محرم الحرام

UrduLover

Super Star
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,611
Likes
1,164
Points
342
Location
Manchester U.K
#1

صدائیں دیتی ہیں زہرا میرے غریب حسین
ستم ہوا ہے یہ کیسا ، میرے غریب حسین

نبی کی گود میں ہر دم حسین ملتا تھا
اسے تو پشت نبی پر ہی چین ملتا تھا
ادھر ہے تیروں پر لاشہ
میرے غریب حسین

جو وقت عصر جھکایا جبیں کو پیش خدا
تو خود نہ اٹھا ، اٹھایا گیا تھا سر تیرا
عجب تھا تیرا یہ سجدہ
میرے غریب حسین

صدائیں دیتی ہیں زہرا میرے غریب حسین
ستم ہوا ہے یہ کیسا ، میرے غریب حسین
(صاحب کلام: نامعلوم)
 
Last edited:

UrduLover

Super Star
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,611
Likes
1,164
Points
342
Location
Manchester U.K
#2
محرم الحرام کی اہمیت و فضیلت​
محرم کا لفظ حرمت سے نکلا ہے۔ حرمت کا لفظی معنی عظمت ، احترام وغیرہ ہے ، اس بناء پر محرم کا مطلب احترام اورعظمت والا ہے ۔چونکہ یہ مہینہ بڑی عظمت اور فضیلت رکھتا ہے اور بڑا مبارک اور لائق احترام ہے اس لئے اسے محرم الحرام کہا جاتا ہے ۔
یوں تو محرم کا پورا مہینہ ہی مبارک ہے مگر جس طرح رمضان کا آخری عشرہ پہلے دو عشروں سے افضل ہے اور آخری عشرہ میں لیلۃ القدر کی رات سب سے افضل ہے ، اسی طرح اس مہینہ میں عاشورہ کا دن تمام ایام سے افضل ہے اور شب عاشور افضل ترین رات ہے یہ رات بھی لیلۃ القدر سے کم نہیں ۔ عاشورہ کا مطلب دسواں ہے ، یہ دن چونکہ دسویں تاریخ کو آتا ہے اس لئے اسے عاشورہ کہتے ہیں ، بلاشبہ کسی دن کو کسی دن پر، ایک ہفتے کو دوسرے ہفتے پر، ایک مہینے کو دوسرے مہینے پر اور سالوں میں سے کسی سال کو ایک لحاظ سے دوسرے سال پر کوئی برتری حاصل نہیں۔ تمام سال، مہینے، ہفتے، دن، گھنٹے، منٹ اورتمام لحظے اور سب لمحے یکساں اوربرابر ہیں۔ لیکن اگر خود زبان وحی سے معلوم ہو جائے کہ کسی زمانے میں انوارالٰہی اورتجلیات ربانی کاخاص نزول ہوتا ہے تو یقینًا اسے فضیلت حاصل ہوگی جیسا کہ ماہ محرم کو حاصل ہے ۔
یہ مہینہ زمانہ جاہلیت سے ہی احترام کا مہینہ ہے ، اسلام نے اس کی فضیلت کو نہ صرف برقرار رکھا ہے بلکہ اس میں اضافہ کیا ہے ۔ زمانہ جاہلیت کے لوگ ذوقعدہ ، ذوالحجہ ، محرم اور رجب کو مقدس سمجھتے تھے،اور ان مہینوں میں باہمی جنگ و جدال اور قتل و قتال سے پرہیز کرتے تھے ، آپس کی لڑائیاں اور خونریزیاں بند کر دیتے تھے اور ان مہینوں کے گذرنے اور دوسرے مہینوں کے شروع ہونے کا انتظار کرتے تھے۔
وہ زمانہ اگرچہ جاہلیت کاتھامگر وہ لوگ اتنا شعور رکھتے تھے کہ سال میں کچھ ایام ایسے ضرور ہونے چاہیئے جن میں جنگ بندی ہو ،امن وامان اور راحت وسکون ہو،آج امن کے بلند و بانگ دعوے اور نعرے ہیں مگرعملی صورتحال یہ ہے کہ سال کے بارہ مہینے انسانیت جنگ کی بھٹی کاایندھن بنی رہتی ہے۔توپوں کی گن گرج،بندوقوں کی باڑ،ٹینکوں کی پیش قدمی،لڑاکا طیاروں کے حملے ،فضا میں دھویں کے سیاہ بادل اوربموں اورمیزائلوں کے زورداردھماکے ہر وقت جاری رہتے ہیں مگر پھر بھی اس زمانے کے لوگ خود کو مہذب اور دور جہالت کے لوگوں کو وحشی وجنگجو گردانتے ہیں اور اپنے آپ کو صلح پسند اورمتمدن کہا جاتا ہے۔
اسلامی کلینڈرکا آغاز نبی پاک کی ہجرت کے سال سے ہوتا ہے اور اسلامی سال کا پہلا مہینہ محرم کو قرار دیا گیا۔ یاد رہے کہ ہجرت وہ عظیم الشان واقعہ ہے،جس سے اسلام کوسربلندی اوراقبال نصیب ہوا،مکہ میں مسلمان مظلوم اورمغلوب تھے،اوروہ خودبھی اسلامی اصولوں پرآزادانہ طورپرعمل نہیں کرسکتے تھے مگرہجرت کے بعدصورتحال پلٹ گئی اب مسلمانوں کا ضعف قوت میں اور مغلوبیت غلبہ میں تبدیل ہو گئی۔ اب ایمان کے جھونکے چلے، اسلام کی خوشبو پھیلی ،دنیا نے اس پرنور فضا میں امن کا سانس لیا، ایمان کی خوشبو سے ان کے دماغ معطر ہوئے، دین کا حسین چہرہ جو اہل مکہ کے جبر سے چھپا ہوا تھا لوگوں کو دیکھنے کا موقع ملا ،لوگ جوق درجوق ،قافلہ درقافلہ اسلام میں داخل ہوئے، حق کا بول بالا ہوا ،طاغوتی قوتوں نے شکست کھائی ،قرآن مجید دیگر کتابوں پر اور دین اسلام دیگر ادیان پرغالب آگیا ،
تاریخ اسلام کا سب سے بڑا حادثہ جسے سانحہ کربلا کہتے ہیں وہ اسی مبارک مہینے محرم میں پیش آیا کہ اپنے ہی نبی کی آل کو مسلمانوں نے ہی زبح کر دیا چنانچہ اس سانحہ کی یاد میں آج بھی اہل بیت رسول کے محب اس مہینے کو سوگ میں گزارے ہیں ۔حضرت امام حسین جو نوسہ رسول ہیں حضرت علی این ابی طالب کے فرزند ہیں اس وقت کے نام نہاد خلیفہ یزید ابن معاویہ کے حکم پر انہیں اسی مہینے کی دس تایخ یعنی عاشورہ کے دن شہید کر دیا گیا۔ اس دن کائنات میں عجیب و وغریب واقعات رونما ہوئے آسمان و زمین ،جن و انس اور کائنات کا زرہ زرہ اس سوگ میں ۔شامل تھا۔
حسین تیرے لہو کی خوشبو فلک کے دامن سے آرہی ہے
یہ خون ناحق چھپے گا کیسے جسے یہ دنیا چھپا رہی ہے​
 

UrduLover

Super Star
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,611
Likes
1,164
Points
342
Location
Manchester U.K
#3
سیّد الشّہداء ۔ احمد فراز
دشتِ غربت میں صداقت کے تحفظ کے لیے
تُو نے جاں دے کے زمانے کو ضیا بخشی تھی
ظلم کی وادیِ خونیں میں قدم رکھا تھا
حق پرستوں کو شہادت کی ادا بخشی تھی
آتشِ دہر کو گلزار بنایا تو نے
تو نے انساں کی عظمت کو بقا بخشی تھی

اور وہ آگ وہ ظلمت وہ ستم کے پرچم
بڑے ایثار ترے عزم سے شرمندہ ہوئے
جرأت و شوق و صداقت کی تواریخ کے باب
تری عظمت، ترے کردار سے تابندہ ہوئے
ہوگیا نذرِ فنا دبدبۂ شمر و یزید
کشتگانِ رہِ حق مر کے مگر زندہ ہوئے

لیکن اے سیّدِ کونین حسین ابنِ علی
آج بھر دہر میں باطل کی صف آرائی ہے
آج پھر حق کے پرستاروں کا انعام ہے دار
زندگی پھر اس وادی میں اتر آئی ہے
آج پھر مدِ مقابل ہیں کئی شمر و یزید
صدق نے جن کو مٹانے کی قسم کھائی ہے

دل کہ ہر سال ترے غم میں لہو روتے ہیں
یہ اسی عہدِ جنوں کیش کی تجدید تو ہے
جاں بکف حلقۂ اعدا میں جو دیوانے ہیں
ان کا مذہب ترے کردار کی تقلید تو ہے
جب سے اب تک اسی زنجیرِ وفا کا رشتہ
بیعتِ دستِ جفا کار کی تردید تو ہے
 

UrduLover

Super Star
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,611
Likes
1,164
Points
342
Location
Manchester U.K
#4
سرابِ دشت تجھے آزمانے والا کون
بتا یہ اپنے لہو میں نہانے والا کون
سوادِ شام یہ شہزادگانِ صبح کہاں
ویاہ شب میں یہ سورج اگانے والا کون
یہ ریگزار میں کس حرفِ لا وال کی چھاؤں
شجر یہ دشتِ زیاں میں لگانے والا کون
یہ کون راستہ روکے ہوئے کھڑا تھا ابھی
اور اب یہ راہ کے پتھر ہٹانے والا کون
یہ کون ہے کہ جو تنہائی پر بھی راضی ہے
یہ قتل گاہ سے واپس نہ جانے والا کون
بدن کے نقرئی ٹکڑے، لہو کی اشرفیاں
ادھر سے گزرا ہے ایسے خزانے والا کون
یہ کس کے نام پہ تیغِ جفا نکلتی ہوئی
یہ کس کے خیمے، یہ خیمے جلانے والا کون
ابھرت ڈوبتے منظر میں کس کی روشنیاں
کلامِ حق سرِ نیزہ سنانے والا کون
ملی ہے جان تو اس پر نثار کیوں نہ کروں
توٗ اے بدن، مرے رستے میں آنے والا کون
 

UrduLover

Super Star
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,611
Likes
1,164
Points
342
Location
Manchester U.K
#5

مضمون نگار۔۔۔حافظ مبشر حسین لاہوری
حرم الحرام ہجری تقویم کا پہلا مہینہ ہے جس کی بنیاد نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے واقعہ ہجرت پر ہے۔ گویا مسلمانوں کے نئے سال کی ابتداء محرم کے ساتھ ہوتی ہے۔ ماہِ محرم کے جو فضائل و مناقب صحیح احادیث سے ثابت ہیں، ان کی تفصیل آئندہ سطور میں رقم کی جائے گی اور اس کے ساتھ ان بدعات و خرافات سے بھی پردہ اُٹھایا جائے گا جنہیں اسلام کا لبادہ اوڑھ کر دین حق کا حصہ بنانے کی مذموم کوششیں کی گئی ہیں۔
1۔محرم، حرمت و تعظیم والامہینہ ہے

قرآن مجید میں ہے کہ
﴿إنَّ عِدَّةَ الشُّهُوْرِ عِنْدَ اللّٰهِ اثْنَا عَشَرَ شَهْرًا فِیْ کِتَابِ اللّٰهِ يوْمَ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالْاَرْضَ مِنْهَا أرْبَعَةٌ حُرُمٍ ذٰلِکَ الدِّينُ الْقَيمُ فَلاَ تَظْلِمُوْا فِيهِنَّ أنْفُسَکُمْ﴾(التوبہ:۳۶)
"اللہ تعالیٰ کے ہاں اس کی کتاب (یعنی لوحِ محفوظ) میں مہینوں کی گنتی بارہ ہے، اسی دن سے جب سے آسمان و زمین کو اس نے پیدا کیا ہے۔ ان میں سے چار مہینے ادب و احترام کے لائق ہیں، یہی درست دین ہے لہٰذا ان مہینوں میں تم اپنی جانوں پر ظلم نہ کرو۔"
یعنی ابتدائے آفرینش ہی سے اللہ تعالیٰ نے بارہ مہینے مقرر فرما رکھے ہیں۔ جن میں چار کو خصوصی ادب و احترام اورعزت و تکریم سے نوازا گیا۔ یہ چار مہینے کون سے ہیں، ان کی تفصیل صحیح بخاری و صحیح مسلم میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی اس حدیث سے ہوتی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"زمانہ اپنی اسی حالت پر واپس لوٹ آیا ہے کہ جس پر وہ اس وقت تھا جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی۔ سال کے بارہ مہینے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں، تین تو لگاتار ہیں یعنی ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا مضر قبیلے کا ماہِ رجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہے۔" (بخاری:کتاب التفسیر، سورة التوبہ ؛۴۶۶۲/ مسلم: کتاب القسامہ، باب تغلیظ تحریم الدماء ؛ ۱۶۷۹)
مذکورہ حدیث میں دو باتیں قابل توجہ ہیں: ایک تو یہ کہ محرم بھی حرمت والے مہینوں میں شامل ہے اور دوسری یہ کہ زمانہ اپنی سابقہ حالت و ہیئت پر واپس لوٹ آیا ہے۔ اس کا پس منظر کچھ یوں ہے کہ دورِ جاہلیت میں بھی لوگ حرمت والے مہینوں کا احترام کرتے اور جنگ و جدل، قتل و غارت گری اور خون ریزی وغیرہ سے اجتناب کرتے تھے۔ البتہ اگر کبھی حرمت والے مہینے میں انہیں جنگ و جدل اور قتل و غارت گری کی ضرورت محسوس ہوتی تو وہ اپنے طور پر مہینوں کی تقدیم و تاخیر کرلیتے۔ اگر بالفرض محرم کا مہینہ ہے تو اسے صفر قرار دے لیتے اور (محرم میں اپنے مقصد پورے کرنے کے بعد) اگلے ماہ یعنی صفر کو محرم قرار دے کر لڑائی جھگڑے موقوف کردیتے۔ قرآن مجید نے اس عمل کو نسیئ قرار دے کر زیادتِ کفر سے تعبیر فرمایا۔ (التوبہ:۳۷)
جس سال نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حج فرمایا، اس سال ذوالحجہ کا مہینہ قدرتی طور پراپنی اصلی حالت پر تھا۔ اس لئے آپ نے مہینوں کے اَدل بدل کے خاتمے کا اعلان کرتے ہوئے فرمایا کہ زمانہ گھوم گھما کر اپنی اصلی حالت پر واپس لوٹ آیا ہے۔ یعنی اب اس کے بعد مہینوں کی وہی ترتیب جاری رہے گی جسے اللہ تعالیٰ نے ابتدائے آفرینش سے جاری فرما رکھا ہے۔
دونوں باتوں کا حاصل یہی ہے کہ محرم ادب و احترام والامہینہ ہے۔ اللہ تعالیٰ نے اسے ادب و احترام والا بنایا جبکہ اس کے آخری رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی حرمت کو جاری رکھا اور عرب کے جاہل بھی اس کا اس قدر احترام کرتے کہ احترام کے منافی کسی عمل کے جواز کے لئے کم از کم اتنا حیلہ ضرور کرلیتے کہ فرضی طور پر حرمت والے مہینے کو کسی دوسرے غیر حرمت والے مہینے سے بدل لیتے۔
حجة الوداع کے موقع پر نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے اس فرمان سے یہ بات از خود سمجھ آجاتی ہے کہ ماہِ محرم کی حرمت و تعظیم کا حضرت حسین کے واقعہ شہادت سے کوئی تعلق نہیں اور وہ لوگ غلط فہمی کا شکار ہیں جو اس مہینے کی حرمت کی کڑیاں واقعہ کربلا اور شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ سے ملاتے ہیں۔ اس لئے کہ ماہِ محرم کی حرمت تو اس دن سے قائم ہے جس دن سے یہ کائنات بنی ہے۔ جیسا کہ سورئہ توبہ کی گذشتہ آیت: ﴿يوْمَ خَلَقَ السَّمٰوَاتِ وَالاَرْضَ...﴾ سے واضح ہے۔
علاوہ ازیں سانحہ کربلاء، قطع نظر اس سے کہ اس میں حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی مظلومانہ شہادت ہوئی، کا دین اسلام سے اس معنی میں کوئی تعلق نہیں کہ اس میں دین کی حفاظت کا کوئی مسئلہ درپیش تھا بلکہ اوّل تو دین اسلام حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت سے کئی عشروں پہلے ہی نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی میں مکمل ہوچکا تھا،جیسا کہ قرآنِ مجید میں ہے: ﴿اَلْيوْمَ أکْمَلْتُ لَکُمْ دِينَکُمْ وَاَتْمَمْتُ عَلَيکُمْ نِعْمَتِیْ وَرَضِيتُ لَکُمُ الإسْلَامَ دِينًا﴾ ( المائدة:۲)
اور دوم یہ کہ دین کی حفاظت کا ذمہ خود اللہ تعالیٰ نے اُٹھا رکھا ہے، جیسا کہ قرآن مجید میں ہے: ﴿إنَّا نَحْنُ نَزَّلْنَا الذِّکْرَ وَإنَّا لَه لَحَافِظُوْنَ﴾ معلوم ہوا کہ یہ تصور جہالت ولاعلمی پر مبنی ہے کہ ماہِ محرم کا ادب و احترام شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ کا مرہونِ منت سمجھا جائے بلکہ شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ سے پہلے اسی ماہ کی یکم تاریخ کو عمر فاروق رضی اللہ عنہ ایسے خلیفہ راشد کی شہادت کا المناک واقعہ پیش آچکا تھا۔ مگر اس وقت سے آج تک کبھی حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا واقعہ شہادت اس انداز سے پیش نہیں کیا گیا۔
حالانکہ اگر کسی بڑے آدمی کی موت یا شہادت کسی مہینے کے ادب و احترام کی علامت ہوتی تو عمرفاروق رضی اللہ عنہ ایسے صحابی ٴرسول صلی اللہ علیہ وسلم اپنے علمی، دینی، روحانی اور خلیفہ ثانی ہونے کے حوالے سے اس بات کے حضرت حسین رضی اللہ عنہ نے بھی زیادہ مستحق ہوتے کہ ان کی شہادت پر وہ سب کچھ کیا جاتا جو حضرت حسین رضی اللہ عنہ کی شہادت پرکیا جاتا ہے۔ مزید برآں حضرت عثمان رضی اللہ عنہ ، حضرت حمزہ رضی اللہ عنہ ، حضرت علی رضی اللہ عنہ اور دیگر اکابر و جلیل القدر صحابہ کرام کی شہادتیں بدرجہ اولیٰ یہ استحقاق رکھتی ہیں مگر اہل ِسنت ان تمام شہادتوں پر نوحہ وماتم اور مجالس عزا وغیرہ کا اہتمام اس لئے نہیں کرتے کہ اسلام ان چیزوں کی اجازت نہیں دیتا اور جو ایسا کرتا ہے اس کا دین و ایمان خطرے میں ہے اور اسلام کا نوحہ وماتم سے کوئی تعلق نہیں۔
محرم کی بے حرمتی
ویسے تو جنگ و جدل، قتل و غارت گری، خونریزی اور فتنہ و فساد کی کسی بھی مہینے، ہفتے اور دن میں اجازت نہیں تاہم حرمت والے مہینوں میں فتنہ و فساد کی ہرممکنہ شکل سے اجتناب کرنے کا تاکیدی حکم ہے۔ لیکن افسوس کہ بہت سے لوگ ماہِ محرم کی حرمت کو اتنا ہی پامال کرتے ہیں جتنا کہ اس کا لحاظ رکھنے کی تاکید کی گئی۔
ماہ محرم کی حرمت کی پامالی کی ایک صورت تو یہ ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کے واقعہ شہادت پر نالہ و شیون اور نوحہ و ماتم کیا جاتا ہے۔ اپنے جسم کو از خود سخت تکلیفیں دی جاتی ہیں۔ تیز دھاری آلات سے جسم کو زخمی کیا جاتا ہے۔ شہادتِ حسین رضی اللہ عنہ کے رنج و غم میں آہ و بکا کا ایسا عجیب وحشیانہ اور خوفناک منظر برپا کیا جاتا ہے کہ الامان والحفیظ! اس کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ کسی کی وفات یا شہادت پر رنج و غم اور افسوس کا اظہار نہ کیا جائے لیکن یہ اظہار شرعی حدو د میں رہتے ہوئے ہونا چاہئے جبکہ نوحہ و ماتم کرنے والے کے بارے میں نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: ليس منا من ضرب الخدود وشق الجيوب ودعا بدعوٰی الجاهلية
" وہ شخص ہم (مسلمانوں) میں سے نہیں جس نے رخسار پیٹے، گریبان چاک کئے اور دورِ جاہلیت کے بین کئے۔" (بخاری: کتاب الجنائز، باب لیس منامن ضرب الخدود؛۱۲۹۷)
ماہِ محرم کی حرمت کی پامالی کی ایک صورت یہ ہے کہ
مسلمانوں کے مختلف گروہ آپس میں نہ صرف یہ کہ دست و گریبان ہوتے ہیں بلکہ ایک دوسرے کو قتل بھی کرتے ہیں۔ تقریباً ہر سال ماہ محرم میں کسی نہ کسی 'مسجد' یا 'امام بارگاہ' میں معصوم لوگ دہشت گردی کی کارروائی کا شکار ہوتے ہیں۔ حقیقت یہ کہ اسلام تو عام دنوں میں بھی خونریزی، دہشت گردی اور فتنہ و فساد کی کسی بھی شکل کو پسند نہیں کرتا پھر بھلا ماہِ محرم میں اسے کیسے پسند کرسکتا ہے؟ اس لئے اسلام سے محبت کا تقاضا یہ ہے کہ ایسی کسی بھی دہشت گردی کی کاروائی سے کلی اجتناب کیا جائے۔ ویسے بھی یہ بات ذہن نشین رہے کہ اگر کوئی شخص فی الواقع کفروشرک اور ارتداد کا مرتکب ہو رہا ہو اور واقعی وہ قتل کی سزا کا مستحق ہوچکا ہو تو تب بھی ایسے شخص یا گروہ کو سزائے قتل دینے کی مجاز صرف حکومت ِوقت ہے۔ ہر کہ ومہ کو اسلام یہ اختیار نہیں دیتا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی حدود کو نافذ کرنا شروع کردے!
یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ بعض دفعہ دہشت گردی کی کارروائیوں میں دشمن عناصر قوتوں کا ہاتھ ہوتا ہے اور وہ مسلمانوں کے مسلکی و گروہی اختلافات سے فائدہ اٹھاتے ہوئے کسی فرقے کے لوگوں کو تخریب کاری کا نشانہ بنا کر دوسرے فرقے پر اس کا الزام لگا دیتے ہیں۔ پھر دوسرا فرقہ تحقیق کئے بغیر محض جوشِ انتقام میں مخالف فرقے کو نشانہ بناتا ہے اور اس طرح تخریب کاری کا ایک غیر متناہی سلسلہ چل نکلتا ہے۔ اس لئے امن و امان کے قیام کے لئے ہمیں ان تمام پہلوؤں پر سنجیدگی سے غور کرنا چاہئے۔اور یہ بھی یاد رکھنا چاہئے کہ اسلام کی نگاہ میں خونِ مسلم کی حرمت انتہائی اہم حیثیت رکھتی ہے۔
 
Last edited:

UrduLover

Super Star
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,611
Likes
1,164
Points
342
Location
Manchester U.K
#6

2-محرم کے روزوں کی فضیلت

رمضان المبارک کے روزے سال بھر کے دیگر تمام روزوں سے افضل ہیں۔ البتہ رمضان کے ماسوا محرم کے روزوں کی فضیلت سب سے بڑھ کر ہے جیسا کہ درج ذیل صحیح احادیث سے ثابت ہے :
1- حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"أفضل الصيام بعد رمضان: شهر الله المحرم وافضل الصلاة بعد الفريضة:صلاة الليل" (مسلم: کتاب الصيام: باب فضل صوم المحرم؛۱۱۶۳)
"رمضان المبارک کے بعد اللہ کے مہینے محرم کے روزے سب روزوں سے افضل ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز آدھی رات (یعنی تہجد) کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے۔"
2- صحیح مسلم ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے سوال کیا گیا کہ
"أي الصلاة افضل بعد المکتوبة وأي الصيام أفضل بعد شهر رمضان؟"
"فرض نمازوں کے بعد کون سی نما زسب سے افضل ہے اور رمضان المبارک کے بعد کون سے روزے سب سے افضل ہیں؟ تو آپ نے وہی جواب دیا جو پہلی حدیث (مسلم؛ ۱۱۶۳) میں مذکور ہے۔"
حضرت علی رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم سے ایک آدمی نے عرض کیا:
" اے اللہ کے رسول! اگر رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں، میں روزے رکھنا چاہوں تو آپ کس مہینے کے روزے میرے لئے تجویز فرمائیں گے؟ آپ نے فرمایا کہ اگر تو رمضان کے علاوہ کسی مہینے میں روزے رکھنا چاہے تو محرم کے مہینے میں روزے رکھنا کیونکہ یہ اللہ تعالیٰ کا مہینہ ہے۔ اس میں ایک دن ایسا ہے کہ جس دن اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور ایک قوم کی توبہ (آئندہ بھی) قبول فرمائیں گے۔" (ترمذی: کتاب الصوم، باب ماجاء فی صوم المحرم ؛ ۷۴۱)
واضح رہے کہ امام ترمذی نے اس روایت کو 'حسن' قرار دیا ہے جبکہ اس کی سند میں عبدالرحمن بن اسحق نامی راوی کو جمہور محدثین نے ضعیف قرا ردیاہے۔ لہٰذا سنداً یہ روایت ضعیف ہے۔ تاہم محرم کا 'شہراللہ' ہونا اور اس کے روزوں کا رمضان کے سوا دیگر مہینوں کے روزوں سے افضل ہونا دیگر صحیح روایات سے ثابت ہے۔
3- یومِ عاشوراء کے روزے کی فضیلت

1- حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا:
"وصيام يوم عاشوراء احتسب علی الله أن يکفر السنة التي قبله"
" مجھے اللہ تعالیٰ سے اُمید ہے کہ یوم عاشورا کا روزہ گذشتہ ایک سال کے گناہوں کا کفارہ بن جائے گا۔" (مسلم : کتاب الصیام، باب استحباب صیام ثلاثة ایام؛ ۱۱۶۲)
واضح رہے کہ 'عاشوراء' عشر سے ہے جس کا معنی ہے دس ۱۰ ؛ اور محرم کی دسویں تاریخ کو عاشوراء کہا جاتا ہے۔ البتہ مذکورہ فضیلت دسویں تاریخ کے روزے کی ہے یا نویں کی، اس میں اہل علم کا شروع سے اختلاف چلا آتا ہے۔ مزید تفصیل آگے آرہی ہے...
2- حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ہے کہ
"قریش کے لوگ دورِ جاہلیت میں عاشوراء کا روزہ رکھا کرتے اور نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم بھی یہ روزہ رکھتے تھے۔ پھر جب آپ مدینہ تشریف لے آئے تو تب بھی عاشوراء کا روزہ رکھتے اور صحابہ کرام کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا آپ نے حکم دے رکھا تھا۔ البتہ جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو عاشوراء کی فرضیت ختم ہوگئی۔ لہٰذا اب جو چاہے یہ روزہ رکھے اور جو چاہے نہ رکھے۔" (بخاری: کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشورا ؛۲۰۰۳/ مسلم: کتاب الصیام، باب صوم یوم عاشوراء ؛۱۱۲۵)
3- حضرت عبداللہ بن عمر رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ دورِ جاہلیت میں لوگ یومِ عاشورا کا روزہ رکھا کرتے تھے اور اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور مسلمان بھی اس دن روزہ رکھتے۔ پھر جب رمضان کے روزے فرض ہوئے تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: "إن عاشورأ يوم من أيام الله فمن شاء صامه ومن شاء ترکه"
"عاشورا اللہ تعالیٰ کے دنوں میں سے ایک (معزز) دن ہے لہٰذا جو اس دن روزہ رکھنا چاہے، وہ روزہ رکھے اور جونہ رکھنا چاہے وہ نہ رکھے۔" (مسلم:ایضاً؛ ۱۱۲۶)
یہاں یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ دورِ جاہلیت میں قریش دسویں محرم کا روزہ کیوں رکھتے تھے؟ اس کا ایک جواب تو یہ ہوسکتا ہے کہ وہ ہر سال ماہِ محرم کی اس تاریخ کو بیت اللہ کو غلاف پہنایا کرتے تھے جیسا کہ صحیح بخاری میں حضرت عائشہ رضی اللہ عنہاسے مروی ایک حدیث میں ہے (بخاری؛۱۵۸۲) لیکن اس پر پھر یہ سوال پیدا ہوتا ہے کہ قریش غلافِ کعبہ کے لئے یہی دن کیوں خاص کرتے تھے؟ تو اس کا جواب (اور پہلے سوال ہی کا دوسرا جواب) یہ ہوسکتا ہے جو حضرت عکرمہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
"دورِ جاہلیت میں قریش نے ایک ایسے گناہ کا ارتکاب کیا جو ان پر بڑا گراں گزرا تو ان سے کہا گیا کہ تم لوگ عاشورا ءکا روزہ رکھو یہ تمہارے گناہ کا کفارہ ہوجائے گا۔ پھر اس وقت سے قریش عاشوراء کا روزہ رکھنے لگے۔" (فتح الباری: ۴/۷۷۳، کتاب الصوم، باب صوم یوم عاشوراء)
4- حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
"جب اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم مدینہ تشریف لائے تو دیکھا کہ یہودی عاشوراء کے دن کا روزہ رکھتے ہیں۔ آپ نے ان سے پوچھا کہ اس دن روزہ کیوں رکھتے ہو؟ انہوں نے کہا کہ یہ ایک اچھا (افضل) دن ہے اور یہی وہ دن ہے جب اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کو ان کے دشمن (فرعون) سے نجات بخشی (اور فرعون کو اس کے لشکر سمیت بحیرئہ قلزم میں غرقاب کیا) تو حضرت موسیٰ علیہ السلام نے (بطورِ شکرانہ) اس دن روزہ رکھا (اور ہم بھی روزہ رکھتے ہیں) تو نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا کہ ہم حضرت موسیٰ علیہ السلام کے (شریک ِمسرت ہونے میں) تم سے زیادہ مستحق ہیں۔ چنانچہ آپ نے اس دن روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی روزہ رکھنے کا حکم فرمایا۔" (بخاری: ایضاً ؛ ۲۰۰۴/مسلم؛۱۱۳۰)
5- حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ
"میں نے نہیں دیکھا کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم دنوں میں سے دسویں محرم (یوم عاشوراء) کے اور مہینوں میں سے ماہِ رمضان کے روزوں کے سوا کسی اور روزے کو افضل سمجھ کر اس کا اہتمام کرتے ہوں۔" (بخاری، ایضاً؛۲۰۰۶/ مسلم ایضاً؛۱۱۳۲)
6- حضرت ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ "عاشورا کے روز یہودی عید مناتے مگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ سے فرمایا کہ تم اس دن روزہ رکھا کرو۔" (بخاری ؛۲۰۰۵/ مسلم ؛۱۱۳۱)
7- ابوموسیٰ رضی اللہ عنہ سے مروی مسلم ہی کی دوسری روایت میں ہے کہ "اہل خیبر عاشوراء کے روز، روزہ رکھتے اور ا س دن عید مناتے اور اپنی عورتوں کو اچھے اچھے لباس اور زیورات پہناتے مگر اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے صحابہ رضی اللہ عنہم سے فرمایا کہ تم اس دن روزہ رکھو۔" (مسلم؛۲۶۶۱)
8- حضرت سلمہ بن اکوع رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے قبیلہ بنواسلم کے ایک شخص کو حکم دیا کہ وہ لوگوں میں جاکر یہ اعلان کرے کہ
"جس نے کچھ پی لیا ہے، وہ اب باقی دن کھانے پینے سے رکا رہے اور جس نے کچھ نہیں کھایا، وہ روزہ رکھے کیونکہ آج عاشوراء کا دن ہے۔" (بخاری؛۲۰۰۷/ مسلم؛۱۱۳۵)
9- حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم نے جب دسویں محرم کا روزہ رکھا اور صحابہ کو بھی اس دن روزہ رکھنے کا حکم فرمایا تو لوگوں نے عرض کیا کہ
"اے اللہ کے رسول صلی اللہ علیہ وسلم ! اس دن کو یہود و نصاریٰ بڑی تعظیم و اہمیت دیتے ہیں۔ (یعنی ان کی مراد یہ تھی کہ آپ تو ہمیں یہود و نصاریٰ کی مخالفت کا حکم دیتے ہیں اور یوم عاشوراء کے معاملہ میں تو ان کی موافقت ہورہی ہے۔) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "فاذا کان العام المقبل إن شاء الله صمنا اليوم التاسع" آئندہ سال اگر اللہ نے چاہا تو ہم نویں تاریخ کو روزہ رکھیں گے۔ ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں کہ اگلا سال آنے سے پہلے اللہ کے رسول انتقال فرما گئے۔" (مسلم؛۱۱۳۴)
10- مسلم کی ایک روایت کے لفظ یہ ہیں کہ "لئن بقيت إلی قابل لأصومن التاسع"
"اگر آئندہ سال میں زندہ رہا تو ضرور نو کا روزہ رکھوں گا۔" (مسلم: ایضاً)
روزہ نو محرم کو یا دس کو؟

 

UrduLover

Super Star
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,611
Likes
1,164
Points
342
Location
Manchester U.K
#7


عاشورا ءکے روزے کے بارے میں اہل علم کا شروع سے اختلاف چلا آتا ہے کہ یہ روزہ نو تاریخ کو رکھا جائے یا دس کو ؛ یا نو اور دس دونوں کے روزے رکھے جائیں؟ وجہ ِاختلاف صحیح مسلم کی مندرجہ بالا حدیث (نمبر۹) ہے جس میں یہود و نصاریٰ کی مخالفت کے پیش نظر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ "آئندہ سال میں زندہ رہا تو نو تاریخ کا روزہ رکھوں گا۔"
بعض اہل علم کا خیال ہے کہ اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کو عملی طور پر نو کا روزہ رکھنے کا موقع نصیب نہ ہوسکا تاہم آپ کا یہ فرمان دسویں محرم کے روزے کے لئے بطورِ ناسخ ہے اور اب صرف اور صرف نو ہی کا روزہ رکھنا چاہئے۔ جبکہ بعض اہل علم اس کے برعکس اس موقف کے حامل ہیں کہ نو اور دس دونوں کا روزہ رکھنا چاہئے۔ کیونکہ اصل فضیلت والا دن تو دسویں محرم کا ہے۔ جبکہ یہود ونصاریٰ کی مخالفت کرتے ہوئے اس کے ساتھ نویں محرم کا روزہ بھی شامل ہوجائے گا اور اس طرح دونوں صورتوں یعنی فضیلت ِعاشوراء اور مخالفت ِیہود و نصاریٰ پر عمل ہوجائے گا۔ لہٰذا نو اور دس دونوں تاریخوں کے روزے از بس فضیلت کے لئے ضروری ہیں۔ ہمارے خیال میں اس مسئلہ میں وسعت پائی جاتی ہے، اس لئے مندرجہ دونوں صورتوں میں سے کسی ایک صو رت کے ساتھ ہی اسے خاص کردینا اور اس کے برعکس دوسری کو غلط قرار دینا درست معلوم نہیں ہوتا۔ اس لئے کہ ان دونوں صورتوں کے الگ الگ مضبوط دلائل موجود ہیں ، مثلاً:
صرف نو کا روزہ رکھنے کی دلیل صحیح مسلم کی یہ حدیث ہے کہ آئندہ سال میں زندہ رہا تو نو کا روزہ رکھوں گا۔ اب حدیث کے ظاہری الفاظ کا یہی تقاضا ہے کہ نو ہی کا روزہ رکھا جائے باقی رہی یہ بات کہ اصل فضیلت تو دسویں محرم کی ہے تو اس کا جواب یہ ہے کہ فضیلت کا معیار شریعت ہے۔ اگر شریعت دس کی بجائے نو کو باعث ِفضیلت قرار دے دے تو پھر نو ہی کی فضیلت سمجھی جائے گی اور یہی وجہ ہے کہ جب حکم بن اَعرج نے حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے یومِ عاشورا ءکے روزے کا سوال کیا تو انہوں نے جواب دیا کہ "جب محرم کا چاند دیکھ لو تو دن گننا شروع کردو اور نویں تاریخ کو روزہ کے ساتھ صبح کرو۔" سائل نے پوچھا:" کیا اللہ کے رسول اسی دن روزہ رکھتے تھے؟" تو ابن عباس رضی اللہ عنہ نے جواب دیا: ہاں!" (مسلم: کتاب الصیام، باب اَی یوم الصیام فی عاشوراء؛۱۱۳۳)
اگرچہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم دسویں محرم کو روزہ رکھتے رہے مگر عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ نے نویں محرم کے روزے کی نسبت اللہ کے رسول کی طرف اس لئے کردی کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم یہ فرما چکے تھے کہ آئندہ سال میں نو کا روزہ رکھوں گا۔ گویا اب نویں کو ہی کو سنت سمجھا جائے گا، اگرچہ عملی طور پر حضور کو یہ موقع نہیں مل سکا کہ آپ نو کا روزہ رکھتے۔
دس کا روزہ رکھنے والوں کی پہلی دلیل تو یہی ہے کہ اصل فضیلت والا دن دس محرم ہے اور اسی دن آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہ روزہ رکھتے رہے۔تاہم اللہ کے رسول کا یہ فرمان کہ آئندہ سال میں نو کا روزہ رکھوں گا، اس بات کی نفی نہیں کرتا کہ میں دس کا روزہ چھوڑ دوں گا۔ بلکہ آپ کی مراد یہ تھی کہ دسویں کے ساتھ نویں کا بھی روزہ رکھوں گا تاکہ یہود و نصاریٰ کی بھی مخالفت ہوسکے۔ اور عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ایک روایت سے اس کی تائید بھی ہوتی ہے کہ انہوں نے فرمایا: "صوموا التاسع والعاشر وخالفوا اليهود" (السنن الکبری للبیہقی : ص۲۷۸/ ج۴) "نو اور دس (دونوں کا) روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔ "
شیخ احمد عبدالرحمن البناء رحمتہ اللہ علیہ نے اس موقوف روایت کی سند کو صحیح قرار دیاہے۔ (الفتح الربانی :۱/۱۸۹، مصنف عبدالرزاق؛۷۸۳۹، طحاوی:۲/۷۸)
اس سلسلے میں حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث بھی ذکرکی جاتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: "لئن بقيت لآمرن بصيام يوم قبله أو يوم بعد يوم عاشوراء"
" اگر آئندہ سال میں زندہ رہا تو میں یہ حکم ضرور دوں گا کہ دسویں محرم سے پہلے یا اس کے بعد (یعنی گیارہویں محرم) کا ایک روزہ (مزید) رکھو۔"
یہ روایت مسندحمیدی (۴۸۵) اور سنن کبریٰ از بیہقی (۴/۲۸۷) میں موجود ہے مگر اس کی سند میں ابن ابی لیلی (جن کا نام محمد بن عبدالرحمن ہے) ضعیف راوی ہے۔ جبکہ امام ابن عدی نے یہ روایت 'الکامل' (۳/۹۵۶) میں درج کی ہے اور اس کی سند میں داود بن علی نامی راوی کو ضعیف قرار دیاہے۔
ایک تیسری صورت
بعض اہل علم مندرجہ بالا اختلاف سے بچتے ہوئے ایک تیسری صورت یہ پیش کرتے ہیں کہ نو، دس اور گیارہ تینوں تاریخوں کے پے در پے روزے رکھ لئے جائیں۔ بطورِ دلیل عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی یہ حدیث پیش کی جاتی ہے کہ نبی اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
"صوموا يوم عاشوراء وخالفوا فيه اليهود وصوموا قبله يوما أو بعدہ يوما" "یومِ عاشورا ءکا روزہ رکھو اور یہود کی مخالفت کرو۔ (اس مخالفت کا طریقہ یہ ہے کہ) یوم عاشورا ء(دس محرم) کے ساتھ ایک دن پہلے یا ایک دن بعد کا بھی روزہ رکھو۔"
یہ روایت مسنداحمد (۱/۲۴۱)، ابن خزیمہ (۲۰۹۵) ، الکامل (۳/۹۵۶)، السنن الکبریٰ للبیہقی (۴/۲۸۷) وغیرہ میں موجود ہے مگر اس کی سند میں بھی ابن ابی لیلیٰ اور داود بن علی نامی دو راوی ضعیف ہیں لہٰذا یہ قابل حجت نہیں۔
واضح رہے کہ مذکورہ روایت میں 'أو' (قبله يوما 'أو' بعدہ يوما) بمعنی 'یا' ہے۔ جبکہ بعض طرق میں یہاں 'و' بمعنی 'اور' ہے۔جس کے پیش نظر بعض اہل علم نے تین دن (۹،۱۰،۱۱) کے روزے رکھنے کا رجحان ظاہر کیا ہے۔ (دیکھئے فتح الباری:۴/۷۷۳) مگر محل استشہاد روایت ہی ضعیف ہے، اس لئے یہ موقف کمزور ہے۔
احتیاط کا تقاضا
مذکورہ اختلافی مسئلہ میں اگر احتیاط کا پہلو مدنظر رکھا جائے تو پھر یہ تسلیم کئے بغیر چارہ نہیں کہ نو اور دس دونوں کا روزہ رکھا جائے کیونکہ اگر شریعت کی منشا نو اور دس دونوں کا روزہ رکھنے میں ہوئی تو اس پر عمل ہوجائے گا اور اگر نو کا روزہ رکھنے میں ہوئی تو تب بھی نو کا روزہ رکھا جائے گا اور دس کا روزہ اضافی نیکی قرار پائے گا۔ علاوہ ازیں اس طرح یوم عاشوراء کی فضیلت اور یہود و نصاریٰ کی مخالفت دونوں ہی پر عمل بھی ہوجائے گا جیسا کہ حافظ ابن حجررحمتہ اللہ علیہ رقم طراز ہیں کہ
"وقال بعض أهل العلم: قوله فی صحيح مسلم لئن عشت إلی قابل لأصومن التاسع، يحتمل أمرين أحدهما أنه أراد نقل العاشر إلی التاسع والثاني أراد أن يضيفه إليه فی الصوم فلما توفي ا قبل بيان ذلک کان الاحتياط صوم اليومين" (فتح الباری: ايضاً)
"بعض اہل علم کے بقول صحیح مسلم میں مروی اس حدیث نبوی کہ "اگر آئندہ سال میں زندہ رہا تو نو کا ضرور روزہ رکھوں گا۔" کے دو مفہوم ہوسکتے ہیں: ایک تو یہ کہ آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد یہ تھی کہ یوم عاشوراء کے روزہ کے لئے دس کی بجائے نو کا روزہ مقرر کردیا جائے اور دوسرا یہ کہ آپ دس کے ساتھ نو کا روزہ بھی مقرر فرمانا چاہتے تھے۔ (اب اگر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم اس کے بعد اگلے محرم تک زندہ رہتے تو آپ کے عمل سے مذکورہ دونوں صورتوں میں سے ایک صورت ضرور متعین ہوجاتی) مگر آپ کسی صورت کو متعین کرنے سے پہلے وفات پاگئے تھے، اس لئے احتیاط کا تقاضا یہی ہے کہ نو اور دس دونوں کا روزہ رکھا جائے۔"
واضح رہے کہ بغرضِ احتیاط نو اور دس دونوں کا روزہ رکھنے کا یہ معنی ہرگز نہیں کہ صرف نو کا روزہ رکھنے والوں کے خلاف فتویٰ بازی کی جائے بلکہ صرف نو کے روزہ کی گنجائش بھی بہرحال موجود ہے۔ (واللہ اعلم)
 

UrduLover

Super Star
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,611
Likes
1,164
Points
342
Location
Manchester U.K
#8

محرم میں روزوں کے منافی اُمور
گذشتہ احادیث سے یہ بات ثابت ہوچکی ہے کہ ماہِ محرم میں روزے رکھنا مسنون اور افضل ترین عمل ہے حتیٰ کہ رمضان المبارک کے بعد ماہِ محرم کے روزوں کو سب سے افضل قرار دیا گیا ہے اور محرم میں بھی نویں اور دسویں کا روزہ دیگر دنوں کے روزوں سے افضل ہے، لیکن افسوس کہ جیسے ہی محرم کا مہینہ شروع ہوتا ہے، روزوں کے منافی اُمور کا سلسلہ بھی شروع ہوجاتا ہے۔ شہادتِ حسین کی یاد میں دودھ، پانی یا مشروبات کی سبیلیں لگائی جاتی ہیں، دیگیں پکا کر لوگوں میں کھانا تقسیم کیا جاتا ہے، خوش ذائقہ ماکولات و مشروبات کا اہتمام کرکے فاتحہ خوانی کی محفلیں قائم کی جاتی ہیں اور جوں جوں دسویں محرم کا دن قریب آتا ہے، توں توں ان امور کے دائرہ میں وسعت اور تیزی آتی چلی جاتی ہے۔ گویا محرم اور یوم عاشوراء کے موقع پر آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم جتنا اہتمام روزے کا فرمایا کرتے اور صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کو اس کی ترغیب دلاتے، دورِ حاضر کے مسلمان ماہِ محرم میں اتنا ہی اس کے منافی دعوتوں اور ضیافتوں کا اہتمام کرنے لگے ہیں اور پھر اسے یقینی بنانے اور مسلسل قائم رکھنے کے لئے سرکاری طور پر ملک بھر میں چھٹی بھی منائی جاتی ہے۔
چنانچہ ایک طرف تو بعض لوگ مذکورہ اُمور کی شرعی حیثیت کی چھان پھٹک کئے بغیر ہر اس رسم، رواج اور طریقے کی اتباع شروع کردیتے ہیں جسے کسی قوم، قبیلے یا فرقے میں خاصا مقام اور شہرت حاصل ہو جبکہ دوسری طرف بعض لوگ مذکورہ اُمور کے ثبوت کے لئے شرعی و عقلی دلائل بھی پیش کرنے لگتے ہیں مثلاً یہ کہ
1- یزید کے لشکروں نے شہدائے کربلاء کا پانی بند کردیا تھا، اس لئے شہدائےکربلاء سے اظہارِ محبت کے لئے ضروری ہے کہ ان کے نام پر پانی ہی نہیں بلکہ اچھے اچھے مشروبات کی بھی سبیلیں لگائی جائیں۔
2- شہدائے کربلاء کی اَرواح کے ایصالِ ثواب کے لئے ماکولات و مشروبات کا اہتمام کرکے فاتحہ خوانی کی محفلیں قائم کرنی چاہئیں۔
3- یہ (من گھڑت) روایت بھی پیش کی جاتی ہے کہ
"جس شخص نے عاشوراء کے روز اپنے اہل و عیال (کے رزق کے معاملہ) پر فراخی وکشادگی کی، اللہ تعالیٰ سال بھر اس پر کشادگی فرماتے رہیں گے۔"
اگر قرآن و سنت کی تعلیمات کا غیر جانبدرانہ جائزہ لیا جائے تو مذکورہ اُمور کے جواز کی نہ کوئی گنجائش ملے گی اور نہ ہی کوئی معقول وجہ...!
1- اوّل تو اس لئے کہ ماہِ محرم میں روزے رکھنا مسنون ہے جبکہ ماکولات و مشروبات کے اہتمام سے نہ صرف روزوں کی مسنون حیثیت مجروح ہوتی ہے بلکہ اس کے ساتھ ایک بدعت بھی رواج پاتی ہے۔
2- دوم اس لئے کہ شہدائے کربلا ءیا دیگر فوت شدگان کی ارواح کو ثواب پہنچانے کے لئے فاتحہ خوانی کی یہ صورتیں قرآن و سنت اورعمل صحابہ سے ثابت ہی نہیں۔ لیکن اس کے باوجود ان صو رتوں کو دین کا حصہ اور اجروثواب کا ذریعہ سمجھ کر قائم کرنا بدعت نہیں تو پھر کیا ہے؟
3- رہی یہ بات کہ شہدائے کربلاء کا پانی بند کیا گیا تھا تو یہ قصہ ہی جھوٹا اور بے سند ہے جبکہ خود شیعہ ہی کی بعض کتابوں سے اس کے برعکس یہ معلوم ہوتا ہے کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ کو جب قافلے کے لئے پانی کی ضرورت محسوس ہوتی تو وہ زمین کھودتے اور فوراً میٹھے پانی کا چشمہ بہہ نکلتا۔(تفصیل کے لئے دیکھئے: جلاء العیون باب ۵ ص۴۵۹، ناسخ التواریخ ص۳۲۶ ج۲، تصویر کربلا از سید آلِ محمد، ص۳۱)
اگر بالفرض بندشِ آب کے قصہ کو درست تسلیم کرلیا جائے تو پھر چاہئے تو یہ تھا کہ حضرت حسین رضی اللہ عنہ سے اظہارِ محبت کے لئے ماہ محرم میں اتنے دن پیاسا رہنے کا مظاہرہ کیا جاتا جتنے دن ان سے پانی روکے رکھا گیاتھا !
4- ماکولات و مشروبات کے خصوصی اہتمام کی جو روایت بطورِ دلیل پیش کی جاتی ہے وہ محدثین کے ہاں بالاتفاق جھوٹی (موضوع) روایت ہے۔ جیسا کہ شیخ الاسلام ابن تیمیہ رحمتہ اللہ علیہ فرماتے ہیں کہ
"عاشورا کے روز فضائل کے سلسلہ میں اہل و عیال پر فراخی و کشادگی اور مصافحہ و خضاب وغسل کی برکت وغیرہ کے متعلق جو روایتیں بیان کی جاتی ہیں اور کہا جاتا ہے کہ اس دن ایک خاص نماز پڑھنی چاہئے ... یہ سب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر کذب و افترا ءہے۔ محرم میں عاشوراء کے روزے کے سوا کوئی عمل پسند صحیح ثابت نہیں۔" (منہاج السنة: ۴/۱۱)
مذکورہ مسئلہ کی مزید تفصیل اور من گھڑت روایات کی تحقیق کے لئے ملاحظہ ہو الموضوعات لابن جوزی (۲/۲۰۳)، اللآئی المصنوعہ فی الاحادیث الموضوعة (۲/۹۴) الموضوعات الکبریٰ (ص۳۴۱) اور مجموع الفتاویٰ (۲/۳۵۴)
5- یہاں یہ بات بھی قابل توجہ ہے کہ سانحہٴ کربلاء کے رنج و غم میں رافضی وغیرہ اس انتہا ءکو پہنچ گئے کہ نوحہ و ماتم سے دور جہالت کی ان قبیح رسومات کو زندہ کرنے لگے کہ جن سے اسلام نے سختی سے منع کیا ہے۔جبکہ ناصبی اور خارجی قسم کے لوگ رافضیوں کی عداوت میں سانحہٴ کربلاء پر خوشی کا مظاہرہ کرتے ہوئے ان ایام میں ماکولات و مشروبات کا انتظام کرنے لگے۔ پھر ایصالِ ثواب اور سوگ کے نام پر یہ دونوں باتیں دیگر مسلمانوں میں بھی بڑی تیزی سے سرایت کرگئیں۔
حالانکہ راہِ اعتدال یہی ہے کہ ان تمام بدعات و خرافات سے کنارہ کشی اختیار کرتے ہوئے واقعہ کربلاء کو مسلمانوں کے لئے عظیم سانحہ اور حادثہ فاجعہ قرار دیا جائے۔اور حضرت حسین رضی اللہ عنہ اور یزید کے سیاسی اختلافات اللہ کے سپرد کرکے دونوں کے بارے میں خاموشی کی راہ اختیار کی جائے۔
 

UrduLover

Super Star
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,611
Likes
1,164
Points
342
Location
Manchester U.K
#9
یومِ عاشورہ کی تاریخی اہمیت

یوم عاشورہ بڑا ہی مہتم بالشان اور عظمت کا حامل دن ہے، تاریخ کے عظیم واقعات اس سے جڑے ہوئے ہیں؛ چناں چہ موٴرخین نے لکھا ہے کہ:
(۱) یوم عاشورہ میں ہی آسمان وزمین، قلم اور حضرت آدم علیہما السلام کو پیدا کیاگیا۔
(۲) اسی دن حضرت آدم علیٰ نبینا وعلیہ الصلاة والسلام کی توبہ قبول ہوئی۔
(۳) اسی دن حضرت ادریس علیہ السلام کو آسمان پر اٹھایا گیا۔
(۴) اسی دن حضرت نوح علیہ السلام کی کشتی ہولناک سیلاب سے محفوظ ہوکر کوہِ جودی پر لنگرانداز ہوئی۔
(۵) اسی دن حضرت ابراہیم علیہ السلام کو ،،خلیل اللہ“ بنایا گیا اور ان پر آگ گلِ گلزار ہوئی۔
(۶) اسی دن حضرت اسماعیل علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔
(۷) اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کو قید خانے سے رہائی نصیب ہوئی اور مصر کی حکومت ملی۔
(۸) اسی دن حضرت یوسف علیہ السلام کی حضرت یعقوب علیہ السلام سے ایک طویل عرصے کے بعد ملاقات ہوئی۔
(۹) اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام اور ان کی قوم بنی اسرائیل کو فرعون کے ظلم واستبداد سے نجات حاصل ہوئی۔
(۱۰) اسی دن حضرت موسیٰ علیہ السلام پر توریت نازل ہوئی۔
(۱۱) اسی دن حضرت سلیمان علیہ السلام کو بادشاہت واپس ملی۔
(۱۲) اسی دن حضرت ایوب علیہ السلام کو سخت بیماری سے شفا نصیب ہوئی۔
(۱۳) اسی دن حضرت یونس علیہ السلام چالیس روز مچھلی کے پیٹ میں رہنے کے بعد نکالے گئے۔
(۱۴) اسی دن حضرت یونس علیہ السلام کی قوم کی توبہ قبول ہوئی اور ان کے اوپر سے عذاب ٹلا۔
(۱۵) اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کی پیدائش ہوئی۔
(۱۶) اور اسی دن حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو یہودیوں کے شر سے نجات دلاکر آسمان پر اٹھایاگیا۔
(۱۷) اسی دن دنیا میں پہلی بارانِ رحمت نازل ہوئی۔
(۱۸) اسی دن قریش خانہٴ کعبہ پر نیا غلاف ڈالتے تھے۔
(۱۹) اسی دن حضور اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے حضرت خدیجة الکبریٰ رضی اللہ عنہ سے نکاح فرمایا۔
(۲۰) اسی دن کوفی فریب کاروں نے نواسہٴ رسول صلی اللہ علیہ وسلم اور جگر گوشہٴ فاطمہ رضی اللہ عنہما کو میدانِ کربلا میں شہید کیا۔
(۲۱) اور اسی دن قیامت قائم ہوگی۔ (نزہة المجالس ۱/۳۴۷، ۳۴۸، معارف القرآن پ ۱۱ آیت ۹۸۔ معارف الحدیث ۴/۱۶۸)
یومِ عاشورہ کی فضیلت
مذکورہ بالا واقعات سے تو یوم عاشورہ کی خصوصی اہمیت کا پتہ چلتا ہی ہے، علاوہ ازیں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی اس دن کی متعدد فضیلتیں وارد ہیں؛ چنانچہ:
(۱) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں : ما رأیتُ النبیَّ صلی اللّٰہ علیہ وسلم یَتَحَرّیٰ صیامَ یومٍ فضَّلَہ علی غیرِہ الّا ہذا الیومَ یومَ عاشوراءَ وہذا الشہرَ یعنی شہرَ رَمَضَان (بخاری شریف۱/۲۶۸، مسلم شریف ۱/۳۶۰،۳۶۱)
میں نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کوکسی فضیلت والے دن کے روزہ کا اہتمام بہت زیادہ کرتے نہیں دیکھا، سوائے اس دن یعنی یومِ عاشوراء کے اور سوائے اس ماہ یعنی ماہِ رمضان المبارک کے۔
مطلب یہ ہے کہ حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ نے آپ کے طرزِ عمل سے یہی سمجھا کہ نفل روزوں میں جس قدر اہتمام آپ یومِ عاشورہ کے روزہ کا کرتے تھے، اتنا کسی دوسرے نفلی روزہ کا نہیں کرتے تھے۔
(۲) حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: لَیْسَ لِیَوْمٍ فَضْلٌ عَلٰی یومٍ فِي الصِّیَامِ الاَّ شَہْرَ رَمَضَانَ وَیَوْمَ عَاشُوْرَاءَ․ (رواہ الطبرانی والبیہقی، الترغیب والترہیب ۲,۱۱۵)
روزہ کے سلسلے میں کسی بھی دن کو کسی دن پر فضیلت حاصل نہیں؛ مگر ماہِ رمضان المبارک کو اور یوم عاشورہ کو (کہ ان کو دوسرے دنوں پر فضیلت حاصل ہے)۔
(۳) عن أبی قتادة رضی اللّٰہ عنہ قال قال رسولُ اللّٰہ صلی اللّٰہ علیہ وسلم: انّي أحْتَسِبُ عَلَی اللّٰہِ أنْ یُکفِّر السنةَ التي قَبْلَہ․ (مسلم شریف ۱,۳۶۷، ابن ماجہ ۱۲۵)
حضرت ابوقتادہ رضی اللہ عنہ کہتے ہیں کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ مجھے امید ہے کہ عاشوراء کے دن کا روزہ گذشتہ سال کے گناہوں کا کفارہ ہوجائے گا۔ (ابن ماجہ کی ایک روایت میں ”السنة التی بعدہا“ کے الفاظ ہیں) کذا فی الترغیب۲/۱۱۵)
ان احادیث شریف سے ظاہر ہے کہ یوم عاشوراء بہت ہی عظمت وتقدس کا حامل ہے؛ لہٰذا ہمیں اس دن کی برکات سے بھرپور فیض اٹھانا چاہیے۔
ماہِ محرم کی فضیلت اوراس کی وجوہات
یوم عاشوراء کے ساتھ ساتھ شریعت مطہرہ میں محرم کے پورے ہی مہینے کو خصوصی عظمت حاصل ہے؛ چنانچہ چار وجوہ سے اس ماہ کو تقدس حاصل ہے:
(۱) پہلی وجہ تو یہ ہے کہ احادیث شریفہ میں اس ماہ کی فضیلت وارد ہوئی ہے؛ چنانچہ حضرت علی رضی اللہ عنہ سے کسی شخص نے سوال کیا کہ ماہ رمضان المبارک کے بعد کون سے مہینہ کے میں روزے رکھوں؟ تو حضرت علی رضی اللہ عنہ نے جواب دیا کہ یہی سوال ایک دفعہ ایک شخص نے نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی کیا تھا، اور میں آپ کے پاس بیٹھا تھا، تو آپ نے جواب دیا تھا کہ: انْ کُنْتَ صَائِمًا بَعْدَ شَہْرِ رَمَضَانَ فَصُمِ الْمُحَرَّمَ فانَّہ شَہْرُ اللّٰہِا فِیْہِ یَوْمٌ تَابَ اللّٰہُ فِیْہِ عَلٰی قَوْمٍ وَیَتُوْبُ فِیْہِ عَلٰی قَوْمٍ آخَرِیْنَ ․ (ترمذی ۱/۱۵۷) یعنی ماہ رمضان کے بعد اگر تم کو روزہ رکھنا ہے تو ماہِ محرم میں رکھو؛ کیونکہ وہ اللہ تعالیٰ (کی خاص رحمت) کا مہینہ ہے، اس میں ایک ایسا دن ہے جس میں اللہ تعالیٰ نے ایک قوم کی توبہ قبول فرمائی اور آئندہ بھی ایک قوم کی توبہ اس دن قبول فرمائے گا۔
نیز حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: أفْضَلُ الصِّیَامِ بَعْدَ صِیَامِ شَہْرِ رَمَضَانَ شَہْرُ اللّٰہِ الْمُحَرَّمُ․ (ترمذی ۱/۱۵۷) یعنی ماہ رمضان المبارک کے روزوں کے بعد سب سے افضل روزہ ماہ محرم الحرام کا ہے۔
اسی طرح ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ صَامَ یَوْمًا مِنَ الْمُحَرَّمِ فَلَہ بِکُلِّ یَوْمٍ ثَلاَثُوْنَ یَوْمًا․ (الترغیب والترہیب ۲/۱۱۴) یعنی جو شخص محرم کے ایک دن میں روزہ رکھے اور اس کو ہر دن کے روزہ کے بدلہ تیس دن روزہ رکھنے کا ثواب ملے گا۔
(۲) مندرجہ بالا احادیث شریفہ سے دوسری وجہ یہ معلوم ہوئی کہ یہ ”شہرُ اللّٰہ“ ہے یعنی اللہ تعالیٰ کی خاص رحمتوں کا مہینہ ہے تو اس ماہ کی اضافت اللہ کی طرف کرنے سے اس کی خصوصی عظمت وفضیلت ثابت ہوئی۔
(۳) تیسری وجہ یہ ہے کہ یہ مہینہ ”اشہر حرم“ یعنی ان چار مہینوں میں سے ہے کہ جن کو دوسرے مہینوں پر ایک خاص مقام حاصل ہے، وہ چار مہینے یہ ہیں:
(۱) ذی قعدہ (۲) ذی الحجہ (۳) محرم الحرام (۴) رجب (بخاری شریف ۱/۲۳۴، مسلم ۲/۶۰)
(۴) چوتھی وجہ یہ کہ اسلامی سال کی ابتداء اسی مہینے سے ہے؛ چنانچہ امام غزالی لکھتے ہیں کہ ”ماہِ محرم میں روزوں کی فضیلت کی وجہ یہ ہے کہ اس مہینے سے سال کا آغاز ہوتا ہے؛ اس لیے اسے نیکیوں سے معمور کرنا چاہیے، اور خداوند قدوس سے یہ توقع رکھنی چاہیے کہ وہ ان روزوں کی برکت پورے سال رکھے گا۔ (احیاء العلوم اردو ۱/۶۰۱)
یوم عاشوراء میں کرنے کے کام
احادیث طیبہ سے یومِ عاشوراء میں صرف دو چیزیں ثابت ہیں: (۱) روزہ: جیساکہ اس سلسلے میں روایات گزرچکی ہیں؛ لیکن یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ احادیث میں نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے کفار ومشرکین کی مشابہت اور یہود ونصاریٰ کی بود وباش اختیار کرنے سے منع فرمایا ہے، اس حکم کے تحت چونکہ تنہا یوم عاشوراء کا روزہ رکھنا یہودیوں کے ساتھ اشتراک اور تشابہ تھا، دوسری طرف اس کو چھوڑ دینا اس کی برکات سے محرومی کا سبب تھا؛ اس لیے اللہ تعالیٰ کے مقدس پیغمبر صلی اللہ علیہ وسلم نے ہمیں یہ تعلیم دی کہ یوم عاشوراء کے ساتھ ایک دن کا روزہ اور ملالو، بہتر تو یہ ہے کہ نویں اور دسویں تاریخ کا روزہ کھو، اور اگر کسی وجہ سے نویں کا روزہ نہ رکھ سکو تو پھر دسویں کے ساتھ گیارہویں کا روزہ رکھ لو؛ تاکہ یہود کی مخالفت ہوجائے اور ان کے ساتھ کسی بھی قسم کا تشابہ نہ رہے، جیساکہ حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے مروی ہے کہ جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے یوم عاشوراء کا روزہ رکھا اور مسلمانوں کو بھی اس کا حکم دیا تو بعض صحابہ نے عرض کیا کہ یا رسول اللہ! اس دن کو یہود ونصاریٰ بڑے دن کی حیثیت سے مناتے ہیں(تو کیا اس میں کوئی ایسی تبدیلی ہوسکتی ہے جس کے بعد یہ اشتراک اور تشابہ والی بات ختم ہوجائے) تو آپ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: فَاذَا کَانَ العامُ المُقْبِلُ ان شاءَ اللّٰہ ضُمْنَا الیومَ التاسعَ قال فَلَمْ یَأْتِ الْعَامُّ الْمُقْبِلُ حَتّٰی تَوَفّٰی رسولُ اللّٰہ صلی اللہ علیہ وسلم (مسلم شریف ۱/۳۵۹) یعنی جب اگلا سال آئے گا تو ہم نویں کو بھی روزہ رکھیں گے، ابن عباس بیان فرماتے ہیں کہ اگلاسال آنے سے پہلے ہی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات ہوگئی۔
اہم فائدہ
بعض فقہاء نے لکھا ہے کہ صرف یوم عاشوراء کا روزہ رکھنا مکروہ ہے؛ لیکن حضرت علامہ انور شاہ کشمیری نے فرمایا ہے کہ عاشوراء کے روزہ کی تین شکلیں ہیں: (۱) نویں، دسویں اور گیارہویں تینوں کا روزہ رکھا جائے (۲) نویں اور دسویں اور گیارہویں کا روزہ رکھا جائے (۳) صرف دسویں تاریخ کا روزہ رکھا جائے۔ ان میں پہلی شکل سب سے افضل ہے، اور دوسری شکل کا درجہ اس سے کم ہے، اور تیسری شکل کا درجہ سب سے کم ہے، تو حضرت شاہ صاحب نے فرمایا کہ تیسری شکل کا درجہ جو سب سے کم ہے اسی کو فقہاء نے کراہت سے تعبیر کردیا ہے، ورنہ جس روزہ کو آپ نے رکھا ہو اور آئندہ نویں کا روزہ رکھنے کی صرف تمنا کی ہو اس کو کیسے مکروہ کہا جاسکتا ہے۔ (معارف السنن ۵/۴۳۴)
(۲) اہل وعیال پر رزق میں فراخی: شریعتِ اسلامیہ نے اس دن کے لیے دوسری تعلیم دی ہے کہ اس دن اپنے اہل وعیال پر کھانے پینے میں وسعت اورفراخی کرنا اچھا ہے؛ کیونکہ اس عمل کی برکت سے تمام سال اللہ تعالیٰ فراخیِ رزق کے دروازے کھول دیتا ہے؛ چنانچہ: حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے ارشاد فرمایا: مَنْ أوْسَعَ عَلٰی عِیَالِہ وَأہْلِہ یَوْمَ عَاشُوْرَاءَ أوْسَعَ اللّٰہُ عَلَیْہِ سَائِرَ سَنَتِہ․ (رواہ البیہقی، الترغیب والترہیب ۲/۱۱۵) یعنی جو شخص عاشوراء کے دن اپنے اہل وعیال پر کھانے پینے کے سلسلے میں فراخی اور وسعت کرے گا تو اللہ تعالیٰ پورے سال اس کے رزق میں وسعت عطا فرمائیں گے۔
 

UrduLover

Super Star
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,611
Likes
1,164
Points
342
Location
Manchester U.K
#10
ماہ محرم الحرام کی فضیلت اور اہل بیت کی عظمت

آپ اور میں ہم سب جانتے ہیں کہ بلاشبہ اللہ سبحانہ وتعالی نے اپنی مخلوق میں سے کچھ کواختیارکرکے اسے چن لیا ہے ۔فرشتوں میں سے بھی پیغمبر چنے اورانسانوں میں سے بھی رسول بنائے ، اورکلام سے اپنا ذکر چنا اورزمین سے مساجد کواختیار کیا ، اورمہینوں میں سے رمضان المبارک اورحرمت والے مہینے چنے ، اورایام میں سے جمعہ کا دن اختیارکیا ، اورراتوں میں سے لیلۃ القدر کوچنا ، لھذا جسے اللہ تعالی نے تعظیم دی ہے تم بھی اس کی تعظیم کرو ، کیونکہ اہل علم وفھم اورحل وعقد کے ہاں امور کی تعظیم بھی اسی چیز کےساتھ کی جاتی ہے جسے اللہ تعالی نے تعظیم دی ہے۔
یقینا یقینا محرم الحرام کا مہینہ عظمت والا اوربابرکت مہینہ ہے ، اسی ماہ مبارک سے ھجری سال کی ابتداء ہوتی ہے اوریہ ان حرمت والے مہینوں میں سے ایک ہے۔ جن کے بارہ میں اللہ رب العزت کا فرمان ہے :
اِنَّ عِدَّۃَ الشُّہُوْرِ عِنْدَ اللّٰہِ اثْنَا عَشَرَ شَہْرًا فِیْ کِتٰبِ اللہِ یَوْمَ خَلَقَ السَّمٰوٰتِ وَالْاَرْضَ مِنْہَآ اَرْبَعَۃٌ حُرُمٌ ذٰلِکَ الدِّیْنُ الْقَیِّمُ فَلَا تَظْلِمُوْا فِیْہِنَّ اَنْفُسَکُمْ وَقٰتِلُوا الْمُشْرِکِیْنَ کَآفَّۃً کَمَا یُقٰتِلُوْنَکُمْ کَآفَّۃً وَ اعْلَمُوْۤا اَنَّ اللّہَ مَعَ الْمُتَّقِیْنَ (پ١٠،سورۃ التوبۃ،آیت٣٦)
ترجمہ ئ کنزالایمان :بیشک مہینوں کی گنتی اللّٰہ کے نزدیک بارہ مہینے ہیں ۔اللّٰہ کی کتاب میںجب سے اس نے آسمان و زمین بنائے ان میں سے چار حرمت والے ہیں یہ سیدھا دین ہے تو ان مہینوں میں اپنی جان پر ظلم نہ کرو اور مشرکوں سے ہر وقت لڑو جیسا وہ تم سے ہر وقت لڑتے ہیں اور جان لو کہ اللّٰہ پرہیزگاروں کے ساتھ ہے ۔
یعنی ان حرمت والے مہینوں میں ظلم نہ کرو کیونکہ ان میں گناہ کرنا دوسرے مہینوں کی بنسبت زیادہ شدید ہے ۔انھیں فضیلت و فوقیت حاصل ہے لہذا ان کا احترام بھی لازم ہے ۔یعنی ابتدائے آفرینش ہی سے اللہ تعالیٰ نے بارہ مہینے مقرر فرما رکھے ہیں۔ جن میں چار کو خصوصی ادب و احترام اورعزت و تکریم سے نوازا گیا۔
حدیث مبارکہ میں حضرت ابوہریرہ رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:
زمانہ اپنی اسی حالت پر واپس لوٹ آیا ہے کہ جس پر وہ اس وقت تھا جب اللہ تعالیٰ نے آسمانوں اور زمین کی تخلیق فرمائی تھی۔ سال کے بارہ مہینے ہیں جن میں چار حرمت والے ہیں، تین تو لگاتار ہیں یعنی ذوالقعدہ ، ذوالحجہ اور محرم اور چوتھا ماہِ رجب جو جمادی الآخر اور شعبان کے درمیان ہے۔ (بخاری:کتاب التفسیر، سورۃ التوبہ ؛/ مسلم: کتاب القسامہ، باب تغلیظ تحریم الدمائ)
ایک او ر مقام پر میرے اور آپ آقا مدینے والے مصطفی ؐ ارشادفرما تے ہیں :
أفضل الصیام بعد رمضان: شہر اللہ المحرم وافضل الصلاۃ بعد الفریضۃ:صلاۃ اللیل (مسلم: کتاب الصیام ، باب فضل صوم المحرم)
ترجمہ :رمضان المبارک کے بعد اللہ کے مہینے محرم کے روزے سب روزوں سے افضل ہیں اور فرض نماز کے بعد سب سے افضل نماز آدھی رات (یعنی تہجد) کے وقت پڑھی جانے والی نماز ہے۔(مسلم: کتاب الصیام: باب فضل صوم المحرم)
تاریخ کے ورق الٹ پلٹ کر دیکھیں تو آپ جان لیں گئے کہ اسی ماہِ مقدس میں ایسے دلدوز واقعات رونماہوئے کہ صدیاں بیت جانے کے بعد بھی وہ مقتل ،وہ زخم ،وہ قتل و غارت گری،عزت و تکریم کے پیکروں کے سرقلم کرنے کے مناظر سبھی کچھ ایسے لگتاہے جیسے ابھی ہوا ہو۔یہ واقعہ سن ،پڑھ کر دل کی دھڑکنیں بے ربط ہوجاتی ہے ۔فرط غم سے آنکھیں نم ہوجاتی ہیں ۔عزت و احتشام کے ان بلند مناروں کے ساتھ انسانیت سوز رویے پر دل کانپ اُٹھتاہے ۔یوں تو اس ماہ محرم الحرام میں سینکڑوں واقعات تاریخ کے اوراق میں رقم ہیں لیکن جس واقعہ نے تاریخ ِانسانیت کو جھنجوڑ دیا وہ واقعہ کرب و بلاہے ۔جہاں کشت و خون کی آندھیاں چلیں ،تخت و تاج کے نشے میں بدمست شخص اور اس کے ساتھیوں نے گلشنِ زھراء پرشب خون مارا۔اس خاندان پر اپنے تیرو نشتر چلائے جن کے صدقے گداؤں کو تونگری ملی ۔ان کے در سے جڑے ذرے مہر و تاباں ہوگئے ۔آئیے اس خاندان کی عظمت جانتے ہیں ۔
ارشادِ باری تعالیٰ ہے :قُلْ لَّآ اَسْـَلُکُمْ عَلَیْہِ اَجْرًا اِلَّا الْمَوَدَّۃَ فِی الْقُرْبٰی (پ ٢٥،سورۃ الشعراء ،آیت:٢٣)
ترجمہ ئ کنزالایمان: تم فرماؤ میں اس پر تم سے کچھ اجرت نہیں مانگتا مگر قرابت کی محبّت ۔
اس آیت کے تحت مفتی نعیم الدین مرادآبادی علیہ الرحمۃ الہادی فرماتے ہیں:تم پر لازم ہے کیونکہ مسلمانوں کے درمیان مودّت ، محبّت واجب ہے۔ حضرت سعید بن جبیر سے مروی ہے کہ قرابت والوں سے مراد حضور سیدِ عالَم صلی اللہ علیہ وآلہٖ وسلم کی آلِ پاک ہے ۔ (بخاری شریف)
حضرت عبداللہ بن عباس رضی اللہ تعالیٰ عنہ فرماتے ہیں: کہ ہم نے حضور ؐ کی بارگاہ میں عرض کیا:یارسول اللہؐ !آپ کے جن قریبیوں کی محبت ہم پر لازم قراردی گئی ہے وہ کون خوش نصیب ہیں ؟آپ نے فرمایا:علی ،فاطمہ اور ان کے دونوں بیٹے (حسنین کریمین ،طیبین،طاہرین ،قمرین ،منیرین )(زرقانی علی المواہب،ج٧،ص٢٠)
یہ وہی خاندان اہل بیت ہے کہ جن کے متعلق حضورِ اکرم نورمجسم فخرِ بنی ؐ نے حضرت فاطمہ رضی اللہ تعالی عنھا سے مخاطب ہوتے ہوئے فرمایا::اَنَا وَہَذَیْنِ وَہَذَالرَّاقِدَ یَعْنِی عُلْیَا یَوْمُ القَیَامَۃِ فِیْ مَکانِِ وَاحِدِِ(طبرانی ،مسند احمد بن حنبل ۔ کنزالعمال ) ۔ترجمہ:یعنی میں اور تم اور یہ دونوں (حسن و حسین اور یہ سونے والا(حضرت علی )ہم سب بروز قیامت ایک ہی جگہ میں ہوں گے۔
یہ وہی عظمت و شان والا گھرانہ ہے جسے نبی سرور محبوب انور ؐ بشارت عطافرماتے ہیں کہ فاطمہ تمام جنتی عورتوں کی سردار اور حسن و حسین جنتی نوجوانوں کے سردارہیں (ترمذی شریف،کنزالعمال)
پیارے آقامدینے والے مصطفی ؐ نے امّت کو اپنے اہل کی محبت کا درس دیا۔آپ ؐ فرماتے ہیں :”اپنی اولادکو تین خصلتیں سکھاؤ ،اپنے نبی کی محبت اور ان کے اہل بیت کی محبت اور قران پاک کی قرائت۔(کنزالعمال ،کتا ب النکاح ،قسم الاول،الحدیث٤٥٤٠١)
ان نیک و پاکباز ہستیوں کی ،اس شرف و تعظیم کے پیکرگھرانے کی محبت ہی کامیابی کی معراج ہے ۔منگتوں ،فقیروں ،گداگروں و مفلسوں کو بھیک اسی در سے میسرہے ۔جس نے اہل بیت سے محبت کی، شفاعت و برائت کا مژدہ ،محب و عاشق کا طمغہ اسی کے سینے پہ سجے گا۔محبت بھی وہ محبت کے جس محبت کاحضور ؐنے درس دیاہے ۔تعظیم بھی وہ تعظیم کہ جو اس خاندانِ عالیشان کے شایان شان ہو۔ ہم بارگاہ الہی میں انہی کاواسطہ پیش کرتے ہیں ۔انہی کا صدقہ طلب کرتے ہیں ۔
 
Top