شوال کی فضیلت

UrduLover

 
ITD Star
Top Poster
Dynamic Brigade
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,250
Likes
762
Points
242
Location
Manchester U.K
#1

شوال کی فضیلت
شوال قمری سال کے دسویں مہینے کا نام ہے۔ سورت توبہ کی آیت نمبر 2 میں ارشاد ربانی ہے: ”سو پھر لو اس ملک میں چار مہینے“۔ مفسرین کے نزدیک ان چار مہینوں میں شوّال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم کے مہینے شامل ہیں

ڈاکٹر لیاقت علی خان نیازی:
شوّال قمری سال کے دسویں مہینے کا نام ہے۔ سورت توبہ کی آیت نمبر 2 میں ارشاد ربانی ہے: ”سو پھر لو اس ملک میں چار مہینے“۔ اْردو دائر ہ معارف اسلامیہ (جلد 11، صفحہ نمبر 518) کے مطابق مفسرین کے نزدیک ان چار مہینوں میں شوّال، ذوالقعدہ، ذوالحجہ اور محرم کے مہینے شامل ہیں۔ چنانچہ شوّال حج کے مہینوں میں ہے جن کا ذکر قرآن پاک میں آیاہے۔

ان چار مہینوں میں عرب اپنے ملک میں بغیر کسی قسم کے حملے بلا خوف چل پھر سکتے تھے۔ اس کا ذکر سورت توبہ کی آیت نمبر 5 میں آیا ہے۔ شوّال کا مہینہ بڑی اہمیت کا حامل ہے۔ یہ مسرت و انبساط کا مڑدہ سناتا ہے۔ خالق حقیقی ایک سخی دریا بن کر صحرا صحرا عصیاں کو سیراب کردیتا ہے۔ گناہوں کے صحراؤں میں جب گردباد کی سیٹیاں بجتی ہیں اور جب عصیاں کے وسیع و عریض صحرا کے باسی جھلستے ہیں تو تھکے ہارے ہانپتے گناہگاروں اور خطا کاروں کے احساس ندامت کو دیکھ کر خالق حقیقی کی بے کراں شفقت جوش مارتی ہے۔





پیاس کے صحرا میں پھر انہیں یزداں زمزم پلاتا ہے۔ بقول سید ضمیر جعفری
وقت کے ماتھے پہ جس کی روشنی لکھی گئی
وہ رُخ زیبا ہے ترا وہ ید بیضا تو ہی
کس نے تھاما رات کے ڈوبے ہوئے سورج کا ہاتھ
روشنی کو صبح کی چوکھٹ پہ لے آیا تو ہی
کون ہے تیرے سوا، دکھیا دلوں کا داد رس
خلق کا مولا تو ہی ملجا تو ہی ماوا توہی
مولانا محمد جونا گڑھی و مولانا صلاح الدین یوسف، قرآن حکیم مع ترجمہ و تفسیر، مطبوعہ شاہ فہد قرآن حکیم پرنٹنگ کمپلیکس، مدینہ منورہ، مطبوعہ 1419 ہجری کے صفحہ نمبر 506 پر تحریر فرماتے ہیں کہ چار مہینے ایسے ہیں جو حرمت والے ہیں: (1) رجب، (2) ذوالقعدہ، (3) ذوالحجہ اور (4) محرم
شوال قمری سال کے دسویں مہینے کا نام ہے۔

سورت توبہ کی آیت نمبر 2 میں ارشاد ربانی ہے:
فسیحوا فی الارض اربعة اشھر
”پس (اے مشرکو!) تم ملک میں چار مہینے تک چل پھر لو۔“
یہاں 9ہجری کا ذکر ہے جس میں چار مہینوں کا ذکر فرمایا گیا ہے کہ عرب اپنے ملک کے اندر بغیر کسی قسم کے حملے کے خوف کے چل پھر سکتے تھے۔ بعض مفسرین کے نزدیک شوّال بھی حرمت والے مہینوں میں سے ہے۔ حدیث کے مطابق شوال حج کے مہینوں میں سے ہے۔

(ملاحظہ ہو: البخاری، کتاب الحج، باب 33، 37)
اسلام سے پہلے عرب شوّال کے مہینے کو شادیوں کے لیے موزوں نہیں سمجھتے تھے۔ حالانکہ یہ خیال غلط ہے۔ حضور اکرمﷺنے حضرت عائشہ رضی اللہ تعالیٰ عنہاسے شوّال میں ہی شادی کی تھی۔ (ملاحظہ ہو: الترمذی، کتاب النکاح، باب 10) اس مہینے کی اسلام میں بڑی فضیلت ہے۔ حضور اکرم ﷺ نے ارشاد فرمایا: جو شخص رمضان کے روزے رکھے اور ان کے ساتھ چھ روزے شوّال کے بھی رکھے، وہ گویا صائم الدھر (یعنی ہمیشہ ر وزہ رکھنے والا) ہے۔

(مسلم، کتاب الصیام، حدیث 203)
اردو دائرہ معارف اسلامیہ (جلد 11) کا انگریز مقالہ نگار A.J. WENSINCK صفحہ نمبر 816 پر رقمطراز ہے: ”ان چھوٹے دنوں کو ”چھوٹے تہوار“ (العید الاصغر) میں شامل ہونے کی مقدس حیثیت حاصل ہے۔ شوال المکرم ہے۔ یعنی شوّال کا مہینہ قابل احترام ہے۔“ سرخیل علماء و عارفین حضرت عبدالقادر جیلانی رحمتہ اللہ علیہ نے اپنی شہرہ آفاق تصنیف ’غنیة الطالبین‘ میں اس مہینے کی بڑی فضیلت تحریر فرمائی ہے۔


حضرت ابو ایوب رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے روایت ہے کہ سرکار دوعالمﷺ نے فرمایا کہ جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھے اس کے بعد ماہ شوّال میں چھ نفلی روزے رکھے تو اس کا یہ عمل ہمیشہ روزہ رکھنے کے برابر ہوگا۔ (بحوالہ صحیح مسلم)۔ رسالہ فضائل الشہود میں لکھا ہے کہ ماہ شوّال میں نوافل پڑھنے کا بھی بہت ثواب ہے۔ نوافل کی ہر رکعت میں الحمد شریف کے بعد زیادہ سورة اخلاص اور سلام پھیرنے کے بعد زیادہ سے زیادہ درود شریف پڑھنے کا بے حساب ثواب ہے۔

اگر رمضان المبارک کے کوئی روزے خدانخواستہ رہ جائیں تو یہ روزے قضا ادا کرنے کے بعد ہی شوال کے چھ مسنون روزے رکھے جائیں۔ نبی کریم ﷺکا ارشاد ہے کہ شوّال کی پہلی رات فرشتے نازل ہوکر آواز دیتے ہیں کہ اے اللہ تعالیٰ کے بندو! تمہیں خوشخبری ہوکہ اللہ تعالیٰ نے تمہیں اس لیے بخش دیا کہ تم نے رمضان کے روزے رکھے۔
جب رمضان ختم ہوتا اور یکم شوال ہوتا تو روز عید نبی اکرم ﷺ غسل فرماتے اور صاف اور اجلا لباس زیب تن فرماتے۔

روز عیدالفطر عیدگاہ روانگی سے قبل چند کھجوریں تناول فرماتے، جن کی تعداد طاق ہوتی۔ آپ عیدگاہ تک پیدل تشریف لے جاتے۔ عیدگاہ جس راستے سے تشریف لے جاتے واپسی پر راستہ تبدیل فرماتے۔ عیدوں پر کثرت سے تکبیروں کا حکم فرماتے۔ راستے میں چلتے وقت آہستہ تکبیر فرماتے۔ حضور اکرم ﷺ مسجد نبوی کے باہر میدان میں تشریف لے آتے جو عید گاہ تھی۔ نبی اکرم ﷺ نماز عیدالفطر سے قبل فطرانہ کی رقم ادا کرنے کا حکم صادر فرماتے​
 

Doctor

 
Team Leader
Most Popular
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
909
Likes
1,355
Points
467
Location
Rawalpindi
#3
سبحان اللہ
جزاک اللہ خیراً کثیرا
ہمارے ساتھ اشتراک کرنے کا بے حد شکریہ​
 

UrduLover

 
ITD Star
Top Poster
Dynamic Brigade
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,250
Likes
762
Points
242
Location
Manchester U.K
#4

شوال کے چھ روزے: فضائل ومسائل
مفتی محمد صادق حسین قاسمی

رمضان المبارک کے مہینہ کے بعدشوال کا مہینہ آتا ہے ،رمضان میں ایک مہینہ تک مسلسل روزوں کا اہتما م کیا جاتا ہے،اور چوں کہ رمضان کے روزے فرض ہیں اس لئے ہر کوئی ہر ممکن رکھنے کی پوری کوشش بھی کرتا ہے ۔رمضان کے گزرنے کے بعد شوال کے مہینہ میں چھ نفل روزے رکھے جاتے ہیں ،جن کو ’’ ستۂ شوال ‘‘ کہاجاتا ہے ،یعنی شوال کے چھ روزے ۔عام طور پر ہمارے پاس رمضان المبارک کا جو نظام الاوقات چھپتا ہے اس میں بڑے اہتمام کے ساتھ اس کے بھی سحر و افطار کے اوقات درج ہوتے ہیں ،اور اللہ کے کچھ بندے ان چھ روزوں کے رکھنے کا اہتمام بھی کرتے ہیں ۔تو آئیے مختصراً ان روزوں کی حقیقت ،فضیلت او ر ان سے متعلق ضروری مسائل جانتے ہیں ،تاکہ ہمیں ان روزوں کی حقیقت اور حیثیت معلوم ہوجائے۔
چھ روزوں کی فضیلت:
شوال کے مہینہ میں رکھے جانے والے ان روزوں کی فضیلت میں مختلف حدیثیں وارد ہوئی ہیں ،جن میں سے ایک یہ ہے کہ نبی کریم ﷺ نے فرمایا:مَنْ صَاْمَ رَمَضَانَ ثُمَّ اَتْبَعَہ‘سِتّاًمِنْ شَوَّالٍ کَاْنَ کَصِیَامِ الدَّھْرِ۔( مسلم : حدیث نمبر؛689)یعنی جس نے رمضان کے روزے رکھے اور اس کے بعد چھ روزے شوال کے رکھے تو گویا اس نے ساری عمر روزے رکھے۔حضرت ابو ایوب انصاریؓ سے مروی ایک حدیث یہ ہے :مَنْ صَاْمَ رَمَضَاْنَ،وَسِتّاًمِنْ شَوَّالٍ،فَکَاَنَّمَاْصَاْمََ السَّنَۃَ کُلَّھَا ۔( مسند احمد: حدیث نمبر؛14014)یعنی آپ ﷺ نے فرمایا : جس نے رمضان کے روزے رکھے اور شوال کے چھ روزے رکھے ، تو گویا اس نے پورے سال کے روزے رکھے۔حضرت ثوبانؓ نے نبی کریم ﷺ سے یہ روایت نقل کی ہے کہ:صِیَامُ شَھْرِ رَمَضَانَ بِعَشْرَۃِاَشْھُرٍوَصِیَامُ سِتَّۃِ اَیَّامٍ ِ بشَھْرَیْنِ،فَذٰلِکَ صِیَامُ سَنَۃٍ ۔( السنن الکبری للنسائی:حدیث نمبر؛2816)یعنی رمضان کے مہینہ کے روزے دس مہینوں کے برابر ہیں اور شوال کے چھ روزے دو مہینوں کے برابر ہیں ،پس یہ پورے سال کے روزوں کے برابر ہیں۔ان احادیث کے علاوہ بھی اور حدیثیں ان چھ روزوں کی فضیلت کے بارے میں نبی کریم ﷺ سے منقو ل ہیں۔
چھ روزں کی خصوصیت:
احادیث میں خود نبی کریم ﷺ سے یہ منقول ہے کہ رمضان المبارک کے تیس روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا گویا پورا سال روزے رکھنے کے برابر ہو گا اور سال بھر روزے رکھنے کا اجر وثواب ملے گا۔علامہ شبیر احمد عثمانی ؒ مسلم کی شرح ’’فتح المہلم ‘‘میں حدیث کی تشریح میں لکھتے ہیں:وَاِنَّمَاکَانَ ذٰلِکَ کَصِیَامِ الدَّھْرِ،ِ لاَنَّ الْحَسَنَۃَ بِعَشْرَ اَمْثَالِہَا،فَرَمَضَان بِعَشْرَۃِ اَشْھُرٍ وَالِستَّۃُ بِشَھْرَیْنِ ۔( فتح الملھم : 6/258،دار الضیا ء کویت)ان روزوں کی وجہ سے عمر بھر روزے رکھنے کی طرح ہوگیا ،اس لئے کہ ہر نیکی کا اجر دس گناہ ہے ، پس رمضان کے تیس روزے دس مہینے ( یعنی تین سو دن )کے برابر ہوگئے ،اور چھ روزے دو مہینے ( یعنی ساٹھ دن ) کے برابر ہوگئے اس طرح پورا سال روزے رکھنے کا ثواب ملے گا۔حکیم الاسلام قاری محمد طیب ؒ بھی اس کی اسی حکمت کو بیان کرتے ہوئے فرماتے ہیں :ماہِ رمضان کے دنوں کو دیکھئے تو ان میں 30 روزے رکھے گئے ہیں اور شریعت کی بخششیں بے کراں نے ایک نیکی کو دس نیکی کے برابر شمار کیا ہے من جاء بالحسنۃ فلہ عشر امثالہا ۔ اس اصول پر یہ 30 روزے 300 ہوجاتے ہیں،اور ادھر عید کے بعد شش عید جو بطور تتمہ و توابع رمضان کے ساتھ لاحق کئے گئے ( گو بوجہ تسہیل و رحمت انہیں اختیاری رکھا گیا ،اور جزو رمضان نہیں بنایا گیا) اصولِ مذکورہ پر 60 ہوجاتے ہیں تو رمضان کے اصل اور ملحقہ روزوں کا مجموعہ بھی وہی 360 ہوجاتا ہے جو سال کے دنوں کی تعداد ہے ،اور اس کا حاصل بھی وہی نکلا کہ رمضان کے یہ انعامی 360 روزے سال بھر کے پورے 360 دنوں کے مساوی ہیں اور رمضان کے یہ اصل اور توابع روزے پورے کردینے والا سال کے تمام روزے رکھنے والا بن کر ’’صائم الدھر‘‘ بن جاتا ہے ۔( خطبات حکیم الاسلام:9/108)
چھ روزوں کے مسائل:
*شوال کے یہ روزے لگاتار رکھنا ، یا عید کے اگلے دن سے فوراً رکھنا ضروری نہیں بلکہ شوال کے مہینے میں عید کا دن چھوڑ کر جب اور جس طرح سے چاہیں رکھ سکتے ہیں ،بس اس بات کا اہتمام ضروری ہے کہ ان چھ روزوں کی تعداد شوال کے مہینے میں مکمل ہوجانی چاہیے ۔( شوال و عید الفطر : فضائل واحکام:418)
*رمضان کے روزے فرض ہیں ،شوال کے چھ روزے نفل ہیں ،لہذا شوال کے چھ روزوں میں رمضان کے روزوں کی قضا کی نیت کرنادرست نہیں ،اس طرح رمضان کا روزہ صحیح نہیں ہوگا۔( روزے کے مسائل کا انسائیکلو پیڈیا:131)
*شوال کے روزے جائز اور مستحب ہیں ،نہ فرض ہیں اور نہ واجب ، اس لئے یہ سمجھنا کہ رمضان کے روزوں کا اجر ان روزوں پر موقوف رہتا ہے ،درست نہیں ہے۔( کتاب الفتاوی :3/442)
*عید کے فوراً بعد رکھنا ضروری نہیں ہے لیکن اگر عید کے بعد سے لگاتا رہے تو یہ افضل ہے۔( الفقہ الاسلامی وادلتہ :2/589)
*بعض لوگ عید الفطر گزرنے کے بعد شوال کی آٹھ تاریخ کو ایک اور عید مناتے ہیں ،جب کہ بعض لوگ شوال کے چھ روزوں سے فارغ ہو کر یہ عید مناتے ہیں اور بعض لوگ اس عید کو ’’ عیدِ ابرار‘‘ کانام دیتے ہیں،اس کا شریعت میں کوئی ثبوت نہیں اور اس کو عید قراردینا شرعاً غلط ہے ۔( شوال و عید الفطر کے فضائل واحکام:422)
آخری بات:
شوال کے چھ روزوں سے متعلق یہ چند اہم اور ضروری باتیں پیش کی گئیں ،شوال کے چھ روزے نفل ہیں لہذا اگر رکھیں تو اجر وثواب حاصل ہوگا ،لیکن اگر کوئی نہ رکھے تواس کو برُا بھی سمجھنا چاہیے ،اور بطور خاص چھ روزے ہونے کے بعد جو عید کا تصور ہے اس کو ختم کرنا چاہیے،ہمارا ہر عمل نبی کریم ﷺ کی تعلیمات اور آپ ﷺ کی ہدایات کے مطابق ہونا چاہیے ،نہ اپنی طرف سے کسی قسم کی کمی ہو اور نہ ہی زیادتی تو پھر ہر چھوٹا عمل بھی اپنے اثرات وبرکات ظاہر کرے گا۔​
 
Top