ہماری اور آپکی اردو شاعری آئی ٹی درسگاہ دوستوں کی نذر

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,647
Reaction score
2,911
Points
930
Location
Manchester U.K
وہ بھی اک شام فروری کی تھی
ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺷﺎﻡ ﻓﺮﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ
ﺟﺐ ﺗﯿﺮﯼ ﺧﻮﺍﺏ ﻧﻤﺎ ﺁﻧﮑﮭﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﯽ ﺩﮬﻨﮏ ﺍﺗﺮﯼ ﺗﮭﯽ
ﺟﺐ ﯾﮧ ﺍﺩﺭﺍﮎ ﮨﻮﺍ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﮐﻮ
ﻣﯿﺮﮮ ﺟﯿﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﺗﯿﺮﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ
ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﮐﯿﺴﺎ ﺣﺴﯿﻦ ﻋﺎﻟﻢ ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﮯ ﮨﺮ ﺍﮎ ﻣﻮﺳﻢ ﻣﯿﮟ
ﻋﮑﺲ ﺗﯿﺮﺍ ﺩﮐﮭﺎﺋﯽ ﺩﯾﺘﺎ ﺗﮭﺎ
ﻣﯿﺮﯼ ﺧﺎﻣﻮﺷﯿﻮﮞ ﮐﮯ ﭘﮩﻠﻮ ﻣﯿﮟ
ﺟﺐ ﺑﮭﯽ ﮐﮭﻠﺘﯽ ﺗﮭﯽ ﮔﻔﺘﮕﻮ ﺗﯿﺮﯼ
ﺩﯾﺮ ﺗﮏ ﺧﻮﺷﺒﻮﺅﮞ ﻣﯿﮟ ﺭﮨﺘﺎ ﺗﮭﺎ
ﺗﻮ ﮨﯽ ﻣﺤﻮﺭ ﺗﮭﺎ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﮐﺎ ﻣﯿﺮﯼ
ﺟﺰﻭ ﮨﺴﺘﯽ ﮐﺎ ﻣﺎﻧﺘﺎ ﺗﮭﺎ ﺗﺠﮭﮯ
ﺑﺠﺰ ﺗﯿﺮﮮ ﭘﺎﺱ ﮐﭽﮫ ﻧﮩﯿﮟ ﺗﮭﺎ ﻣﯿﺮﮮ
ﺗﯿﺮﯼ ﭼﺎﮨﺖ ﻣﯿﺮﺍ ﺍﺛﺎﺛﮧ ﺗﮭﯽ

ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺷﺎﻡ ﻓﺮﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ
ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﺗﮭﮯ ﺭﻧﮓ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﮯ
ﺟﺲ ﮐﮯ ﺧﻮﺷﺒﻮ ﺳﮯ ﺑﮭﯿﮕﺘﮯ ﭘﻞ ﻣﯿﮟ
ﻣﯿﺮﮮ ﺷﺎﻧﮯ ﭘﮧ ﺍﭘﻨﺎ ﺳﺮ ﺭﮐﮫ ﮐﺮ
ﺗﻮ ﻧﮯ ﺍﻗﺮﺍﺭ ﮐﯿﺎ ﺗﮭﺎ ﻣﺠﮫ ﺳﮯ
ﺗﯿﺮﮮ ﺟﯿﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﻣﯿﺮﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ
ﺗﻮ ﻧﮯ ﺍﺱ ﭘﻞ ﻣﯿﮟ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺩﯼ ﺗﮭﯽ
ﻣﯿﮟ ﻧﮯ ﺟﯽ ﻟﯽ ﺗﮭﯽ ﺯﻧﺪﮔﯽ ﺍﭘﻨﯽ

ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺷﺎﻡ ﻓﺮﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﮯ
ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﺑﮑﮭﺮﮮ ﮨﯿﮟ ﺭﻧﮓ ﭼﺎﮨﺖ ﮐﮯ
ﺟﺲ ﻣﯿﮟ ﯾﺎﺩﻭﮞ ﮐﯽ ﺩﮬﻨﺪ ﻣﯿﮟ ﻟﭙﭩﺎ
ﺗﯿﺮﮮ ﺩﻥ ﺭﺍﺕ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺗﯿﺮﯼ ﮨﺮ ﺑﺎﺕ ﺳﻮﭼﺘﺎ ﮨﻮﮞ ﻣﯿﮟ
ﺟﺰ ﺗﯿﺮﯼ ﯾﺎﺩ، ﭘﺎﺱ ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﮐﻮﺋﯽ ﺍﻣﯿﺪ، ﺁﺱ، ﮐﭽﮫ ﺑﮭﯽ ﻧﮩﯿﮟ
ﺩﻝ ﯾﮧ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮨﮯ ﺷﺪﺕِ ﻏﻢ ﺳﮯ
ﺁﺝ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﺟﯿﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﺗﯿﺮﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ

ﻭﮦ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺷﺎﻡ ﻓﺮﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﺗﮭﯽ
ﯾﮧ ﺑﮭﯽ ﺍﮎ ﺷﺎﻡ ﻓﺮﻭﺭﯼ ﮐﯽ ﮨﮯ
ﺩﻝ ﯾﮧ ﺑﻮﺟﮭﻞ ﮨﮯ ﺷﺪﺕِ ﻏﻢ ﺳﮯ
ﺁﺝ ﺭﻭﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ
ﻣﯿﺮﮮ ﺟﯿﻮﻥ ﻣﯿﮟ ﺍﺟﺎﻟﻮﮞ ﮐﮯ ﻟﺌﮯ
ﺗﯿﺮﺍ ﮨﻮﻧﺎ ﺑﮩﺖ ﺿﺮﻭﺭﯼ ﮨﮯ​
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,647
Reaction score
2,911
Points
930
Location
Manchester U.K
شاعر: احمد فراز

عاشقی میں میرؔ جیسے خواب مت دیکھا کرو
باؤلے ہو جاؤ گے مہتاب مت دیکھا کرو
جستہ جستہ پڑھ لیا کرنا مضامین وفا
پر کتاب عشق کا ہر باب مت دیکھا کرو
اس تماشے میں الٹ جاتی ہیں اکثر کشتیاں
ڈوبنے والوں کو زیر آب مت دیکھا کرو
مے کدے میں کیا تکلف مے کشی میں کیا حجاب
بزم ساقی میں ادب آداب مت دیکھا کرو
ہم سے درویشوں کے گھر آؤ تو یاروں کی طرح
ہر جگہ خس خانہ و برفاب مت دیکھا کرو
مانگے تانگے کی قبائیں دیر تک رہتی نہیں
یار لوگوں کے لقب القاب مت دیکھا کرو
تشنگی میں لب بھگو لینا بھی کافی ہے فرازؔ
جام میں صہبا ہے یا زہراب مت دیکھا کرو
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,647
Reaction score
2,911
Points
930
Location
Manchester U.K
( بال جبریل)
از سر علامہ محمد اقبال
جب عشق سکھاتا ہے آداب خود آگاہی
کھلتے ہیں غلاموں پر اسرار شہنشاہی
عطارؔ ہو رومیؔ ہو رازیؔ ہو غزالیؔ ہو
کچھ ہاتھ نہیں آتا بے آہ سحرگاہی
نومید نہ ہو ان سے اے رہبر فرزانہ
کم کوش تو ہیں لیکن بے ذوق نہیں راہی
اے طائر لاہوتی اس رزق سے موت اچھی
جس رزق سے آتی ہو پرواز میں کوتاہی
دارا و سکندر سے وہ مرد فقیر اولیٰ
ہو جس کی فقیری میں بوئے اسد اللہٰی
آئین جواں مرداں حق گوئی و بیباکی
اللہ کے شیروں کو آتی نہیں روباہی
 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,647
Reaction score
2,911
Points
930
Location
Manchester U.K
مجروح سلطانپوری
گو رات مری صبح کی محرم تو نہیں ہے
سورج سے ترا رنگ حنا کم تو نہیں ہے
کچھ زخم ہی کھائیں چلو کچھ گل ہی کھلائیں
ہرچند بہاراں کا یہ موسم تو نہیں ہے
چاہے وہ کسی کا ہو لہو دامن گل پر
صیاد یہ کل رات کی شبنم تو نہیں ہے
اتنی بھی ہمیں بندش غم کب تھی گوارا
پردے میں تری کاکل پرخم تو نہیں ہے
اب کارگہ دہر میں لگتا ہے بہت دل
اے دوست کہیں یہ بھی ترا غم تو نہیں ہے
صحرا میں بگولا بھی ہے مجروحؔ صبا بھی
ہم سا کوئی آوارۂ عالم تو نہیں ہے

 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,647
Reaction score
2,911
Points
930
Location
Manchester U.K
شاعر : سر علامہ محمد اقبال
خودی کا سرِ نہاں لا الہٰ الا اللہ
خودی ہے تیغ، فساں لا الہٰ الا اللہ

یہ دور اپنے براہیم کی تلاش میں ہے
صنم کدہ ہے جہاں، لا الہٰ الا اللہ

کیا ہے تو نے متاعِ غرور کا سودا
فریبِ سود و زیاں، لا الہٰ الا اللہ

یہ مال و دولت دنیا، یہ رشتہ و پیوند
بتانِ وہم و گماں، لا الہٰ الا اللہ

خرد ہوئی ہے زمان و مکاں کی زُناری
نہ ہے زماں نہ مکاں، لا الہٰ الا اللہ

یہ نغمہ فصلِ گل و لالہ کا نہیں پابند
بہار ہو کہ خزاں، لا الہٰ الا اللہ

اگرچہ بت ہیں جماعت کی آستینوں میں
مجھے ہے حکم اذاں، لا الہٰ الا اللہ

 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,647
Reaction score
2,911
Points
930
Location
Manchester U.K
اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا
شاد عظیم آبادی
اب بھی اک عمر پہ جینے کا نہ انداز آیا
زندگی چھوڑ دے پیچھا مرا میں باز آیا
مژدہ اے روح تجھے عشق سا دم ساز آیا
نکبت فقر گئی شاہ سرافراز آیا
پاس اپنے جو نیا کوئی فسوں ساز آیا
ہو رہے اس کے ہمیں یاد ترا ناز آیا
پیتے پیتے تری اک عمر کٹی اس پر بھی
پینے والے تجھے پینے کا نہ انداز آیا
دل ہو یا روح و جگر کان کھڑے سب کے ہوئے
عشق آیا کہ کوئی مفسدہ پرداز آیا
لے رہا ہے در مے خانہ پہ سن گن واعظ
رندو ہشیار کہ اک مفسدہ پرداز آیا
دل مجبور پہ اس طرح سے پہنچی وہ نگاہ
جیسے عصفور پہ پر تول کے شہباز آیا
کیوں ہے خاموش دلا کس سے یہ سرگوشی ہے
موت آئی کہ ترے واسطے ہم راز آیا
دیکھ لو اشک تواتر کو نہ پوچھو مرا حال
چپ رہو چپ رہو اس بزم میں غماز آیا
اس خرابے میں تو ہم دونوں ہیں یکساں ساقی
ہم کو پینے تجھے دینے کا نہ انداز آیا
نالہ آتا نہیں کن رس ہے فقط اے بلبل
مرد سیاح ہوں سن کر تری آواز آیا
دل جو گھبرائے قفس میں تو ذرا پر کھولوں
زور اتنا بھی نہ اے حسرت پرواز آیا
دیکھیے نالۂ دل جا کے لگائے کس سے
جس کا کھٹکا تھا وہی مفسدہ پرداز آیا
مدعی بستہ زباں کیوں نہ ہو سن کر مرے شعر
کیا چلے سحر کی جب صاحب اعجاز آیا
رند پھیلائے ہیں چلو کو تکلف کیسا
ساقیا ڈھال بھی دے جام خدا ساز آیا
نہ گیا پر نہ گیا شمع کا رونا کسی حال
گو کہ پروانۂ مرحوم سا دم ساز آیا
ایک چپکی میں گلو تم نے نکالے سب کام
غمزہ آیا نہ کرشمہ نہ تمہیں ناز آیا
دھیان رہ رہ کے ادھر کا مجھے دلواتا ہے
دم نہ آیا مرے تن میں کوئی دم ساز آیا
کس طرح موت کو سمجھوں نہ حیات ابدی
آپ آئے کہ کوئی صاحب اعجاز آیا
بے انیسؔ اب چمن نظم ہے ویراں اے شادؔ
ہائے ایسا نہ کوئی زمزمہ پرداز آیا

 

PakArt UrduLover

Thread Starter
Staff member
★★★★☆☆
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,647
Reaction score
2,911
Points
930
Location
Manchester U.K
بہار
نظیر اکبرآبادی

گلشن عالم میں جب تشریف لاتی ہے بہار
رنگ و بو کے حسن کیا کیا کچھ دکھاتی ہے بہار
صبح کو لا کر نسیم دل کشا ہر شاخ پر
تازہ تر کس کس طرح کے گل کھلاتی ہے بہار
نونہالوں کی دکھا کر دم بدم نشو و نما
جسم میں روح رواں کیا کیا بڑھاتی ہے بہار
بلبلیں چہکارتی ہیں شاخ گل پر جا بجا
بلبلیں کیا فی الحقیقت چہچہاتی ہے بہار
حوض و فواروں کو دے کر آبرو پھر لطف سے
کیا معطر فرش سبزے کا بچھاتی ہے بہار
جنبش باد صبا سے ہو کے ہم دوش نشاط
ساتھ ہر سبزے کے کیا کیا لہلہاتی ہے بہار
خلق کو ہر لحظہ اپنے حسن کی رنگت دکھا
بے تکلف کیا ہی ہر دل میں سماتی ہے بہار
مجمع خوباں ہجوم عاشقاں اور جوش گل
دیکھ ان رنگوں کو کیا کیا کھلکھلاتی ہے بہار
گل رخوں کی دیکھ کر گل بازیاں ہر دم نظیر
گل ادھر خنداں ادھر دھومیں مچاتی ہے
بہار
 
Top