حسیب

  1. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : شب تھی بے خواب اک آرزو دیر تک

    عنبرین حسیب عنبر : شب تھی بے خواب اک آرزو دیر تک شہر دل میں پھری کو بہ کو دیر تک چاندنی سے تصور کا در وا ہوا تم سے ہوتی رہی گفتگو دیر تک جاگ اٹھے تھے قربت کے موسم تمام پھر سجی محفل رنگ و بو دیر تک دفعتاً اٹھ گئی ہیں نگاہیں مری آج بیٹھے رہو روبرو دیر تک تم نے کس کیفیت میں مخاطب...
  2. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : ملا بھی زیست میں کیا رنج رہ گزار سے کم

    عنبرین حسیب عنبر : ملا بھی زیست میں کیا رنج رہ گزار سے کم سو اپنا شوق سفر بھی نہیں غبار سے کم ترے فراق میں دل کا عجیب عالم ہے نہ کچھ خمار سے بڑھ کر نہ کچھ خمار سے کم ہنسی خوشی کی رفاقت کسی سے کیا چاہیں یہاں تو ملتا نہیں کوئی غم گسار سے کم وہ منتظر ہے یقیناً ہوائے سرسر کا جو حبس ہو...
  3. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : ستارہ بار بن جائے نظر ایسا نہیں ہوتا

    عنبرین حسیب عنبر : ستارہ بار بن جائے نظر ایسا نہیں ہوتا ہر اک امید بر آئے مگر ایسا نہیں ہوتا محبت اور قربانی میں ہی تعمیر مضمر ہے در و دیوار سے بن جائے گھر ایسا نہیں ہوتا سبھی کے ہاتھ میں مثل سفال نم نہیں رہنا جو مل جائے وہی ہو کوزہ گر ایسا نہیں ہوتا کہا جلتا ہوا گھر دیکھ کر اہل...
  4. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : جسم و جاں میں در آئی اس قدر اذیت کیوں

    عنبرین حسیب عنبر : جسم و جاں میں در آئی اس قدر اذیت کیوں زندگی بھلا تجھ سے ہو رہی ہے وحشت کیوں سلسلہ محبت کا صرف خواب ہی رہتا اپنے درمیاں آخر آ گئی حقیقت کیوں فیصلہ بچھڑنے کا کر لیا ہے جب تم نے پھر مری تمنا کیا پھر مری اجازت کیوں یہ عجیب الجھن ہے کس سے پوچھنے جائیں آئنے میں رہتی ہے...
  5. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : زمیں پہ انساں خدا بنا تھا وبا سے پہلے

    عنبرین حسیب عنبر : زمیں پہ انساں خدا بنا تھا وبا سے پہلے وہ خود کو سب کچھ سمجھ رہا تھا وبا سے پہلے پلک جھپکتے ہی سارا منظر بدل گیا ہے یہاں تو میلہ لگا ہوا تھا وبا سے پہلے تم آج ہاتھوں سے دوریاں ناپتے ہو سوچو دلوں میں کس درجہ فاصلہ تھا وبا سے پہلے عجیب سی دوڑ میں سب ایسے لگے ہوئے تھے...
  6. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : اک گلی سے خوشبو کی رسم و راہ کافی ہے

    عنبرین حسیب عنبر : اک گلی سے خوشبو کی رسم و راہ کافی ہے لاکھ جبر موسم ہو یہ پناہ کافی ہے نیت زلیخا کی کھوج میں رہے دنیا اپنی بے گناہی کو دل گواہ کافی ہے عمر بھر کے سجدوں سے مل نہیں سکی جنت خلد سے نکلنے کو اک گناہ کافی ہے آسماں پہ جا بیٹھے یہ خبر نہیں تم کو عرش کے ہلانے کو ایک گناہ...
  7. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : جب سے زندگی ہوا دل گردش تقدیر کا

    عنبرین حسیب عنبر : جب سے زندگی ہوا دل گردش تقدیر کا روز بڑھ جاتا ہے اک حلقہ مری زنجیر کا میرے حصہ میں کہاں تھیں عجلتوں کی منزلیں میرے قدموں کو سدا رستہ ملا تاخیر سے کس لیے بربادیوں کا دل کو ہے اتنا ملال اور کیا اندازہ ہو خمیازۂ تعمیر کا خون دل جن کی گواہی میں ہوا نذر وفا رنگ تو وہ...
  8. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : کب موسم بہار پکارا نہیں کیا

    عنبرین حسیب عنبر : کب موسم بہار پکارا نہیں کیا ہم نے ترے بغیر گوارہ نہیں کیا دنیا تو ہم سے ہاتھ ملانے کو آئی تھی ہم نے ہی اعتبار دوبارہ نہیں کیا مل جائے خاک میں نہ کہیں اس خیال سے آنکھوں نے کوئی عشق ستارا نہیں کیا اک عمر کے عذاب کا حاصل وہیں بہشت دو چار دن جہاں پہ گزارا نہیں کیا...
  9. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : دل جن کو ڈھونڈھتا ہے نہ جانے کہاں گئے

    عنبرین حسیب عنبر : دل جن کو ڈھونڈھتا ہے نہ جانے کہاں گئے خواب و خیال سے وہ زمانے کہاں گئے مانوس بام و در سے نظر پوچھتی رہی ان میں بسے وہ لوگ پرانے کہاں گئے اس سرزمیں سے تھی جو محبت وہ کیا ہوئی بچوں کے لب پہ تھے جو ترانے کہاں گئے اپنی خطا پہ سر کو جھکایا ہے آج کیوں ازبر جو آپ کو تھے...
  10. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : عیاں دونوں سے تکمیل جہاں ہے

    عنبرین حسیب عنبر : عیاں دونوں سے تکمیل جہاں ہے زمیں گم ہو تو پھر کیا آسماں ہے طلسماتی کوئی قصہ ہے دنیا یہاں ہر دن نئی اک داستاں ہے جو تم ہو تو یہ کیسے مان لوں میں کہ جو کچھ ہے یہاں بس اک گماں ہے سروں پر آسماں ہوتے ہوئے بھی جسے دیکھو وحی بے سائباں ہے کسی دھرتی کی شاید ریت ہوگی...
  11. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : اب اسیری کی یہ تدبیر ہوئی جاتی ہے

    عنبرین حسیب عنبر : اب اسیری کی یہ تدبیر ہوئی جاتی ہے ایک خوشبو مری زنجیر ہوئی جاتی ہے اک حسیں خواب کہ آنکھوں سے نکلتا ہی نہیں ایک وحشت ہے کہ تعبیر ہوئی جاتی ہے اس کی پوشاک نگاہوں کا عجب ہے یہ فسوں خوش بیانی مری تصویر ہوئی جاتی ہے اب وہ دیدار میسر ہے نہ قربت نہ سخن اک جدائی ہے جو...
  12. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : میں اسے دیکھ رہی ہوں بڑی حیرانی سے

    عنبرین حسیب عنبر : میں اسے دیکھ رہی ہوں بڑی حیرانی سے جو مجھے بھول گیا اس قدر آسانی سے خود سے گھبرا کے یہی کہتی ہوں اوروں کی طرح خوف آتا ہے مجھے شہر کی ویرانی سے اب کسی اور سلیقے سے ستائے دنیا جی بدلنے لگا اسباب پریشانی سے تن کو ڈھانپے ہوئے پھرتے ہیں سبھی لوگ یہاں شرم آتی ہے کسے...
  13. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : خوشی کا لمحہ ریت تھا سو ہاتھ سے نکل گیا

    عنبرین حسیب عنبر : خوشی کا لمحہ ریت تھا سو ہاتھ سے نکل گیا وہ چودھویں کا چاند تھا اندھیری شب میں ڈھل گیا ہے وصف اس کے پاس یہ بدل سکے ہر ایک شے سو مجھ کو بھی بدل دیا اور آپ بھی بدل گیا مچل رہا تھا دل بہت سو دل کی بات مان لی سمجھ رہا ہے نا سمجھ کی داؤ اس کا چل گیا یہ دوڑ بھی عجیب سی ہے...
  14. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے

    عنبرین حسیب عنبر : اس عارضی دنیا میں ہر بات ادھوری ہے ہر جیت ہے لا حاصل ہر مات ادھوری ہے کچھ دیر کی رم جھم کو معلوم نہیں شاید جل تھل نہ ہو آنگن تو برسات ادھوری ہے کیا خوب تماشہ ہے یہ کار گہ ہستی ہر جسم سلامت ہے ہر ذات ادھوری ہے محروم تمازت دن شب میں بھی نہیں خنکی یہ کیسا تعلق ہے ہر...
  15. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : اے خدا عجب ہے ترا جہاں مرا دل یہاں پہ لگا نہیں

    عنبرین حسیب عنبر : اے خدا عجب ہے ترا جہاں مرا دل یہاں پہ لگا نہیں جہاں کوئی اہل وفا نہیں کسی لب پہ حرف دعا نہیں بڑا شور تھا ترے شہر کا سو گزار آئے ہیں دن وہاں وہ سکوں کہ جس کی تلاش ہے ترے شہر میں بھی ملا نہیں یہ جو حشر برپا ہے ہر طرف تو بس اس کا ہے یہی اک سبب ہے لبوں پہ نام خدا مگر کسی...
  16. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : یہ شعلہ آزمانا جانتے ہیں

    عنبرین حسیب عنبر : یہ شعلہ آزمانا جانتے ہیں سو ہم دامن بچانا جانتے ہیں تعلق جو بھی رکھو سوچ لینا کہ ہم رشتہ نبھانا جانتے ہیں کھنکتی نقرئی دل کش ہنسی میں ہم اپنا غم چھپانا جانتے ہیں بلانا ہی نہیں پڑتا ہے عنبرؔ یہ غم اپنا ٹھکانہ جانتے ہیں
  17. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : بہتے ہوئے اشکوں کی روانی نہیں لکھی

    عنبرین حسیب عنبر : بہتے ہوئے اشکوں کی روانی نہیں لکھی میں نے غم ہجراں کی کہانی نہیں لکھی جس دن سے ترے ہاتھ سے چھوٹا ہے مرا ہاتھ اس دن سے کوئی شام سہانی نہیں لکھی کیا جانئے کیا سوچ کے افسردہ ہوا دل میں نے تو کوئی بات پرانی نہیں لکھی الفاظ سے کاغذ پہ سجائی ہے جو دنیا جز اپنے کوئی چیز...
  18. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : تمہارا جو سہارا ہو گیا ہے

    عنبرین حسیب عنبر : تمہارا جو سہارا ہو گیا ہے بھنور بھی اب کنارا ہو گیا ہے محبت میں بھلا کیا اور ہوتا مرا یہ دل تمہارا ہو گیا ہے تمہاری یاد سے ہے وہ چراغاں کی آنسو بھی ستارا ہو گیا ہے عجب ہے موسم بے اختیاری کی جب سے وہ ہمارا ہو گیا اک ان جانی خوشی کے آسرے میں ہمیں ہر غم گوارا ہو...
  19. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : ہو گئی بات پرانی پھر بھی

    عنبرین حسیب عنبر : ہو گئی بات پرانی پھر بھی یاد ہے مجھ کو زبانی پھر بھی موجۂ غم نے تو دم توڑ دیا رہ گیا آنکھ میں پانی پھر بھی میں نے سوچا بھی نہیں تھا اس کو ہو گئی شام سہانی پھر بھی چشم نم نے اسے جاتے دیکھا دل نے یہ بات نہ مانی پھر بھی لوگ ارزاں ہوئے جاتے ہیں یہاں بڑھتی جاتی ہے...
Top
AdBlock Detected

We get it, advertisements are annoying!

Sure, ad-blocking software does a great job at blocking ads, but it also blocks useful features of our website. For the best site experience please disable your AdBlocker.

I've Disabled AdBlock    No Thanks