اسلامک تہوار۔ربیع الاول ۔ ربیع الآخر

Author
UrduLover

UrduLover

★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
480
Messages
2,245
Likes
1,614
Points
704
Location
Manchester U.K
#1
ماہ ربیع الاول کا پیغام

اللہ تبارک و تعالیٰ نے ارشاد فرمایا "اور ﴿اے محمدﷺ ﴾ ہم نے آپ کو تمام جہانوں کے لئے رحمت﴿بناکر﴾ بھیجا" ﴿انبیائ ۷۰۱﴾ ۔ "اے پیغمبر﴿ﷺ ﴾ ہم نے آپ کو گواہی دینے والا اور خوشخبری سنانے والا اور ڈرانے والا بنا کر بھیجا۔ اور اللہ کی طرف بلانے والا اور چراغِ روشن" ﴿احزاب۵۴-۶۴﴾۔"اور آپ کا ذکر بلند کیا" ﴿انشراح ۴﴾۔"اور اخلاق آپ کے بہت عالی ہیں" ﴿قلم۴﴾۔

ماہِ ربیع الاول اپنے اندر ایک عظیم المرتبہ ماضی اور اس کی بیش بہا برکات سمیٹے آپہنچا ہے۔ دل نے چاہا کہ ایسے موقع پر اس مبارک موضوع سے بہتر اور کوئی موضوع نہیں، کہ میں اُس عظیم واقعہ کا تذکرہ کروں جس کے نتیجے میں دنیا کا سارا نظام انقلابی طور پر تبدیل ہوگیا۔سارا عالم جہالت کے اندھیروں کی جگہ علم کے نور سے منور ہوگیا ۔ باطل معبود زمیں بوس ہوگئے اور توحید کا پرچم بُلند ہوگیا۔ بدعات کی نحوستوں کو سنتوں کی برکات نے مٹا دیا۔ شیطان کے قانون کی جگہ اللہ کا قانون نافذ ہوگیا۔ سابقہ تمام ادیا ن جو تحریفات کے باعث اپنی حقیقت کھو چکے تھے، مسنوخ کردیے گئے اور ہر سُو اسلام کا ڈنکا بج گیا۔ دشمنیاں دوستیوں میں بدل گئیں، عداوتیں محبتوں میں تبدیل ہو گئیں، غیر اخلاقانہ زندگی گزارنے والے خوش اخلاقی کا مجسمہ بن گئے۔پھر یہ جاں نثارانِ اسلام ان تعلیمات کو لے کر اُٹھے اور پورے عالَم پر چھا گئے۔وہ عظیم واقعہ ہادیِ عالم، حضورِاکرم، صاحبِ خلقِ عظیم، نبی کریم ، سرکارِ دو عالم محمد الرسول اللہ ﷺ کی اس دنیا میں تشریف آوری کا ہے
آج مسلم نوجوانوں کو رقص و سرور کی محفلیں سجاتے، نشے میں مدہوش، موسیقی کے سر ُتال پر جھومتے گاتے، لڑکیوں پر آوازیں کستے، حضور نبی کریم ﷺ کی سنتوں پر عمل تو بہت دور کی بات بلکہ ان مبارک سنتوں کا مذاق اُڑاتے، اور لڑکیوں کو اُن کے قدم سے قدم ملاتے دیکھ کر ایک سوال کا جواب مل جاتا ہے کہ آج وہ مسلمان اس قدر ذلت اور پستی کا شکار کیوں ہے جس سے اللہ تعالیٰ نے قدم قدم پر فتح و نصرت کے وعدے فرمائے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ ہم وہ رہے ہی نہیں جن کی مدد کو آسمانوں سے فرشتے اُترتے تھے اور اللہ تعالیٰ اپنی رضا مندی اور خوشی کے اظہار کے لئے قرآنِ پاک کی آیات نازل فرماتے تھے۔

میں جانتا ہوں کہ یہ تو خوشی کا موقع ہے اور بہت سے لوگ اس کا جشن منا رہے ہیں لیکن اس اُمتِ مسلمہ کی حالت دیکھ کر آنکھوں میں آنسو ہیں، دل ٹکڑے ٹکڑے ہو رہا ہے، میرا ضمیر مجھے جھنجوڑ کر ملامت کررہا ہے، عقل میری حماقتوں پر ہنس رہی ہے، گناہوں کے بوجھ سے میری گردن جھکی جارہی ہے۔اکثر اوقات تو ہم اپنی سیاہ کاریوں کو مجبوریوں ، اور وقت کے تقاضوں کے پردوں میں چھپا کر مطمئن ہو جاتے ہیں۔ لیکن جب کبھی دل کے کسی کونے میں چھپی ہوئی غیرتِ ایمانی کروٹ لیتی ہے اور ایمان کی روشنی کی جھلک آنکھوں سے جہالت کی سیاہی کو دور کرتی ہے تو اپنی زندگی سے شرم آنے لگتی ہے، زمین جگہ نہیں دیتی کہ اُس میں دھنس کر اس شرمندگی سے بچ جائیں۔ پھر بھی شاید ایسا ہو کہ کم ہمتی کے باعث نفس و شیطان اس غیرتِ ایمانی پر غالب آجائیں اور ہماری سر کشی ہمیں پھر ساری حدیں پار کرنے پر مجبور کردے۔ لیکن ایک بات سوچ کر روح کانپ جاتی ہے کہ کل کو حشر کے میدان میں کہاں چھپیں گے اور کیا مُنہ لے کر حضور ﷺ سے شفاعت کی درخواست کریں گے، وہاں تو پلٹنے کا کوئی راستہ بھی نہیں لیکن آج ایک راستہ ہے! وہ ہے توبہ کا راستہ۔ آنکھ سے نکلا ہوا ندامت کا ایک آنسو پچھلے سارے گناہوں کو پل بھر میں دھو دے گا۔

یہ سچ ہے کہ ماہِ ربیع الاول جو عظیم اعزاز اور سعادت حاصل کر چکا ہے اُس پر وہ ہمیشہ فخر کرتا رہے گا ۔ لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ آج مسلمانوں کی حالت دیکھ کر افسردہ اور بے چین آنسو بھی بہا رہا ہے۔ اور ہمیں پکار پکار کر ہم سے مطالبہ کر رہا ہے کہ تم میرے تقدس کو کیوں پامال کر رہے ہو اور میری حقیقت کو کیوں فراموش کر چکے ہو۔ ہماری یہ حالتِ زار اس بات کا ثبوت ہے کہ اللہ اور رسول ﷺ ہم سے راضی نہیں۔ یہ ربیع الاول کا مہینہ ہمیں یہ پیغام دے رہا ہے کہ اس سے پہلے کہ آخرت کی شرمندگی اُٹھانی پڑے ، اللہ اور اُسکے رسول ﷺ کو راضی کر لو، اور اس کا صرف ایک ہی طریقہ ہے ، اللہ اور رسول ﷺ کی محبت اور اتباع۔ انشا اللہ پھر سے خصوصی رحمتیں نازل ہونے لگیں گی۔ نبی کریم ﷺ کی سنتوں کو اپنا لو ،پھر سے وہی برکات حاصل ہوجائیں گی۔ آپﷺ کے طور طریقے اپنی زندگیوں میں لے آؤ،پھر سے مسلمان ذلّت کی اس اندھیری رات میں عزت و غلبہ کا چاند بن کر چمکیں گے۔یہیں امیدیں میرے آنسوئوں کو پونچھ دیتی ہیں، میرے دل کے ٹکڑوں کو جوڑ دیتی ہیں۔ دل میں امید کی یہ کرن اور آنکھوں میں خوشی کی چمک اس بات پر فخر کرتی ہے کہ اللہ تعالیٰ نے ہمیں رحمت العالمین ﷺ کا امتی بنایا اور یہی ایک مسلمان کی زندگی کا سب سے بڑا سرمایہ ہے۔ اللہ تعالیٰ اس سرمائے کی صحیح معنوں میں قدر کرنے کی توفیق عطا فرمائے۔ ﴿آمین﴾
شرط توحید ِکامل کی یہی ہے
عشق ہو آپ(ص) کا قلب و جاںمیں
کوئی سمجھے گا کیا،ہے غیر ممکن
آپ(ص) کا مرتبہ دونوں جہاں میں
 
Author
UrduLover

UrduLover

★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
480
Messages
2,245
Likes
1,614
Points
704
Location
Manchester U.K
#2
نمبر عربی زبان میں ’’ربیع‘‘ موسم بہار کو کہتے ہیں۔ ہجری تقویم چاند کے حساب سے ہوتی ہے اس لئے اس کے مہینے موسموں کے ساتھ نہیں چلتے۔ جس زمانے میں ان مہینوں کے نام رکھے گئے ہوں گے اس زمانہ میں شاید ربیع الاول اور ربیع الآخر میں ’’موسم بہار‘‘ ہوا ہوگا۔ بعد میں یہ نام مستقل حیثیت اختیار کرگئے۔امت مسلمہ کیلئے ربیع الاول کا مہینہ اس لئے مقدس و محترم ہے کہ اس مہینہ میں اس عظیم ہستی نے جنم لیا جس کے فیضان نے عالم انسانیت کے خزاں زدہ ماحول کو بہار کی سرسبزی اور شادابی میں تبدیل کردیا۔ اس مہینے میں کرہّ ارض کی فضائے روحانی میں وہ عظیم انقلاب رونما ہوا جس نے کفر و شرک اور ظلم و طغیان کی خزاں کو نغمہ توحید کی بہار سے بدل دیا اور فساد و عصیان کی تاریکیاں مٹ گئیں۔ شیرازہ مجومیت اور آذرکدہ گمراہی بکھر کر رہ گیا۔ خدا اور اسکے بندوں کے درمیان ٹوٹا ہوا رشتہ جڑ گیا اور آفتاب ہدایت کی شعاعوں نے پورے عالم انسانیت کو اپنی لپیٹ میں لے لیا… اس لئے کہ اس مہینے میں حضرت محمدﷺ کی پیدائش ہوئی۔ اس مہینے کی یاد کسی خاص نسل، کسی خاص ملک یا علاقہ سے وابستہ نہیں بلکہ درحقیقت یہ تمام دنیا کی سعادت اور پوری نوعمر انسان کی مشترکہ عظمت ہے جسے اس وقت تک فراموش نہیں کیا جاسکتا جب تک انسانیت سچائی، نیکی اور عدالت و صداقت کی محتاج ہے۔

یہ مہینہ اس بابرکت ہستی کی یاد دلاتا ہے جس نے زمانہ قبل از نبوت کے چالیس برس کفر و شرک کے ماحول میں گزارے۔ ایسا ماحول جس میں انسان شجر و حجر کے سامنے سجدہ ریز تھا۔ قبائل کے درمیان لڑائی جھگڑے روزانہ کے معمولات تھے اور پورا سماج اخلاقی برائیوں سے متعضن ہو رہا تھا۔ بت پرستی، بے حیائی اور بداخلاقی کے اس گندے ماحول میں آنجنابؐ کا دامن ہر قسم کی برائی سے پاک رہا اور اس فساد زدہ معاشرہ کی طرف سے آپؐ کو ’’اَمین‘‘ اور ’’صادق‘‘ کے القابات عطا ہوئے۔ زمانہ قبل از نبوت میں بھی آپؐ کی منصف مزاجی اور سلامت روی اس درجہ پر پہنچی ہوئی تھی کہ ایک موقع پر جب خانہ کعبہ کی دوبارہ تعمیر کے مرحلہ پر چار قبائل میں حجراسود کی تنصیب کے حوالے سے ایک بڑی جنگ کا آغاز ہونے والا تھا تو اس تنازع کوحل کرنے کیلئے آپؐ کو منصف اور ثالث چن لیا گیا اور آپؐ نے کمال درجہ کی فہم و فراست، حکمت و دانش اور غیر معمولی بصیرت سے کام لے کر حجرا سود کو اپنی چادر مبارک کے درمیان میں رکھا اور چاروں قبائل کے سرداروں کو چادر کا ایک ایک کونا پکڑنے کا حکم دیا۔ جب حجرا سود جائے تنصیب پر پہنچ گیا تو آپؐ نے اپنے دست مبارک سے اسے نصب فرما دیا۔ اس طرح چاروں قبائل کو اس کی تنصیب میں شریک کیا اور ایک خوفناک جنگ ٹل گئی (سیرت ابن ہشام)

بعثت کے بعد اسلامی دعوت کا آغاز ایک انقلابی کلمہ ’’لاالہ الااللہ محمد رسول اللہ‘‘ سے ہوا جو لفظی اعتبار سے مختصر لیکن معانی کے اعتبار سے بیحد عمیق تھا۔ اس دعوت کا مفہوم یہ تھاکہ انسان کی انفرادی اور اجتماعی زندگی کو غیر الٰہی غلامی سے نکال کر خدائے واحد کی غلامی میں دے دیا جائے۔ جب اس دعوت کی ضرب نفسانی خواہشات، خاندانی رسوم و رواج، نسلی اور قبائلی روایات اور بالادست طبقوں پر پڑی تو مخالفت کا ایک طوفان کھڑا ہوگیا۔ آپؐ کی راہوں میں کانٹے بچھائے گئے، آوازے کسے گئے۔ گالیاں دی گئیں۔ غلاظت پھینکی گئی۔ معاشی بائیکاٹ کا حربہ استعمال کیا گیا۔ ترغیب و تحریص کا ہرحربہ استعمال کیا گیا لیکن پورے تیرہ برس کی مکی زندگی میں نہایت نامساعد حالات کے باوجود اسلام کی دعوت کا سلسلہ جاری رہا اور کوئی حربہ بھی آپؐ کے پائے استقلال میں لغزش نہ پیدا کرسکا اس دعوت کے اہداف و مقاصد اس کتاب میں بیان کردیئے گئے جو ’’قرآن مجید‘‘ کی صورت میں آپؐ پر نازل ہو رہی تھی۔ فرمایا کہ ’’ہم نے اپنے رسولوں کو روشن دلائل دے کر جس مقصد کیلئے بھیجا ہے اور جس غرض کیلئے ان پر کتابیں نازل کی ہیں اور ان کو ضابطۂ حق کی جو میزان عطا کی ہے وہ یہی ہے کہ لوگ انصاف پر قائم ہو جائیں‘‘ (الحدید: 25)
 
Author
UrduLover

UrduLover

★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
480
Messages
2,245
Likes
1,614
Points
704
Location
Manchester U.K
#3
نمبر 2


اور یہ کہ ’’وہی اللہ ہے جس نے اپنے رسولؐ کو دین برحق اور ضابطۂ حیات دے کر بھیجا تاکہ یہ دین دنیاکے تمام مروّجہ طریق ہائے زندگی پر غالب آجائے اگرچہ ایسا ہونا مشرکوں پر کتنا ہی شاق گزرے‘‘ (الصف:9)

اہل کفر کی ان چیرہ دستیوں اور ظالمانہ کارروائیوں کی وجہ سے اہل ایمان کو اپنا وطن چھوڑنا پڑا… اور پھر آپؐ کو بھی ہجرت کرنا پڑی۔ ہجرت کے وقت اہل یثرب کی ایک بڑی تعداد اسلام قبول کر چکی تھی اور انہوں نے پیغمبر اسلام کیلئے اپنا دامن پھیلا دیا… آپؐ کی تشریف آوری کے ساتھ ہی ’’یثرب‘‘…’’مدینتہ النبیؐ‘‘ کے نام سے موسوم ہوگیا اور یوں اسے ’’دارلاسلام‘‘ ہونے کا اعزاز حاصل ہوا لیکن کفر و باطل کے علمبردار خاموش ہو کر بیٹھنے والے نہ تھے… نئے ’’دارلاسلام‘‘ میں اب یہودیوں اور مشرکین کی متحدہ قوت سے مقابلہ درپیش تھا…یہاں تک کہ اس نوخیز اسلامی ریاست اور اسکے بانیؐ کو ختم کرنے اور دعوت اسلامی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکنے کامنصوبہ بنایا گیا۔ چنانچہ 12رمضان المبارک 2ھ کو مکہ کے اکابرین ایک ہزار مردان جنگی اور ایک سو گھڑ سواروں کے دستہ کے ہمراہ میدان بدر میں فروکش ہوگئے۔ حضورﷺ محسوس کر رہے تھے کہ فیصلے کی گھڑی آپہنچی ہے اور اگر اس مرحلہ پر ایک جرأت مندانہ اقدام نہ کیا گیا تو دعوت اسلامی کی ہوا اکھڑ جائے گی۔ چنانچہ پندرہ برس کی جاں گسل محنت کے نتیجہ میں ایک ایک کرکے جو افرادی قوت آپ نے مہیا کی تھی اس ساری جمع شدہ پونجی کو لیکر تین سو تیرہ نفوسِ قدسیہ کے ہمراہ آپؐ میدان جنگ میں تشریف لے آئے اور بھیگی ہوئی پلکوں کے ساتھ نہایت عاجزی سے رب العزت کے سامنے ان الفاظ میں دعا مانگی:


’’اے اللہ یہ ہیں قریش جو اپنے سامان غرور کے ساتھ آئے ہیں تاکہ تیرے رسولؐ کو جھوٹا ثابت کردیں۔ پس اے اللہ اب تو اپنی اس نصرت کو بھیج جسکا تو نے مجھ سے وعدہ کر رکھا ہے۔ اے خدا اگر یہ مٹھی بھر جماعت آج ہلاک ہوگئی تو کرۂ ارض پر پھر تری عبادت نہ ہوگی‘‘

دوسرا بڑا معرکہ ’’احد‘‘ کا تھا جس میں رسول اللہﷺ کی ہدایات کو نظرانداز کرنے کی وجہ سے مسلمانوں کو نقصان برداشت کرنا پڑا لیکن یہ جنگ فیصلہ کن ثابت نہ ہوسکی اور مشرکین نے ہی پہلے میدان جنگ چھوڑ دیا۔ اس لئے مدینہ کے یہودیوں اور تمام عرب قبائل کی متحدہ قوت سے ایک فیصلہ کن وار کرنے کیلئے ایک سال تک تیاریاں کی گئیں اور شوال 5ھ میں وہ جنگ ہوئی جسے ’’غزوہ احزاب‘‘ یا ’’غزوہ خندق‘‘ کہتے ہیں۔ حضورﷺ دشمن کی جنگی تیاریوں سے بے خبر نہ تھے اور انہوں نے خندق کھود کر مدینہ کا دفاع کیا۔ مشرکین کا محاصرہ اپنے طور پر مکمل فتح کا عزم لئے ہوئے تھا۔ منافقین اور یہودیوں کی قوت بھی ان کے ساتھ تھی لیکن حضورﷺ کے توکل عَلَی اللہ بیدار مغزی۔ مناسب حکمت عملی اور غیر معمولی بصیرت نے اہل کفر کے عزائم کو ناکام بنا دیا۔ قدرت نے مسلمانوں کی اس طرح مدد کی کہ ایک رات سخت آندھی نے حملہ آوروں کے خیمے اکھاڑ دیئے۔ صبح ہوئی تو مطلع صاف تھااور مخبرِ صادقؐ نے مسلمانوں کو بشارت دی کہ اب اہل کفر کی قوت اندام ختم ہو چکی ہے۔

صلح حدیبیہ کے نتیجہ میں مسلمانوں کو امن کا دور میسر آیا اور اسلامی دعوت عرب کے طول و عرض تک پھیل گئی۔…اور پھر حضورؐ کی قیادت میںدس ہزار جانثاروں کا قافلہ 8ھ کو مکہ مکرمہ میں فاتحانہ انداز میں داخل ہوا۔ وہ لوگ جنہوں نے اکیس برس تک آپؐ کو ناقابل برداشت اذیتیں پہنچائیں ان کو معاف کردیا گیا۔ خانہ کعبہ کو بتوں سے پاک صاف کردیا گیا اور پورے جزیرۃ العرب میں اسلام کی حکمرانی قائم ہوگئی۔ غزوہ حنین آخری معرکہ تھا جس میں جاہلیت کے بچے کھچے عناصر نے پنجہ آزمائی کی لیکن ناکام رہے۔ حضورؐ کے عہد مبارک میں یہی دوغیر ملکی لڑائیاں لڑی گئیں۔ ایک موتہ کی جنگ تھی جس میں تین ہزار کا لشکر اپنے سے 33 گنا فوج سے جا ٹکرایا اور دوسری جنگ ’’غزوۂ تبوک‘‘ تھی جس کی کمان خود نبیﷺ نے کی۔

10ھ میں رسول خداﷺ نے آخری حج ادا کیا اور اس موقع پر جو خطبہ ارشاد فرمایا اس میں اسلامی دعوت کا خلاصہ بیان فرما دیا۔ یہ خطبہ اسلامی ریاست کا منشور ہے جو رہتی دنیا تک امت مسلمہ کی رہنمائی کرتار ہے گا۔ آپؐ نے عہد جاہلیت کے خون اور سُودی لین دین کو کالعدم قراردیا اور اسکا آغاز گھر سے کیا۔ اس خطاب کا ایک جملہ یہ تھا کہ ’’میں تم میں ایک چیز چھوڑے جاتا ہوں اگر تم نے اس کو مضبوطی سے پکڑ لیاتو گمراہ نہ ہوگے۔ وہ چیز کتاب اللہ ہے‘‘۔ اس خطبہ میں رنگ و نسل اور علاقائیت کے فرق و امتیاز کو باطل قرار دیا گیا اور بحیثیت انسان سب کو برابر قراردیا گیا کیونکہ سب انسان ایک ہی ماں اور باپ کی اولاد ہیں۔ فرمایا کہ تم میں سے قابل عزت صرف وہ ہے جو حسن کردار اور تقویٰ میں آگے بڑھا ہوا ہو۔ آخری بات یہ تھی کہ ’’تم لوگوں سے میرے بارہ میں پوچھا جائے گا تو تم بتائو کہ کیا کہو گے؟ لوگوں نے پکار کر کہا کہ ’’ہم گواہی دیں گے کہ آپؐ نے اللہ کا پیغام ہم تک پہنچا دیا‘‘ آپؐ نے تین مرتبہ انگشت شہادت اٹھائی اور فرمایا ’’اے اللہ تو گواہ رہیو‘‘

ٓ
حضورﷺ کی دعوتی زندگی پر اس مختصر مضمون میں تفصیل قلمبند کرنا ناممکن ہے… مختصر الفاظ میں یہ کہا جاسکتا ہے کہ اس دعوت کی حقیقی قوت تلوار نہ تھی بلکہ وہ اخلاقی قوت تھی جس سے دل مسخر ہوتے ہیں۔ حضورﷺ نے جو جماعت تیار کی اسکا ہر فرد خدا کا سچا پرستار، شمع رسالت کا پروانہ، نیکی کا نقیب، بھلائی کا داعی، بدی کا دشمن اور ظلم کا مخالف تھا اس جماعت کے افراد رکوع و سجود کرنے والے، اللہ سے لَو لگانے والے، مسکینوں کو کھانا کھلانے والے، تعیشات سے بیزار، سنجیدگی اور وقار کے پیکر، شائستگی اور سلیقہ کے مجسمے، انصاف کرنے والے، ایثار کے نمونے، ہمہ تن اخلاق و شرافت کے نمونے، نہایت بہادر اور شجاع، صابر و شاکر، استقلال اور استقامت سے دین کی دعوت دینے والے اور دوسروں کا اکرام کرنے والے تھے۔ یہی وہ خصوصیات تھیں جن کی وجہ سے اس وقت کے استبداد میں جکڑی ہوئی خلقِ خدا کو ان کی طرف متوجہ کردیا اور ایک صدی بھی نہ گزری تھی جب اس زمانہ کی دو سپر طاقتیں اسلامی قوت کے سامنے سرنگوں ہوگئیں اور پھر پورے سات سو سال تک اسلام کا پرچم مغرب میں ہسپانیہ اور اندلس تک اور مشرق میں وسط ایشیا اور ہندوستان کے اکثر علاقوں پر لہراتا رہا۔ اس زمانے میں اسلام کے ماننے والے ہی ساری دنیا کے لیڈر، امام اور پیشوا تھے اور علوم و فنون کے لحاظ سے امت مسلمہ ہی دنیا میں سب سے زیادہ ترقی یافتہ قوم تھی۔

پھر جب امت نبی برحق کی تعلیمات سے ہٹ کر فرقوں میں بٹ گئی۔ قرآن وسنت پر عمل کرنا چھوڑ دیا تو نہ صرف اس کی عظمت و شوکت ختم ہوگئی بلکہ وہ اغیار کی غلام بن گئی۔

دوسری جنگ عظیم کے بعد استعماری قوتوں کی گرفت کمزور ہوگئی اور مسلمان بظاہر آزاد ہوتے چلے گئے لیکن بدقسمتی سے استعمار نے ایک نئی تکنیک کے ذریعہ پھر ان کو غلام بنا دیا۔ وہ ٹیکنالوجی اور معاشی اداروں کے ذریعہ اب ریموٹ کنٹرول سے مسلم ممالک پر حکومت کر رہی ہیں۔

آج ربیع الاول میں آنے والے کی یاد میں مسلمان جلسے جلوس نکالتے اور سیرت النبی کی محافل میں فانوس روشن کرتے ہیں لیکن اس حقیقت کا سامنا کرتے ہوئے بیحد تکلیف ہوتی ہے کہ خود مسلمانوں کے اعمالِ حسنہ کا فانوس بجھ چکا ہے۔ وہ درود و سلام کی محفلیں منعقد کرکے ربیع الاول میں آنے والےؐ کی یاد تازہ کرتے ہیں لیکن اسکا کیا علاج کیا جائے کہ آج مسلمانوں کی زندگیوں میں وہ سب کچھ ہے جسے وہؐ مٹانے آیاتھا۔ بحیثیت مجموعی ہمارے دل ایمان کے ثبات سے خالی اور اخلاق حسنہ سے محروم ہے۔ آج امت مسلمہ غیرالٰہی غلامیوں اور ماسویٰ اللہ رشتوں کی غلامی کا قلاوہ گردن میںڈالے غبارِ راہ بن چکی ہے یا سنگریزوں کے ایسے ڈھیر میں تبدیل ہو چکی ہے جسے اغیار پائوں تلے روند رہے ہیں اورمسلسل پامال کئے جا رہے ہیں۔آج افغانستان، عراق اور کشمیر میں مسلمانوں کا خون بہہ رہا ہے۔ پاکستان میں بھی اغیار کی خواہشات کی تکمیل کیلئے مسلمانوں کا خون ارزاں کردیاگیا ہے۔ گزشتہ آٹھ نو برسوں کے دوران میں یہاں کے مسلمان اپنے ہی کلمہ گو بھائیوں کے ہاتھوں جام شہادت نوش کر رہے ہیں۔ پاکستان کے قبائلی علاقے اور سوات اغیار کی ریشہ دوانیوں کا شکار ہیں…اور افسوس کہ ہم سب شاید احساس زیاں سے بھی محروم ہو چکے ہیں۔ کیا ہمیں اس بات کا ذرہ بھر احساس ہے کہ ہم نے خدا کے غضب کو دعوت دینے والے سب اسباب جمع کر رکھے ہیں۔سچ تو یہ ہے کہ ربیع الاول میں آنے والے کی خوشی ہر اس شخص پر حرام ہے جو اپنے ایمان اور عمل کے اندر اسوۂ حسنہ کی پیروی کیلئے کوئی نمونہ نہیں رکھتا۔
 
Author
UrduLover

UrduLover

★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
480
Messages
2,245
Likes
1,614
Points
704
Location
Manchester U.K
#4
لکھاری ۔محمد آصف ا قبال

دنیا میں جتنی بھی تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں ان میں نظریہ قوت و طاقت کو بڑی اہمیت حاصل ہے۔اسلام کس نہج پر تبدیلی کا خواہاں ہے ؟اس سلسلے کی چند باتیں یہاں بپیش کی جارہی ہیں ۔کوشش کی گئی ہے کہ یہ باتیں بنی کریم محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے لی جائیں تاکہ ماہ ربیع اول میں جہاں بے شمار جلسے جلوس اور تقاریر کے ذریعہ نبی رحمت ؐکی سیرت کے مختلف پہلو کیے جائیں وہیں آج کے ماحول میں یہ بات بھی عام کی جائے کہ ہم ،بحیثیت مسلمان کس تبدیلی کے خواہاں ہیں۔اس موقع پر یہ بات یاد رکھنے کی ہے کہ نیکی کی بنیاد پر ہونے والی تبدیلی، تقوے کے ابلاغ سے ہونے والی قلبِ ماہیت کئی نسلوں تک باقی رہتی ہے۔ اس کا مفہوم یہ ہے کہ نیکی ایک ایسا نعرہ، ایسا نظریہ اور فلسفہ ہے جوکئی نسلوں کو اپنا اسیر کرسکتا ہے۔ مسلۂ کا حل جب پیش کیا جاتا ہے یا جن لوگوں کے پاس حل موجود ہے اور وہ اس کو لے کر آگے بڑھنے کا عزم کرتے ہیں تو ایسے لوگوں کو مختلف پابندیوں میں جکڑ اجاتا ہے۔ پھر اس تعلق کو امن کی بجائے دہشت گردی سے تعبیر کیا جاتا ہے ۔اسی درمیان مذہب اسلام جو امن کا داعی ہے ،کو فرقہ وارانہ منافرت میں پیش کرنے کی سعی کا آغاز کر دیا جاتا ہے۔یہی نہیں جہاد کے ذکرکے ساتھ اسلام دشمن طاقتیں کہتی ہیں کہ اسلام تلوار اور طاقت کے زور پر پھیلاہے۔ اس کے باوجود تاریخ شاہد ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے حق و باطل کا پہلا معرکہ غزوہ بدر کی صورت میں اس وقت لڑاجب باطل قوتیں اہل حق کے مقابلہ بہت زیادہ تھیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلمان کافروں کے مقابلے کبھی بھی اپنے زورِ بازو پر بھروسا نہیں کرتے۔ ان کا بھروسا اللہ تھا اور ہمیشہ رہے گا۔۔۔پھر یہ معاملہ غزوہ بدر تک ہی محدود نہیں ہے، مسلمان حق و باطل کے کسی بھی معرکے میں شریک ہوں انہیں ہمیشہ اصل امید اللہ کی ذات ہی سے ہوتی ہے۔ ایسے میں جن کا انحصار ہی ہر صورت میں اللہ پر ہو وہ نہ طاقت پرست کیسے ہو سکتے ہیں اور یہ بات کیسے صحیح ہوسکتی ہے کہ اسلام طاقت کے بل پر پھیلا ہے یا پھیل سکتا ہے۔اس پس منظر میں اسلامی معاشرہ اپنی روح میں ایک جہادی اور مزاحمتی معاشرہ ہوتا ہے اور اس کی مزاحمت اپنے نفس سے لے کر بین الاقوامی زندگی تک پھیلی ہوتی ہے۔ چنانچہ اسلام پسند مضبوط،واضح اور مکمل نظام حیات کے فروغ و استحکام کے لیے ہر دم کوشاں رہتے ہیں۔اورچونکہ وہ جانتے ہیں کہ اسلام ایک مکمل نظام حیات ہے جس میں معیشیت سے لے کر معاشر ت اور تہذیب و تمدن کے تمام معرکے حل کیے جا سکتے ہیں۔لہذا ایک مسلمان کے لیے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اسلامی معاشرے کے تحفظ و فروغ، اس کی بقاء و استحکام اور اس کے قیام کے لیے سعی و جہد میں ہم دم مصروف عمل رہے۔ساتھ ہی ایک متبادل نظام کے لیے کوشاں ہو جہاں عوام الناس کے لیے امن و امان ہو نیزان کی بنیادی ضرورتیں پوری ہو سکیں۔اس کے باوجود اس موقع پر یہ بات واضح رہنی چاہیے کہ موجودہ حالات میں نصب العین کا حصول معروف و مقبول ذرائع ہی سے حاصل کیا جا سکتا ہے۔برخلاف اس کے فساد فی الارض رونما ہوگا اور انسانیت گمراہی میں مبتلا ہوسکتی ہے۔
تبدیلیِ قیادت سے ہماری مراد وہ قیادت ہے جو خوف خدا سے سے عاری نہ ہو۔ایسی قیادت جو خوف خدا سے عاری ہو وہ نہ تو خود اپنی ذات کو کوئی فائدہ پہنچا سکتی ہے اور نہ انسانیت کو۔ لہذا اس پہلو پر بھی توجہ دی جانی چاہیے کہ قیادت ان لوگوں کے ہاتھوں میں منتقل کی جائے جو انسانی قوانین کا پاس و لحاظ رکھنے کے علاوہ اْس ہستی کو بھی مانتے ہوں جو خود انسانوں کا موجد اعلیٰ ہے۔اس مرحلے میں قیادت کی تبدیلی ناگزیر عمل بن جائے گی۔اور یہ تبدیلیِ قیادت کا عمل اسی طرح لایا جائے گا جو موجودہ دور میں انسانو ں کے لیے قابلِ قبول ہو یعنی شورائیت کے ذریعہ جسیعرف عام میں انتخابی عمل سے تعبیر کیا جانا چاہیے۔اس موقع پر ہمیں یہ بات بھی واضح کر دینی چاہیے کہ ہماری جدو جہد ہمارے "اپنوں” کے خلاف نہیں ہے ۔”اپنے”وہ جو ہمارے ساتھ رہتے بستے ہیں اور جو ہمارے معاشرے یا وطن عزیزکا حصہ ہیں۔بلکہ دنیا کے ان طاقتوں اور نظریات کے خلاف ہے جو اپنے قومی و ذاتی مفادات کی خاطر عالمِ انسانیت کو تباہ و برباد کرنے پر آمادہ ہیں اور اس کے لیے مختلف خوبصورت اصطلاحات استعمال کرتے ہیں۔اس کے لیے لازم ہے کہ ہمارے پاس باصلاحیت،جرت مند، بلند حوصلہ اشخاص کی کثیر تعداد ہوجو غورو فکر اور تدبر و دانائی کو اپنا شعار بنانے والے ہوں۔ یہ وہ لوگ ہونے چاہیں جو علم و عمل میں مماثلت رکھتے ہوں ۔برخلاف اس کے ہمیں ان ناکارہ، بے مقصد، اور نفس پرست انسانوں کی بھیڑ کی ضرورت نہیں ہے کہ جو اعلیٰ تعلیمی اداروں کی ڈگریاں تو رکھتے ہیں لیکن اخلاق و کردار کے پیمانے پر جب ان کو تولا جاتا ہے تو ان کا وزن اس جھاگ کے برابر بھی نہیں جسے سمندر جہاں چاہے اٹھار کر پھینک دیتا ہے۔اس موقع پر ہمیں یہ شعور بھی بیدار کرنے کی ضرورت ہے کہ خرابی کی اصل جڑ موجودہ نظام اور اس کی پروردہ مفاد پرست، ملت فروش اور دنیا پرست قیادت ہے کہ جسے مسلسل نظر انداز کرنے کے نتیجہ میں ہی اصلاح و فلاح کے پہلو مدھم پڑتے جارہے ہیں۔وہیں ان طاقتوں کے خلاف اقدام سے مراد یہ ہے کہ موجودہ فلسفہ زندگی پر تفکر کیا جائے اور اس میں اصلاح کے پہلوؤں کو ابھارا جائے۔
واقعہ یہ ہے کہ آج چہار جانب ظلم و بربیت کا دور دورہ ہے ،اور ہماری حالت یہ ہے کہ ہمیں صرف اپنے طرز معاشرت کو بہتر بنانے کی فکر نے الجھائے رکھا ہے۔نتیجہ یہ ہے کہ مسائل کو سمجھنے، ان پر غور و فکر کرنے اور ان کے خاتمہ کی سعی و جہدسے ہم دور ہیں۔لیکن اسلام کی رو سے یہ بھی ظلم ہی کی ایک شکل ہے ،جس میں ہم خوداور متعلقین کو ملوث کیے ہوئے ہیں۔بنی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے برائی کو ہاتھ سے روکا جائے، اس کو زبان سے برا کہا جائے اور اگر اتنی بھی طاقت نہ ہو تو کم از کم دل میں برا سمجھاجائے۔ یہاں ایک لمحہ کے لیے ٹھہرئیے ، اور اپنے دل پر ہاتھ کر خود ہی سے معلوم کیجیئے کہ کیا کبھی ہم نے اس جانب توجہ کی ہے؟اللہ تعالی فرماتا ہے :اور اگر خدا لوگوں کو ان کے ظلم کے سبب پکڑنے لگے تو ایک جاندار کو زمین پر نہ چھوڑے لیکن ان کو ایک وقت مقرر تک مہلت دیئے جاتا ہے۔ جب وہ وقت آجاتا ہے تو ایک گھڑی نہ پیچھے رہ سکتے ہیں نہ آگے بڑھ سکتے ہیں (النحل:61)۔قرآن و حدیث کے تذکرے کے بعد سوال یہی رہ جاتا ہے کہ فرصت کے لمحات کو گنوانا ،کیا ہماری نادانی نہیں ہے؟ضرورت ہے کہ جو لمحات بھی مہلت کے باتی ہیں ان کا استعمال کیا جائے۔یہی تقاضہ وقت ہے اور یہی ہمارا اولین فرض منصبی بھی۔لیکن ظلم و بربیت سے نجات دلانے والوں کا طرز عمل بھی امن پسند ہونا چاہیے ۔تب یہ پوری سعی و جہد خود ہمارے لیے اور دوسروں کے لیے نفع بخش ہوسکتی ہے۔گفتگو کے پس منظر میں ضرورت ہے کہ ہر مسلمان نہ صرف ذاتی زندگی کا جائزے لیتا رہے۔بلکہ جائزے کے دوران اسے یہ بھی دیکھنا چاہیے کہ اس کا ہر چھوٹااوربڑاعمل ،اسے کس سمت لیے جا رہا ہے؟کیا وہ اپنے نصب العین سے قریب ہورہا ہے یا اس سے دور،بہت دور؟ماہ ربیع اول کی اس مبارک تاریخ میں ہم سمجھتے ہیں کہ نبی اقدس محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حیات مبارکہ سے ہمیں اور آپ کو یہی پیغام ملتا ہے جس پر نہ صرف سنجیدگی سے ہمیں غور و فکر کرنا چاہیے بلکہ اپنے شب و روز کے اعمال میں جہاں اور جس درجہ تبدیلی کی ضرورت محسوس ہو،جلد از جلد تبدیلی لانی چاہیے!
 
Show only guests
Top