں نے ہندو مسلم اتحاد کی بھرپور کوشش کی لیکن مسلمانوں کو ہندوستانی قومیت میں ضم ہوجانے کا مشورہ کبھی نہیں دیا اور جب انہیں یقین ہوگیا کہ ان دونوں قوموں کے مابین باعزت بقائے باہمی کا سمجھوتہ ممکن نہیں تو انہوں نے ایک آزاد اور خود مختار مملکت کے حصول کے لئے کاروان ملت کی قیادت کی اور تاریخ ساز کامیابی حاصل کی۔ سچی بات یہ ہے کہ قیام پاکستان کے ساتھ عالمی سطح پر مسلم امہ کی بیداری کی راہ بھی ایک نمایاں اور کشادہ ہوتی چلی جارہی ہے۔

قائد اعظم سیدھے سادے اور سچے مسلمان تھے جب انہوں نے یہ کہا کہ برصغیر کے مسلمان ایک جداگانہ قوم ہیں تو یہ بات انہوں نے کسی مصلحت کی بنا پر یا مسلمانوں میں سستی شہرت کے حصول کے لئے نہیں کہی تھی۔ وہ دل سے مسلمانوں کے ملّی تشخص کے قائل تھے اور بالکل اسی طرح وہ دل کی گہرائیوں سے پاکستان میں حقیقی اسلامی نظام کے قیام کے آرزو مند تھے۔ قائد اعظم پیشوائیت یا Theocracy کے مخالف تھے کیونکہ اسلام میں اس نظام کی کوئی گنجائش نہیں ہے۔ قائد اعظم متعصب بھی نہیں تھے کیونکہ اسلام بنیادی طور پر تکریم آدمیت کا درس دیتا ہے لیکن وہ ”لادین“ ہونے کے معنوں میں سیکولر ہر گز نہیں تھے۔ وہ پاکستان میں کسی قیمت پر اس نوعیت کے سیکولر نظام کے قیام کے حامی نہیں تھے جیسا نظام مملکت اقوام مغرب نے اپنالیا ہے۔ قائد اعظم اللہ پر اور اللہ کے آخری رسول، آخری پیغمبر کی حیثیت سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر دل کی گہرائیوں سے ایمان رکھتے تھے اور پاکستان میں وہ اسی نظام حکومت کے قیام کے آرزو مند تھے جس کو عصر حاضر میں حقیقی معنوں میں اتباع سنت نبوی قرار دیا جاسکے۔

قائد اعظم نے آل انڈیا مسلم لیگ کے آخری سالانہ اجلاس میں جو کراچی میں منعقد ہوا تھا دسمبر 1943ء کے آخری ہفتے میں اپنے خطبہ صدارت میں واضح الفاظ میں فرمایا تھا۔
”وہ کون سا رشتہ ہے جس میں منسلک ہونے سے ہم مسلمان جسد واحد کی طرح ہیں؟
وہ کون سی چٹان ہے جس پر اس ملت کی عمارت استوار ہے ؟
وہ کون سا لنگر ہے جس سے اس امت کی کشتی محفوظ کردی گئی ہے ؟

وہ رشتہ ، وہ چٹان ، وہ لنگر اللہ کی کتاب قرآن مجید ہے۔ مجھے یقین ہے کہ جیسے جیسے ہم آگے بڑھتے چلے جائیں گے ہم میں زیادہ سے زیادہ اتحاد پیدا ہوتا چلا جائے گا۔ اس پورے پس منظر میں ”ایمان ، اتحاد ، تنظیم“ کے معانی واضح ہوجاتے ہیں۔ قائد اعظم کی قیادت اسی جذبہ ایمانی کی مظہر تھی۔
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
10:31 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,964
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
115.06
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Joined
Jun 14, 2018
Local time
12:31 PM
Threads
10
Messages
177
Reaction score
228
Points
54
Location
dubai
Gold Coins
1.53

دسمبر25. 1876 کو کراچی میں پیدا ہونے والے قائداعظم محمد علی جناح پیشے کے اعتبار سے نامور وکیل اور سیاستدان تھے۔انہوں نے 1913 میں آل انڈیا مسلم لیگ میں شمولیت اختیار کی اور مسلمانوں کے لیے ایک الگ وطن کے حصول کی جدوجہد شروع کر دی۔ یہ قائداعظم محمد علی جناح کی انتھک محنت اور کاوشوں کا ہی نتیجہ ہے کہ برصغیر کے مسلمانوں نے 14 اگست 1947ء کو آزاد اسلامی ریاست حاصل کی اور پاکستان وجود میں آیا۔قائداعظم ایک ایسے عظیم رہنما تھے جنہوں نے اپنی پوری زندگی برصغیر کے مسلمانوں کے حقوق کے حصول کے لیے صرف کر دی۔ان کی پالیسی دیانتداری و ایمانداری تھی جبکہ ان کی سیاسی جدوجہد ملک کے سیاستدانوں کے لیے ایک مثال ہے۔ قائداعظم قیامِ پاکستان کے بعد 11 ستمبر 1948ء کو اپنی وفات تک ملک کے پہلے گورنر جنرل رہے۔25 دسمبر کا دن ایک ایسے عظیم قائد کی یاد دلاتا ہے کہ جس نے برصغیر کے مسلمانوں کو ایک نصب العین دیا۔ آج ملک بھر میں منعقدہ مختلف تقاریب میں بابائے قوم کو بھرپور انداز میں خراج عقیدت پیش کیا جارہا ہے۔
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks