حصول علم کے لیے چین تک جانے والی روایت کی تحقیق

Author
A

Afzal339

Advisor
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Threads
149
Messages
471
Likes
653
Points
317
#1
حضرت انس بن مالک رضی اللہ عنہ، رسول ﷲ صلی اللہ علیہ وسلم سے روایت کرتے ہیں کہ آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: علم حاصل کرو، خواہ تمہیں (اس کے لیے) چین میں جانا پڑے‘‘
أَخْبَرَنَا أَبُو طَاهِرٍ الْفَقِيهُ، أبنا أَبُو حَامِدِ بْنُ بِلَالٍ، ثنا إِبْرَاهِيمُ بْنُ مَسْعُودٍ الْهَمَذَانِيُّ، ثنا الْحَسَنُ بْنُ عَطِيَّةَ الْقُرَشِيُّ، ثنا أَبُو عَاتِكَةَ الْبَصْرِيُّ، عَنْ أَنَسِ بْنِ مَالِكٍ قَالَ: قَالَ رَسُولُ اللَّهِ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ: «اطْلُبُوا الْعِلْمَ وَلَوْ بِالصِّينِ , فَإِنَّ طَلَبَ الْعِلْمِ فَرِيضَةٌ عَلَى كُلِّ مُسْلِمٍ» هَذَا حَدِيثٌ مَتْنُهُ مَشْهُورٌ , وَأَسَانِيدُهُ ضَعِيفَةٌ , لَا أَعْرِفُ لَهُ إِسْنَادًا يَثْبُتُ بِمِثْلِهِ الْحَدِيثُ وَاللَّهُ أَعْلَمُ
المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي بَابُ الْعِلْمِ الْعَامِّ الَّذِي لَا يَسَعُ الْبَالِغَ الْعَاقِلَ جَهْلُهُ (1/241)
یہ روایت درج بالا اور درج ذیل کتابوں میں بعض جگھوں میں صرف " نصف اول یعنی اطلبوا العلم ولو بالصين " اور بعض میں " اطلبوا العلم ولو بالصين" کے بعد " نصف ثانی یعنی فان طلب العلم فريضة على كل مسلم " کے الفاظ کے اضافے کے ساتھ روایت کی گئی ہے جیسا کہ درج بالا کتاب میں بھی نصف ثانی کے اضافے کے ساتھ منقول ہے
وأبو نعيم في " أخبار أصبهان " (2 / 106)
وابن عليك النيسابوري في " الفوائد " (241 / 2)
وأبو القاسم القشيري في " الأربعين " (151 / 2)
والخطيب في " التاريخ " (9 / 364)
وفي " كتاب الرحلة " (1 / 2)
وابن عبد البر في " جامع بيان العلم " (1 / 7 - 8)
والضياء في " المنتقى من مسموعاته بمرو" (28 / 1
ابن عدی (207 / 2)
ابن جوزی فی الموضوعات 1/215
تعقبات السيوطي على موضوعات ابن الجوزي باب العلم 44
التيسير بشرح الجامع الصغير
164/1
محدثین کا راویین پر جرح

اس روایت کو امام ابوالفرج ابن الجوزی ، ابونعیم اصبہانی ، ابن عبدالبر ، خطیب بغدادی رحمۃ اللہ ، ضیاء مقدسی ، ابن علیک نیشا پوری ، ابن عدی اور ابوالقاسم قشیری نے "حسن بن عطیہ عن ابی عاتکہ عن انس رضی اللہ عنہ" کے طریق سے نقل کیا ہیں
اس روایت کے مرکزی اور مشترک راوی ابو عاتکہ طریف بن سلیمان کو امام بخاری نے " مُنکر الحدیث " کہا ہے
یحییٰ بن معین نے کہا که میں اس کے راوی ابو عاتکه کو نہیں جانتا
عقیلی نے اپنی کتاب 'الضعفاء' میں لکھا ہے کہ 'ولو بالصین' کے الفاظ سوائے ابو عاتکه کے کسی نے اور روایت نہیں کئےجبکہ معلوم ہے که یه شخص "متروک الحدیث " ہے۔ اور اسے بہت ہی ضعیف کہا ہے
اس روایت کے آخر سے دوسرا راوی حسن بن عطیه کو ابو حاتم الرازی نے " ضعیف " کہا ہے
نسائی نے کہا ہے که ثقه نہیں ہے
سلیمانی نے کہا که اس کا وضعِ حدیث کرنا معروف ہے۔
اور جلال الدین سیوطی نے "الالی المصنوعۃ فی الاخبار الموضوعۃ" میں دو اور طرق سے اس روایت کا ذکر فرمایا ہے
پہلے طرق میں یعقوب بن اسحاق ابراہیم عسقلانی کی مرفوع روایت بسند من زہری عن انس رضی اللہ عنہ ہے جسے حافظ ابن عبدالبر نے بھی روایت کیا ہے
اس راوی کو امام ذہبی نے "کذاب" لکھا ہے۔
اوردوسرے طرق میں احمد بن عبداللہ الجویباری کی مرفوع روایت بسند، عن ابی ہریرۃ رضی اللہ عنہ، جس میں روایت کا صرف نصف اول یعنی "اطلبوا العلم ولو بالصين" مروی ہے۔
اس راوی کو امام ابن الجوزی نے مقدمہ "موضوعات" میں " بڑے وضاع میں سے " لکھا ہے۔ نیز اس راوی کے متعلق علامہ جلال الدین سیوطی خود فرماتے ہیں: "والجويبارى وضاع" یعنی جویباری وضاع ہے۔
پھر حافظ ابن عبدالبر کی بسند "زہری عن انس رضی اللہ عنہ" والی روایت دو طرق سے وارد ہوئی ہے، جس کے پہلے طریق میں ایک راوی
اسماعیل بن عیاش راوی ہے جسے امام ذہبی نے "ضعفاء" میں شمار کیا ہے اور امام ابن الجوزی نے بھی اسے "ضعیف" بتایا ہے۔
اور دوسرے طریق میں عبید بن محمد الفریابی راوی ہے اس کی "جہالت" کی طرف علامہ جلال الدین سیوطی نے ابتداء سند نقل کرتے ہوئے خود اشارہ فرمایا ہے۔ پس اس طریق کو صحیح و سالم تصور کرنا محض واہمہ ہے۔
محدثین کا روایت کے متعلق کلام
احمد بن حنبل نے اس روایت کا انکار بڑے شدومد سے کیا ہے
ابن حبان نے کہا ہے که یه روایت باطل ہے
امام سخاوی نے بھی اس روایت کو مردود کہا ہے
ابن جوزی نے اسے موضوعات میں شمار کیا ہے
حاکم نیشا پوری اور ذہبی کہتے ہیں که اس کی کوئی سند درست نہیں
امام منذری نے ائمه حدیث کے تفصیلی بیانات کی روشی میں اسے رد كيا ہے
امام ابن الجوزی فرماتے ہیں کہ اس کی نسبت رسول الله صلی الله علیه وسلم کی طرف صحیح نہیں ہے
علامہ البانی نے بھی اسے مردود لکھا ہے
تهذيب الكمال في أسماء الرجال کتاب الکنی أَبُو عاتكة، اسمه: طريف بْن سلمان،
ميزان الاعتدال باب الکنی أبو عاتكة
التاريخ الكبير للبخاري بحواشي المطبوع باب الطاءطريف بْن سلمان أَبُو عاتكة
الموضوعات لابن الجوزي کتاب العلم
اللآلىء المصنوعة في الأحاديث الموضوعة کتاب العلم
الضعفاء الكبير للعقيلي باب الطاء طریف بن سلمان ابو عاتکہ بصری
كشف الخفاء ط القدسي حرف الھمزۃ مع الطاء المھملۃ
المقاصد الحسنة الباب الأول: الأحاديث بحسب ترتيب الأحرف حرف الھمزۃ
أسنی المطالب في أحادیث مختلفۃ المراتب
فيض القدير شرح الجامع الصغير حرف الھمزۃ
سلسلةالاحادیث الضعیفة والموضوعة

جامع بيان العلم وفضله ابن عبدالبر
اور رہا جواب ان حضرات کے اقوال کا جنھوں نے اس روایت کے متن مشھور یا طرق کا حسن ہونے یا بعض طرق کی تصحیح کی طرف اشارہ فرمایا جیسے کہ
امام بیہقی کا قول ہے
هَذَا حَدِيثٌ مَتْنُهُ مَشْهُورٌ , وَأَسَانِيدُهُ ضَعِيفَةٌ

اس کا متن مشھور اور اسناد ضعیف ہے
علامہ مزی کا قول ہے
ان طرقه تبلغ به رتبة الحسن

یعنی اس روایت کے طرق حسن کے رتبہ تک پہنچتے ہیں۔
اور حافظ ذہبی نے کہتے ہیں
روي من عدة طرق واهية وبعضها صالح

کہ: متعدد واہیات طرق سے یہ روایت وارد ہوئی ہے لیکن اس کے بعض طرق صالح ہیں
علامہ سیوطی کا قول ہے
ولہ طرق کثیرہ

اس روایت کے کثیر طرقِ اسناد ہیں
عراقی کا قول ہے
قد صح بعض الائمة بعض طرقه

یعنی بعض ائمہ نے اس کے بعض طرق کی تصحیح کی ہے
اور علامہ مناوی نے بھی "التيسير بشرح الجامع الصغير " میں ان اقوال کو اس روایت کے نصف اول کے تحت ذکر کرکے ان سے نصف اول ہی مراد لی ہے
تو ان کا جواب علامہ البانی نے کچھ اس طرح دیا ہے
علامہ البانی "سلسلۃ الاحادیث الضعیفۃ والموضوعۃ "میں علامہ مناوی ، علامہ مزی اور علامہ ذہبی کے مندرجہ بالا اقوال کے جواب میں لکھتے ہیں
کہ حق بات یہ ہے کہ علامہ مناوی کا یہ محض وہم و گمان ہے کیونکہ علامہ مزی کی مراد روایت کے فقط نصف ثانی سے ہے، جیسا کہ علامہ جلال الدین سیوطی کے سابقہ کلام سے بھی ظاہر ہے۔ اور اسی روایت کے نصف ثانی کو علامہ ذہبی نے "تلخیص الواہیات" میں مراد لیا ہے جس کی صحت میں کوئی شک و شبہ نہیں ہے
مزید فرماتے ہیں کہ زیرِ نظر روایت کے نصف اول کے متعلق ابن حبان اور ابن الجوزی نے جو حکم لگایا وہ برحق ہے۔ کیونکہ ایسا کوئی صالح طریقِ اسناد موجود نہین ہے جو اس کی صحت کو تقویت دے سکتا ہو۔
لیکن روایت کے نصف ثانی کا بقول علامہ مزی درجہ حسن تک پہنچنے کا احتمال ہے، کیونکہ حضرت انس رضی اللہ عنہ سے مروی اس کے بہت سے طرق وارد ہوئے ہیں
اللہ تعالی کی کروڑوں رحمتیں اور برکتیں ہو ان بزرگوں پر
المدخل إلى السنن الكبرى للبيهقي بَابُ الْعِلْمِ الْعَامِّ الَّذِي لَا يَسَعُ الْبَالِغَ الْعَاقِلَ جَهْلُهُ
كشف الخفاء ط القدسي حرف الھمزۃ مع الطاء المھملۃ
كشف الخفاء ت هنداوي حرف الھمزۃ مع الطاء المھملۃ
تعقبات السيوطي على موضوعات ابن الجوزي
تخريج أحاديث إحياء علوم الدين کتاب العلم
التيسير بشرح الجامع الصغير حرف الھمزۃ

فيض القدير حرف الھمزۃ
مذکورہ بالا توضیحات کے بعد یہ بات ثابت ہوگئی ہے کہ اس روایت کو درست کہنا بالکل بھی صحیح نہیں بلکہ یہ من گھڑت روایت ہے جس کی نسبت بقول امام ابن الجوزی رسول الله صلی الله علیه وسلم کی طرف کرنا صحیح نہیں ہے​
 

UrduLover

Super Star
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Threads
430
Messages
1,732
Likes
1,199
Points
562
Location
Manchester U.K
#2

  • کہتے ہیں بہت بہت شکریہ​
 
Joined
May 9, 2018
Threads
2
Messages
17
Likes
29
Points
13
Location
Karaci
#3
عمدہ
 
Joined
May 9, 2018
Threads
28
Messages
205
Likes
156
Points
39
Location
Pakistan
#4
جزاک اللہ خیر
 
Joined
Sep 16, 2018
Threads
0
Messages
6
Likes
6
Points
3
Location
New Delhi
#5
جزاک اللہ خیرا
 

Abu Dujana

Advisor
Designer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Threads
49
Messages
593
Likes
554
Points
299
Location
Karachi, Pakistan
#6
جزاک اللہ۔۔۔یہ حدیث اکثر سننے کو ملتی تھی۔۔ آپ کی تحقیق سے اس کی "صحت" کا اندازہ ہوا۔۔
شکریہ اشتراک کا۔۔
:)
 
Top