امیر المومنین ملا محمد عمر کا یوم وصال 24 اپریل

Ajnabee

Thread Starter
Designer
⭐⭐⭐⭐⭐
Emerging
Joined
Apr 25, 2018
Local time
4:25 PM
Threads
455
Messages
907
Reaction score
980
Points
401
Gold Coins
817.01
Permanently Change Username Color & Style.
Promotion from VIP to ITD Star.
Promotion from Senior Member to VIP.
Promotion from Registered  to Senior Member.
امیر المومنین ملا محمد عمر کا یوم وصال 24 اپریل ہے۔۔ آئیے کچھ انکی یاد سے اپنے دلوں کو منور کریں اور رمضان المبارک کی اس رات ان سے کچھ روشنی حاصل کریں
طلحہ السیف
02020202.jpg
السلام علیکم

میں اقبال کے الفاظ میں کہوں
عمرھا در کعبہ و بت خانہ می نالد حیات
تا ز بزم عشق یک دانائے راز آید بروں
( زندگی عرصہ دراز تک ہر جگہ روتی پھرتی ہے، تب جا کر بزم عشق سے کوئی دانائے راز بر آمد ہوتا ہے)
یا سنائی کے لفظ دہراؤں
دور ہا باید کہ تا یک مرد کار آید بروں
با یزید اندر خراساں یا اویس اندر قرن
ہاں!
ایک مردِ کار کے ظہور میں صدیاں لگتی ہیں
بے شک
اور پھر لمحہ بھر لگتا ہے کہ صدیوں کا عطر اور خلاصہ بھری بزم روتی چھوڑ کر دامن جھاڑ کر چل دیتا ہے
دوستو!
اسے تو یقیناخوش نصیبی کے سوا اور کچھ نہیں کہتے کہ ہم نے اس انسان کو دیکھا ہے…سنا ہے…چھوا ہے اور محبت کی ہے جسے ہم سے پہلے کئی صدیوں نے نہیں دیکھا
مگر اسے کیا کہئے ہیں کہ ہم آج اس کا مرثیہ لکھ رہے ہیں
ہم نے نبی کریم ﷺ کی احادیث مبارکہ میں وارد

New'">من یجدد لہادینہا
کی عملی تفسیر کو بھی دیکھا ہے
ہم نے خلافت راشدہ کے نمونے کو دیکھا ہے
ہم نے ابوالکلام کی شہرہ آفاق ’’تذکرہ‘‘ کے اس بے نام کردار کو دیکھا ہے
’’جو زمانے پر اس لئے نظر نہیں کرتا کہ کیا کیا ہے جو سمیٹ لوں بلکہ اس لئے دیکھتاہے کہ کیا کیا نہیں ہے جسے پورا کر دوں‘‘
ہم نے حلقۂ یاراں میں بریشم کی طرح نرم اپنے رفقاء کرام کے ساتھ گاڑی کی ریس لگانے والے، کشتیاں لڑنے والے ’’امیر المومنین‘‘ کو رزم حق و باطل میں فولاد کی مثال بنے بیس سال دیکھا ہے
جی ہاں!
ہم نے ’’امیر المومنین ملا محمد عمر مجاہد‘‘ کو دیکھا ہے
اسے خوش بختی کہتے ہیں
مگر اب ہم انہیں کھو چکے ہیں…اسے کیا کہتے ہیں؟؟؟
کیا لغت میں اس کے لئے کوئی لفظ ہے؟
آسماں تیری لحد پر شبنم افشانی کرے

٭…٭…٭
واہ امیر المومنین واہ
آپ پر اللہ تعالیٰ کی کروڑوں اربوں بلکہ ان گنت رحمتیں صبح و شام اُتریں اور آپکو رضائے محبوب کا اعلیٰ مقام نصیب ہو
زندگی بھر سب کو حیران کئے رکھا
چھ سال کی عمر میں یتیم ہو جانے والا،کپڑے کے دروازے والے گھر میں جنم لینے والا غریب بچہ
طالب علم تھا تو سب کو حیران کئے رکھا
میدان جہاد میں آیا تو نگاہیں خیرہ رہ گئیں ،مشت استخواں اور اتنی قوت، بہادری اور جذبہ
یہ نوجوان روس کے خلاف میدان میں اُترا تو اس کے ساتھی بتاتے ہیں کہ ہم ابتداء میں گنا کرتے تھے کہ کتنے ٹینک تباہ کیے۔ پھر یہ کام چھوڑ دیا کہ آخر کوئی کہاں تک گنے؟
بے سروسامانی کے عالم میں محض اللہ تعالیٰ کے بھروسے پر اور مظلوموں کی فریاد پر لبیک کہتے ہوئے ایک تحریک کا آغاز کیا،ابتدائی رفقاء ایک درجن بھی نہ تھے مگر پھر سب کو حیران کر دیا…
مقابل وہ کمانڈر ہیں جو عسکری مہارت اور تجربے میں ممتاز ہیں اور ادھر مدرسے کی چٹائی سے اٹھ کر آنے والے گمنام بے نام طلبہ… مگر یہ کیا؟
علاقوں پر علاقے زیر نگیں آتے چلے جا رہے ہیں اور بڑے بڑے نام آگے سے پسپائی میں عافیت جان رہے ہیں
یہ کابل ہے، اسے فتح کرنا مشکل ہی نہیں،نا ممکن ہے…مگر جو ناممکن کو ممکن نہ کر سکے وہ ’’عمر‘‘ ہی کیا، لیجئے کابل بھی فتح ہوتا ہے اور یوں کہ دنیا بھر حیران ہے، فتح کرنے والے بھی، مفتوحین بھی اور تماش بین بھی
ارے یہ ملا… نرا ملا اسے کیا علم حکومت کس طرح کی جاتی ہے؟… اسے کیا خبر ملک گیری کے کیا تقاضے ہیں؟…
اسے کیا سمجھ کہ عالمی قوتوں سے کس طرح نبرد آزما ہوا جاتا ہے؟…اسے خارجہ پالیسی کی کیا شدبد؟…
یہ ناکام ہو جائیں گے، افغان عوام کو قابو میں نہ رکھ پائیں گے، خانہ جنگی ہو گی اور ان کے زیر قبضہ علاقے خلفشار کا شکار رہیں گے… اہل دانش یہی رائے دے رہے تھے مگر سب حیران رہ گئے…
حکومت چلی…جمی اور خوب پھولی پھلی… اس ملا جتنا نہ کوئی امن قائم کر سکا اور نہ اس جتنا کوئی اپنی عوام کی خدمت کر سکا…نہ کوئی ایسا انصاف فراہم کر سکا اور نہ کسی کا اقتدار اس طرح قتل و غارت گری کا سدباب کر سکا … خارجہ پالیسی میں کامیابی اگر نام ہے ایمان فروشی، ضمیر فروشی اور بھیک مانگنے کا تو پھر یہ ملا واقعی ناکام رہالیکن اگر کامیاب خارجہ پالیسی کہتے ہیں اپنی آزادی،خودمختاری اور قومی وقار و تشخص کے قیام کے ساتھ دنیا سے بات کرنے کا۔ اگر کامیاب خارجہ پالیسی نام ہے دوسرے کی مرضی ٹھکرا کر اپنی رائے منوانے کا، اگر خارجہ پالیسی میں کامیابی کسی کا رعب اور دباؤ لیے بغیر اپنے فیصلے کرنے اور منوانے کو کہتے ہیں تو پھر دکھاؤ ملا محمد عمر مجاہد جتنا کامیاب حکمران…
کہتے ہیں غربت اور غیرت کو ایک ساتھ جمع کرکے حکومت نہیں چلائی جا سکتی… یہ آج کی ڈپلومیسی کا بنیادی اصول ہے۔ مگر دنیا کیا وہ سات سال بھول گئی کہ ایک درویش خدامست نے کس طرح ان دونوں کو جمع کر کے ایک کامیاب ترین حکومت چلائی…
کیا امریکہ کے لالچ اس ’’غریب‘‘ کو رابن رافیل سے ملاقات کے لئے مجبور کر سکے؟…
وہ فقیر جو علماء سے گھنٹوں ملتا تھا…جو طلبہ سے گھل مل جاتا تھا…جو ایمانی جہادی نسبت سے آنے والے مہمانوں سے ترجیحاًملتا تھا…کیا کروڑوں ڈالر کے لالچ اور سیاسی فوائد کا جھانسہ دے کر اس کی ایک ملاقات خریدی جا سکی؟…
کیا جاپان والے اربوں ڈالر امداد اور پورے ملک میں اعلی درجے کی سڑکیں مفت بنا کر دینے کی لالچ دے کر اپنے بت اس کے ہاتھوںگرنے سے بچا سکے؟…
اور ہاں کوئی تو پوچھے ملکوں ملکوں پھرنے، حکمرانوں سے مذاکرات کرنے اور باتیں منوانے کے عادی، سفارتکاری کے ماہر اس عربی شہزادے ’’ترکی‘‘ سے کہ نام بتائے بغیر تعارف کے اس سے ملنے والے ایک افغانی دیہاتی ملا نے اس کی کیا ایسی درگت بنائی کہ جب مجلس سے باہر آیا تو پیشانی کا پسینہ چھپائے نہ چھپتا تھا… کیا دنیا کی کسی سپر پاور کے حکمرانوں نے کبھی ایسا کیا؟…
ہاں! اسے جو بھی خریدنے آیا اس نے اپنا خزانہ کم پایا…
اور پھر امریکہ آیا… لاؤ لشکر لے کر …اتحادی لے کر…تباہ کن ٹیکنالوجی اور اسلحہ لے کر…
دنیا نے کہا ملا نے جنگ کا فیصلہ کیا ہے بڑی غیر دانشمندی کا ثبوت دیا ہے… جمع تفریق ہوئی اور اندازہ لگایا گیا کہ ملا محمد عمر مجاہد اور ان کا لشکر بس چند دن کی بات ہے… پھر یہ بات چند مہینوں تک پہنچی اور پھر ایک سال آخری حد…مگر انہوں نے پھر حیران کر دیا…
پہلے ایک دم خاموشی…پھر آہستہ آہستہ چھوٹی چھوٹی گوریلا کارروائیاں… پھر کچھ علاقوں میں تشکیلات اور منظم جنگ اور پھر پورے ملک میں منظم تشکیلات…ہر صوبے کا انتظامی مسئول الگ، حربی مسئول جدا… متساوی عدلیہ… متوازی گورنریاں… مستقل انتظامیہ… ہر شعبے کے مسئول کمیشن… افغانستان کے بہت سے علاقوں میں کابل حکومت سے زیادہ طاقتور اور فعال حکومت… اگر کسی کو مبالغہ لگے تو آئے اور افغانستان چلے… کرایہ فقیر کے ذمے رہا… اگر ایک بات بھی غلط نکلے تو سزا کا مستحق…مگر الحمد للہ یہ بات ادنی تامل کے بغیر عرض ہے کہ آج بھی ملا محمد عمر کے طالبان کا سکہ افغانستان پر اشرف غنی سے زیادہ چلتا ہے…
یوں وہ درویش خدا مست دنیا کو حیران کئے رہا…
وہ اپنی پالیسی پر، اپنے نظریے پر قائم رہے… دنیا کو ان کے بارے میں اپنی پالیسیاں بدلنا پڑیں…
کل تک جو ان کے رفقاء کو پکڑتے تھے اور انعام لیتے تھے انہیں بدلنا پڑا اور ملا محمد عمر کے ساتھیوں کو عزت دینا پڑی…
جنہوں نے طالبان کو کالعدم قرار دیا تھا…دہشت گرد کہہ کر ان کا آنا جانا ہر جگہ بند کر دیا تھا انہیں بدلنا پڑا اور امیر المومنین کے نمائندوں کو ’’نیلے پاسپورٹ‘‘ جاری کرنا پڑے…دنیا کے کئی ممالک میں دفاتر قائم کر کے دینا پڑے…
جو کہتے تھے طالبان دہشت گرد ہیں ان سے بات چیت نہیں ہو سکتی بس انہیں ختم کیا جائے گا انہیں بدلنا پڑا اور انہوں نے مذاکرات کی بھیک مانگی…
حق اسی طرح اپنا آپ منواتا ہے لیکن اپنی راہ اور موقف نہیں بدلتا… حضرت امیر المومنین بھی نہیں بدلے… انہوں نے جو کہا اسی پر قائم رہے، حکومت میں رہے تو اپنے ہر شرعی موقف پر بے لچک رہے… اقتدار چھوڑ کر میدان جہاد کی کمان سنبھالی تو بھی اپنے موقف پر ڈٹے رہے۔ کاش ان کے اس طرز عمل کو مشعل راہ بنایا جائے اور معمولی دباؤ کے سامنے اپنا کام بچانے کی غرض سے اِدبار کی پالیسی کو ترک کیا جائے…امیر المومنین قدس سرہ کی حیات مبارکہ یہ سبق سکھا رہی ہے کہ حق پر ثبات کی وجہ سے اگرچہ تکلیف ہوتی ہے،اگرچہ قربانی لگتی ہے، اگرچہ پریشانی ہوتی ہے لیکن اس کا انجام یقینی فتح ہے ،یقینی سرفرازی ہے…
بہرحال وہ ہر میدان میں اسی طرح حیران کن شخصیت بنے رہے مگر وفات پا کر وصال محبوب سے ہمکنار ہو کر تو انہوں نے شدید حیران کر دیا…
دو سال سے زائد عرصہ ان کا رعب، دبدبہ اور ان کا قائم کردہ مضبوط نظام ’’عصائے سلیمانی‘‘ کے سہارے دنیا کے سامنے قائم رہا، اس نے اپنوں پرایوں کی نظر میں انہیں زندہ رکھا۔ ان کے رعب کے تحت سارا نظام چلتا رہا… مذاکرات کی میز سے سنگین کے سخت ترین محاذ تک، مورچوں پر پہرہ دینے والے مجاہد سے فدائی حملہ آوروں تک سب انہی کے نظام کے تحت کام میں لگے رہے، نہ کوئی کام رُکا اور نہ نظام میں کوئی خلل آیا…
ان کے دشمن ان کی تلاش پر جو اربوں ڈالر خرچ کر رہے تھے اسی طرح کرتے رہے،سیارچے گھومتے رہے، جاسوس اپنے کام میں لگے رہے، دنیا بھر کے ادارے اور حکومتیں مذاکرات کے حوالے سے ان کے موقف اور ان کی مرضی کے سامنے آنے کی منتظر رہیں بال کی کھال اتارنے والا میڈیا ان کے بارے میں تجزئیے اور رپورٹیں شائع کرتا رہا اور ان کا حکومت کرتا رعب یہ سب دیکھ کر اپنی طاقت، ٹیکنالوجی اور معلومات پر ناز کرنے والوں کی بے بسی پر ہنستا رہا… اور پھر جب اللہ تعالیٰ نے چاہا یہ عصا ٹوٹ گیا اور
آہ! …
انا للہ وانا الیہ راجعون
تیز رکھناسر ہر خار کو اے دشتِ جنوں
شاید آ جائے کوئی آبلہ پا میرے بعد
منہ پر رکھ دامن گل روئیں گے مرغان چمن
ہرروش خاک اڑائے گی صبا میرے بعد
مجھ سے پہلے تو کئی قیس ہیں گذرے لیکن
ختم ہو جائے گا یہ نامِ وفا میرے بعد
امیر المومنین اس دنیا سے چلے گئے…
انہوں نے اس دنیا سے کیا لیا؟…
نہ گھر… نہ گاؤں، نہ بینک بیلنس اور نہ کسی فرد کا احسان…
وہ اس دنیا کو کیا دے گئے؟…
انہوں نے اس زمین کو قرآن کے نظام سے مہکایا… اس زمین پر اقامۃ الصلوۃ کا نظام قائم فرمایا…اس زمین پر حدود اللہ نافذ کر کے رحمتوں کے نزول کا دروازہ کھولا…اس زمین کو جہاں تک ہو سکا شرک سے پاک کیا… طاغوت کے نظام سے پاک کیا…انہوں نے جہاد کیا جو رحمت ہی رحمت ہے…پورے عالم کے مسلمانوں کی قیادت کی…ایک عظیم جہادی سلسلے کا آغاز کیا جس میں کفر کا نظام بہتا دکھائی دے رہا ہے… سب سے بڑھ کر انہوں نے عزیمت کے راستے کو عملی کردار سے روشن کیا اور اب جو چلنا چاہے ان کی مثال لے کر چلے…
واہ امیر المومنین واہ…
آپ جئے بھی شان سے اور گئے بھی شان سے…
ہر انسان کو دنیا میں اپنی زندگی کے معین دن بھی پورے کرنے ہیں اور مرنا بھی ہے…
امیر المومنین نے سکھا دیا کہ جینا کسے کہتے ہیں اور مرنا کیسے چاہیے…
ہمارے دامن میں ان کی محبت کے پھول تو ہیں، عمل بھی ان کے کردار سے روشن ہو جائے تو بات بن جائے…
 
Top