عورتوں کا نماز کے لیے مسجد جانا کیسا ہے ؟ قسط اول

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
6:23 PM
Threads
221
Messages
646
Reaction score
1,030
Points
510
Gold Coins
444.01
اس میں کوئی شک نہیں کہ بعض احادیث کے مطالعے سے یہ بات معلوم ہوتی ہے کہ عورتوں کو حضورﷺ کے زمانے میں اندھیرے یعنی عشاء اور فجر کے وقت جماعت میں حاضرہونے کی اجازت تھی۔چنانچہ صحیح بخاری میں روایت ہے کہ سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اللہ عنہا نے فرمایا
مسلمان عورتیں حضور ﷺکے ساتھ نمازِ فجر میں شامل ہونے کی خاطر چادروں میں لپٹی ہوئی حاضر ہوا کرتی تھیں۔ جب نماز سے فارغ ہو جاتیں تو اپنے گھروں کو واپس آ جاتیں اور اندھیرے کے باعث کوئی بھی انہیں پہچان نہیں سکتا تھا
عُروَۃُ بنُ الزُّبَیرِ أَنَّ عَایئِشَۃَ أَخبَرَتہُ قَالَت کُنَّ نِسَاءُ المُؤمِنَاتِ یَشہَدنَ مَعَ رَسُولِ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ صَلوَۃَ الفَجرِ مُتَلَفِّعَاتٍ بِمُرُوطِہِنَّ ثُمَّ یَنقَلِبنَ إِلَی بُیُوتِہِنَّ حِینَ یَقضِینَ الصَّلوۃَ لاَ یَعرِفُہُنَّ أَحَدٌ مِنَ الغَلَسِ
صحیح البخاری کِتَابُ مَوَاقِیتِ الصَّلوَۃِبَابُ وَقتِ الفَجر

اسی طرح حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ حضورﷺنے فرمایا
جب تمہاری عورتیں رات کو مسجد میں نماز پڑھنے کے لیے اجازت طلب کریں تو تم ان کو اجازت دیا کرو
عن ابنِ عُمَرَ رَضِیَ اللہُ عَنہُمَا عَنِ النَّبِیِّ صلی اللہ علیہ وسلم قَالَ إِذَا استَأذَنَکُم نِسَاؤکُم باللَّیل إلی المَسجِدِ فاذَِنُوا لَہُنَّ
منار القاری شرح مختصر صحیح البخاری أبوَابُ صِفَۃِ الصَّلَوۃِ بَابُ خرُوجِ النِّسَاءِ إِلَی المَسَاجِدِ باللَّیلِ وَالغلس

لیکن یہ اجازت محض رخصت واباحت کی بنا پر تھی، کسی تاکید یا فضیلت اوراستحباب کی بنا پر نہیں اور یہ بات ماقبل میں ذکرکردہ عبداللہ بن عمر ضی اللہ عنہما کی روایت کے مطالعے سے معلوم ہوتی ہے کہ جس میں وارد ہے کہ اگر عورتیں اجازت طلب کریں تو انہیں اجازت دیں اور اگر اجازت نہ طلب کریں اور گھر میں پڑھنا چاہے تو یہ ان کے لیے مسجد سے زیادہ فضیلت والی بات ہے اور یہ بات متعداحادیث مبارکہ سے ثابت ہے جو آگے آرہی ہیں
جیسا کہ میں ماقبل میں تحریر کرچکاہوں کہ احادیث کے مطالعے سے عورتوں کے لیے اندھیرے میں جانے کی رخصت معلوم ہوتی ہے تو اس رخصت واباحت کے باوجود حضورﷺکی تعلیم اور ارشاد یہی تھا کہ عورتیں اپنے گھروں میں نماز پڑھیں، اورآپ ﷺ اسی کی ترغیب دیتے تھے اور فضیلت بیان فرماتے تھے۔
زیر نظرمضمون میں اختصار کے ساتھ وہ چند رواتیں ذکر کی جائیں گی جن میں عورتوں کے لیے نماز پڑھنے کی جگہ مسجد سے بہتر ان کے گھروں کو قرار دیا گیا ہے ان کے بعد ضروری ابحاث اور خلاصہ کلام ہوگا۔لہذا س مسئلے کو سمجھنے کے لیے مضمون کا اول تا آخر مطالعہ ضروری ہے
اول حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا حضوررﷺ کی زوجہ حضوررﷺ سے روایت کرتی ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: عورتوں کے لیے نماز کی بہترین جگہ ان کے گھروں کاا اندرونی حصہ ہے
سنن کبری بیھقی،کنز العما ل،مسند احمد
أُمِّ سَلَمَۃَ زَوجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ قَالَ خَیرُ مَسَاجِدِ النِّسَاءِ قَعرُ بُیُوتِہِنَّ
السنن الکبری للبیہقی کتاب الصلوۃ جُمَّاعُ أَبوَابِ إِثبَاتِ إِمَامَۃِ المَرأَۃِ وَغَیرِہَا بَابُ خَیرِ مَسَاجِدِ النِّسَاءِ قَعرُ بُیُوتِہِن
دوم
حضرت ابو حمید ساعدی رضی اللہ عنہ کی بیوی حضرت ام حمید ساعدی رضی اللہ عنہا حضورﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئیں اور عرض کیا اے اللہ کے رسول!میرا جی چاہتا ہے کہ آپ کے ساتھ (مسجد نبوی میں)نماز پڑھوں، تو حضورﷺنے فرمایا کہ: میں جانتا ہوں کہ تم میرے ساتھ نماز پڑھنا پسند کرتی ہو، مگر تمہاری وہ نماز جو گھر کی اندرونی کوٹھری میں ہو، وہ بیرونی کمراکی نماز سے بہتر ہے، اور بیرونی کمراکی نماز، گھر کے صحن کی نماز سے بہتر ہے، اور گھر کے صحن کی نماز محلہ کی مسجد کی نماز سے بہتر ہے، اور مسجد محلہ کی نماز میری مسجد کی نماز سے بہتر ہے ام حمید رضی اللہ عنہانے حضورﷺسے یہ سن کر اپنے گھروالوں گو حکم دیا، ان کے لیے ان کے گھر کی ایک اندرونی کوٹھری میں جو نہایت تاریکی میں تھی، نماز کی جگہ بنادی گئی، اور یہ اس میں نماز پڑھتی رہیں، یہاں تک کہ اللہ تعالی سے جاملیں۔
(یعنی وفات تک اسی پر قائم رہیں)
مجمع الزوائد،مسند احمد،صحیح ابن حبان، صحیح ابن خزیمہ کنزالعمال
وَعَن أُمِّ حُمَیدٍ امرَأَۃِ أَبِی حُمَیدٍ السَّاعِدِیِّ أَنَّہَا جَاءَتِ النَّبِیَّ صَلَّی اللَّہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ فَقَالَت:یَا رَسُولَ اللَّہِ إِنِّی أُحِبُّ الصَّلَاۃَ مَعَکَ قَالَ: قَد عَلِمتُ أَنَّکِ تُحِبِّینَ الصَّلَاۃَ مَعِی وَصَلَاتُکِ فِی بَیتِکِ خَیرٌ مِن صَلَاتِکِ فِی حُجرَتِکِ وَصَلَاتُکِ فِی حُجرَتِکِ خَیرٌ مِن صَلَاتِکِ فِی دَارِکِ وَصَلَاتُکِ فِی دَارِکِ خَیرٌ مِن صَلَاتِکِ فِی مَسجِدِ قَومِکِ وَصَلَاتُکَ فِی مَسجِدِ قَومِکِ خَیرٌ مِن صَلَاتِکِ فِی مَسجِدِی قَالَت: فَأَمَرَت فَبُنِیَ لَہَا مَسجِدٌ فِی أَقصَی بَیتٍ فِی بَیتِہَا وَأَظلَمِہِ فَکَانَت تُصَلِّی فِیہِ حَتَّی لَقِیَتِ اللَّہَ عَزَّ وَجَلَّ
مجمع الزوایئد ومنبع الفوایئد کتاب الصلوۃ بَابُ خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَی المَسَاجِدِ وَغَیرِ ذَلِکَ وَصَلَاتِہِنَّ فِی بُیُوتِہِنَّ وَصَلَاتِہِنَّ فِی المَسجِدِ

اس حدیث کی صحت کے متعلق حافظ ہیثمی رحمۃ اللہ علیہ نے کہا کہ اس روایت کے راوی صحیح ہیں، سوائے عبداللہ بن سوید انصاری رحمۃ اللہ علیہ کے اور ابن حبان رحمۃ اللہ علیہ نے ان کو معتبر بتایا ہے۔
نیز اس حدیث کو امام ابن خزیمہ (1689) اور امام ابن حبان (2217) رحمہما اللہ نے اپنی اپنی صحیح میں ذکرکیا ہے اور علامہ البانی رحمۃ اللہ علیہ نے اس کو حسن کہا ہے

وَرِجَالُہُ رِجَالُ الصَّحِیحِ غَیرَ عَبدِ اللَّہِ بنِ سُوِیدٍ الأَنصَارِیِّ وَوَثَّقَہُ ابنُ حِبَّانَ
مجمع الزوایئد ومنبع الفوایئدکتاب الصلوۃ بَابُ خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَی المَسَاجِدِ وَغَیرِ ذَلِکَ وَصَلَاتِہِنَّ فِی بُیُوتِہِنَّ وَصَلَاتِہِنَّ فِی المَسجِدِ
سوم
حضرت عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا کہ عورت کی نماز کوٹھری میں بیرونی کمرا کی نماز سے بہتر ہے۔ اور کوٹھری کے اندر کی نماز، کوٹھری کی نماز سے بہتر ہے۔
سنن ابوداؤد
عَن عَبدِ اللَّہِ عَنِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ قَالَ: صَلوۃُ المَرأَۃِ فِی بَیتِہَا أَفضَلُ مِن صَلَاتِہَا فِی حُجرَتِہَا وَصَلَاتُہَا فِی مَخدَعِہَا أَفضَلُ مِن صَلَاتِہَا فِی بَیتِہَا
سنن أبی داود ِکتَابُ الصَّلوۃُ بَابُ مَا جَاءَ فِی خُرُوجِ النِّسَاءِ إِلَی المَسجِدِ بَابُ التَّشدِیدِ فِی ذَلِکَ

چہارم سیدہ اُم سلمہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا، عورت کی اپنے گھر میں نماز صحن میں نماز سے بہتر ہے، اس کی اپنے صحن میں نماز اپنے احاطہ میں نماز سے بہتر ہے، اس کی اپنے احاطہ میں نماز باہر نماز سے بہتر ہے
عَن أُمِّ سَلَمَۃَ زَوجِ النَّبِیِّ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ قَالَت: قَالَ رَسُولُ اللَّہِ صَلَّی اللہُ عَلَیہِ وَسَلَّمَ: صَلَاۃُ المَرأَۃِ فِی بَیتِہَا خَیرٌ مِن صَلَاتِہَا فِی حُجرَتِہَا وَصَلَاتُہَا فِی حُجرَتِہَا خَیرٌ مِن صَلَاتِہَا فِی دَارِہَا وَصَلَاتُہَا فِی دَارِہَا خَیرٌ مِن صَلَاتِہَا خَارِجٍ
المعجم الأوسط باب المیم من اسمہ مسعدۃ

اس حدیث کو طبرانی نے اسناد جیدکے ساتھ روایت کیا ہے
رواہ الطبرانی فی الاوسط باسناد جید
اعلاء السنن منع النساء عن الحضور فی المساجد
پنجم
ابو عمرو شیبانی رحمۃ اللہ علیہ کہتے ہیں کہ میں نے عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کو دیکھا، آپ رضی اللہ عنہ جمعہ کے دن عورتوں کو مسجد سے بھگا رہے تھے
أَبُو عَمرٍو الشَّیبَانِیُّ قَالَ رَأَیتُ ابنَ مَسعُودٍ یَطرُدُ النِّسَاءَ مِنَ المَسجِدِ یَومَ الجُمُعَۃِ
المعجم الکبیر للطبرانی باب العین مَنِ اسمُہُ عَبدُ اللہِ عَبدُ اللہِ بنُ مَسعُودٍ الہُذَلِیُّ یُکنَی أَبَا عَبدِ الرَّحمَنِ حَلِیفُ بَنِی زُہرَۃَ بَدرِیٌّ وَکَانَ مِمَّن ہَاجَرَ إِلَی أَرضِ الحَبَشَۃِ الہِجرَۃَ الأُولَی

اس حدیث کی سند بھی صحیح ہے
جاری ہے ۔۔۔۔۔۔۔​
 

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
Proud Pakistani
🏆 ZH Top Poster in a Month Award 🕖
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
Top Poster
ITD Developer
Joined
Apr 25, 2018
Local time
10:23 PM
Threads
903
Messages
13,985
Reaction score
15,237
Points
1,977
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
4,182.01
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks