عورتوں کا نماز کے لیے مسجد جانا کیسا ہے ؟ قسط پنجم

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
2:08 AM
Threads
207
Messages
594
Reaction score
969
Points
460
Gold Coins
425.78
ضروری ابحاث کے ضمن میں ایک ضروری مسئلے کی وضاحت بھی کرتاچلوں وہ یہ کہ بعض جگہوں میں عورتیں نماز جمعہ میں شرکت کرتی ہیں اور حال یہ ہے کہ عورتوں پر نماز جمعہ فرض نہیں چناچہ حدیث میں آتا ہے کہ حضورﷺ نے فرمایا
جمعہ کی نماز ہر مسلمان پرجماعت کے ساتھ پڑھنا حق واجب (فرض)ہے سوائے چارآدمیوں غلام، عورت بچے اور مریض کے
عَن طَارِقِ بنِ شِہَابٍ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ قَالَ: الجُمُعَۃُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَی کُلِّ مُسلِمٍ فِی جَمَاعَۃٍ إِلَّا أَربَعَۃً: عَبدٌ مَملُوکٌ أَوِ امرَأَۃٌ أَو صَبِیٌّ أَو مَرِیضٌ
سنن أبی داود تَفرِیعِ أَبوَابِ الجُمُعَۃِ بَابُ الجُمُعَۃِ لِلمَملُوکِ وَالمَرأَۃِ

سنن ابو داؤد میں تو یہ حدیث مرسلا روایت ہے لیکن المستدرک علی الصحیحین للحاکم میں یہ حدیث مرفوعا روایت ہے بخاری اور مسلم کی شرط پر یعنی حدیث صحیح ہے
عَن طَارِقِ بنِ شِہَابٍ عَن أَبِی مُوسَی عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ قَالَ:حدیث الجُمُعَۃُ حَقٌّ وَاجِبٌ عَلَی کُلِّ مُسلِمٍ فِی جَمَاعَۃٍ إِلَّا أَربَعَۃٌ: عَبدٌ مَملُوکٌ أَوِ امرَأَۃٌ أَو صَبِیٌّ أَو مَرِیضٌ
ہَذَا حَدِیثٌ صَحِیحٌ عَلَی شَرطِ الشَّیخَینِ

المستدرک علی الصحیحین للحاکم کتاب الجمعہ

صحیح ابن خزیمہ میں روایت ہے کہ ام عطیہ رضی اللہ عنہا فرماتی ہیں کہ
ہمیں (عورتوں) کو جنازے کے ساتھ چلنے سے روکا جاتا تھا اور ہم پر جمعہ(بھی فرض) نہیں ہے
وَنُہِینَا عَنِ اتِّبَاعِ الجَنَایئِزِ، وَلَا جُمُعَۃَ عَلَینَا
صحیح ابن خزیمۃ کِتَابُ الجُمُعَۃِ المُختَصَرِ مِنَ المُختَصَرِ مِنَ المُسنَدِ عَلَی الشَّرطِ الَّذِی ذَکَرنَا فِی أَوَّلِ الکِتَابِ بَابُ ذِکرِ إِسقَاطِ فَرضِ الجُمُعَۃِ عَنِ النِّسَاءِ وَالدَّلِیلِ عَلَی أَنَّ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ خَاطَبَ بِالأَمرِ بِالسَّعیِ إِلَی الجُمُعَۃِ عِندَ النِّدَاءِ بِہَا فِی قَولِہِ: یَا أَیُّہَا الَّذِینَ آمَنُوا إِذَا نُودِیَ لِلصَّلَاۃِ مِن یَومِ الجُمُعَۃِ الرِّجَالَ دُونَ النِّسَاءِ إِن ثَبَتَ ہَذَا الخَبَرُ مِن جِہَۃِ النَّقلِ وَإِن لَم یَثبُت فَاتِّفَاقُ العُلَمَاءِ عَلَی إِسقَاطِ فَرضِ الجُمُعَۃِ عَنِ النِّسَاءِ کَافٍ مِن نَقلِ خَبَرِ الخَاصِّ فِیہِ

سنن دارقطنی میں ہے
جو شخص اللہ اور آخرت پر ایمان رکھتا ہے تو اس پر جمعہ کے دن کاجمعہ(فرض) ہے سوائے مریض، مسافر، عورت، بچے اور مملوک کے
من کَانَ یُؤمن بِاللَّہ وَالیَوم الآخر فَعَلَیہِ الجُمُعَۃ یَوم الجُمُعَۃ إِلَّا عَلَی مَرِیض أَو مُسَافر أَو امرَأَۃ أَو صبی أَو مَملُوک
سنن الدارقطنی کتاب الجمعۃ باب من تجب علیہ الجمعۃ

سنن کبری بیھقی میں بھی ہے
کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا جمعہ واجب (فرض) ہے ہرمسلمان پر سوائے عورت،بچے اور مملوک کے
عَن مُحَمَّدِ بنِ کَعبٍ أَنَّہُ سَمِعَ رَجُلًا مِن بَنِی وَایئِلٍ یَقُولُ: قَالَ النَّبِیُّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ: تَجِبُ الجُمُعَۃُ عَلَی کُلِّ مُسلِمٍ إِلَّا امرَأَۃً أَو صَبِیًّا أَو مَملُوکًا
السنن الکبری للبیہقی کِتَابُ الجُمُعَۃِ بَابُ مَن تَجِبُ عَلَیہِ الجُمُعَۃُ

آخرالذکر دو حدیثیں سندا ضعیف ہیں لیکن ماقبل کی صحیح حدیثوں سے اس کے مضمون کی تائید ضرور ہوتی ہیں
مزید تفصیل کے لیے دیکھئے
التلخیص الحبیر ط قرطبۃ کِتَابُ الصَّلَاۃِ کِتَابُ الجُمُعَۃِ
الدرایۃ فی تخریج أحادیث الہدایۃ بَاب الجُمُعَۃ

اب جب صحیح حدیثوں سے ثابت ہے کہ عورت پرجمعہ کی نماز فرض نہیں اور ماقبل حدیث نمبر (10) میں صراحت کے ساتھ مروی ہے کہ عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن عورتوں کو مسجد سے بھگارہے تھے اور فرمارہے تھے کہ اپنے گھروں میں نماز پڑھیں
تو حق یہی ہے کہ صحیح مسئلے پر عمل کریں اور گھروں میں ہی رہ کر ظہر کی نماز پڑھیں،اسی طرح عید کی نماز بھی عورتوں پر واجب نہیں ہے۔تو جب ایک عورت کے لیے فرض نماز کے واسطے گھر سے نکلنا بہتر نہیں تو ایک ایسی نماز کے لیے نکلنا کیسے درست ہوگا جو اس پر واجب نہیں
خلاصہ کلام
یہ کہ شریعت نہیں بدلی، اور حضورﷺکے بعد کسی کو شریعت کے بدلنے کا اختیار نہیں، لیکن جن قیود و شرائط کو ملحوظ رکھتے ہوئے حضورﷺ نے عورتوں کو مساجد میں جانے کی اجازت دی، جب عورتوں نے ان قیود و شرائط کو ملحوظ نہیں رکھا تو اجازت بھی باقی نہیں رہے گی، اس بنا پر فقہائے اُمت نے، جو درحقیقت حکمائے اُمت ہیں، عورتوں کی مساجد میں حاضری کو مکروہ قرار دیا، گویا یہ چیز اپنی اصل کے اعتبار سے جائز ہے، مگر کسی عارضے کی وجہ سے ممنوع ہوگئی ہے۔
اور اس کی مثال ایسی ہے کہ وبا کے زمانے میں کوئی طبیب امرود کھانے سے منع کردے، اب اس کے یہ معنی نہیں کہ اس نے شریعت کے حلال و حرام کو تبدیل کردیا، بلکہ یہ مطلب ہے کہ ایک چیز جو جائز و حلال ہے، وہ ایک خاص موسم اور ماحول کے لحاظ سے مضرِ صحت ہے، اسی لئے اس سے منع کیا جاتا ہے۔ لہذا اس پر فتن دور میں عورت کے لیے بہتر یہی ہے کہ وہ گھر میں نماز پڑھے اور جو عورت گھر میں نماز پڑھتی ہے تو اس کی فضیلت بھی ہے چنانچہ جامع الاحادیث میں روایت ہے
حضرت عبد اللہ بن عمر رضی اللہ عنہما بیان کرتے ہیں کہ حضورﷺنے فرمایا: عورت کا اکیلے نماز پڑھنا اس کی نماز با جماعت پر پچیس گنا فضیلت رکھتی ہے
صلاۃ المرأۃ وحدہا تفضل علی صلاتہا فی الجمیع خمسۃ وعشرین درجۃ
جامع الأحادیث حرف الصاد

و ایضا
فی التیسیر بشرح الجامع الصغیر حرف الصاد
یہ حدیث ضعیف ہے لیکن چونکہ محدیثین کے نزدیک فضائل میں ضعیف حدیث بھی قابل قبول ہے تو اسی اصول کے تحت اسے نقل کیا گیا ہے نیز گھر میں نماز پڑھنا مسجد کی جماعت سے افضل بھی ہے، اس کا افضل ہونا ماقبل کی صحیح حدیثوں سے ثابت بھی ہے اور سب کے نزدیک متفق بھی ہے اس میں کسی کا اختلاف بھی نہیں ہے اور جو عورتیں حضورﷺکے زمانہ میں مسجد جایا کرتی تھی تو اس وقت عورتوں کو دین سیکھنے کے لیے جانے کی ضرورت تھی، اب وہ ضرورت نہیں رہی کیوں کہ اب دین سیکھنے کے لیے ایسے ذرائع موجود ہیں جو اس دور میں نہیں تھے سو ان ذرائع سے دین سیکھا جائے
اور اگر عورت رخصت کا فائدہ اٹھا کر جماعت میں شریک ہوتی ہے توجماعت کے ساتھ شرکت کرنے میں بہت مشقت اور تکلف اٹھائے گی جب کہ اللہ تعالی نے کسی نفس کو اس کی وسعت سے زیادہ کا مکلف نہیں بنایا ہے
لَا یُکَلِّفُ اللَّہُ نَفسًا إِلَّا وُسعَہَا
سور بقر آیت نمبر 286

لہذا اس فتنہ اور فساد کے دور میں جب کہ جنسی انارکی اور شہوانی بے راہ روی کی قدم قدم پر نہ صرف افزائش بلکہ ہمت افزائی ہورہی ہے، دین و مذہب اور حیا و مروت کے سارے بندھن ٹوٹ گئے ہیں کوچہ و بازار کا ذکر کیا کرنا اور شرور و فتن کی خود سر موجیں گھروں کی چہار دیواری سے ٹکرانے لگی ہیں،
کیا ایسے فساد انگیز حالات میں بھی خواتین اسلام اور عفت مآب ماؤں،بہنوں اور بیٹیوں کو گھروں کی چہار دیواری سے باہر نکل کرجمعہ و جماعت میں مردوں کے دوش بدوش شریک ہونے کی اجازت دینا درست ہوگا؟
حالاتِ زمانہ اور گردوپیش کے واقعات سے آنکھیں بند کرکے جو لوگ عورتوں کو مسجد میں آکر نماز اداکرنے کی دعوت دے رہے ہیں ان کا یہ رویہ مزاج دین سے کتنا ہم آہنگ اور خود یہ لوگ اسلامی معاشرے کے بارے میں کتنے مخلص ہیں؟ جب کہ حقیقت یہ ہے کہ ایسے فساد آمیز حالات میں افضل کو ترک کرکے صرف رخصت پر عمل کرکے عورتوں کے لئے گھر سے نکل کر مسجدوں میں حاضر ہونا مقاصد شریعت اور اصول سد ذرائع کے خلاف ہے اس لئے ان حالات میں شرعاً عورتوں کو مساجد میں جماعت کے ساتھ نماز اداکرنے کی اجازت نہیں دی جاسکتی​
 

PakArt UrduLover

in memoriam 1961-2020، May his soul rest in peace
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
ITD Observer
ITD Solo Person
ITD Fan Fictionest
ITD Well Wishir
ITD Intrinsic Person
Persistent Person
ITD Supporter
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Local time
2:08 AM
Threads
1,354
Messages
7,659
Reaction score
6,966
Points
1,508
Location
Manchester U.K
Gold Coins
117.28
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
  • کہتے ہیں بہت بہت شکریہ​
 

Mr. X

Staff member
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Popular
💖 ITD Lover 💖
The Gladiator
The Dark Knight
The Men in Black
Joined
Apr 25, 2018
Local time
7:08 AM
Threads
1,059
Messages
2,191
Reaction score
4,093
Points
1,264
Gold Coins
2,609.69
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
جزاک اللہ خیرا کثیرا
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks