شب تھی

  1. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : شب تھی بے خواب اک آرزو دیر تک

    عنبرین حسیب عنبر : شب تھی بے خواب اک آرزو دیر تک شہر دل میں پھری کو بہ کو دیر تک چاندنی سے تصور کا در وا ہوا تم سے ہوتی رہی گفتگو دیر تک جاگ اٹھے تھے قربت کے موسم تمام پھر سجی محفل رنگ و بو دیر تک دفعتاً اٹھ گئی ہیں نگاہیں مری آج بیٹھے رہو روبرو دیر تک تم نے کس کیفیت میں مخاطب...
Top