آئی ٹی درسگاہ : دکھ سکھ کے سانجھی

UrduLover

 
ITD Star
Top Poster
Dynamic Brigade
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,478
Likes
1,070
Points
267
Location
Manchester U.K
#1
السلام علیکم آئی ٹی درسگاہ : ارکان کے لیے تہنیتی اور دعائیہ پیغامات
اللٰہ تعالٰی سے دعا ہے کہ ہمارا فورم یونہی ترقی کرتا رہے۔

کچھ شعر اردو درسگاہ کے ممبران کی نذر

پھول کے بعد نئے پھول کھلیں
کبھی خالی نہ ہو دامن تیرا
روشنی روشنی تیری راہیں
چاندنی چاندنی آنگن تیرا
***

کاش کہ بلند تیری شان ھوجائے
پورا میرے دل کا بھی ارمان ھوجائے
دکھ تیرے دامن کو کبھی نہ چھو پائے
اور سدا کیلئے سکھ تیرا دربان ھوجائے
گردش میں ھو اگر تیری قسمت کا ستارا
تو آسمان خود پریشان ھوجائے
 
Last edited:

UrduLover

 
ITD Star
Top Poster
Dynamic Brigade
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,478
Likes
1,070
Points
267
Location
Manchester U.K
#2
السلام علیکم۔اس دھاگے پر پہلی ریپلائی میں خود ہی کر دیتا ہوں۔اللہ سے دعا ہے پاکسان میں الیکشن کسی خون خرابے اور کسی جان کے ضیاع بغیر کامیابی سے ہمکنار ہو کر عوام کو بہتر قیادت کرنے والے ملکی بھاگ ڈور سنبھالیں۔ایسے افراد کی حکومت بنے جو عوامی مشکلات کریں۔آمین
 

UrduLover

 
ITD Star
Top Poster
Dynamic Brigade
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,478
Likes
1,070
Points
267
Location
Manchester U.K
#3

دکھ اور سکھ کے رشتے !
ھندو ازم میں مرد اور عورت کی چادر باندھ کر آگ کے سات چکر لیتے ہیں یہ جتانے کے لئے کہ ان کے دکھ اور سکھ سانجھے ھو گئے ہیں اور مرد کے دکھ عورت نے اور عورت کے دکھ مرد نے لے لئے ہیں ،،
اسی طرح ایک جنگلی قبیلے میں شادی کے دن دولہا ایک چھتے پر ہاتھ رکھتا ھے اور چھتے کی ساری شھد کی مکھیاں اس کے ہاتھوں ،چہرے اور سینے پر پھیل جاتی ہیں ، پھر دلہن اپنے دونوں ہاتھ شوھر کے سینے پہ رکھتی ھے اور وہ مکھیاں اس کے پورے ہاتھ پر کہنیوں تک مہندی کی طرح پھیل جاتی ہیں ،، صرف یہ ثابت کرنے کے لئے اب مرد کے سارے مسائل میں عورت شریک ھو گئ ھے اور ان کے دکھ اور سکھ سانجھے ھو گئے ہیں ،،
اسلام میں نکاح کے وقت خطبہ نکاح دیا جاتا ھے جس میں میاں بیوی کو اللہ کا تقوی اختیار کرنے اور ایک دوسرے کے حقوق و فرائض سے آگاہ کیا گیا ھے ، اور مرد کو بتایا گیا ھے کہ اس نے ایک بہت بڑی امانت اپنے سر لی ھے جس کے حقوق کے بارے میں اس کو عنداللہ جوابدھی کرنی ھے ،، مگر افسوس کی بات یہ ھے کہ اس وقت اس قدر دھماچوکڑی ھوتی ھے کہ کسی کا دھیان اس طرف نہیں جاتا اور نہ ھی نکاح خوان اس وقت ان دونوں کو ان کی ذمہ داریوں سے آگاہ کرتا ھے ،،
 

UrduLover

 
ITD Star
Top Poster
Dynamic Brigade
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,478
Likes
1,070
Points
267
Location
Manchester U.K
#4
ماں کا دکھ
اپنے ذاتی مسائل سےاُلجھتے\0 معاشرے کے حالات پر کڑھتے اور سیاست کے تڑکے پر طنز کرتے ہوئے پکے گھروں میں رہنے والے دوسرے پاکستانیوں کی طرح ہم سب اپنے حال میں مست رہتے ہیں۔ دہشت گردی، حادثات اور ناگہانی آفات کی خبریں صرف خبریں ہی رہتی ہیں جب تک ہم ان کا حصہ نہیں بنتے۔ بظاہر ہر فورم پر کتنی ہی بےچینی کا اظہار کریں لیکن اندر سے مطمئن ہوتے ہیں۔ لاشعوری طور پر ہی کیوں نہ ہوں\0، ہمارے رشتےناطے، محبتیں نفرتیں ہمارے اپنے حصارکے اندر ہی پھلتی پھولتی ہیں۔ ہم سب دبے لفظوں ”سانوں کی“ کی گردان کرتے اپنے روز و شب بتاتے چلے جاتے ہیں۔ عورت ہو یا مرد اُن کی ”حساسیت“ اپنے مفاد کی چھاؤں میں ہی پروان چڑھتی ہے۔ اسی طرح ماؤں کے لیے اُن کے اپنے بچے، اُن کے دکھ، اُن کے سکھ ہی خاص ہوتے ہیں۔\n\nلیکن! مامتا کا جذبہ سانجھا ہے۔ ماں کا احساس ایک ماں سے بہتر کوئی نہیں جان سکتا۔ چاہے وہ تخلیق کا اولین کرب ہو یا جدائی کی گھڑی کے طویل تر ہونے کا احساس۔ وہ ماں جس کے بچے اس کے ساتھ، اس کے پاس رہتے ہیں، اس کی زندگی کا جواز، اور اس کے صبح و شام کا حساب ہوتے ہیں۔ صبح اگر ان کے کاموں سے شروع ہوتی ہے تو رات ان کو سلا کر آنکھیں موندتی ہے۔ وقت دبے پاؤں گزرتا ہے، بچے بڑے ہوجاتے ہیں، ماؤں کے قد سے بھی بڑے لیکن ماں کا دل کبھی بڑا نہیں ہوتا۔ پرندوں کی طرح اڑنا سکھانے کے بعد خوشی خوشی پرواز کی اجازت دینے تک بھی رات کے بڑھتے سائے اسے بچوں کی بخیریت گھر واپسی کا دھڑکا لگائے رکھتے ہیں۔ ایک ماں کے لیے دنیا کا سب سے بڑا سکون آور لمحہ رات کو اس کے بچوں کا اپنے اپنے بستروں پر موجود ہونا ہے۔ رات اگر رازداں ہے تو رات بہت ظالم اور بےحس بھی ہے کہ اس کی تاریکی انسان کو راہ سے بھٹکاتی ہے تو تنہائی راہ میں آنے والی رکاوٹوں اور اذیتوں سے نبٹنے کا حوصلہ بھی کھو دیتی ہے۔ جس طرح ہر دن کے بعد رات اور رات کے بعد دن طلوع ہوتا ہے، اسی طرح غم کے دن کے بعد آنے والی رات اس سے بڑھ کر سیاہ اور ناقابل برداشت ہوتی ہے۔ بےشک اللہ کسی نفس پراس کی طاقت سے بڑھ کر بوجھ نہیں ڈالتا۔ لیکن! آہ! وہ پہلی رات، وہ لمحہ اس کا تصور ہی بڑا کربناک ہے، جب ایک ماں دن کا آغاز بچے کو اٹھانے سے کرے اور رات کواپنے بچے کا بستر ہمیشہ کے لیے خالی پائے، اور اور اگر اس کا بےجان لاشہ گھر کے آنگن میں پل دو پل کا مہمان ہو تو یہ رات کٹ بھی جائے لیکن اس کا دل بھی اس کے ساتھ کٹ جاتا ہے۔\n\nآخری بات!\nبچے کی ہمیشہ کے لیے جدائی کے بعد آنے والی پہلی رات اگر ماں کے صبر و رضا کا اصل امتحان ہے تو مائیں بھی سدا بچوں کے ساتھ نہیں رہتیں۔ چاہے بچے کتنے ہی بڑے ہو جائیں، اور مائیں اپنا فرض اپنی ذمہ داری سے سبکدوش بھی ہو جائیں، لیکن ان کے جانے کے بعد آنے والی پہلی صبح کی خاموشی ایک عجیب سی تنہائی اندر اتار دیتی ہے۔ ایک خاموش چیخ جسے صرف اپنے کان ہی سن سکتے ہیں۔ بےوزنی کا احساس جیسے مرکز ثقل ختم ہو گیا ہو۔ ماں کی زندگی اگر بچے کے گرد گھومتی ہے توماں جانے کے بعد بچے کو دکھائی دیتی ہے۔ اس سمے صرف اُس کا اپنا کاندھا اُس کا رازدار ہوتا ہے یا پھر جو اس درد سے آشنا ہو۔\nاللہ اکبر​
 
Top