نماز میں قصر کرنے کا بیان اور اقامت کی حالت میں کتنی مدت تک قصر کر سکتا ہے۔

Author
UrduLover

UrduLover

Staff member
Moderator
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
409
Messages
1,893
Likes
1,305
Points
600
Location
Manchester U.K

Doctor

Team Leader
Most Valuable
Most Popular
Top Poster
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
ITD4MRTS
ITD5MMB
Joined
Apr 25, 2018
Threads
300
Messages
2,097
Likes
2,615
Points
920
Location
Rawalpindi
#2
سبحان اللہ
ماشا اللہ
جزاک اللہ خیراً کثیرا
 

Ahsan376

Senior Member
Joined
May 6, 2018
Threads
6
Messages
186
Likes
171
Points
69
Location
Lahore
#3
جزاک اللہ
 

Afzal339

Advisor
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Threads
148
Messages
470
Likes
655
Points
317
#4
محترم اس سے کل مدت قصر پر استدلال نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ اس روایت سے ایک مقام پر ارادہ بنا کر ٹھہرنے کی صورت ثابت نہیں ہورہی ہے اور یہ اس کے سیاق سے واضح ہے یعنی اس روایت میں اس تردد کی صورت بیان ہورہی ہے کہ جس میں بندہ کی کچھ نیت ہی نہ ہو، بلکہ آج، کل میں اس کا ارادہ وہاں سے چلے جانے کا ہو مگر وہ اسی پس و پیش اس کے اتنے دن گذر جائے۔۔ یعنی کوئی مدت معین بیان نہیں ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس روایت سے کسی بھی محدث نے کل مدت قصر پر استدلال نہیں کیا نیز چاروں بڑے فقہاء کرام اور ان کے مقلدین بھی اس سے کل مدت قصر پر استدلال نہیں کرتے ہیں ۔ بلکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے مقلدین کے نزدیک مدتِ قصر پندرہ دن تک ہے اگر کوئی شخص پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کا ارادہ کر لے تو اس کو پوری نماز پڑھنی ہو گی۔ جبکہ ائمہ ثلاثہ (امام شافعی، امام مالک اور امام احمد) اور ان کے مقلدین کے نزدیک مدتِ قصر چار روز تک ہے۔ اگر کوئی شخص چار روز یا اس سے زیادہ قیام کا ارادہ کرے گا تو اس کو پوری نماز پڑھنی ہوگی۔ اور اس پر چاروں کے پاس احادیث سے دلائل موجود ہیں
چنانچہ احناف کے دلائل یہ ہیں
حضرت عمر بن ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مجاہد رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا:
کَانَ ابْنُ عُمَرَ رضی الله عنهما إِذَا قَدِمَ مَکَّةَ فَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً سَرَّحَ ظَهَرَهُ، فَأَتَمَّ الصَّلَاةَ.
’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ جاتے اور پندرہ دن قیام کا ارادہ کرتے تو اپنی پشت کھول دیتے اور پوری نماز پڑھتے۔‘‘
عبد الرزاق، المصنف، 2: 534، رقم: 4343
امام محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا اگر کوئی شخص تین دن یا اس سے زیادہ کی مسافت طے کر کے اس شہر میں پہنچ جائے جس کے لئے اس نے سفر کیا تھا تو کیا وہ پوری نماز پڑھے گا؟ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اگر اس کی نیت پندرہ دن قیام کی ہے تو نماز پوری پڑھے گا اور اگر اس کو پتا نہ ہو کہ وہ کب تک قیام کرے گا تو قصر کرے۔ میں نے پوچھا آپ نے پندرہ دن کس دلیل سے متعین کئے ہیں؟ فرمایا: حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے۔‘‘
محمد بن حسن شيباني، المبسوط، 1: 266
اور ائمہ ثلاثہ کی دلیل یہ روایت ہے کہ
جابر اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہم بيان كرتے ہيں كہ:
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم حجۃ الوداع كے موقع پر چار ذوالحجہ كى صبح مكہ پہنچے اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے چار، پانچ، چھ اور سات كى اقامت اختيار كى اور آٹھ كى فجر نماز ابطح ميں ادا كى، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ان ايام ميں نماز قصر كرتے رہے"



 
Author
UrduLover

UrduLover

Staff member
Moderator
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
409
Messages
1,893
Likes
1,305
Points
600
Location
Manchester U.K
#5
محترم اس سے کل مدت قصر پر استدلال نہیں کیا جاسکتا کیوں کہ اس روایت سے ایک مقام پر ارادہ بنا کر ٹھہرنے کی صورت ثابت نہیں ہورہی ہے اور یہ اس کے سیاق سے واضح ہے یعنی اس روایت میں اس تردد کی صورت بیان ہورہی ہے کہ جس میں بندہ کی کچھ نیت ہی نہ ہو، بلکہ آج، کل میں اس کا ارادہ وہاں سے چلے جانے کا ہو مگر وہ اسی پس و پیش اس کے اتنے دن گذر جائے۔۔ یعنی کوئی مدت معین بیان نہیں ہوئی ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ اس روایت سے کسی بھی محدث نے کل مدت قصر پر استدلال نہیں کیا نیز چاروں بڑے فقہاء کرام اور ان کے مقلدین بھی اس سے کل مدت قصر پر استدلال نہیں کرتے ہیں ۔ بلکہ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ اور ان کے مقلدین کے نزدیک مدتِ قصر پندرہ دن تک ہے اگر کوئی شخص پندرہ دن یا اس سے زیادہ قیام کا ارادہ کر لے تو اس کو پوری نماز پڑھنی ہو گی۔ جبکہ ائمہ ثلاثہ (امام شافعی، امام مالک اور امام احمد) اور ان کے مقلدین کے نزدیک مدتِ قصر چار روز تک ہے۔ اگر کوئی شخص چار روز یا اس سے زیادہ قیام کا ارادہ کرے گا تو اس کو پوری نماز پڑھنی ہوگی۔ اور اس پر چاروں کے پاس احادیث سے دلائل موجود ہیں
چنانچہ احناف کے دلائل یہ ہیں
حضرت عمر بن ذر رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ میں نے مجاہد رضی اللہ عنہ کو فرماتے ہوئے سنا:
کَانَ ابْنُ عُمَرَ رضی الله عنهما إِذَا قَدِمَ مَکَّةَ فَأَرَادَ أَنْ يُقِيمَ خَمْسَ عَشْرَةَ لَيْلَةً سَرَّحَ ظَهَرَهُ، فَأَتَمَّ الصَّلَاةَ.
’’حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما جب مکہ جاتے اور پندرہ دن قیام کا ارادہ کرتے تو اپنی پشت کھول دیتے اور پوری نماز پڑھتے۔‘‘
عبد الرزاق، المصنف، 2: 534، رقم: 4343
امام محمد رحمۃ اللہ علیہ فرماتے ہیں:میں نے امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ سے پوچھا اگر کوئی شخص تین دن یا اس سے زیادہ کی مسافت طے کر کے اس شہر میں پہنچ جائے جس کے لئے اس نے سفر کیا تھا تو کیا وہ پوری نماز پڑھے گا؟ امام ابو حنیفہ رحمۃ اللہ علیہ نے فرمایا: اگر اس کی نیت پندرہ دن قیام کی ہے تو نماز پوری پڑھے گا اور اگر اس کو پتا نہ ہو کہ وہ کب تک قیام کرے گا تو قصر کرے۔ میں نے پوچھا آپ نے پندرہ دن کس دلیل سے متعین کئے ہیں؟ فرمایا: حضرت عبد اﷲ بن عمر رضی اللہ عنہما کی حدیث سے۔‘‘
محمد بن حسن شيباني، المبسوط، 1: 266
اور ائمہ ثلاثہ کی دلیل یہ روایت ہے کہ
جابر اور ابن عباس رضى اللہ تعالى عنہم بيان كرتے ہيں كہ:
" نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم حجۃ الوداع كے موقع پر چار ذوالحجہ كى صبح مكہ پہنچے اور رسول كريم صلى اللہ عليہ وسلم نے چار، پانچ، چھ اور سات كى اقامت اختيار كى اور آٹھ كى فجر نماز ابطح ميں ادا كى، اور نبى كريم صلى اللہ عليہ وسلم ان ايام ميں نماز قصر كرتے رہے"



اس موضوع پر مزید اور پوسٹ کا اشتراک کرونگا۔آپ اپنے مجاہدے کیمطابق دیگر پوسٹ کا اشتراک کیجئے۔میں نے صحیح بخاری سے حدیث کا چناو کیا ہے۔اب اسکو اوپن فورم پر میں تو طول نہی دونگا۔اگر آپکو اس سے کوئی مسلہ ہے۔جو آپکو بہتر اور ٹھیک لگے اسپر عمل کیجئے۔
 
Author
UrduLover

UrduLover

Staff member
Moderator
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
409
Messages
1,893
Likes
1,305
Points
600
Location
Manchester U.K
#6
حدثنا ابو معمر ، قال : حدثنا عبد الوارث ، قال : حدثنا يحيى بن ابي إسحاق ، قال : سمعت انسا ، يقول : " خرجنا مع النبي صلى الله عليه وسلم من المدينة إلى مكة فكان يصلي ركعتين ركعتين حتى رجعنا إلى المدينة ، قلت : اقمتم بمكة شيئا ؟ قال : اقمنا بها عشرا " .
´ہم سے ابومعمر نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالوارث نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ مجھ سے یحییٰ بن ابی اسحاق نے بیان کیا انہوں نے انس رضی اللہ عنہ کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ` ہم مکہ کے ارادہ سے مدینہ سے نکلے تو برابر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم دو، دو رکعت پڑھتے رہے۔ یہاں تک کہ ہم مدینہ واپس آئے۔ میں نے پوچھا کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں کچھ دن قیام بھی رہا تھا؟ تو اس کا جواب انس رضی اللہ عنہ نے یہ دیا کہ دس دن تک ہم وہاں ٹھہرے تھے۔
 
Author
UrduLover

UrduLover

Staff member
Moderator
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
409
Messages
1,893
Likes
1,305
Points
600
Location
Manchester U.K
#7
باب: منیٰ میں نماز قصر کرنے کا بیان۔
باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں
حدیث نمبر: 1082
Tashkeel Show/Hide

حدثنا مسدد ، قال : حدثنا يحيى ، عن عبيد الله ، قال : اخبرني نافع ، عن عبد الله رضي الله عنهما ، قال : " صليت مع النبي صلى الله عليه وسلم بمنى ركعتين ، وابي بكر ، وعمر ، ومع عثمان صدرا من إمارته ثم اتمها " .
´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ نے عبیداللہ عمری سے بیان کیا، کہا کہ مجھے نافع نے خبر دی اور انہیں عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ نے، کہا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم ابوبکر اور عمر رضی اللہ عنہما کے ساتھ منیٰ میں دو رکعت (یعنی چار رکعت والی نمازوں میں) قصر پڑھی۔ عثمان رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی ان کے دور خلافت کے شروع میں دو ہی رکعت پڑھی تھیں۔ لیکن بعد میں آپ رضی اللہ عنہ نے پوری پڑھی تھیں۔
 
Author
UrduLover

UrduLover

Staff member
Moderator
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
409
Messages
1,893
Likes
1,305
Points
600
Location
Manchester U.K
#8
2- بَابُ الصَّلاَةِ بِمِنًى:
باب: منیٰ میں نماز قصر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1083
حدثنا ابو الوليد ، قال : حدثنا شعبة ، انبانا ابو إسحاق ، قال : سمعت حارثة بن وهب ، قال : " صلى بنا النبي صلى الله عليه وسلم آمن ما كان بمنى ركعتين " .
´ہم سے ابوالولید نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے شعبہ نے بیان کیا، کہا کہ ہمیں ابواسحاق نے خبر دی، انہوں نے حارثہ سے سنا اور انہوں نے وہب رضی اللہ عنہ سے کہ` آپ نے فرمایا کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے منیٰ میں امن کی حالت میں ہمیں دو رکعت نماز پڑھائی تھی۔
 
Author
UrduLover

UrduLover

Staff member
Moderator
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
409
Messages
1,893
Likes
1,305
Points
600
Location
Manchester U.K
#9
- بَابُ الصَّلاَةِ بِمِنًى:
باب: منیٰ میں نماز قصر کرنے کا بیان۔
حدیث نمبر: 1084


حدثنا قتيبة ، قال : حدثنا عبد الواحد ، عن الاعمش ، قال : حدثنا إبراهيم ، قال : سمعت عبد الرحمن بن يزيد ، يقول : " صلى بنا عثمان بن عفان رضي الله عنه بمنى اربع ركعات ، فقيل ذلك لعبد الله بن مسعود رضي الله عنه فاسترجع ، ثم قال : صليت مع رسول الله صلى الله عليه وسلم بمنى ركعتين ، وصليت مع ابي بكر الصديق رضي الله عنه بمنى ركعتين ، وصليت مع عمر بن الخطاب رضي الله عنه بمنى ركعتين ، فليت حظي من اربع ركعات ركعتان متقبلتان " .
´ہم سے قتیبہ نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے عبدالواحد بن زیاد نے بیان کیا، ان سے اعمش نے، انہوں نے کہا کہ ہم سے ابراہیم نخعی نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ` میں نے عبدالرحمٰن بن یزید سے سنا، وہ کہتے تھے کہ ہمیں عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ نے منیٰ میں چار رکعت نماز پڑھائی تھی لیکن جب اس کا ذکر عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ سے کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ «انا لله و انا اليه راجعون» ۔ پھر کہنے لگے میں نے تو نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ منی ٰ میں دو رکعت نماز پڑھی ہے اور ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی میں نے دو رکعت ہی پڑھی ہیں اور عمر بن خطاب رضی اللہ عنہ کے ساتھ بھی دو رکعت ہی پڑھی تھی کاش میرے حصہ میں ان چار رکعتوں کے بجائے دو مقبول رکعتیں ہوتیں۔
 
Author
UrduLover

UrduLover

Staff member
Moderator
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
409
Messages
1,893
Likes
1,305
Points
600
Location
Manchester U.K
#10
3- بَابُ كَمْ أَقَامَ النَّبِيُّ صَلَّى اللَّهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ فِي حَجَّتِهِ:
باب: حج کے موقعہ پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کتنے دن قیام کیا تھا؟
باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں
حدیث نمبر: 1085

حدثنا موسى بن إسماعيل ، قال : حدثنا وهيب ، قال : حدثنا ايوب ، عن ابي العالية البراء ، عن ابن عباس رضي الله عنهما ، قال : " قدم النبي صلى الله عليه وسلم واصحابه لصبح رابعة يلبون بالحج فامرهم ان يجعلوها عمرة إلا من معه الهدي " ، تابعه عطاء ، عن جابر .
´ہم سے موسیٰ بن اسماعیل نے بیان کیا کہا کہ ہم سے وہیب نے بیان کیا کہا کہ ہم سے ایوب نے بیان کیا ان سے ابوالعالیہ براء نے ان سے ابن عباس رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم صحابہ کو ساتھ لے کر تلبیہ کہتے ہوئے ذی الحجہ کی چوتھی تاریخ کو (مکہ میں) تشریف لائے پھر آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ جن کے پاس ہدی نہیں ہے وہ بجائے حج کے عمرہ کی نیت کر لیں اور عمرہ سے فارغ ہو کر حلال ہو جائیں پھر حج کا احرام باندھیں۔ اس حدیث کی متابعت عطاء نے جابر سے کی ہے۔​
 
Author
UrduLover

UrduLover

Staff member
Moderator
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
409
Messages
1,893
Likes
1,305
Points
600
Location
Manchester U.K
#11
4- بَابٌ في كَمْ يَقْصُرُ الصَّلاَةَ:
باب: نماز کتنی مسافت میں قصر کرنی چاہیے۔
باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں

وسمى النبي صلى الله عليه وسلم يوما وليلة سفرا ، وكان ابن عمر ، وابن عباس رضي الله عنهم يقصران ويفطران في اربعة برد وهي ستة عشر فرسخا .
‏‏‏‏ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ایک دن اور ایک رات کی مسافت کو بھی سفر کہا ہے اور عبداللہ ابن عمر اور عبداللہ ابن عباس رضی اللہ عنہم چار برد (تقریباً اڑتالیس میل کی مسافت) پر قصر کرتے اور روزہ بھی افطار کرتے تھے۔ چار برد میں سولہ فرسخ ہوتے ہیں (اور ایک فرسخ میں تین میل)۔

حدیث نمبر: 1086

حدثنا إسحاق بن إبراهيم الحنظلي ، قال : قلت لابي اسامة ، حدثكم عبيد الله ، عن نافع ، عن ابن عمر رضي الله عنهما ، ان النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : " لا تسافر المراة ثلاثة ايام إلا مع ذي محرم " .
´ہم سے اسحاق بن راہویہ نے بیان کیا، انہوں نے ابواسامہ سے، میں نے پوچھا کہ کیا آپ سے عبیداللہ عمری نے نافع سے یہ حدیث بیان کی تھی کہ ان سے عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہما نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا یہ فرمان نقل کیا تھا کہ عورتیں تین دن کا سفر ذی رحم محرم کے بغیر نہ کریں (ابواسامہ نے کہا ہاں)۔​
 
Author
UrduLover

UrduLover

Staff member
Moderator
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
409
Messages
1,893
Likes
1,305
Points
600
Location
Manchester U.K
#12
كتاب تقصير الصلاة
کتاب: نماز میں قصر کرنے کا بیان

4- بَابٌ في كَمْ يَقْصُرُ الصَّلاَةَ:
باب: نماز کتنی مسافت میں قصر کرنی چاہیے۔
باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں
حدیث نمبر: 1087

حدثنا مسدد ، قال : حدثنا يحيى ، عن عبيد الله ، عن نافع ، عن ابن عمر رضي الله عنهما ، عن النبي صلى الله عليه وسلم ، قال : "لا تسافر المراة ثلاثا إلا مع ذي محرم " ، تابعه احمد ، عن ابن المبارك ، عن عبيد الله ، عن نافع ، عن ابن عمر ، عن النبي صلى الله عليه وسلم .
´ہم سے مسدد بن مسرہد نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے یحییٰ بن سعید قطان نے، عبیداللہ عمری سے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہمیں نافع نے خبر دی، انہیں ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خبر دی کہ` آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا عورت تین دن کا سفر اس وقت تک نہ کرے جب تک اس کے ساتھ کوئی محرم رشتہ دار نہ ہو۔ اس روایت کی متابعت احمد نے ابن مبارک سے کی ان سے عبیداللہ عمری نے ان سے نافع نے اور ان سے ابن عمر رضی اللہ عنہما نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حوالہ سے۔
 
Author
UrduLover

UrduLover

Staff member
Moderator
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
409
Messages
1,893
Likes
1,305
Points
600
Location
Manchester U.K
#13
كتاب تقصير الصلاة
کتاب: نماز میں قصر کرنے کا بیان

4- بَابٌ في كَمْ يَقْصُرُ الصَّلاَةَ:
باب: نماز کتنی مسافت میں قصر کرنی چاہیے۔
باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں
حدیث نمبر: 1088

حدثنا آدم ، قال : حدثنا ابن ابي ذئب ، قال : حدثنا سعيد المقبري ، عن ابيه ، عن ابي هريرة رضي الله عنهما ، قال : قال النبي صلى الله عليه وسلم : " لا يحل لامراة تؤمن بالله واليوم الآخر ، ان تسافر مسيرة يوم وليلة ليس معها حرمة " ، تابعه يحيى بن ابي كثير ، وسهيل ، ومالك ، عن المقبري ، عن ابي هريرة رضي الله عنه .
´ہم سے آدم نے بیان کیا انہوں نے کہا کہ ہم سے ابن ابی ذئب نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سعید مقبری نے اپنے باپ سے بیان کیا، ان سے ابوہریرہ رضی اللہ عنہ نے کہ` نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ کسی خاتون کے لیے جو اللہ اور اس کے رسول پر ایمان رکھتی ہو، جائز نہیں کہ ایک دن رات کا سفر بغیر کسی ذی رحم محرم کے کرے۔ اس روایت کی متابعت یحییٰ بن ابی کثیر، سہیل اور مالک نے مقبری سے کی۔ وہ اس روایت کو ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے بیان کرتے تھے۔

 
Author
UrduLover

UrduLover

Staff member
Moderator
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
409
Messages
1,893
Likes
1,305
Points
600
Location
Manchester U.K
#14
كتاب تقصير الصلاة
کتاب: نماز میں قصر کرنے کا بیان

5- بَابُ يَقْصُرُ إِذَا خَرَجَ مِنْ مَوْضِعِهِ:
باب: جب آدمی سفر کی نیت سے اپنی بستی سے نکل جائے تو قصر کرے۔
باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں


وخرج علي بن ابي طالب عليه السلام فقصر وهو يرى البيوت فلما رجع قيل له هذه الكوفة قال لا حتى ندخلها .
‏‏‏‏ اور علی بن ابی طالب رضی اللہ عنہ (کوفہ سے سفر کے ارادہ سے) نکلے تو نماز قصر کرنی اسی وقت سے شروع کر دی جب ابھی کوفہ کے مکانات دکھائی دے رہے تھے اور پھر واپسی کے وقت بھی جب آپ کو بتایا گیا کہ یہ کوفہ سامنے ہے تو آپ نے فرمایا کہ جب تک ہم شہر میں داخل نہ ہو جائیں نماز پوری نہیں پڑھیں گے۔

حدیث نمبر: 1089
Tashkeel Show/Hide

حدثنا ابو نعيم ، قال : حدثنا سفيان ، عن محمد بن المنكدر ، وإبراهيم بن ميسرة ، عن انس رضي الله عنه ، قال : " صليت الظهر مع النبي صلى الله عليه وسلم بالمدينة اربعا وبذي الحليفة ركعتين " .
´ہم سے ابونعیم نے بیان کیا، انہوں نے کہا کہ ہم سے سفیان نے، محمد بن منکدر اور ابراہیم بن میسرہ سے بیان کیا، ان سے انس بن مالک رضی اللہ عنہ نے کہا کہ` میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے ساتھ مدینہ منورہ میں ظہر کی چار رکعت پڑھی اور ذوالحلیفہ میں عصر کی دو رکعت پڑھی
 
Author
UrduLover

UrduLover

Staff member
Moderator
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
409
Messages
1,893
Likes
1,305
Points
600
Location
Manchester U.K
#15
كتاب تقصير الصلاة
کتاب: نماز میں قصر کرنے کا بیان
5- بَابُ يَقْصُرُ إِذَا خَرَجَ مِنْ مَوْضِعِهِ:
باب: جب آدمی سفر کی نیت سے اپنی بستی سے نکل جائے تو قصر کرے۔
باب سے متعلقہ تمام احادیث دیکھیں
حدیث نمبر: 1090
حدثنا عبد الله بن محمد ، قال : حدثنا سفيان ، عن الزهري ، عن عروة ، عن عائشة رضي الله عنها ، قالت : " الصلاة اول ما فرضت ركعتين ، فاقرت صلاة السفر واتمت صلاة الحضر " ، قال الزهري : فقلت لعروة : ما بال عائشة تتم ، قال : تاولت ما تاول عثمان .
´ہم سے عبداللہ بن محمد مسندی نے بیان کیا، کہا کہ ہم سے سفیان بن عیینہ نے زہری سے بیان کیا، ان سے عروہ نے اور ان سے عائشہ رضی اللہ عنہا نے کہا کہ` پہلے نماز دو رکعت فرض ہوئی تھی بعد میں سفر کی نماز تو اپنی اسی حالت پر رہ گئی البتہ حضر کی نماز پوری (چار رکعت) کر دی گئی۔ زہری نے بیان کیا کہ میں نے عروہ سے پوچھا کہ پھر خود عائشہ رضی اللہ عنہا نے کیوں نماز پوری پڑھی تھی انہوں نے اس کا جواب یہ دیا کہ عثمان رضی اللہ عنہ نے اس کی جو تاویل کی تھی وہی انہوں نے بھی کی۔


10851086108710881089109010911092109310941095
 

Afzal339

Advisor
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Threads
148
Messages
470
Likes
655
Points
317
#16
بحث مدت قصر سے متعلق تھی اور آپ نے کچھ اور شروع فرمادی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی
 
Author
UrduLover

UrduLover

Staff member
Moderator
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Writer
Top Poster Of Month
Joined
May 9, 2018
Threads
409
Messages
1,893
Likes
1,305
Points
600
Location
Manchester U.K
#17
بحث مدت قصر سے متعلق تھی اور آپ نے کچھ اور شروع فرمادی ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ ٹھیک ہے جیسے آپ کی مرضی
افضل صاحب جیسا میں نے پہلے عر ض کیا بات کو طول دیئے بغیر اور الجھے بغیر آگے برھنا مجھے اچھا لگتا ہے۔آپ کو جو بہتر لگے آپ اسپر عمل کیجئے،میں اسپر کوئی بحث تو نہی کر رہا ہوں۔یہ آپنے کہا ہے۔اگر آپکو میری پوست بحث کا حصہ لگتی ہیں تو معزرت چاہتا ہوں۔آپکے اپنے ذرائع ہیں اور بیشک آپنے بھی بہترین ذرائع سے ہی اشتراک کیا ہوگا اور میں نے کہاں کچھ اور شروع کیا ہے نماز قصر کرنے کا بیان پر سارے اشتراک ہیں ۔ایک ہی موضوع پر ملتی جلتی احادیث اور جہاں سے یہ پوسٹ لی ہیں اسکا حوالہ بھی دے دیا ہے۔​
 
Top