دنیا میں پاکستان کا روشن حوالہ بننے والی پاکستانی نژاد امریکی سائنسدان

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
9:34 PM
Threads
1,354
Messages
7,658
Reaction score
6,967
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
124.06
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited

aftab-temp-new-01-9-3-620x330.jpg
دنیا میں پاکستان کا روشن حوالہ بننے والی پاکستانی نژاد امریکی سائنسدان
دنیا میں پاکستان کا روشن حوالہ بننے والی پاکستانی نژاد امریکی سائنسدان
ڈاکٹر نرگس ماول والا
صدی کی سب سے اہم دریافت ”ثقلی امواج کی شناخت“ کرنے والی ٹیم کا حصہ تھیں
ڈیک
1968ءکوکراچی میںجنم لینے والی نرگس ماول والا2002ء میں ایم آئی ٹی کے شعبہ فزکس سے منسلک ہوئی تھیں
فروری 2016ءکو امریکی سائنس دانوں کی ٹیم نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں کشش ثقل کی لہریں دریافت کرنے کا اعلان کیا تھا
۔۔۔۔
یہ باکس میں لگا دینا
دس سال کی عمر میں ایک سائیکل کے مستری نے مجھے سائیکل مرمت کرنے کا طریقہ ¿ کار سمجھایا، جب بھی میری سائیکل خراب ہوتی تو میں خود ہی اسے ٹھیک کرلیا کرتی، میں آج بھی ا±س مستری کی شکر گزار ہوں کیوں کہ ا±ن کی بتائی ہوئی تکنیک نے میسا چوسٹس میں تعلیم کے دوران میری بہت مدد کی،ڈاکٹر نرگس ماول والا
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

مشہور سائنس داں آئن اسٹائن کی خلا میں کشش ثقل کی لہروں کی موجودگی کے نظریے کی تصدیق کی خبروں نے دنیا بھر کے ذرایع ابلاغ میں سنسنی پھیلادی تھی۔ پاکستان میں اس خبر کو ا±س طرح ہی برتا گیا جو کہ عموماً سائنس کی خبروں کے حوالے سے کیا جاتاہے۔ لیکن اہم سائنسی دریافت کا اعلان کرنے والی ٹیم میں دو پاکستانی نژاد سائنس دان کی موجودگی نے دنیا بھر میں پاکستان کا سر فخر سے بلند کردیا۔ پاکستان کی قابل فخر بیٹی اور بیٹے نرگس ماول والا اور عمران خان نے ایک بار پھر دنیا کے سامنے پاکستان کا روشن چہرہ ا±جاگر کیا۔
فروری 2016ءکی گیارہ تاریخ کو کیلیفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی، میساچیوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی اور امریکی حکومت کے 620ملین ڈالر بجٹ کے پروجیکٹ ایڈوانسڈ لیزر انٹرفیرومیٹر گریویٹیشنل ویو آبزرویٹری (لیگو) کے سائنس دانوں پر مشتمل ٹیم نے واشنگٹن میں ایک پریس کانفرنس میں اہم تاریخی پیش رفت کا اعلان کیا تھا۔خلا میں کشش ثقل کی لہروں کی موجودگی کا اعلان کرنے والی سائنس دانوں کی ٹیم کے مطابق،”ہم نے بلیک ہولز سے آنے والی ا±ن ثقلی امواج کو شناخت کرلیا ہے، جن کی موجودگی کا دعویٰ ایک صدی قبل 1915ءمیں آئن اسٹائن نے کیا تھا۔“ لیگو کے سائنس دانوں کا کہنا تھا کہ خلا میں ثقلی امواج کی موجودگی کی تصدیق ستمبر 15ءمیں ہی ہوگئی تھی، لیکن انہوں نے چھے ماہ تک اس بات کی تصدیق کی اور مکمل مطمئن ہونے کے بعد اس دریافت کا اعلان کیا۔
ان سائنس دانوں کے مطابق کشش ثقل کی یہ لہریں 1اعشاریہ 3 ارب نوری سال کے فاصلے پر موجود اور جسامت میں سورج سے تیس گنا بڑے دو بلیک ہولز کے درمیان تصادم کی وجہ سے پیدا ہوئی تھیں۔ اس تصادم کے نتیجے میں پیدا ہونے والی لہریں روشنی کی رفتار سے سفر کرتی ہوئی ستمبر 2015ءمیں زمین کے پاس سے گزریں۔ اس دریافت کا اعلان واشنگٹن میں Laser Interferometer Gravitational-Wave Observatory (لیگو) نے کیا۔
یہ وہ خیال تھا جو ایک صدی قبل یعنی 1915ء میں معروف سائنس داں البرٹ آئن اسٹائن نے پیش کیا تھا، جس کی تصدیق 100 سال بعد ہوئی ۔پاکستان کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ یہ اہم سائنسی دریافت کرنے والی ٹیم میں پاکستان سے تعلق رکھنے والے دو نوجوان ماہر طبیعات نرگس ماول والا اور عمران خان بھی شامل تھے۔
قارئین! نرگس ماول والا نے 1968ءمیںکراچی کے ایک پارسی گھرانے میں جنم لیا۔ ثقلی امواج کی محقق اور میسا چوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی کے شعبہ طبیعات کی سربراہ نرگس ماول والا نے ابتدائی تعلیم کراچی کے کانونٹ آف جیسز اینڈ میری اسکول سے حاصل کی۔ 1986ءمیں اعلیٰ تعلیم کے لیے امریکا کا ر±خ کیا اور 1990میں ویلیسلی کالج سے فلکیات اور طبیعات میں بی اے کی ڈگری حاصل کی۔ 1997ءمیں فزکس میں پی ایچ ڈی کرنے کے لیے میساچوسٹس انسٹی ٹیوٹ آف سائنس اینڈ ٹیکنالوجی میں داخلہ لیا۔
زمانہ طالب علمی ہی میں انہوں نے کشش ثقل کی لہروں کو شناخت کرنے کے لیے پروٹو ٹائپ لیزر انٹر فیرو میٹر بنالیا تھا۔ 2002ءمیں ایم آئی ٹی کا حصہ بننے سے قبل ڈاکٹر نرگس ماول والا نے کیلی فورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی میں پوسٹ ڈاکٹورل ایسوسی ایٹ اور تحقیقی سائنس دان ہونے کے ساتھ ساتھ لیزر انٹرفیرومیٹر گریویٹیشنل ویو آبزرویٹری (لیگو) کے لیے کام کا آغاز کردیا تھا۔ ثقلی امواج پر نمایاں کام کرنے پر انہیں 2010ء میں میک آرتھر فاﺅنڈیشن ایوارڈ سے بھی نوازا گیا۔ایک خصوصی انٹرویو میں اپنے بچپن کی یادوں کو تازہ کرتے ہوئے ا±ن کا کہنا تھاکہ بچپن میں میری رہائش کراچی کے میک نیل روڈ پر تھی اور دس سال کی عمر میں اپنی رہائش گاہ سے متصل دکان پر ایک سائیکل کے مستری نے نہ صرف میری سائیکل ٹھیک کی بلکہ مجھے مرمت کا طریقہ ¿ کار بھی سمجھایا۔ اس کے بعد سے جب بھی میری سائیکل خراب ہوتی تھی تو میں اسی مستری سے اوزار مانگ کر اپنی سائیکل خود ہی ٹھیک کرلیا کرتی تھی۔ایسا کرنے پر مجھے اپنی والدہ سے بہت ڈانٹ سننی پڑتی تھی، کیوں کہ سائیکل مرمت کرنے کی وجہ سے میرے ہاتھ اور کپڑوں پر تیل اور گریس کے نشانات لگ جاتے تھے، لیکن میں آج بھی ا±س مستری کی شکر گزار ہوں کیوں کہ ا±ن کی بتائی ہوئی تکنیک نے میسا چوسٹس میں تعلیم کے دوران میری بہت مدد کی۔ملک بھر کی ممتاز شخصیات سمیت دنیا بھر میں موجود پاکستانیوں نے پاکستانی نژاد امریکی سائنسدان نرگس ماول والا کو کشش ثقل کی لہریں دریافت کرنے والی ٹیم کا حصہ ہونے پر مبارک باد پیش کی ۔یقینا پوری قوم کو نرگس ماول والا کہ خدمات پر فخر ہے، نرگس ماول نوجوان سائنسدانوں کیلئے مشعل راہ ہیں۔نرگس ماولہ والا کا کہنا تھا کہ اب ہم دیکھنے کے علاوہ کائنات کے رازوں کو سننے کے بھی قابل بن جائیں گے۔ اب سائنسدان کششِ ثقل کے کلیے میں ابہام کے عنصر پر حاوی پا چکے ہیں۔ درحقیقت ہمیں ایک نیا انڈیکیٹر دستیاب ہو گیا ہے جس کی مدد سے ہم فلکیات کے مزید راز افشا کرنے کی راہ پر گامزن ہو سکیں گے۔
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks