پشتو کہاوت "آسمان شین دے "کی تحقیق

Author
A

Afzal339

★★☆☆☆
Dynamic Brigade
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Threads
149
Messages
469
Likes
669
Points
259
#1
پشتو زبان میں مشہور کہاوت ہے
آسمان شین دے
یہ کہاوت عام طور پرپشتون اس وقت کہتے ہیں کہ جب آسمان صاف ستھرا ہو یعنی بادل نہ ہو ۔ اس کہاوت میں لفظ "شین" سے کیا مراد ہے ؟
اس پر اپنی مختصر سی تحقیق پیش کررہاہوں کیوں کہ بعض لوگ لفظ "شین" کے رنگوں میں اخذ مشہور معنی کی وجہ سے اس جملے پر اعتراض کرتے ہیں
اعتراض یہ کیا جاتا ہے کہ لفظ"شین" پشتو زبان میں رنگوں میں" ہرے"رنگ کے لیے بھی استعمال کیا جاتا ہے جب کہ آسمانی رنگ "ہرا" نہیں ہے بلکہ" ہرے"رنگ کے قریب قریب بھی نہیں ہے ۔ تو پھر آسمان کو "شین آسمان "" ہرا آسمان" کیوں کہاجاتاہے ؟
یہ اعتراض تین طرح سے کیا جاتا ہے
نمبر ایک آسمانی رنگ کے لیے پشتو زبان میں کوئی لفظ موجود نہیں یعنی اس بات کو پشتو زبان کی تنگ دامنی سے تعبیر کیا جاتا ہے
نمبر دو پشتو زبان میں آسمانی رنگ کو "شین " "ہرا "رنگ کیوں کہاجاتا ہے ؟
نمبر تین اگر کسی اور رنگ کا نام بطور اسم مشترک (جیسا کہ لفظ "شین" کو"استعمال کرنا بھی تھا تو "الحق للقریب ثم للبعید"کے قاعدے کی وجہ سے آسمانی رنگ کو"نیلے"(جسے پشتو میں "شمندروزے" کہاجاتا ہے) کے قریب ہونے کی وجہ سے" شمند روزے آسمان " کیوں نہیں کہاجاتاہے ؟
اب آتے ہیں اعتراضات اور ان کے جوابات کی طرف
پہلے اعتراض کا جواب یہ ہے کہ یہ تنگ دامنی صرف پشتو زبان میں نہیں بلکہ بہت ساری زبانوں میں پائی جاتی ہے جیسا کہ یونانی ،جاپانی،عبرانی ،چائینی زبان اور بعض افریقی ممالک وغیرہ
نیزاس آسمانی رنگ کا نام تو صحیح طور پر اردو اوور ہندی زبانوں میں بھی موجود نہیں
(اور جو لفظ " نیلا " استعمال ہوتا ہے وہ بھی آسمان کے رنگ کانیلے رنگ کے قریب قریب ہونے کی وجہ سے استعمال ہوتا ہے ۔ وگرنہ نیلا (بلیو) اور آسمانی رنگ میں بڑا فرق ہے
(البتہ فی زماننا کچھ حد تک آسمانی رنگ بھی مستعمل ہے جو کوئی نام نہیں بلکہ رنگ کو آسمان کی طرف مضاف کیا جاتاہے)
مختلف زبانوں میں اس تنگ دامنی(آسمانی رنگ کا نام نہ ہونے ) کی وجہ اہل علم نے یہ بتائی ہے کہ ایک انسانی آنکھ جب شروع شروع میں اپنے اردگرد کے ماحول کودیکھتی ہے تو اسے سب سے پہلے دن رات کی وجہ سے "سفید اور سیاہ رنگ" سے واسطہ پڑتا ہے ۔ اس لیے ان دورنگوں کے نام بھی ہر زبان میں موجود ہیں پھر آگ ،سورج اور دھوپ وغیرہ کی وجہ سے رفتہ رفتہ "سرخ "اورپیلے" رنگ سے واسطہ پڑتا ہے پھر کھیتوں کی ہریالی یا سبزیوں کی وجہ سے "ہرے"رنگ سے واسطہ پڑتا ہے
اب" نیلے" کی رنگ باری اخیر میں آتی ہے پھر "آسمانی رنگ" بھی چونکہ نیلے رنگ کے قریب قریب ہے تو اس رنگ کا نمبر بھی اخیر میں آتا ہے جس کی وجہ سے اس رنگ کا نام اکثر زبانوں میں مفقود الاستعمال ہوگیاہے ۔
اب اگر کسی زبان میں اس رنگ کا نام موجود بھی ہے تو بھی مفقود الاستعمال ہونے کی وجہ سے لوگ اس نام سے ناواقف ہے۔
دوسرے اعتراض کا ایک جواب یہ ہے کہ ممکن ہوآسمانی رنگ کو "شین" اسم مشترک ہونے کی وجہ سے کہاجاتاہو یعنی ان دونوں رنگوں کے لیے یہ ایک نام استعمال ہوتا ہو ۔
(جیسا کہ اردو زبان میں لفظ "نیلا " بلوی اور آسمانی رنگ دونوں کے لیے استعمال ہوتا ہے )
وہ اس طور پر کہ مطلق اس نام سے رنگوں میں "ہرا" رنگ جب کہ رنگوں میں آسمان کی طرف نسبت کرنے سے اس سے آسمانی رنگ مراد لیا جاتاہو ۔ اور یہ اشتراک درست ہے کیوں کہ ہر زبان میں بہت سارے اسماء میں اشتراک پایا جاتا ہے اردو کی مثال تو یہاں پر ذکر بھی کردیا گیا
(لیکن اس جواب پر بھی دو طرح کے اعتراض پیدا ہوتے ہیں پہلا اعتراض مذکورہ بالا تین اعتراضوں میں تیسرے نمبر پر ذکر کردیا گیا ہے اور دوسرا اعتراض یہ ہے اسے اردو اسم مشترک لفظ "نیلے " پر قیاس نہیں کیا جاسکتا ہے کیوں کہ پشتو کی مثال میں اردو کی مثال کی طرح قرب نہیں بلکہ بعد ہے یعنی آسمانی رنگ نیلے کے قریب ہے جب کہ ہرے سے بعید (دور)ہے )
دوسرے اعتراض کا دوسرا جواب یہ ہے کہ آسمانی رنگ کے لیے پشتو میں آسمانی رنگ کا نام ہی استعمال ہوتا ہے جیسا کہ اردو میں بھی بعض لوگ استعمال کرتے ہیں اور لفظ "شین" سے یہاں آسمان کا رنگ مراد نہیں بلکہ یہ لوگوں کی غلط فہمی کی وجہ سے ایسا ہوا ہے اور اس نام کی نسبت سے اس کی بادلوں کے بغیرصاف کیفیت مراد لی جاتی ہے یعنی آسمان صاف ہے بادل نہیں
اس کی وجہ یہ ہے پشتون لفظ "شین" کو" ہرے"رنگ کے علاوہ صاف کے معنی میں بھی استعمال کرتے ہیں
مثالیں ملاحظہ کیجیے
گیرہ دی شنہ خرولی دہ
داڑھی صاف کرلی ہے /کلین شیو کیاہے
سر دی شین خرولے دے
بالوں کو صاف کیا ہے/ سر گنجا کیا ہے
درج بالا مثالوں کے بعد یہ بات بالکل واضح ہوجاتی ہے کہ لفظ "شین" سے ہرے رنگ کے علاوہ صاف کا معنی بھی مراد لیا جاتاہے نیز ممکن ہے کہ اس سے مزید معنی بھی مراد لیے جاتے ہوں جو محل بحث نہ ہونے کی وجہ سے اس کی تحقیق کو ترک کیا جارہا ہے
(یہاں پر دوسرے اعتراض کے دوسرے جواب پر ایک اور اعتراض کیا جاتاہے اور وہ یہ ہے کہ اس بات کی کیا دلیل ہے کہ پشتون "آسمان شین دے" میں "شین " سے صاف کا معنی مراد لیتے ہیں "ہرا" رنگ نہیں ؟
تو اس کا جواب یہ ہے کہ آسمان صاف ہواور بادل نہ ہو چلیں دن کو تو کہاجاسکتا ہے کہ آسمان کا رنگ نیلے رنگ کے قریب قریب ہے لیکن رات کو کون سا رنگ دکھتا ہے یعنی اگر کوئی رات کو آسمان کی طرف دیکھ کر کہے کہ "آسمان شین دے " تو اسے کون سا رنگ نظر آیا جس کی وہ خبر دے رہاہے
البتہ بادل ہے یا نہیں یہ چیز رات کو بھی معلوم ہوتی ہے جس کی وجہ سے بندہ رات کو بھی کہہ سکتا ہے کہ "آسمان شین دے " یعنی آسمان صاف ہے )
اور میں نے اپنے بڑوں کو بارہا رات کو بھی یہ کہتے سنا ہے کہ "آسمان شین دے "یعنی آسمان صاف ہے
اور دوسرے اعتراض کے جواب سے تیسرا اعتراض بھی ختم ہوجاتا ہے وہ اس طور پر کہ یہاں پر لفظ "شین " سے رنگ نہیں بلکہ صاف معنی مراد لیا جاتاہے اور جب "ہرا" رنگ کامعنی مراد نہیں تو اعتراض بھی باقی نہیں رہتا
اس لیےیہ بات ذہن نشین کرلینی چاہیے کہ "شین آسمان" سے "ہرا آسمان " نہیں بلکہ صاف آسمان مراد ہے اور آسمانی رنگ کے لیے جس طرح دیگر زبانوں میں کوئی لفظ وضع نہیں کیا گیا باالکل اسی طرح پشتو میں بھی اس کے لیے کوئی لفظ وضع نہیں کیا گیا
البتہ یہ کہنا غلط نہیں ہوگا کہ ممکن ہے آسمانی رنگ کے لیے کوئی نام مستعمل تو ہو لیکن مفقود الاستعمال کی وجہ سے ہمیں معلوم نہ ہو اس لیے فی زماننا اس رنگ کے لیے جو نام "آسمانی رنگ"(جو اردو (میں کم) اور ہندی (میں اکثر) دونوں زبانوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے ) مستعمل ہے وہی ہی استعمال کیا جائے البتہ ایک اور نام ہے جسے ضمنی اعتراضات میں ذکر کیا جائے گا ۔
کچھ ضمنی اعتراضات اور ان کے جوابات
یاد رہے کہ ان تمام اعتراضات کو اختصار کے ساتھ ذکر کیا جائے گا ۔ لہذا اختصارمیں کسی اعتراض کے غیر معقول ہونے کی وجہ سے یہ مطلب نہ لیا جائے کہ اعتراض لا یعنی ہے بلکہ اس کا مطلب یہ لیا جائے کہ اختصار سے اس کی روح وفات پاگئی ہے
البتہ اس کی نماز جنازہ نہیں ہوگی
:pagal:
اول اعتراض یہ ہے
کہ صاف ستھرے سمندر کے رنگ کی وجہ سے (کیوں کہ اس صورت میں پانی کا رنگ نیلا مائل ہوتا ہے )بعض شعراء نے آسمانی رنگ کو بھی "آبی"رنگ کہا ہے یعنی پانی والا رنگ
جیسا کہ میں عرض کرچکاہوں کہ یہاں پر اختصار کا دامن تھاما جائے گا لہذا اختصار کے ساتھ اتنا عرض کرتا چلوں کہ یہ نام مفقود الاستعمال ہے ممکن ہے پرانے وقتوں میں اس کا استعمال ہوتا ہو لیکن آج کل اس کا استعمال بہت ہی کم ہے
دوم اعتراض یہ ہے
کہ آسمانی رنگ کو "آبی " رنگ کہاجاتاہے اور بعض اوقات جب کسی جگہ پانی کو زیادہ عرصہ ہوجائے تو اس کا رنگ "ہرا" ہوجاتا ہے ممکن ہے اس مناسبت کی وجہ سے آسمانی رنگ کو پشتو میں"شین" "ہرا" کہا جاتاہو
اس کا جواب اختصار کا دامن تھامتے ہوئے یہی دیا جاسکتا ہے کہ یہ بات درست نہیں
سوم اعتراض یہ ہے
کہ ممکن ہے یہ جملہ "غلط العوام "ہو اور صحیح نام مفقود الاستعمال استعمال ہونے کی وجہ سے نہ استعمال ہوتا ہے
اس کا جواب یہ ہے ایسی بات نہیں بلکہ جملہ اکثر استعمال ہوتاہے اور ادباء کرام کی جماعت بھی اس کا استعمال کرتی ہے وہ الگ بات ہے کہ اس کا مفہوم ادباء کے نزدیک صحیح لیا جاتا ہے جب کہ عام طبقہ اس کی تمیز نہیں کرتا
چہارم اعتراض یہ ہے
کہ ممکن ہے یہ جملہ "غلط العوام " کے ساتھ "غلط العام" بھی ہو
اس کا جواب اول الذکر تین اعتراضات اور ان کے دوسرے جواب کی دوسری جزئی میں دیا گیا ہے پھر یہاں پر اعتراض کو الگ سے اس لیے ذکر کیا گیا ہے کہ اعتراض کی نوعیت کچھ اور تھی ۔
پنجم اعتراض یہ ہے
کہ نیلی آنکھوں والے کو پشتون "شین سترگے " کہتے ہیں جس سے یہی معلوم ہوتا ہے کہ لفظ "شین " جس طرح نیلی آنکھوں کے لیے استعمال ہوتا ہے اسی طرح آسمانی رنگ کے لیے بھی مستعمل ہے
اس کا مختصر جواب یہ ہے کہ یہ غلط العوام ہے ورنہ نیلی آنکھوں والو کو "آبی سترگے " یا انگلش کے لفظ "بلیو" کی وجہ سے "بلوری سترگے " نہ کہاجاتا
ششم اعتراض یہ ہے
کہ آباسین کے تمدن میں نیل کے درخت سے جو "نیل "نکلا تھا اس "نیل" کا رنگ اور آسمانی رنگ ایک دوسرے کے قریب ہونے کی وجہ سے آسمانی رنگ کو "نیل" یا" نیلا" رنگ کہاجاسکتا ہے۔
اس کا جواب یہ ہے کہ "نیل مواد" کو "نیل" کے درخت کی وجہ سے" نیل" کہاجاتاہے ممکن ہے کہ ہندی میں اس کی وجہ سے ہی نیلے رنگ کو یہی نام دیا گیا ہو اور پھر ہندی سے یہ نام اردو میں بھی آیا ہے لیکن پشتو میں یہ نام اس رنگ کے لیے مستعمل نہیں بلکہ پشتو میں اس رنگ کو "شمند روزے" کہاجاتا ہے
تو اگر پشتو زبان میں اس شئی کے رنگ کی وجہ سے اس شئی کا نام اس رنگ کے لیے وضع نہ کیا گیا تو پھر آسمانی رنگ جو اس رنگ سے قرب کا تعلق رکھتا ہے بعینہ یہی رنگ نہیں پھر کیسے آسمانی رنگ کو نیلا کہا جائے
اس سے بہتر نام تو آسمانی ہے کیوں کہ یہ نام ذات آسمان کی وجہ سے آسمانی رنگ کا زیادہ مناسب ہوگا
ساتواں اعتراض یہ ہے
کہ دریائے نیل کی مناسبت سے اس کا نام "نیل" یا " نیلا" رکھا جاسکتا ہے کیوں کہ پرانے دور کے بعض کاتبین سے" دریا ئے نیل " کا نام "شنہ سندھ(دریا)"ثابت ہے
اس کا ایک جواب یہ ہے کہ آسمانی رنگ کو "آبی رنگ" بھی کہاجاتا تھا اور آسمانی رنگ کو غلط فہمی کی وجہ سے "شین" رنگ بھی کہاجاتا ہے اب ہوا یہ ہوگا کہ کسی ایک شخص نے دریائے نیل کو "آبی سندھ" کہا ہوگا
دوسرے نے "آبی "کو آسمانی رنگ کی مناسبت سے" شین سندھ" کہا ہوگا اسی طرح یہ نام پرانے دور میں چلا ہوگا
اس کا دوسرا جواب یہ ہے کہ یہ ضروری نہیں کہ لفظ "شین " سے کوئی رنگ مراد ہو بلکہ ممکن ہے اس سے دریا نیل کا صاف شفاف ہونا ہونا مراد لیا جاتا ہو ماقبل میں لفظ "شین " سے صاف مراد لینے پر بحث کی جاچکی ہے اور اس پر دوسری دلیل یہ ہے کہ پشتون صاف چشمے کو "شین لحتے" کہتے ہیں اسی طرح صاف نہر کو "شین خوڑ" کہتے ہیں
مزید اور تفصیلی اعتراضات اس نام کی تفصیلی بحث میں ملاحظہ کیے جاسکتے ہیں
نوٹ : یہاں پر لفظ "شین" کو مشہور غلط العام صورت میں لکھا گیا ہے اصل میں یہ شین نہیں بلکہ "شِن "ہے یہ بحث "شنواری "قوم کے نام کے ضمن میں ذکر کی جائے گی
 
Last edited:

Doctor

★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Threads
324
Messages
2,496
Likes
3,054
Points
832
Location
Rawalpindi

UrduLover

★★★★★
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
479
Messages
2,244
Likes
1,614
Points
704
Location
Manchester U.K
#3
بہت تفصیلی ڈاک ہے۔سمجھنے کی کوشش جاری ہے
 

Abu Dujana

★★★★☆
Dynamic Brigade
Expert
Joined
Apr 25, 2018
Threads
56
Messages
686
Likes
709
Points
259
Location
Karachi, Pakistan
#4
آسمان شین دے۔۔۔۔ پر زبردست علمی بحث کی ہے۔۔
جزاک اللہ۔۔
 
Show only guests
Top