امیر باپ غریب باپ کتاب پر تبصرہ قسط اول

Afzal339

Thread Starter
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
Designer
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
513
Reaction score
770
Points
562
Gold Coins
76.50
Silver Coins
751.78
Diamonds
0.00
نوٹ
جو لوگ وقت کی کمی کی وجہ سے کتاب نہیں پڑھ سکتے وہ لوگ میری یہ تحریر پڑھ لیں تو بھی کسی نہ کسی حد تک کتاب نہ پڑھنے کی کمی پوری ہوجائے گی

کتاب کا نام
امیر باپ غریب باپ
مصنف کا نام
رابرٹ کیو ساکی
معاونہ کا نام
شیرن ایل
ایک ایسی کتاب جس میں اپنی معاشی حالت سدھارنے ، ہمیشہ امیر رہنے کے لیے درکار طریقے بتائے گئے ہیں
اس کتاب کے پڑھنے سے آپ اتنی ہی کمائی میں (جتنی میں آپ ایک عرصے سے اپنی حالت بہتر نہیں کرسکے)اپنی معاشی حالت بہتر کرپائیں گے۔
اس کتاب کو پڑھنے سے آپ میں معاملات کی ذمہ داری اٹھانے ، معاملات کو سنبھالنے اور پیسے کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے کا ملکہ پیدا ہوگا۔
اس کتاب کے پڑھنے سے پیسا کمانے کی اہلیت( وہ جو ہر انسان میں پوشیدہ رہتی ہے آپ اس )کو جگانے پر قادر ہوجائیں گے۔
اس کتاب کی غرض و غایت یہ ہے کہ کاروبار کریں چاہے اس کے لیے زیرو سے سٹارٹ لینا کیوں نہ پڑے
کچھ کتاب کے بارے میں
کتاب مصنف رابرٹ کیوساکی کے دوست کی بیوی اور اس نے ملکر ترتیب دی ہے
کتاب میں شروع کا مضمون تعار ف( جو ضرورت ہے کے عنوان سے منقول ہے) شیرن ایل کا ہے باقی کتاب رابرٹ کی ذاتی زندگی کی کہانی کے اردگرد گھومتی ہے رابرٹ کے غریب باپ سے سگا باپ مراد ہیں جب کہ امیر باپ سے روحانی باپ (استاد) ( جنھوں نے رابرٹ کیوسا کو کاروبار کے طور طریقے سکھائے ہیں) مراد ہیں
مترجم سے گزارشات
کتاب انگلش میں تھی جس کا اردو ترجمہ لکھا گیا ہے توسب سے پہلے تو مترجم کا شکریہ اداکروں گا کہ جن کی وجہ سے ہم اس کتاب کو پڑھ سکے ورنہ انگریزی میں میری طرح اوربھی بہت ساروں کے لیے اس کا سمجھنا مشکل تھا اس کے بعد چند غلطیوں کی نشاندہی کروں گا جو مترجم سے ہوئیں ہیں ۔
نمبر ایک کتاب کا نام انگلش میں ادبی ہے یا نہیں اس سے قطع نظر لیکن اردو ترجمہ میں بالکل ادبی نہیں وہ اس طرح کہ اہل اد ب والد کے لیے " باپ "کے بجائے والد کا نام ہی استعمال کرتے ہیں اس لیے مترجم نے یہاں پر یہ سہو کھائی ہے کہ" امیر والد اور غریب والد "کے بجائے "امیر باپ اور غریب باپ "لکھا ہے جو کہ معنا تو ٹھیک ہے لیکن ادب کے روء سے مناسب نہیں لگتا
نمبر دو مترجم نے صرف ترجمے پر ہی اکتفاء کیا ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ کتاب کا مقصد ، غرض وغایت اورمصنفین کے بارے میں مختصر تعارف بھی کروادیتے تو کتاب کو سمجھنے میں ایک عام قاری کو ابتداء میں ذہن سازی کرنا آسان ہوجاتا
نمبر تین تعارف میں "ضرورت ہے" کے عنوان سے جو مضمون لکھا ہے اس میں شروع میں مذکر کے صیغے لائے ہیں جب کہ تھوڑا سے آگے جاکر کتاب کے مصنف کی معاون شروع ہوجاتی ہے سمجھ یہ نہیں آتا کہ ماقبل کی تحریرکس کی ہے ؟
کتاب سے نقل بہترین اقوال
ایک اچھا کاروباری حساب کتاب میں اچھا ہونا چاہیے
ایک اچھے کاروباری کوسرمایہ کاری کی سدھ بدھ بھی ہونی چاہیے
ایک انسان کو کبھی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ فلاں کاروبار نہیں کرسکتا ہے
بلکہ اسے یہ سوچنا چاہیے کہ وہ اس کاروبار کو کرنے کے لائق کیسے بنے گا اور وہ کون سے ذرائع ہیں جن کے اختیار کرنے سے وہ کسی بھی کاروبار کو کرنے کے قابل ہوجائے گا
اس کتاب کے پڑھنے سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ امیر بننے کے لیے اعلی درجے کی تعلیم ضروری نہیں بلکہ درمیانی درجے کی تعلیم بھی چل سکتی ہے البتہ اچھی قسمت اور بہتر معاشی کنٹرول ضروری ہے ۔
بعض امیر غریب ہوکر بھی امیر رہتے ہیں جب کہ بعض غریب امیر ہو کر بھی غریب ہی رہتے ہیں غریب وہ نہیں جس کے پاس پیسا نہ ہو بلکہ غریب وہ ہے جو امیر بننے کی کوشش ترک کردے
زندگی ہی بہترین استاد ہے
بعض لوگوں کی محنت صرف پیسوں کے لیے ہوتی ہے جب کہ اصل یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ محنت سے پیسے کمانے کے طریقے بھی پیدا کرنے چاہیے ۔
تاکہ نہ صرف آپ کا بلکہ آپ کے ساتھ دیگر بہت سوں کا فائدہ بھی ہو
دنیا میں ایک اکثریت ان ناکام لوگوں کی بھی ہے جو کامیابی کے لیے اپنے سوا سب کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خود کو بدلنا دوسروں کے بنسبت زیادہ آسان ہے
تھوڑی تنخواہ انسان کو جتنا بہتر معاشی حالت سدھارنا سکھاتی ہے زیادہ تنخواہ شاید اسے یہ سبق نہ دے سکے
ایک اچھا کاروباری بننے کے لیے دماغ کا مثبت استعمال ہر دن کرناچاہیے
بہت سے دولت مند اس لیے دولت مند نہیں ہوتے کہ وہ خواہشات کے تسلط میں ہوتے ہیں
یہ بات اہم نہیں کہ آپ نے کاروبار کرکے کتنا پیسا کمایا البتہ یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ نے کتنا پیسا بچایاہے
امیر بننے کے لیے ضروری ہے کہ مالیاتی سوجھ بوجھ حاصل کی جائے
بہت سے اقتصادی مسائل تب جنم لیتے ہیں جب لوگ اچھی پلاننگ کے بغیر دوسروں کی اندھی تقلید میں چلنا شروع ہوتے ہیں
کاروبار اور پیشے میں فرق ہے لہذا ملازمت پیشہ کہلاتا ہے اور ملازمت والی جگہ کا مالک ہونا کاروبار کہلاتا ہے
مالیاتی تحفظ کے لیے ہر شخص کا ذاتی کاروبار ہونا چاہیے
اپنے اخراجات کو اعتدال میں رکھیں
والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کی کاروبار کے حوالے سے بھی تربیت کریں تاکہ انھیں مستقبل میں کوئی کاروباری پریشانی نہ ہو
ایک اچھا کاروباری دن کو نوکری کرکے رات کو اپنی کمپنی بناسکتا ہے
صاحب کتاب کی بعض باتوں کا تنقیدی جائزہ
مصنف نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ذہانت سے پیسا آتا ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں کیوں کہ ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر ذہین لوگ بے وقوف لوگوں کے ملازم ہوتے ہیں ۔ نیز اکثر امیر بے وقوف ہوتے ہیں ۔ یعنی پیسے کے آنے میں ذہانت کو زیادہ دخل نہیں ہوتا ۔بس تھوڑی بہت سوجھ بوجھ بھی کافی ہے نیز مصنف خود بھی صفحہ 95 پر لکھتا ہے کہ ایک (عام) ذہین آدمی اپنے سے زیادہ ذہین آدمی کو ملازم رکھتا ہے
مصنف نے اپنے مکان کو بوجھ سے تعبیر کیا یاد رہے کہ مصنف کی یہ بات امریکہ جیسے ملک میں تو ٹھیک ہوگی کیوں کہ وہاں شاید اپنے مکان کی صورت میں ٹیکس وغیرہ کا بوجھ کرایہ کی نسبت برابر ہولیکن پاکستان میں اپنا گھر ہونا بہت ضروری ہے اور پاکستان میں اپنا گھر مالی بوجھ نہیں بلکہ مالی آسانی ہے
مصنف کے مذہب کا تو مجھے پتا نہیں لیکن اس کی تصنیف سے پتا چل رہاہے کہ یہ شخص یہودی ہے کیوں کہ ایک جگہ لکھتا ہے کہ جب تمھارے اثاثوں میں ڈالر داخل ہوجائے تو اسے باہر نہ نکلنے دے حالانکہ یہ چیز کاروبار کے گردشی اصول کےسخت خلاف ہے یعنی کبھی بھی روپے پیسے پر سانپ بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے کیوں کہ اس صورت میں نہ آپ کا فائدہ ہوگا اور دوسروں کا ہوگا ۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ روپے پیسوں کو گردش دیا کریں ۔ اس کی لمبی تفصیل ہے جو یہاں رقم کرنا ممکن نہیں
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی قسط اسی طرز پر لکھی جائے گی​
 

Doctor

★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Most Helpful
Developer
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
5,714
Reaction score
7,020
Points
2,627
Location
Rawalpindi - Punjab - Pakistan
Gold Coins
5.98
Silver Coins
472.40
Diamonds
0.00
Thread Highlight Unlimited
Single Thread Highlight for 1 Week.
Change Username Style.
Please, Log in or Register to view URLs content!
اچھی کتاب شیئر کی ہے آپ نے افضل بھائی میں نے سوچا کہ اسے درسگاہ پر ہی پڑھنے کے لئے دستیاب کردیں تو زیادہ بہتر ہے اس لئے یہ کتاب یہیں پیش خدمت ہے
امید ہے مجھ سمیت تمام دوست اس سے بھرپور استفادہ حاصل کریں گے

Please, Log in or Register to view URLs content!
 

Abu Dujana

★★★★★★
Dynamic Brigade
Expert
Joined
Apr 25, 2018
Messages
795
Reaction score
982
Points
444
Location
Karachi, Pakistan
Gold Coins
44.00
Silver Coins
1,040.59
Diamonds
0.00
ارے واہ۔۔۔
اتنی زبردست کتاب ہے۔۔کمال کردیا آپ نے۔۔
اور ڈاکٹر صاحب نے تو سونے پہ سہاگہ والا کام کردیا۔۔۔
بس کہیں آنے جانے کی بھی ضرورت نہیں۔۔
یہی کچھ نہ کچھ پڑھ لیا کریں گے۔۔
:)
 

PakArt UrduLover

Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,662
Reaction score
3,762
Points
2,237
Location
Manchester U.K
Gold Coins
434.30
Silver Coins
12,599.38
Diamonds
1.00
اگلی قسط اسی طرز پر لکھی جائے گی
ہم بے قراری کیساتھ انتطار کر رہے ہیں۔
 

PakArt UrduLover

Staff member
★★★★★★
Most Valuable
Most Popular
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Expert
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
4,662
Reaction score
3,762
Points
2,237
Location
Manchester U.K
Gold Coins
434.30
Silver Coins
12,599.38
Diamonds
1.00
نوٹ
جو لوگ وقت کی کمی کی وجہ سے کتاب نہیں پڑھ سکتے وہ لوگ میری یہ تحریر پڑھ لیں تو بھی کسی نہ کسی حد تک کتاب نہ پڑھنے کی کمی پوری ہوجائے گی

کتاب کا نام
امیر باپ غریب باپ
مصنف کا نام
رابرٹ کیو ساکی
معاونہ کا نام
شیرن ایل
ایک ایسی کتاب جس میں اپنی معاشی حالت سدھارنے ، ہمیشہ امیر رہنے کے لیے درکار طریقے بتائے گئے ہیں
اس کتاب کے پڑھنے سے آپ اتنی ہی کمائی میں (جتنی میں آپ ایک عرصے سے اپنی حالت بہتر نہیں کرسکے)اپنی معاشی حالت بہتر کرپائیں گے۔
اس کتاب کو پڑھنے سے آپ میں معاملات کی ذمہ داری اٹھانے ، معاملات کو سنبھالنے اور پیسے کو بہتر طریقے سے کنٹرول کرنے کا ملکہ پیدا ہوگا۔
اس کتاب کے پڑھنے سے پیسا کمانے کی اہلیت( وہ جو ہر انسان میں پوشیدہ رہتی ہے آپ اس )کو جگانے پر قادر ہوجائیں گے۔
اس کتاب کی غرض و غایت یہ ہے کہ کاروبار کریں چاہے اس کے لیے زیرو سے سٹارٹ لینا کیوں نہ پڑے
کچھ کتاب کے بارے میں
کتاب مصنف رابرٹ کیوساکی کے دوست کی بیوی اور اس نے ملکر ترتیب دی ہے
کتاب میں شروع کا مضمون تعار ف( جو ضرورت ہے کے عنوان سے منقول ہے) شیرن ایل کا ہے باقی کتاب رابرٹ کی ذاتی زندگی کی کہانی کے اردگرد گھومتی ہے رابرٹ کے غریب باپ سے سگا باپ مراد ہیں جب کہ امیر باپ سے روحانی باپ (استاد) ( جنھوں نے رابرٹ کیوسا کو کاروبار کے طور طریقے سکھائے ہیں) مراد ہیں
مترجم سے گزارشات
کتاب انگلش میں تھی جس کا اردو ترجمہ لکھا گیا ہے توسب سے پہلے تو مترجم کا شکریہ اداکروں گا کہ جن کی وجہ سے ہم اس کتاب کو پڑھ سکے ورنہ انگریزی میں میری طرح اوربھی بہت ساروں کے لیے اس کا سمجھنا مشکل تھا اس کے بعد چند غلطیوں کی نشاندہی کروں گا جو مترجم سے ہوئیں ہیں ۔
نمبر ایک کتاب کا نام انگلش میں ادبی ہے یا نہیں اس سے قطع نظر لیکن اردو ترجمہ میں بالکل ادبی نہیں وہ اس طرح کہ اہل اد ب والد کے لیے " باپ "کے بجائے والد کا نام ہی استعمال کرتے ہیں اس لیے مترجم نے یہاں پر یہ سہو کھائی ہے کہ" امیر والد اور غریب والد "کے بجائے "امیر باپ اور غریب باپ "لکھا ہے جو کہ معنا تو ٹھیک ہے لیکن ادب کے روء سے مناسب نہیں لگتا
نمبر دو مترجم نے صرف ترجمے پر ہی اکتفاء کیا ہے کیا ہی اچھا ہوتا کہ کتاب کا مقصد ، غرض وغایت اورمصنفین کے بارے میں مختصر تعارف بھی کروادیتے تو کتاب کو سمجھنے میں ایک عام قاری کو ابتداء میں ذہن سازی کرنا آسان ہوجاتا
نمبر تین تعارف میں "ضرورت ہے" کے عنوان سے جو مضمون لکھا ہے اس میں شروع میں مذکر کے صیغے لائے ہیں جب کہ تھوڑا سے آگے جاکر کتاب کے مصنف کی معاون شروع ہوجاتی ہے سمجھ یہ نہیں آتا کہ ماقبل کی تحریرکس کی ہے ؟
کتاب سے نقل بہترین اقوال
ایک اچھا کاروباری حساب کتاب میں اچھا ہونا چاہیے
ایک اچھے کاروباری کوسرمایہ کاری کی سدھ بدھ بھی ہونی چاہیے
ایک انسان کو کبھی یہ نہیں سوچنا چاہیے کہ وہ فلاں کاروبار نہیں کرسکتا ہے
بلکہ اسے یہ سوچنا چاہیے کہ وہ اس کاروبار کو کرنے کے لائق کیسے بنے گا اور وہ کون سے ذرائع ہیں جن کے اختیار کرنے سے وہ کسی بھی کاروبار کو کرنے کے قابل ہوجائے گا
اس کتاب کے پڑھنے سے یہ بات بھی معلوم ہوئی ہے کہ امیر بننے کے لیے اعلی درجے کی تعلیم ضروری نہیں بلکہ درمیانی درجے کی تعلیم بھی چل سکتی ہے البتہ اچھی قسمت اور بہتر معاشی کنٹرول ضروری ہے ۔
بعض امیر غریب ہوکر بھی امیر رہتے ہیں جب کہ بعض غریب امیر ہو کر بھی غریب ہی رہتے ہیں غریب وہ نہیں جس کے پاس پیسا نہ ہو بلکہ غریب وہ ہے جو امیر بننے کی کوشش ترک کردے
زندگی ہی بہترین استاد ہے
بعض لوگوں کی محنت صرف پیسوں کے لیے ہوتی ہے جب کہ اصل یہ ہے کہ اس کے ساتھ ساتھ محنت سے پیسے کمانے کے طریقے بھی پیدا کرنے چاہیے ۔
تاکہ نہ صرف آپ کا بلکہ آپ کے ساتھ دیگر بہت سوں کا فائدہ بھی ہو
دنیا میں ایک اکثریت ان ناکام لوگوں کی بھی ہے جو کامیابی کے لیے اپنے سوا سب کو بدلنے کی کوشش کرتے ہیں جب کہ حقیقت یہ ہے کہ خود کو بدلنا دوسروں کے بنسبت زیادہ آسان ہے
تھوڑی تنخواہ انسان کو جتنا بہتر معاشی حالت سدھارنا سکھاتی ہے زیادہ تنخواہ شاید اسے یہ سبق نہ دے سکے
ایک اچھا کاروباری بننے کے لیے دماغ کا مثبت استعمال ہر دن کرناچاہیے
بہت سے دولت مند اس لیے دولت مند نہیں ہوتے کہ وہ خواہشات کے تسلط میں ہوتے ہیں
یہ بات اہم نہیں کہ آپ نے کاروبار کرکے کتنا پیسا کمایا البتہ یہ بات بہت اہم ہے کہ آپ نے کتنا پیسا بچایاہے
امیر بننے کے لیے ضروری ہے کہ مالیاتی سوجھ بوجھ حاصل کی جائے
بہت سے اقتصادی مسائل تب جنم لیتے ہیں جب لوگ اچھی پلاننگ کے بغیر دوسروں کی اندھی تقلید میں چلنا شروع ہوتے ہیں
کاروبار اور پیشے میں فرق ہے لہذا ملازمت پیشہ کہلاتا ہے اور ملازمت والی جگہ کا مالک ہونا کاروبار کہلاتا ہے
مالیاتی تحفظ کے لیے ہر شخص کا ذاتی کاروبار ہونا چاہیے
اپنے اخراجات کو اعتدال میں رکھیں
والدین کو چاہیے کہ اپنی اولاد کی کاروبار کے حوالے سے بھی تربیت کریں تاکہ انھیں مستقبل میں کوئی کاروباری پریشانی نہ ہو
ایک اچھا کاروباری دن کو نوکری کرکے رات کو اپنی کمپنی بناسکتا ہے
صاحب کتاب کی بعض باتوں کا تنقیدی جائزہ
مصنف نے ایک جگہ لکھا ہے کہ ذہانت سے پیسا آتا ہے حالانکہ یہ بات درست نہیں کیوں کہ ہم نے دیکھا ہے کہ اکثر ذہین لوگ بے وقوف لوگوں کے ملازم ہوتے ہیں ۔ نیز اکثر امیر بے وقوف ہوتے ہیں ۔ یعنی پیسے کے آنے میں ذہانت کو زیادہ دخل نہیں ہوتا ۔بس تھوڑی بہت سوجھ بوجھ بھی کافی ہے نیز مصنف خود بھی صفحہ 95 پر لکھتا ہے کہ ایک (عام) ذہین آدمی اپنے سے زیادہ ذہین آدمی کو ملازم رکھتا ہے
مصنف نے اپنے مکان کو بوجھ سے تعبیر کیا یاد رہے کہ مصنف کی یہ بات امریکہ جیسے ملک میں تو ٹھیک ہوگی کیوں کہ وہاں شاید اپنے مکان کی صورت میں ٹیکس وغیرہ کا بوجھ کرایہ کی نسبت برابر ہولیکن پاکستان میں اپنا گھر ہونا بہت ضروری ہے اور پاکستان میں اپنا گھر مالی بوجھ نہیں بلکہ مالی آسانی ہے
مصنف کے مذہب کا تو مجھے پتا نہیں لیکن اس کی تصنیف سے پتا چل رہاہے کہ یہ شخص یہودی ہے کیوں کہ ایک جگہ لکھتا ہے کہ جب تمھارے اثاثوں میں ڈالر داخل ہوجائے تو اسے باہر نہ نکلنے دے حالانکہ یہ چیز کاروبار کے گردشی اصول کےسخت خلاف ہے یعنی کبھی بھی روپے پیسے پر سانپ بن کر نہیں بیٹھنا چاہیے کیوں کہ اس صورت میں نہ آپ کا فائدہ ہوگا اور دوسروں کا ہوگا ۔ بہتر طریقہ یہ ہے کہ روپے پیسوں کو گردش دیا کریں ۔ اس کی لمبی تفصیل ہے جو یہاں رقم کرنا ممکن نہیں
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی قسط اسی طرز پر لکھی جائے گی​
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
اگلی قسط اسی طرز پر لکھی جائے گی

اگلی قسط کا انتطار ہے
 

hajihanif41

★★☆☆☆☆
Joined
Aug 2, 2018
Messages
482
Reaction score
244
Points
578
Location
Dera Ismail Khan KPK
Gold Coins
36.48
Silver Coins
7,131.47
Diamonds
0.00
Promotion from VIP to ITD Star.
Promotion from Senior Member to VIP.
سب کچھ ٹھیک تھا ۔ اگر کاروبار کرنا ہے تو نبی پاک کے شاگر د عبدالرحمان بن عوف کی زندگی پڑھ لیں تو شاید اوپر لکھا گیا یہ سب کچھ کم تر دیکھائی دے گا۔جب عبدالرحمان بن عوف رضی اللہ عنہ فوت ہوے تو ان کے پاس اتنی زیادہ نقدی اور جائیداد تھی کہ آج کسی ملک کا اتنا سالانہ بجٹ بھی نہیں ہوتا۔
 
Top

AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock
No Thanks