اصلاحی تحریر/ سرسوں کا بیج

PakArt UrduLover

Thread Starter
in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
12:27 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,966
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
117.12
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
سرسوں کا بیج
کہتے ہیں چین میں کسی جگہ ایک عورت، اپنے اکلوتے بیٹے کے ساتھ ، دنیا و ما فیھا سے بے خبر اور اپنی دنیا میں مگن، خوش و خرم زندگی گزار رہی تھی کہ ایک دن اس کے بیٹے کی اجل آن پہنچی اور وہ اپنے خالق حقیقی سے جا ملا۔ عورت کیلئے کل کائنات اس کا بیٹا چھن جانا ایک ناقابل برداشت صدمہ تھا۔ اُس کا ذہن نظام قدرت کو ماننے کیلئے تیار نہیں تھا۔ روتی پیٹتی گاؤں کے حکیم کے پاس گئی اور اسے کہا وہ اپنی ساری جمع پونجی خرچ کرنے کو تیار ہے جس کے عوض بس ایسا کوئی نسخہ بتا دے جس سے اس کا بیٹا لوٹ آئے۔

حکیم صاحب اس غمزدہ عورت کی حالت اور سنجیدگی دیکھ چکے تھے، کافی سوچ وبچار کے بعد بولے، ہاں ایک نسخہ ہے تو سہی۔ بس علاج کیلئے ایک ایسے ننھے سے سرسوں کے بیج کی ضرورت ہے جو کسی ایسے گھر سے لیا گیا ہو جس گھر میں کبھی کسی غم کی پرچھائیں تک نا پڑی ہو۔ عورت نے کہا یہ تو کوئی مسئلہ ہی نہیں، میں ابھی جا کر ایسا سرسوں کا بیج ڈھونڈھ کر لے آتی ہوں۔

عورت کے خیال میں اس کا گاؤں ہی تو وہ جگہ تھی جس میں لوگوں کے گھروں میں غم کا گزر نہیں ہوتا تھا۔ بس اسی خیال کو دل میں سجائے اس نے گاؤ ں کے پہلے گھر کا دروازہ کھٹکھٹایا، اندر سے ایک جوان عورت نکلی۔ اس عورت نے اس سے پوچھا؛ کیا اس سے پہلے تیرے گھر نے کبھی غم تو نہیں دیکھا؟ جوان عورت کے چہرے پر ایک تلخی سی نمودار ہوئی اور اس نے درد بھری مسکراہٹ چہرے پر لاتے ہوئے کہا؛ میرا گھر ہی تو ہے جہاں زمانے بھر کے غموں نے ڈیرہ ڈالا ہوا ہے۔ پھر وہ بتانے لگی کہ کس طرح سال بھر پہلے اس کے خاوند کا انتقال ہوا جو اس کے پاس چار لڑکے اور لڑکیاں چھوڑ کر مرا، ان کی روزی یا روزگار کا مناسب بندوبست نہیں تھا۔آجکل وہ گھر کا سازوسامان بیچ کر مشکلوں سے گزارہ کر رہے ہیں اور بلکہ اب تو بیچنے کیلئے بھی ان کے پاس کچھ زیادہ سامان نہیں بچا۔

جوان عورت کی داستان اتنی دکھ بھری اور غمگین تھی کہ وہ عورت اس کے پاس بیٹھ کر اس کی غم گساری اور اس کے دل کا بوجھ ہلکا کرتی رہی۔ اور جب تک اس نے جانے کی اجازت مانگی تب تک وہ دونوں سہیلیاں بن چکی تھیں۔ دونوں نے ایک دوسرے سے دوبارہ ملنے کا وعدہ لیا اور رابطہ رکھنے کی شرط پر عورت اس کے گھر سے باہر نکلی۔

مغرب سے پہلے یہ عورت ایک اور خاتون کے گھر میں داخل ہوئی جہاں ایک اور صدمہ اُس کےلئے یہاں منتظر تھا ۔ اس خاتون کا خاوند ایک خطرناک مرض میں مبتلا گھر پر صاحب فراش تھا۔ گھر میں بچوں کیلئے کھانے پینے کا سامان ناصرف یہ کہ موجود ہی نہیں تھا بلکہ یہ بچے اس وقت بھوکے بھی تھے۔ عورت بھاگ کر بازار گئی اور جیب میں جتنے پیسے تھے ان پیسوں سے کچھ دالیں، آٹا اور گھی وغیرہ خرید کر لائی۔ خاتون خانہ کے ساتھ مل کر جلدی جلدی کھانا پکوایا اور اپنے ہاتھوں سے ان بچوں کو شفقت سے کھلایا۔ کچھ دیر مزید دل بہلانے کے بعد ان سب سے اس وعدے کے ساتھ اجازت چاہی کہ وہ کل شام کو پھر ان سے ملنے آئے گی۔

اور دوسرے دن پھر یہ عورت ایک گھر سے دوسرے گھر اور ایک دروازے سے دوسرے دروازے پر اس امید سے چکر لگاتی رہی کہ کہیں اسے ایسا گھر مل جائے جس پر غموں کی کبھی پرچھائیں بھی پڑی ہوں اور وہ وہاں سے ایک سرسوں کا بیج حاصل کرسکے، مگر ہر جگہ ناکامی اس کا منہ چڑانے کیلئے منتظر رہتی تھی۔ دل کی اچھی یہ عورت لوگوں کے مشاکل ، مصائب اور غموں سے متاثر انہی لوگوں کا ایک حصہ بنتی چلی گئ اور اپنے تئیں ان سب میں کچھ خوشیاں بانٹنے کی کوشش کرتی رہی۔

گزرتے دنوں کے ساتھ یہ عورت بستی کے ہر گھر کی سہیلی بن چکی تھی۔ وہ یہ تک بھولتی چلی گئی کہ اپنے گھر سے تو ایک ایسے گھر کی تلاش میں نکلی تھی جس پر کبھی غموں کی پرچھائیں نا پڑی ہوں اور وہ ان خوش قسمت لوگوں سے ایک سرسوں کے ایک بیج کا سوال کر کے اپنے غموں کا مداوا کر سکے۔ مگر وہ لا شعوری طور دوسرے کے غموں میں شریک ہو کر ان کے غموں کا مداوا بنتی چلتی چلی جا رہی تھی۔ بستی کے حکیم نے گویا اسے اپنے غموں پر حاوی ہونے کیلئے ایسا مثالی نسخہ تجویز کر دیا تھا جس میں سرسوں کے بیج کا ملنا تو ناممکن تھا مگر غموں پر قابو ہرگز نہیں تھا۔ اور اس کے غموں پر قابو پانے کا جادوئی سلسلہ اسی لمحے ہی شروع ہو گیا تھا جب وہ بستی کے پہلے گھر میں داخل ہوئی تھی۔

جی ہاں، یہ قصہ کوئی معاشرتی اصلاح کا نسخہ نہیں ہے، بلکہ یہ تو ایک کھلی دعوت ہے ہر اس شخص کیلئے جو اپنی انا کے خول میں بند، دوسروں کے غموں اور خوشیوں سے سروکار رکھے بغیر اپنی دنیاؤں میں گم اور مگن رہنا چاہتا ہے۔ حالانکہ دوسروں کے ساتھ میل جول رکھنے اور ان کے غموں اور خوشیوں میں شرکت کرتے سے خوشیاں بڑھتی ہی ہیں کم نہیں ہوا کرتیں۔ یہ قصہ یہ درس بھی ہرگز نہیں دینا چاہتا کہ اگر آپ اپنی انا کے خول سے باہر نکل آئے تو آپ ایک محبوب اور ہر دلعزیز شخصیت بن جائیں گے، بلکہ یہ قصہ یہ بتانا چاہتا ہے ہے کہ آپ کا یہ معاشرتی رویہ آپ کو پہلے زیادہ خوش انسان بنا دے گا۔
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Joined
Apr 25, 2018
Local time
5:27 AM
Threads
854
Messages
12,714
Reaction score
14,529
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,413.72
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks