الفاظ اور محاوروں کا درست استعمال (چوتھی قسط)

Doctor

Thread Starter
⭐⭐⭐⭐⭐⭐
Charismatic
Designer
Expert
Writer
Popular
King of Alkamunia
ITD Supporter 🏆
Proud Pakistani
الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا
ITD Developer
Top Poster
Top Poster Of Month
Joined
Apr 25, 2018
Local time
3:43 AM
Threads
842
Messages
12,115
Reaction score
14,133
Points
1,801
Age
47
Location
Rawalpindi
Gold Coins
3,352.31
Get Unlimited Tags / Banners
Permanently Change Username Color & Style.
Get Unlimited Tags / Banners
Get Unlimited Tags / Banners
Thread Highlight Unlimited
Change Username Style.
تحریر ڈاکٹر عبدالرؤف پارکھ

پچھلی قسط

٭سِیاحت یا سَیّاحت؟

ایک غلط تلفظ ،جو اب بہت عام ہوچلا ہے وہ ’’سیّاحت ‘‘ہے ۔عربی کے لفظ ’’سِیاحت ‘‘ میں تشدید بالکل نہیں ہے ۔ نہ اس میں سین کے اوپر زبر ہے۔ اس میں سین کے نیچے زیر ہے، اس لیے اسے ’’سَیّاحت ‘‘ بولنا قطعاًغلط ہے۔ یہ ’’سِیاست ‘‘ کے وزن پر ہے، جو بہت سِیاست کرے اسے عربی کے قاعدے سے ’’سَیّاس‘‘ کہیں گے اور جو بہت سِیاحت کرے، اسے ’’سَیّاح ‘‘(تشدید کے ساتھ)کہتے ہیں، یعنی سَیّاح میں تو تشدید ہے، لیکن سِیاحت میں بالکل نہیں ہے۔ اسی طرح سیاح کے سین پر زبر ہے ۔ سیّاح میں تشدید کی وجہ سے سیاحت میں بھی تشدید لگادی جاتی ہے، مگر لفظوںکے ساتھ یہ تشدد ٹھیک نہیں ہے۔

٭دست کاری یا دس تکاری؟

تلفظ کی بات چلی ہے تو یاد آیا کہ اردو میں لفظوں کوملا کر لکھنے کا جو رجحان ہے، اس سے بسا اوقات تلفظ میں بڑی گڑ بڑ پیدا ہوجاتی ہے اور اسی لیے رشید حسن خان اور بعض دیگر علماے زبان لفظوں کو توڑ کر لکھنے کے قائل ہیں ۔ مثلاً مجنوں گورکھ پوری کو جب ملا کر مجنوں گورکھپوری لکھا جاتا ہے تو بچے گور کو الگ اورکھپوری کو الگ پڑھتے ہیں۔ اسی طرح دست کاری کو جب ملا کر دستکاری لکھا جاتا ہے تو بچے اسے دس تکاری پڑھتے ہیں ۔

بچے تو خیر بچے ہیں، لیکن اب ٹی وی پر خبریں پڑھنے والے بھی اسے ’’دس تکاری ‘‘ہی بولتے ہیں ۔کل کوکوئی پوچھ لے گا کہ بھئی دس ہی کیوں ؟ بیس تکاری کیوں نہیں؟ کیونکہ انھیں علم ہی نہیں کہ دست، فارسی میں ہاتھ کو کہتے ہیں اور دست کاری کے معنی ہیں ہاتھ کاکام ۔

٭دست گیر یا د س تگیر؟

اسی طرح کراچی میں ایک علاقہ ہے دست گیر کالونی، جس کا نام اب مختصر ہوکر صرف دست گیر ہوگیا ہے، لیکن شاید ہی کوئی اسے ’’دست گیر‘‘ بولتا ہو،کیونکہ اسے عام طور پر ملا کر یعنی دستگیر لکھا جاتا ہے اور اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگ بھی اسے ’’دس تگیر‘‘ پڑھتے ہیں۔یہاں بھی فارسی کا دست، یعنی ہاتھ ہے او ر’’گیر ‘‘ فارسی کے گرفتن یعنی پکڑنا سے ہے، گیر کا مطلب ہے پکڑنے والا۔ گویا دست گیر کے معنی ہیں ہاتھ پکڑنے والا۔ مرادی یا مجازی معنی ہیں مددگار، حامی و ناصر۔ اللہ تعالی کو بھی کہتے ہیں۔ دعا ہے کہ اللہ آپ کی دست گیری کرے اور آپ لفظوں کے تلفظ کی درست’’ادائی‘‘ کیا کریں ۔

٭غیظ یا غیض؟

غیظ عربی کا لفظ ہے اور قرآن شریف میں بھی آیا ہے اور اسی املے کے ساتھ آیا ہے۔اس کے معنی ہیں غصہ، قہر۔ اسے’’ظ‘‘ کی بجاے ’’ض‘‘ سے یعنی غیض لکھنا بالکل غلط ہے۔ درست املا ہے : غیظ۔اسی طرح ترکیب کا درست املا ہے ’’غیظ و غضب‘‘، ناکہ غیض و غضب۔



اگلی قسط
 
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks