امیر باپ غریب باپ کتاب پر تبصرہ قسط اول

Afzal339

Thread Starter
★★★★★★
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Verified
Most Followers 59
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Messages
555
Reaction score
900
Points
717
Gold Coins
382.46
Silver Coins
5,444
Diamonds
0.02680
نوٹ
جو لوگ وقت کی کمی کی وجہ سے کتاب نہیں پڑھ سکتے وہ لوگ میری یہ تحریر پڑھ لیں تو بھی کسی نہ کسی حد تک کتاب نہ پڑھنے کی کمی پوری ہوجائے گی

کتاب کا نام
امیر باپ غریب باپ
مصنف کا نام
رابرٹ کیو ساکی
معاونہ کا نام
شیرن ایل
ایک ایسی کتاب جس میں اپنی معاشی حالت سدھارنے ، ہمیشہ امیر رہنے کے لیے درکار طریقے بتائے گئے ہیں
اس کتاب کے پڑھنے سے آپ اتنی ہی کمائی میں (جتنی میں آپ ایک عرصے سے اپنی حالت بہتر نہیں کرسکے)اپنی معاشی حالت بہتر کرپائیں گے۔
اس کتاب کو پڑھنے سے آپ میں معاملات کی ذمہ داری اٹھانے ، معاملات کو سنبھالنے اور پیسے کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے کا ملکہ پیدا ہوگا۔
اس کتاب کے پڑھنے سے پیسا کمانے کی اہلیت( وہ جو ہر انسان میں پوشیدہ رہتی ہے آپ اس )کو جگانے پر قادر ہوجائیں گے۔
اس کتاب کی غرض و غایت یہ ہے کہ کاروبار کریں چاہے اس کے لیے زیرو سے سٹارٹ لینا کیوں نہ پڑے
کچھ کتاب کے بارے میں
کتاب مصنف رابرٹ کیوساکی کے دوست کی بیوی اور اس نے ملکر ترتیب دی ہے
کتاب میں شروع کا مضمون تعار ف( جو ضرورت ہے کے عنوان سے منقول ہے) شیرن ایل کا ہے باقی کتاب رابرٹ کی ذاتی زندگی کی کہانی کے اردگرد گھومتی ہے رابرٹ کے غریب باپ سے سگا باپ مراد ہیں جب کہ امیر باپ سے روحانی باپ (استاد) ( جنھوں نے رابرٹ کیوسا کو کاروبار کے طور طریقے سکھائے ہیں) مراد ہیں
مترجم سے گزارشات
کتاب انگلش میں تھی جس کا اردو ترجمہ لکھا گیا ہے توسب سے پہلے تو مترجم کا شکریہ اداکروں گا کہ جن کی وجہ سے ہم اس کتاب کو پڑھ سکے ورنہ انگریزی میں میری طرح اوربھی بہت ساروں کے لیے اس کا سمجھنا مشکل تھا اس کے بعد چند غلطیوں کی نشاندہی کروں گا جو مترجم سے ہوئیں ہیں ۔
نمبر ایک کتاب کا نام انگلش میں ادبی ہے یا نہیں اس سے قطع نظر لیکن اردو ترجمہ میں بالکل ادبی نہیں وہ اس طرح کہ اہل اد ب والد کے لیے " باپ "کے بجائے والد کا نام ہی استعمال کرتے ہیں اس لیے مترجم نے یہاں پر یہ سہو کھائی ہے کہ" امیر والد اور غریب والد "کے بجائے "امیر باپ اور غریب باپ "لکھا ہے جو کہ معنا تو ٹھیک ہے لیکن ادب کے روء سے مناسب نہیں لگتا
نمبر دو مترجم نے صرف ترجمے پر ہی اکتفاء کیا ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ کتاب کا مقصد ، غرض وغایت اورمصنفین کے بارے میں مختصر تعارف بھی کروادیتے تو کتاب کو سمجھنے میں ایک عام قاری کو ابتداء میں ذہن سازی کرنا آسان ہوجاتا
نمبر تین تعارف میں "ضرورت ہے" کے عنوان سے جو مضمون لکھا ہے اس میں شروع میں مذکر کے صیغے لائے ہیں جب کہ تھوڑا سے آگے جاکر کتاب کے مصنف کی معاون شروع ہوجاتی ہے سمجھ یہ نہیں آتا کہ ماقبل کی تحریرکس کی ہے ؟
کتاب سے نقل بہترین اقوال
ایک اچھا کاروباری حساب کتاب میں اچھا ہونا چاہیے
ایک اچھے کاروباری کوسرمایہ کاری کی سدھ بدھ بھی ہونی چاہیے
ایک انسان کو کبھی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ فلاں کاروبار نہیں کرسکتا ہے
بلکہ اسے یہ سوچنا چاہیے کہ وہ اس کاروبار کو کرنے کے لائق کیسے بنے گا اور وہ کون سے ذرائع ہیں جن کے اختیار کرنے سے وہ کسی بھی کاروبار کو کرنے کے قابل ہوجائے گا
اس کتاب کے پڑھنے سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ امیر بننے کے لیے اعلی درجے کی تعلیم ضروری نہیں بلکہ درمیانی درجے کی تعلیم بھی چل سکتی ہے البتہ اچھی قسمت اور بہتر معاشی کنٹرول ضروری ہے ۔
بعض امیر غریب ہوکر بھی امیر رہتے ہیں جب کہ بعض غریب امیر ہو کر بھی غریب ہی رہتے ہیں غریب وہ نہیں جس کے پاس پیسا نہ ہو بلکہ غریب وہ ہے جو امیر بننے کی کوشش ترک کردے
زندگی ہی بہترین استاد ہے
بعض لوگوں کی محنت صرف پیسوں کے لیے ہوتی ہے جب کہ اصل یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ محنت سے پیسے کمانے کے طریقے بھی پیدا کرنے چاہیے ۔
تاکہ نہ صرف آپ کا بلکہ آپ کے ساتھ دیگر بہت سوں کا فائدہ بھی ہو
دنیا میں ایک اکثریت ان ناکام لوگوں کی بھی ہے جو کامیابی کے لیے اپنے سوا سب کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خود کو بدلنا دوسروں کے بنسبت زیادہ آسان ہے
تھوڑی تنخواہ انسان کو جتنا بہتر معاشی حالت سدھارنا سکھاتی ہے زیادہ تنخواہ شاید اسے یہ سبق نہ دے سکے
ایک اچھا کاروباری بننے کے لیے دماغ کا مثبت استعمال ہر دن کرناچاہیے
بہت سے دولت مند اس لیے دولت مند نہیں ہوتے کہ وہ خواہشات کے تسلط میں ہوتے ہیں
یہ بات اہم نہیں کہ آپ نے کاروبار کرکے کتنا پیسا کمایا البتہ یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ نے کتنا پیسا بچایاہے
امیر بننے کے لیے ضروری ہے کہ مالیاتی سوجھ بوجھ حاصل کی جائے
بہت سے اقتصادی مسائل تب جنم لیتے ہیں جب لوگ اچھی پلاننگ کے بغیر دوسروں کی اندھی تقلید میں چلنا شروع ہوتے ہیں
کاروبار اور پیشے میں فرق ہے لہذا ملازمت پیشہ کہلاتا ہے اور ملازمت والی جگہ کا مالک ہونا کاروبار کہلاتا ہے
مالیاتی تحفظ کے لیے ہر شخص کا ذاتی کاروبار ہونا چاہیے
اپنے اخراجات کو اعتدال میں رکھیں
والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کی کاروبار کے حوالے سے بھی تربیت کریں تاکہ انھیں مستقبل میں کوئی کاروباری پریشانی نہ ہو
ایک اچھا کاروباری دن کو نوکری کرکے رات کو اپنی کمپنی بناسکتا ہے
صاحب کتاب کی بعض باتوں کا تنقیدی جائزہ
مصنف نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ذہانت سے پیسا آتا ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں کیوں کہ ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر ذہین لوگ بے وقوف لوگوں کے ملازم ہوتے ہیں ۔ نیز اکثر امیر بے وقوف ہوتے ہیں ۔ یعنی پیسے کے آنے میں ذہانت کو زیادہ دخل نہیں ہوتا ۔بس تھوڑی بہت سوجھ بوجھ بھی کافی ہے نیز مصنف خود بھی صفحہ 95 پر لکھتا ہے کہ ایک (عام) ذہین آدمی اپنے سے زیادہ ذہین آدمی کو ملازم رکھتا ہے
مصنف نے اپنے مکان کو بوجھ سے تعبیر کیا یاد رہے کہ مصنف کی یہ بات امریکہ جیسے ملک میں تو ٹھیک ہوگی کیوں کہ وہاں شاید اپنے مکان کی صورت میں ٹیکس وغیرہ کا بوجھ کرایہ کی نسبت برابر ہولیکن پاکستان میں اپنا گھر ہونا بہت ضروری ہے اور پاکستان میں اپنا گھر مالی بوجھ نہیں بلکہ مالی آسانی ہے
مصنف کے مذہب کا تو مجھے پتا نہیں لیکن اس کی تصنیف سے پتا چل رہاہے کہ یہ شخص یہودی ہے کیوں کہ ایک جگہ لکھتا ہے کہ جب تمھارے اثاثوں میں ڈالر داخل ہوجائے تو اسے باہر نہ نکلنے دے حالانکہ یہ چیز کاروبار کے گردشی اصول کےسخت خلاف ہے یعنی کبھی بھی روپے پیسے پر سانپ بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے کیوں کہ اس صورت میں نہ آپ کا فائدہ ہوگا اور دوسروں کا ہوگا ۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ روپے پیسوں کو گردش دیا کریں ۔ اس کی لمبی تفصیل ہے جو یہاں رقم کرنا ممکن نہیں
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی قسط اسی طرز پر لکھی جائے گی​
 

Doctor

★★★★★★
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
Verified
Merchant
King of Alkamunia
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
Top Poster
ITD Developer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
10,512
Reaction score
12,850
Points
1,958
Age
46
Location
Rawalpindi
Gold Coins
4.43
Silver Coins
98,296
Diamonds
0.00080
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
بہت اچھی کتاب شیئر کی ہے آپ نے افضل بھائی میں نے سوچا کہ اسے درسگاہ پر ہی پڑھنے کے لئے دستیاب کردیں تو زیادہ بہتر ہے اس لئے یہ کتاب یہیں پیش خدمت ہے
امید ہے مجھ سمیت تمام دوست اس سے بھرپور استفادہ حاصل کریں گے

Please wait! while the book is loading

 

Abu Dujana

★★★★★★
Charismatic
Expert
Popular
Verified
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Messages
873
Reaction score
1,265
Points
634
Location
Karachi, Pakistan
Gold Coins
90.63
Silver Coins
20
Diamonds
0.01520
ارے واہ۔۔۔
اتنی زبردست کتاب ہے۔۔کمال کردیا آپ نے۔۔
اور ڈاکٹر صاحب نے تو سونے پہ سہاگہ والا کام کردیا۔۔۔
بس کہیں آنے جانے کی بھی ضرورت نہیں۔۔
یہی کچھ نہ کچھ پڑھ لیا کریں گے۔۔
:)
 

PakArt UrduLover

Staff member
★★★★★★
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
Verified
ITD Intrinsic Person
ITD Well Wishir
ITD Fan Fictionest
ITD Solo Person
ITD Observer
ITD Supporter
Persistent Person
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Messages
7,668
Reaction score
6,951
Points
1,775
Location
Manchester U.K
Gold Coins
500.90
Silver Coins
29,381
Diamonds
1.10870
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.

PakArt UrduLover

Staff member
★★★★★★
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
Verified
ITD Intrinsic Person
ITD Well Wishir
ITD Fan Fictionest
ITD Solo Person
ITD Observer
ITD Supporter
Persistent Person
Top Threads Starter
Joined
May 9, 2018
Messages
7,668
Reaction score
6,951
Points
1,775
Location
Manchester U.K
Gold Coins
500.90
Silver Coins
29,381
Diamonds
1.10870
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Thread Highlight Unlimited
Permanently Change Username Color & Style.
نوٹ
جو لوگ وقت کی کمی کی وجہ سے کتاب نہیں پڑھ سکتے وہ لوگ میری یہ تحریر پڑھ لیں تو بھی کسی نہ کسی حد تک کتاب نہ پڑھنے کی کمی پوری ہوجائے گی

کتاب کا نام
امیر باپ غریب باپ
مصنف کا نام
رابرٹ کیو ساکی
معاونہ کا نام
شیرن ایل
ایک ایسی کتاب جس میں اپنی معاشی حالت سدھارنے ، ہمیشہ امیر رہنے کے لیے درکار طریقے بتائے گئے ہیں
اس کتاب کے پڑھنے سے آپ اتنی ہی کمائی میں (جتنی میں آپ ایک عرصے سے اپنی حالت بہتر نہیں کرسکے)اپنی معاشی حالت بہتر کرپائیں گے۔
اس کتاب کو پڑھنے سے آپ میں معاملات کی ذمہ داری اٹھانے ، معاملات کو سنبھالنے اور پیسے کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے کا ملکہ پیدا ہوگا۔
اس کتاب کے پڑھنے سے پیسا کمانے کی اہلیت( وہ جو ہر انسان میں پوشیدہ رہتی ہے آپ اس )کو جگانے پر قادر ہوجائیں گے۔
اس کتاب کی غرض و غایت یہ ہے کہ کاروبار کریں چاہے اس کے لیے زیرو سے سٹارٹ لینا کیوں نہ پڑے
کچھ کتاب کے بارے میں
کتاب مصنف رابرٹ کیوساکی کے دوست کی بیوی اور اس نے ملکر ترتیب دی ہے
کتاب میں شروع کا مضمون تعار ف( جو ضرورت ہے کے عنوان سے منقول ہے) شیرن ایل کا ہے باقی کتاب رابرٹ کی ذاتی زندگی کی کہانی کے اردگرد گھومتی ہے رابرٹ کے غریب باپ سے سگا باپ مراد ہیں جب کہ امیر باپ سے روحانی باپ (استاد) ( جنھوں نے رابرٹ کیوسا کو کاروبار کے طور طریقے سکھائے ہیں) مراد ہیں
مترجم سے گزارشات
کتاب انگلش میں تھی جس کا اردو ترجمہ لکھا گیا ہے توسب سے پہلے تو مترجم کا شکریہ اداکروں گا کہ جن کی وجہ سے ہم اس کتاب کو پڑھ سکے ورنہ انگریزی میں میری طرح اوربھی بہت ساروں کے لیے اس کا سمجھنا مشکل تھا اس کے بعد چند غلطیوں کی نشاندہی کروں گا جو مترجم سے ہوئیں ہیں ۔
نمبر ایک کتاب کا نام انگلش میں ادبی ہے یا نہیں اس سے قطع نظر لیکن اردو ترجمہ میں بالکل ادبی نہیں وہ اس طرح کہ اہل اد ب والد کے لیے " باپ "کے بجائے والد کا نام ہی استعمال کرتے ہیں اس لیے مترجم نے یہاں پر یہ سہو کھائی ہے کہ" امیر والد اور غریب والد "کے بجائے "امیر باپ اور غریب باپ "لکھا ہے جو کہ معنا تو ٹھیک ہے لیکن ادب کے روء سے مناسب نہیں لگتا
نمبر دو مترجم نے صرف ترجمے پر ہی اکتفاء کیا ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ کتاب کا مقصد ، غرض وغایت اورمصنفین کے بارے میں مختصر تعارف بھی کروادیتے تو کتاب کو سمجھنے میں ایک عام قاری کو ابتداء میں ذہن سازی کرنا آسان ہوجاتا
نمبر تین تعارف میں "ضرورت ہے" کے عنوان سے جو مضمون لکھا ہے اس میں شروع میں مذکر کے صیغے لائے ہیں جب کہ تھوڑا سے آگے جاکر کتاب کے مصنف کی معاون شروع ہوجاتی ہے سمجھ یہ نہیں آتا کہ ماقبل کی تحریرکس کی ہے ؟
کتاب سے نقل بہترین اقوال
ایک اچھا کاروباری حساب کتاب میں اچھا ہونا چاہیے
ایک اچھے کاروباری کوسرمایہ کاری کی سدھ بدھ بھی ہونی چاہیے
ایک انسان کو کبھی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ فلاں کاروبار نہیں کرسکتا ہے
بلکہ اسے یہ سوچنا چاہیے کہ وہ اس کاروبار کو کرنے کے لائق کیسے بنے گا اور وہ کون سے ذرائع ہیں جن کے اختیار کرنے سے وہ کسی بھی کاروبار کو کرنے کے قابل ہوجائے گا
اس کتاب کے پڑھنے سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ امیر بننے کے لیے اعلی درجے کی تعلیم ضروری نہیں بلکہ درمیانی درجے کی تعلیم بھی چل سکتی ہے البتہ اچھی قسمت اور بہتر معاشی کنٹرول ضروری ہے ۔
بعض امیر غریب ہوکر بھی امیر رہتے ہیں جب کہ بعض غریب امیر ہو کر بھی غریب ہی رہتے ہیں غریب وہ نہیں جس کے پاس پیسا نہ ہو بلکہ غریب وہ ہے جو امیر بننے کی کوشش ترک کردے
زندگی ہی بہترین استاد ہے
بعض لوگوں کی محنت صرف پیسوں کے لیے ہوتی ہے جب کہ اصل یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ محنت سے پیسے کمانے کے طریقے بھی پیدا کرنے چاہیے ۔
تاکہ نہ صرف آپ کا بلکہ آپ کے ساتھ دیگر بہت سوں کا فائدہ بھی ہو
دنیا میں ایک اکثریت ان ناکام لوگوں کی بھی ہے جو کامیابی کے لیے اپنے سوا سب کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خود کو بدلنا دوسروں کے بنسبت زیادہ آسان ہے
تھوڑی تنخواہ انسان کو جتنا بہتر معاشی حالت سدھارنا سکھاتی ہے زیادہ تنخواہ شاید اسے یہ سبق نہ دے سکے
ایک اچھا کاروباری بننے کے لیے دماغ کا مثبت استعمال ہر دن کرناچاہیے
بہت سے دولت مند اس لیے دولت مند نہیں ہوتے کہ وہ خواہشات کے تسلط میں ہوتے ہیں
یہ بات اہم نہیں کہ آپ نے کاروبار کرکے کتنا پیسا کمایا البتہ یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ نے کتنا پیسا بچایاہے
امیر بننے کے لیے ضروری ہے کہ مالیاتی سوجھ بوجھ حاصل کی جائے
بہت سے اقتصادی مسائل تب جنم لیتے ہیں جب لوگ اچھی پلاننگ کے بغیر دوسروں کی اندھی تقلید میں چلنا شروع ہوتے ہیں
کاروبار اور پیشے میں فرق ہے لہذا ملازمت پیشہ کہلاتا ہے اور ملازمت والی جگہ کا مالک ہونا کاروبار کہلاتا ہے
مالیاتی تحفظ کے لیے ہر شخص کا ذاتی کاروبار ہونا چاہیے
اپنے اخراجات کو اعتدال میں رکھیں
والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کی کاروبار کے حوالے سے بھی تربیت کریں تاکہ انھیں مستقبل میں کوئی کاروباری پریشانی نہ ہو
ایک اچھا کاروباری دن کو نوکری کرکے رات کو اپنی کمپنی بناسکتا ہے
صاحب کتاب کی بعض باتوں کا تنقیدی جائزہ
مصنف نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ذہانت سے پیسا آتا ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں کیوں کہ ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر ذہین لوگ بے وقوف لوگوں کے ملازم ہوتے ہیں ۔ نیز اکثر امیر بے وقوف ہوتے ہیں ۔ یعنی پیسے کے آنے میں ذہانت کو زیادہ دخل نہیں ہوتا ۔بس تھوڑی بہت سوجھ بوجھ بھی کافی ہے نیز مصنف خود بھی صفحہ 95 پر لکھتا ہے کہ ایک (عام) ذہین آدمی اپنے سے زیادہ ذہین آدمی کو ملازم رکھتا ہے
مصنف نے اپنے مکان کو بوجھ سے تعبیر کیا یاد رہے کہ مصنف کی یہ بات امریکہ جیسے ملک میں تو ٹھیک ہوگی کیوں کہ وہاں شاید اپنے مکان کی صورت میں ٹیکس وغیرہ کا بوجھ کرایہ کی نسبت برابر ہولیکن پاکستان میں اپنا گھر ہونا بہت ضروری ہے اور پاکستان میں اپنا گھر مالی بوجھ نہیں بلکہ مالی آسانی ہے
مصنف کے مذہب کا تو مجھے پتا نہیں لیکن اس کی تصنیف سے پتا چل رہاہے کہ یہ شخص یہودی ہے کیوں کہ ایک جگہ لکھتا ہے کہ جب تمھارے اثاثوں میں ڈالر داخل ہوجائے تو اسے باہر نہ نکلنے دے حالانکہ یہ چیز کاروبار کے گردشی اصول کےسخت خلاف ہے یعنی کبھی بھی روپے پیسے پر سانپ بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے کیوں کہ اس صورت میں نہ آپ کا فائدہ ہوگا اور دوسروں کا ہوگا ۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ روپے پیسوں کو گردش دیا کریں ۔ اس کی لمبی تفصیل ہے جو یہاں رقم کرنا ممکن نہیں
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی قسط اسی طرز پر لکھی جائے گی​
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی قسط اسی طرز پر لکھی جائے گی

اگلی قسط کا انتطار ہے
 
Joined
Aug 2, 2018
Messages
542
Reaction score
433
Points
450
Location
Dera Ismail Khan KPK
Gold Coins
0.36
Silver Coins
686
Diamonds
0.01310
سب کچھ ٹھیک تھا ۔ اگر کاروبار کرنا ہے تو نبی پاک کے شاگر د عبدالرحمان بن عوف کی زندگی پڑھ لیں تو شاید اوپر لکھا گیا یہ سب کچھ کم تر دیکھائی دے گا۔جب عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ فوت ہوے تو ان کے پاس اتنی زیادہ نقدی اور جائیداد تھی کہ آج کسی ملک کا اتنا سالانہ بجٹ بھی نہیں ہوتا۔
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock
No Thanks