یوٹرن نہ لے لینا

پاک آرٹ اردو لور

Staff member
★★★★☆☆
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
3,607
Reaction score
2,882
Points
930
Location
Manchester U.K
چلو جی آج پاے پر ایک تحریر ک اشتراک کرتے ہیں۔چارپائی کے نہی پھجے کے پاے یعنی انکے بناے ہوے سمجھ جائے ناں انکے پکاے ہوے پاے پر چھوٹی سی تحریر اردو سورس سے لی گئی ہے
لاہور کے سری پائے لاہور، لاہور اے. لاہوریوں کا ہر دلعزیز ناشتہ ، حلوہ پوری ، بونگ ، نہاری ،ہریسہ اور سری پائے ہیں۔ آج ہم سری پائے اور خاص طور پر لاہور کے پھجے کے سری پائے کی بات کریں گے جس کا ذکر ہر خاص و عام کی زبان پر ہے۔ میاں نواز شریف نے بھی اپنی سعودیہ عرب کی جلاوطنی کے دوران پھجے کے پائیوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔ یوں تو رحمان ملک اپنی پسندیدہ نہاری لاہور سے جہاز کےذ ریعہ اسلام آباد منگوایا کرتے تھے۔ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ شوق دا کوئی مل نئی ہوندا۔ شنید ہے کہ ہندوستان کے سابق وزیراعظم واجپائی بھی پھجے کے پائیوں کےشوقین نکلے۔​
Please, Log in or Register to view URLs content!

نواز شریف کے وزیراعظم ہونے کے بعد لاہور کے پرانے اور مشہور دہی بھلے، کباب، سری پائے اور مرغ چنے والے وزیراعظم نواز شریف کی آمد کے منتظر ہوتے ہیں۔ ہر آنے جانے والی گاڑی کو دیکھ کر انہیں یہی لگتا ہے کہ میاں صاحب آ گئے ہیں۔
ابھرا جو چاند ہم سمجھے وہ آگئے
کتنے حسیں دھوکے دئیے ہیں انتظار نے
ہو سکتا ہے ان دوکانداروں نے نہ سنا ہو کہ اردو شاعری انتظارکے ذکر سے عبارت ہے اور محبوب کبھی نہ آتا ہے۔ میاں صاحب کھانے پینے والوں میں شمار ہوتے ہیںاور لاہور کے خاص پکوانوں کی دوکانوں کے قدردان بھی ،خالص لاہوری ہیں اور لاہور کے کھانے پسند کرتے ہیں اور ڈٹ کر کھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی کھلاتے ہیں۔ سری پائے کے رسیا آپ کو پاکستان کے علاوہ ہندوستان، بنگلہ دیش اور جہاں کہیں بھی پاکستانی،ہندوستانی و بنگلہ دیشی مسلمان رہتے ہیں، بھی ملیں گے۔مغرب میں لوگ بکرے کے پائیوں کے بجائے ہاگ ھاکس کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔حکو مت پاکستان کو چاہئیے کہ وہاں کے لوگوں کو
سری پائیوں سے متعارف کروائے۔ اس نہ صرف سیاحت اور قیمتی زر مبادلہ میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی اس سوغات کےساتھ ساتھ پاکستان کی نیک نامی بھی بڑھے گی۔
Please, Log in or Register to view URLs content!


Please, Log in or Register to view URLs content!
ویسے تو سری پائے لاہور کے ہر کونے اور نکر پر ملتے ہیں مگر لاہور میں پھجے کے سری پائے سارے برصغیر میں اپنے لذت اور ذائقہ کے لئے مشہورہیں اور گذشتہ ۷۰ سال سے لوگوں کو بے مثال اور لازوال سری پائے بہم پہنچا رہے ہیں اور اس کے ذائقہ اور معیار پہلے دن والا ہے۔پھجے کی دوکان لاہور کے بازار حسن میں ہے۔ وہاں پھجے کی بھی دو، دوکانیں ہیں۔ آپ لاہور کے مشہور پائے کھانے کےلئے ، اصلی پھجے کی دکان پر جائیں۔ اگر سری پائے کھانے کے بعد آپ لسی بھی پی لیں تو یہ دو آتشہ بن جاتا ہے اور خماری ایسی چڑہتی ہے کہ الامان۔ بندہ بستر کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ سردیوں میں سری پائے کی فروخت کا کام عروج پر ہوتا ہے اور گرمیوں میں ذرا مندا۔ اب تو فجے نے لاہور شہر میں اپنی فرنچائز بھی کھول لی ہیں،جہاں بعض جگہ خواتین کےبیٹھنے کا علیحدہ انتظام ہے۔
ایک زمانہ تھا جب پھجے کے پائے آپ ۵ سے ۱۰ روپیہ میں خرید سکتے تھے مگر آج لاہور کی یہ سوغات آپ کو ۲۰۰ روپے میں دو عدد بکرے کے پائے کی صورت میں ملے گی۔ آپ پھجے کی دوکان پر جائیں تو آپ ایک بڑا سا گہرا تھال دیکھیں گے جس سے فرنٹ پر پائے اور ایک طرف سری کے مختلف حصے پڑے ہوئے پائیں گے اور درمیاں میں شوربہ اور اس تھال میں سے بھاپ مصالحہ جات کی خوشبو لئے
پوری دوکان میں موجود لوگوں کی اشتہا کو تیز کر رہی ہوتی ہے۔ ایک طرف تندور ہے جس میں گرم گرم کلچے تیار ہوتے ہیں۔ سری پائے کھانے کا مزا آپ کو دوکان پر ہی آتا ہے۔​

Please, Log in or Register to view URLs content!
ہاں کسی کے پاس کوئی معیار یا کسوٹی نہ ہے کہ یہ پائے واقعی بکرے کے ہونگے اور بکری ،مینڈھے ،بھیڑ ، دنبہ یا بو بکرے کے نہ ہونگے۔ نا کسی کو معلوم ہے کہ بکری،مینڈھے،بھیڑ یا دنبہ کے پائوں کا ذائقہ بکرے کے پائوں جیسا ہی ہوگا یا کچھ مختلف۔ ہاں کلیسٹرول کے مریض سری پائے کھانے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کر لیں۔​
Please, Log in or Register to view URLs content!
ہمارے ایک کرم فرما ،کہنے لگے بھائی پائے ،پائے ہی ہوتے ہیں ،صرف پھجے ہی کے کیوں؟ آپ کیوں پھجے کے سری پایوں کی مشہوری میں لگے ہیں؟ آپ کو کیا مفت ملتے ہیں؟ اور اگلے دن اپنے نقطہ نظر کو ثابت کرنے کےلئے ،ایک مقامی مارکیٹ سے سری پائے لے آئے۔اب ہم دونوں ان سری پائیوں کو کھانے کےلئے کشتی میں مصروف ہوگئے اور پائیوں نے ہمارے منہ و شکم میں جانے سے صاف انکار کر دیا۔ اس پر موصوف کہنے لگے کہ یہ پائے بکرے کےتو نہیں لکڑی یا پتھر کے لگتے ہیں جو ان کی بو ٹیاں ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لیتی۔
تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ پھجے کے پائے خاص دیسی بکروں کے ہوتے ہیں اور یہ کہ پہاڑی بکروں کے پائے ہلنے سے بھی انکاری ہو جاتے ہیں کیونکہ ان بکروں نے پہاڑوں پر اترنے چڑہنے کی خاصی مشقت کی ہوئی ہوتی ہے اور ان پائیوں کا گوشت انتہائی سخت ہو کر سخت مسل بن جاتا ہے۔ اور یہ کہ پھجے کے پائے دیگ مٰیں، جو اوپر سے بند کر دی جاتی ہے اور نہ اندر کی بھاپ باہر آ سکتی اور نہ ہی باہر کی ہوا اندر جاسکتی ہے، ہلکی آنچ پر ساری رات پکتے ہیں اور ناشتہ کے وقت کھانے کو تیار ملتے ہیں۔انتہاےی پکے ہوئے ،ذرا سی حرکت دینے سے گوشت ہڈیوں سے جدا ہو جاتا ہے۔ آپ چاہیں تو صرف پائے آڈر کریں یا صرف سری یا سری پائے دونوں۔ مغز جو سری کا بائی پروڈکٹ ہے ،بھی دستیاب ہوتا ہے۔
سری پائے کھانے کا میل کلچوں کےساتھ بڑا خوب ہوتا ہے مگر سری پائے آپ چاول کےساتھ بھی تناول کر سکتے ہیں۔ کچھ لوگ سری پائے ایک بڑے پیالہ میں ڈال کر کلچہ کے چھوٹے چحوٹے ٹکرے کر کے اس میں شامل کر لیتے ہیں اور اس مرغوبہ کو کھانے کے چمچ کےساتھ کھاتے ہیں مگر ہڈیوں میں سے ست نکالنے کے لئے انگلیوں کا استعمال بہر حال انہیں کر نا ہی پڑتا ہے۔
راقم نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح پھجے کے موجودہ جانشین اسے پائے بنانے کی ترکیب اور اس میں شامل کئیے جانے والے مصالحہ جات کی تفصیل بتا دیے مگر موصوف پیٹنٹ نہ ہونے کےبا وجود طرح دے گئ​
 

صبیح

Thread Starter
★★★☆☆☆
Dynamic Brigade
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
1,815
Reaction score
2,283
Points
620
Location
Central
چلو جی آج پاے پر ایک تحریر ک اشتراک کرتے ہیں۔چارپائی کے نہی پھجے کے پاے یعنی انکے بناے ہوے سمجھ جائے ناں انکے پکاے ہوے پاے پر چھوٹی سی تحریر اردو سورس سے لی گئی ہے
لاہور کے سری پائے لاہور، لاہور اے. لاہوریوں کا ہر دلعزیز ناشتہ ، حلوہ پوری ، بونگ ، نہاری ،ہریسہ اور سری پائے ہیں۔ آج ہم سری پائے اور خاص طور پر لاہور کے پھجے کے سری پائے کی بات کریں گے جس کا ذکر ہر خاص و عام کی زبان پر ہے۔ میاں نواز شریف نے بھی اپنی سعودیہ عرب کی جلاوطنی کے دوران پھجے کے پائیوں کا ذکر کیا کرتے تھے۔ یوں تو رحمان ملک اپنی پسندیدہ نہاری لاہور سے جہاز کےذ ریعہ اسلام آباد منگوایا کرتے تھے۔ٹھیک ہی کہتے ہیں کہ شوق دا کوئی مل نئی ہوندا۔ شنید ہے کہ ہندوستان کے سابق وزیراعظم واجپائی بھی پھجے کے پائیوں کےشوقین نکلے۔​
Please, Log in or Register to view URLs content!

نواز شریف کے وزیراعظم ہونے کے بعد لاہور کے پرانے اور مشہور دہی بھلے، کباب، سری پائے اور مرغ چنے والے وزیراعظم نواز شریف کی آمد کے منتظر ہوتے ہیں۔ ہر آنے جانے والی گاڑی کو دیکھ کر انہیں یہی لگتا ہے کہ میاں صاحب آ گئے ہیں۔
ابھرا جو چاند ہم سمجھے وہ آگئے
کتنے حسیں دھوکے دئیے ہیں انتظار نے
ہو سکتا ہے ان دوکانداروں نے نہ سنا ہو کہ اردو شاعری انتظارکے ذکر سے عبارت ہے اور محبوب کبھی نہ آتا ہے۔ میاں صاحب کھانے پینے والوں میں شمار ہوتے ہیںاور لاہور کے خاص پکوانوں کی دوکانوں کے قدردان بھی ،خالص لاہوری ہیں اور لاہور کے کھانے پسند کرتے ہیں اور ڈٹ کر کھاتے ہیں اور دوسروں کو بھی کھلاتے ہیں۔ سری پائے کے رسیا آپ کو پاکستان کے علاوہ ہندوستان، بنگلہ دیش اور جہاں کہیں بھی پاکستانی،ہندوستانی و بنگلہ دیشی مسلمان رہتے ہیں، بھی ملیں گے۔مغرب میں لوگ بکرے کے پائیوں کے بجائے ہاگ ھاکس کھانا زیادہ پسند کرتے ہیں۔حکو مت پاکستان کو چاہئیے کہ وہاں کے لوگوں کو
سری پائیوں سے متعارف کروائے۔ اس نہ صرف سیاحت اور قیمتی زر مبادلہ میں اضافہ ہوگا بلکہ پاکستان کی اس سوغات کےساتھ ساتھ پاکستان کی نیک نامی بھی بڑھے گی۔

Please, Log in or Register to view URLs content!
ویسے تو سری پائے لاہور کے ہر کونے اور نکر پر ملتے ہیں مگر لاہور میں پھجے کے سری پائے سارے برصغیر میں اپنے لذت اور ذائقہ کے لئے مشہورہیں اور گذشتہ ۷۰ سال سے لوگوں کو بے مثال اور لازوال سری پائے بہم پہنچا رہے ہیں اور اس کے ذائقہ اور معیار پہلے دن والا ہے۔پھجے کی دوکان لاہور کے بازار حسن میں ہے۔ وہاں پھجے کی بھی دو، دوکانیں ہیں۔ آپ لاہور کے مشہور پائے کھانے کےلئے ، اصلی پھجے کی دکان پر جائیں۔ اگر سری پائے کھانے کے بعد آپ لسی بھی پی لیں تو یہ دو آتشہ بن جاتا ہے اور خماری ایسی چڑہتی ہے کہ الامان۔ بندہ بستر کا ہو کر رہ جاتا ہے۔ سردیوں میں سری پائے کی فروخت کا کام عروج پر ہوتا ہے اور گرمیوں میں ذرا مندا۔ اب تو فجے نے لاہور شہر میں اپنی فرنچائز بھی کھول لی ہیں،جہاں بعض جگہ خواتین کےبیٹھنے کا علیحدہ انتظام ہے۔
ایک زمانہ تھا جب پھجے کے پائے آپ ۵ سے ۱۰ روپیہ میں خرید سکتے تھے مگر آج لاہور کی یہ سوغات آپ کو ۲۰۰ روپے میں دو عدد بکرے کے پائے کی صورت میں ملے گی۔ آپ پھجے کی دوکان پر جائیں تو آپ ایک بڑا سا گہرا تھال دیکھیں گے جس سے فرنٹ پر پائے اور ایک طرف سری کے مختلف حصے پڑے ہوئے پائیں گے اور درمیاں میں شوربہ اور اس تھال میں سے بھاپ مصالحہ جات کی خوشبو لئے
پوری دوکان میں موجود لوگوں کی اشتہا کو تیز کر رہی ہوتی ہے۔ ایک طرف تندور ہے جس میں گرم گرم کلچے تیار ہوتے ہیں۔ سری پائے کھانے کا مزا آپ کو دوکان پر ہی آتا ہے۔​

Please, Log in or Register to view URLs content!
ہاں کسی کے پاس کوئی معیار یا کسوٹی نہ ہے کہ یہ پائے واقعی بکرے کے ہونگے اور بکری ،مینڈھے ،بھیڑ ، دنبہ یا بو بکرے کے نہ ہونگے۔ نا کسی کو معلوم ہے کہ بکری،مینڈھے،بھیڑ یا دنبہ کے پائوں کا ذائقہ بکرے کے پائوں جیسا ہی ہوگا یا کچھ مختلف۔ ہاں کلیسٹرول کے مریض سری پائے کھانے سے پہلے اپنے معالج سے ضرور مشورہ کر لیں۔​
Please, Log in or Register to view URLs content!
ہمارے ایک کرم فرما ،کہنے لگے بھائی پائے ،پائے ہی ہوتے ہیں ،صرف پھجے ہی کے کیوں؟ آپ کیوں پھجے کے سری پایوں کی مشہوری میں لگے ہیں؟ آپ کو کیا مفت ملتے ہیں؟ اور اگلے دن اپنے نقطہ نظر کو ثابت کرنے کےلئے ،ایک مقامی مارکیٹ سے سری پائے لے آئے۔اب ہم دونوں ان سری پائیوں کو کھانے کےلئے کشتی میں مصروف ہوگئے اور پائیوں نے ہمارے منہ و شکم میں جانے سے صاف انکار کر دیا۔ اس پر موصوف کہنے لگے کہ یہ پائے بکرے کےتو نہیں لکڑی یا پتھر کے لگتے ہیں جو ان کی بو ٹیاں ٹوٹنے کا نام ہی نہیں لیتی۔
تحقیق کرنے پر معلوم ہوا کہ پھجے کے پائے خاص دیسی بکروں کے ہوتے ہیں اور یہ کہ پہاڑی بکروں کے پائے ہلنے سے بھی انکاری ہو جاتے ہیں کیونکہ ان بکروں نے پہاڑوں پر اترنے چڑہنے کی خاصی مشقت کی ہوئی ہوتی ہے اور ان پائیوں کا گوشت انتہائی سخت ہو کر سخت مسل بن جاتا ہے۔ اور یہ کہ پھجے کے پائے دیگ مٰیں، جو اوپر سے بند کر دی جاتی ہے اور نہ اندر کی بھاپ باہر آ سکتی اور نہ ہی باہر کی ہوا اندر جاسکتی ہے، ہلکی آنچ پر ساری رات پکتے ہیں اور ناشتہ کے وقت کھانے کو تیار ملتے ہیں۔انتہاےی پکے ہوئے ،ذرا سی حرکت دینے سے گوشت ہڈیوں سے جدا ہو جاتا ہے۔ آپ چاہیں تو صرف پائے آڈر کریں یا صرف سری یا سری پائے دونوں۔ مغز جو سری کا بائی پروڈکٹ ہے ،بھی دستیاب ہوتا ہے۔
سری پائے کھانے کا میل کلچوں کےساتھ بڑا خوب ہوتا ہے مگر سری پائے آپ چاول کےساتھ بھی تناول کر سکتے ہیں۔ کچھ لوگ سری پائے ایک بڑے پیالہ میں ڈال کر کلچہ کے چھوٹے چحوٹے ٹکرے کر کے اس میں شامل کر لیتے ہیں اور اس مرغوبہ کو کھانے کے چمچ کےساتھ کھاتے ہیں مگر ہڈیوں میں سے ست نکالنے کے لئے انگلیوں کا استعمال بہر حال انہیں کر نا ہی پڑتا ہے۔
راقم نے بڑی کوشش کی کہ کسی طرح پھجے کے موجودہ جانشین اسے پائے بنانے کی ترکیب اور اس میں شامل کئیے جانے والے مصالحہ جات کی تفصیل بتا دیے مگر موصوف پیٹنٹ نہ ہونے کےبا وجود طرح دے گئ​
بہت خوب انکل جی!پڑھ کر معلومات ہوئیں،ویسے وہ اپنا بزنس راز کیسے بتائیں گے،اگر ذائقہ ایک ہی جیسا ہے تو ان کے پاس کوئی خاص ریسپی اور مقدار بھی طےشدہ ہے جو وہ بتاتے نہیں۔
 
Top