نہیں

  1. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : ستارہ بار بن جائے نظر ایسا نہیں ہوتا

    عنبرین حسیب عنبر : ستارہ بار بن جائے نظر ایسا نہیں ہوتا ہر اک امید بر آئے مگر ایسا نہیں ہوتا محبت اور قربانی میں ہی تعمیر مضمر ہے در و دیوار سے بن جائے گھر ایسا نہیں ہوتا سبھی کے ہاتھ میں مثل سفال نم نہیں رہنا جو مل جائے وہی ہو کوزہ گر ایسا نہیں ہوتا کہا جلتا ہوا گھر دیکھ کر اہل...
  2. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : کب موسم بہار پکارا نہیں کیا

    عنبرین حسیب عنبر : کب موسم بہار پکارا نہیں کیا ہم نے ترے بغیر گوارہ نہیں کیا دنیا تو ہم سے ہاتھ ملانے کو آئی تھی ہم نے ہی اعتبار دوبارہ نہیں کیا مل جائے خاک میں نہ کہیں اس خیال سے آنکھوں نے کوئی عشق ستارا نہیں کیا اک عمر کے عذاب کا حاصل وہیں بہشت دو چار دن جہاں پہ گزارا نہیں کیا...
  3. Lovely Eyes

    عنبرین حسیب عنبر : بہتے ہوئے اشکوں کی روانی نہیں لکھی

    عنبرین حسیب عنبر : بہتے ہوئے اشکوں کی روانی نہیں لکھی میں نے غم ہجراں کی کہانی نہیں لکھی جس دن سے ترے ہاتھ سے چھوٹا ہے مرا ہاتھ اس دن سے کوئی شام سہانی نہیں لکھی کیا جانئے کیا سوچ کے افسردہ ہوا دل میں نے تو کوئی بات پرانی نہیں لکھی الفاظ سے کاغذ پہ سجائی ہے جو دنیا جز اپنے کوئی چیز...
Top