فش فارمنگ

Afzal339

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Writer
Popular
Scientist
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
5:48 PM
Threads
207
Messages
594
Reaction score
964
Points
460
Gold Coins
425.11
فی زماننا غذائی ضروریات تیزی سے بڑھتی جارہی ہیں اور ان سے منسلک وسائل گھٹ رہے ہیں ایسے میں غذائی ضروریا ت کاکاروبار انتہائی مفید ثابت ہوسکتا ہے ۔ اور اگر کاروبار نہ بھی ہو تو ذاتی استعمال سے کوئی انسان بھی خالی نہیں اور یہ ہر انسان کی ضرورت ہے
غذائی ضروریات کی تعریف تو وسیع ہے لیکن ہم اسے مقید کریں گے اور جس غذائی ضرورت کے ساتھ مقید کریں گے وہ ہے فش فارمنگ
اس میں کوئی شک نہیں کاروباری سطح پر فش فارمنگ کے لیے اچھا خاصہ پیسا چاہیے ۔ لیکن اگر آپ اپنی اور فیملی کی ضرورت کے لیے مچھلی حاصل کرنا چاہتے ہیں تو پھر اس میں پہلی دفعہ کے بعد کوئی خاص خرچہ نہیں
اور پہلے دفعہ بھی اتنا خرچہ نہیں کہ جسے ایک عام آدمی برداشت نہ کرسکے ۔
درج ذیل سہولیات کے بعد آپ اپنی اور گھر کی ضرورت کے لیے مچھلی حاصل کرسکتے ہیں
نمبر ایک تالاب بنانے کے لیے 2 کنال جگہ جو کہ دیہات میں آسانی سے میسر ہوسکتی ہے
نمبر دو تالاب والی جگہ ریتلی یا پتھریلی نہ ہو۔لیکن اگر ریتلی یا پتھریلی زمین ہے تو پلاسٹک کا استر لگاکر یا تالاب کے فرش اور کناروں پہ چکنی مٹی کی موٹی تہہ چڑھا کر اسے اس قابل بنایا جاسکتا ہے کہ اس میں مچھلی پالی جاسکے، مگر اس کیلئے اضافی سرمایہ کاری اور اضافی دیکھ بھال کی ضرورت ہوگی۔
نمبر تین تالاب والی جگہ ایسی ہو کہ جہاں پانی کھڑا ہوسکے
نمبر چار تالاب والی جگہ کی دیکھ بھال بھی ہر وقت ممکن ہو یعنی دیکھ بھال میں موسمی و دیگر روکاوٹیں نہ پیداہوتی ہوں
نمبر پانچ تالاب والی جگہ بچوں کے پہنچ سے دور ہو
نمبر چھ تالاب والی جگہ صاف ستھرا اور آلودگی سے پاک پانی میسر ہو
پانی اگر نہر کا ہو تو زیادہ بہتر ہے اگر نہری نہیں توبورنگ والا پانی ہونے کی صورت میں میٹھے پانی کی مچھلیوں کے لیے پانی کے کچھ ٹیسٹ کروائے جاتے ہیں جو سرکاری ہیچری سے معلوم کیے جاسکتے ہیں یا کسی فش فارمنگ والے سے پتا کیے جاسکتے ہیں
یاد رہے کہ ٹیسٹ تب کریں جب پانی کھارا سا محسوس ہوتا ہے اگر کھارا سا نہیں تو پھر ٹیسٹ کی بھی ضرورت نہیں یا پھر کھارا پانی میں سمندر کی مچھلی پال سکتے ہیں۔
درج بالا سہولیات کے بعد تالاب والی جگہ کی کھدائی شروع کریں گہرائی اتنی ہو کہ 5 سے 7 فٹ تک پانی کھڑا رہ سکے اور اس کی سطح اس طرح بنائی جائے کہ پانی بغیر پمپ کئے داخل اور نکل سکے۔
اگر دونوں میں سے ایک آپشن ہے تو بغیر پمپ کئے پانی باہر نکلنا زیادہ بہتر آپشن ہے۔
تالاب کی تہہ کو پانی کی نکاسی والی سائیڈ پر تقریباً 2 فیصد سلوپ دینا چاہئے تاکہ پانی نکالتے وقت تالاب مکمل خالی کیا جاسکے۔
پانی کے نکاسی والی سائیڈ پر کلیکشن پٹ (مچھلی پکڑنے کا جوہڑ) بنانا چاہئے تاکہ پانی نکالنے کے بعد مچھلی ایک جگہ جمع ہو سکے۔ یہ سیمنٹ، لکڑی یا پلاسٹک سے بنایا جاسکتا ہے۔اگر ذاتی استعمال کے لیے تالاب بنایا گیا ہو تو پھ اس کی بھی ضرورت نہیں
پانی نکلنے اور داخل ہونے والے اسٹرکچر ایسے ہوں کہ ان میں فش کو روکنے کے لیے جالیاں آسانی سے لگائی جاسکیں۔ یہ بھی یاد رہے کہ بندوں کی اونچائی اور چوڑائی تالاب کی سائز سے مطابقت رکھتی ہو اور بندوں کی کٹائی روکنے کے لیے اندر کی جانب مناسب سلوپ ہو۔
کوشش کریں کہ تالاب غیرآباد اور قدرے گہری زمینوں میں بنائے جائیں تاکہ خرچہ بھی کم آئے اور بیکار زمیں بھی قابل استعمال بنائی جاسکے ۔ تالاب سیم زدہ اور کلر زمین پہ بھی بنائے جاسکتے ہیں۔
عام طور پر تالاب تین قسم کے بنائے جاتے ہیں
نمبر ایک سطح زمین سے مکمل نیچے
نمبر دو آدھا سطح زمین سے نیچے اور آدھا اوپر
نمبر تین سطح زمین سے مکمل اوپر
ان میں سے ہر ایک قسم پانی کی سپلائی اور اخراج کی مناسبت سے ہے۔ پہلی قسم نہری علاقوں کیلئے مناسب ہے جہاں آپ تالاب کو مکمل نہری پانی سے بھرتے ہیں۔ ایسے تالاب سے پانی نکالنے کیلئے پمپ کی ضرورت ہوگی۔
دوسری قسم کے تالاب کو بھرنے کیلئے نہری پانی کے علاوہ ٹیوب ویل کا پانی بھی استعمال ہوگا۔ اسی طرح جب پانی خارج کریں گے تو آدھا پانی خود خارج ہوگا جبکہ بقیہ کیلئے پمپ استعمال کرنا پڑے گا۔
جبکہ آخری قسم کے تالاب ان علاقوں کیلئے موزوں ہیں جہاں نہری پانی دستیاب نہیں اور تالاب بھرنے کیلئے آپکا مکمل انحصار ٹیوب ویل کے پانی پر ہو۔ ایسے تالاب سے پانی خارج کرنے کیلئے عموماً کسی پمپ کی ضرورت نہیں رہتی، اسطرح دوسری بار پمپنگ کا خرچہ بچ سکتا ہے۔
تالاب کو صرف دو انچ کے پانی کے پمپ یا ایک چھوٹے سے گھریلو ٹیوب ویل سے سیراب اور مینٹین کیا جا سکتا ہے۔ پانی میں سبزی مائل رنگت جو کہ پانی میں موجود خوردبینی پودوں کی وجہ سے پیدا ہوتی ہےاس کے حصول اور تالاب کو زرخیز بنانے کیلئے گوبر یا زرعی کھاد کا استعمال کرنا چاہئے اسطرح کم خرچ میں زیادہ پیداوار لی جاسکتی ہے، لیکن گوبر کو تالاب میں کسی ایک جگہ بڑی مقدار میں جمع نہیں ہونے دینا چاہئے۔یاد رہے کہ پانی کا رنگ سبز ہونا چاہئے۔ اگر کبھی براؤن ہوجائے تو یہ بھی ایک اچھی علامت ہے تاہم ایسے تالاب میں جلد از جلد گوبر یا کھاد ڈالنی چاہئے تاکہ اسکا سبز رنگ واپس آجائے۔
دو کنال پر بنے تالاب میں دو سے تین سو تک مچھلی بآسانی پالی جاسکتی ہے لہذ ا مچھلی کے بچے کسی اچھی یا سرکاری ہیچری سے لیکر جو صرف ایک سے دو روپے فی بچہ مل جاتا ہے اور وہ آکسیجن کے ساتھ شاپر میں پیک کر کے دیتے ہیں۔ مچھلی کے بچے لاکر تالاب میں اللہ کا نام لیکر ڈالیں
مچھلی کا بچہ خالص، صحتمند اور معیاری ہونا چاہئے او اگر بچہ خالص نہ ہوگا اور اس میں جنگلی مچھلیوں کی اقسام شامل ہونگی تو وہ آپکے پالے گئے بیج کیساتھ غذائی مقابلے کا سبب بنیں گی اور اسطرح آپکی پالی ہوئی مچھلی کی اچھی نشونما نہ ہوسکے گی۔
مچھلی کی مختلف اقسام علیحدہ یا ایک ساتھ بھی پالی جاسکتی ہیں، لیکن بہتر ہے کہ انہیں ایکساتھ پالا جائے تاکہ تالاب میں پیدا ہونے والی مچھلی کی قدرتی خوراک کو مکمل استعمال کیا جا سکے۔ عام طور پر زیادہ کھائی جانی والی مچھلی "رہو "ہے اس کے علاوہ بھی کچھ اقسام ہیں جس پر پھر کبھی بات کریں گے
بچہ فروری یا مارچ میں ڈالنا چاہئے تاکہ گرم مہینوں میں مچھلی کی بہتر نشونما ہو سکے اور آپکی مچھلی کی فصل سردی شروع ہونے سے پہلے تیار ہوجائے۔ یہ مضمون ستمبر میں اس لیے لکھ رہاہوں تا کہ دلچسپی رکھنے والے دوست فروری تک پلاننگ کرسکیں ۔
خوراک کیے لیے گھر کے بچے ہوئے روٹی کے ٹکڑے, تھوڑا سا گھاس,پرانی بچی ہوئی اجناس, گھر کا بچا ہوا سالن, سبزی کے چھلکے, کھل, جانوروں کا بچا ہوا ونڈا وغیرہ بھی استعمال کیا جاسکتا ہے
اگر مویشیوں کا باڑہ یا مرغیوں کا فارم پہلے سے موجود ہے تو اس کے ساتھ فش فارم لگانے سے کم خرچ میں مچھلی حاصل کی جاسکتی ہے کیونکہ گوبر اور مرغیوں کی بیٹ مچھلیوں کی قدرتی خوراک پیدا کرنے کا بہترین ذریعہ ہیں۔
مچھلی کے تالاب سے گھاس پھوس اور پودے نکالنے سے مچھلی کی نشونما بہتر ہوتی ہے اور پیداوار میں اضافہ ہوتا ہے۔ پودے مچھلی کی قدرتی خوراک میں کمی کا سبب بنتے ہیں۔
اس کے علاوہ درج ذیل اچھی خوراک بھی دی جاسکتی ہے
رائس پالشنگ
چوکر
کھل گندم کا ڈالہ

ایک کلو سائز کی مچھلی چھ مہینے میں تیار ہوتی ہے۔ لہذا اسی سائز کی مچھلی کے حصول کے لیے چھ مہینے پہلے مچھلی کے بچے تالاب میں ڈالیں۔
اگر ممکن ہو تو تالاب کو خالی کرکے ہر سال سکھایا جائے یہاں تک کہ اس میں دراڑیں پڑ جائیں۔ اسطرح زمین آکسیڈائیز ہوگی اور اس میں موجود فاسفورس اور دوسرے اجزا دوبارہ قابل استعمال حالت میں آجائیں گے اور نقصاندہ جراثیم بھی ختم ہوجائیں گے۔
مچھلیوں کی خوراک اور دیگراحتیاطی تدابیر کے حؤالے سے اگلی اقساط میں میں پھر اسی موضوع کو لیکر حاضری دوں گا اس وقت تک کے لیے مجھے دیجیے اجازت اللہ حافظ
Please, Log in or Register to view URLs content!
 
Last edited:

Doctor

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Joined
Apr 25, 2018
Local time
10:48 PM
Threads
851
Messages
12,398
Reaction score
14,320
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,446.84
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.

Abu Dujana

⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Expert
Popular
Helping Hands
Joined
Apr 25, 2018
Local time
10:48 PM
Threads
81
Messages
968
Reaction score
1,363
Points
452
Location
Karachi, Pakistan
Gold Coins
515.86
بہت خوب۔ بہت ہی اچھے آئیڈیاز شیئر کئے ہیں آپ نے۔۔۔
جزاک اللہ۔۔
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks