الفاظ اور محاوروں کا درست استعمال (پانچویں قسط)

Doctor

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
5:40 AM
Threads
855
Messages
12,837
Reaction score
14,592
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,419.49
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
تحریر ڈاکٹر عبدالرؤف پارکھ

پچھلی قسط

٭اتائی یا عطائی؟

بعض لوگ سمجھتے ہیں کہ ’’عطائی‘‘ کا لفظ ’’عطا‘‘ سے بنا ہے اوران کے خیال میں اس کے معنی ہیں وہ شخص جس کو قدرت کی طرف سے کوئی علم یا فن یا مہارت ’’عطا ‘‘ہوگئی ہو اور اسے اس کے اکتساب میں محنت نہ کرنی پڑی ہویااستاد سے کچھ سیکھنا نہ پڑا ہو۔ اسی لیے عطائی کا لفظ’’بے استادا، غیر تربیت یافتہ ، اناڑی‘‘ کے معنوں میں بھی رائج ہے۔ اس لفظ کو اسی لیے نیم حکیم کے معنوں میں بھی استعمال کیا جاتا ہے۔لیکن اس کا املا ’’ع‘‘ سے نہیں بلکہ ’’الف ‘‘ سے درست ہے یعنی درست املا ’’اتائی‘‘ ہے۔ نیز اس کا ’’عطا‘‘ سے کوئی تعلق نہیں۔ آئیے اس ضمن میں اردو کی اہم اور مستند لغات کا جائزہ لیتے ہیں۔ علمی اردو لغت (مرتبہ وارث سرہندی) کے مطابق اتائی کے معنی ہیں جو شخص کسی فن یا ہنر کو باقاعدہ حاصل نہ کرے اور سرسری مطالعے یا معمولی تجربے کی بنا پر اس میں دخل دے۔ معنی تو درست ہیں لیکن علمی اردو لغت نے معنی لکھتے ہوئے اس کا ایک مترادف ’’عطائی ‘‘بھی لکھا ہے۔ لیکن یہ املا صحیح نہیں ہے۔ درست لفظ اتائی ہے ۔ہمارے دور کے ایک بڑے نثر نگار شکیل عادل زادہ لفظوں کے مزاج سے واقف ہیں اور ان کو پرکھنے کا ہنر جانتے ہیں ۔ کچھ عرصے قبل ان سے فون پر املا کے سلسلے میں بات ہوئی تو ان کا بھی یہی خیال تھا کہ صحیح املا الف ہی سے یعنی اتائی ہے۔ البتہ شکیل بھائی اس بات پر کچھ خفا بھی تھے اور کچھ محظوظ بھی ہورہے تھے کہ علمی اردو لغت نے درست املا یعنی الف سے اتائی لکھ کر اس کی تشریح میں عین سے عطائی بھی لکھ دیا ہے۔

معروف انگریز لغت نویس جان ٹی پلیٹس (John T. Platts) نے اپنی اردو ، ہندی اور انگریزی کی لغت میں لفظ ’’اتائی ‘‘ کو الف ہی سے لکھا ہے۔ اتائی کی اصل بتاتے ہوئے پلیٹس نے سنسکرت کے دو لفظ لکھے ہیں : آتم اور ادھیِت۔ قومی کونسل براے فروغ اردو زبان (دہلی) کی شائع کردہ ہندی اردو لغت (مرتبہ نصیر احمد خان)کے مطابق آتم کے معنی ہیں خود کا یا اپنا جبکہ ادھیت کے معنی ہیں پڑھنا ، مطالعہ کرنا، حاصل کرنا ، سیکھنا۔ گویا’’ اتائی ‘‘کا لفظ سنسکرت کے جن دو الفاظ سے مل کر بنا ہے اس کے معنی ہیں خود پڑھنا یا خود سیکھنا ۔ اس طرح اتائی وہ شخص ہے جو خود ہی کوئی فن سیکھ لے۔ پھر پلیٹس نے اتائی کے معنی بتائے ہیں جو یہ ہیں:کوئی ساز بجانے والایا ناچنے گانے والا جو معاوضہ نہ لے۔ اس کے بعد وہ لکھتا ہے کہ مغربی ہندستان میں اس لفظ کے معنی ہیں وہ گویّا یا موسیقار جس نے خود کو سکھایا ہو ۔

اسی لیے اتائی کا لفظ بے استادا یا غیر تربیت یافتہ نیز نیم حکیم اور اناڑی کے مفہوم میں بھی مستعمل ہے۔ گویا اتائی کے معنی ہیں خود آموزموسیقار یا گویّا جس نے باقاعدہ اس فن کی تربیت حاصل نہ کی ہو۔اس کے بعد یہ لفظ دیگر معنوں میں بھی آگیا۔ البتہ اس کا ’’عطا‘‘ سے کوئی تعلق نہیں اور اس ضمن میں اردو لغت بورڈ کی لغت کے مدیران نے اتائی کا اشتقاق لکھتے ہوئے قیاساً لکھ دیا ہے کہ عربی لفظ ’’عطا‘‘ سے اردو میں بنایا گیا ہے۔مذکورہ بالا حوالہ جات سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ بورڈ کا قیاس درست نہیں ہے۔ اتائی کی اصل عربی کا کوئی لفظ نہیں ہے ۔اسی لیے اس کے املا میں ’’ع ‘‘ اور ’’ط‘‘ لکھنے کا کوئی جواز نہیں ہے۔ بورڈ نے بھی درست املا یعنی اتائی ہی لکھا ہے اور یہ الف کے الفاظ کی تقطیع میں شامل ہے لیکن اس کے اشتقاق کے اندراج کے وقت مدیران ِ لغت کوالتباس ہوا ہے۔ اچھی بات یہ ہے کہ بورڈ نے حرفِ عین (ع)کی تقطیع والی جلد میں ’’عطائی ‘‘درج کرنے کے بعد اشتقاق میں لکھا ہے ’’اتائی کا ایک املا‘‘ ۔ گویا عین والی جلد کی اشاعت کے وقت بورڈ کا نقطۂ نظر تبدیل ہوگیا تھا(غالباً اس لیے کہ مدیر ِ اعلیٰ بھی تبدیل ہوگئے تھے) ۔



اگلی قسط
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks