آئیں کہانی لکھیں

ناعمہ وقار

 
Super Star
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Messages
602
Likes
721
Points
337
Location
Islamabad
#1
السلام علیکم
امید ہے سب ہی خیریت سے ہونگے
آج ہم ایک نیا سلسلہ شروع کرنے جا رہے ہیں ، جیسا کہ عنوان سے ہی ظاہر ہے
ہوگا یہ کہ سب مل کر ایک کہانی لکھیں گے اور کوشش کریں کہ کہانی سے ہٹ کر کوئی پوسٹ نہ کریں،
تو شروعات میں کرتی ہوں ۔۔۔۔


صبح سے ہی صبیح بھائی بار بارآستانے پہ پڑا میلا کچیلا پردہ اٹھا کر گلی کے دونوں اطراف دیکھتے پھر واپس اندر آجاتے، ایسا تقریبا ہر دو منٹ بعد ہوتا، کچھ دیر تو کھجل سائیں برداشت کرتے رہے، لیکن آخر کار پوچھ ہی لیا : کیا ہوا ہے بالک ، تم مجھے کچھ پریشان دکھائی دیتے ہو، بار بار باہر کا رخ کرتے ہو، بتاؤ تاکہ تمہارا مسئلہ حل کیا جائے
ہوا دراصل یہ تھا کہ صبیح بھائی نے کچھ دنوں سے آستانے پر ہی ڈیرہ ڈال رکھا تھا، جواز تو یہ بنایا کہ وہ کھجل سائیں سے کوئی بہت ہی خاص قسم کا چلہ سیکھنے آئے ہیں، لیکن درپردہ وہ ایک خاص مشن پر تھے اور یہ مشن انہیں گل خان نے سونپا تھا۔۔۔۔۔۔۔

 
Last edited:

X 2

 
Super Star
Most Valuable
Dynamic Brigade
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
643
Likes
1,676
Points
592
#3
اور اب مصیبت یہ ہو چلی تھی کہ گل خان صبیح بھائی کو بلا کر خود کہیں غائب ہوگیا تھا
صبیح کو بیک وقت دو مشکلات تھیں، ایک تو گل خان غائب تھا اور دوسرا کھجل سائیں کو اس بارے میں کچھ نہ بتانے کا گل خان نے صبیح بھائی سے وعدہ لے لیا تھا

اب صبیح بھائی شش و پنج میں تھے کہ کیا کریں اور کیا نہ کریں۔

اسی اُدھیڑ بن میں اب وہ آستانے کے چھوٹے کمرے میں چکر پر چکر لگارہے تھے یکبارگی پلٹے تو ٹھٹک کر رہ گئے ۔ ۔ ۔ ۔

کھجل سائیں بالکل صبیح بھائی کے سامنے آکھڑا ہوا تھا اور خونی نظروں سے انہیں گھورے جارہا تھا

بالک تو میرا چیلا خاص ہے اور پھر بھی مجھ سے کچھ چھپا رہا ہے۔ ۔ ۔بتا کیا بات ہے؟ کھجل سائیں نے خونخوار لہجے میں پوچھا۔ ۔ ۔ ۔​
 

Doctor

 
Team Leader
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
1,593
Likes
1,960
Points
492
Location
Rawalpindi
#4
کھجل سائیں کا یہ خونخوار انداز دیکھ کر صبیح کی گھگی بندھ گئی۔ ۔ ۔:eek::eek::eek::eek:۔

وہ ۔ م م مم ۔ ۔ نہیں تو کچھ بھی نہیں ۔ ۔ ۔صبیح نے منمناتے ہوئے مرادار لہجے میں جان چھڑانے کی کوشش کی:sick::sick::sick:۔

"یاد رکھ بالک۔ ۔ ۔ میں نے کچھ سوچ کر ہی تجھے اپنا چیلہٰ خاص مقرر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ ۔ ۔تجھ میں وہ جراثیم بھانپ گیا تھا جو سلسلہٰ کھجلیہ کی روح ہوتے ہیں ۔ ۔ بالک تو جیسے لوگوں کو کھجل کرنے کی کوشش کرتا ہے ۔ ۔ ۔چاہے ناکام رہتا ہے ۔ ۔ ۔لیکن تیرا یہ انداز ہمیں پسند ہے ۔ ۔ ۔ اور ہم امید رکھتے ہیں کہ اگر تو اسی طرح لوگوں کو کھجل کرنے کی کوشش کرتا رہا تو ایک نہ ایک دن تو سلسلہٰ کھجلیہ کا نام ضرور روشن کرنے گا۔ ۔ " کھجل سائیں نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے خوابناک لہجے میں کہا۔:alien::alien::alien::devilish::devilish::devilish:۔

"جی جی سائیں میں آپ کے اعتماد پر پورا اترنے کی ہر ممکن کوشش کر رہا ہوں o_Oo_Oo_O آپ خود دیکھ لیں کہ فورم پر جس کے پیچھے پڑتا ہوں اسکی جان نہین چھوڑتا چاہے میری جگتوں اور مسخریوں میں لوگ جتنے بھی جھول نکال لیں جتنی بھی کمزوریاں تلاش کرلیں میں نہ مایوس ہوتا ہوں اور نہ شرمندہ" :oops::oops::oops::oops: صبیح نے پرجوش تقریر مکمل کرکے دو تین گہرے گہرے سانس لئے اور کھجل سائیں کی طرف اس فخریہ انداز میں دیکھا جیسے ابھی ابھی کے ٹو پہاڑ سے کیسیاں لیتا ہوا زمین پر پہنچا ہو۔
:pagal::pagal::pagal:

تو پھر مجھے ایسا کیوں محسوس ہورہا ہے کہ جیسے تو مجھ سے کچھ چھپا رہا ہے بچہ :devilish::devilish: تھجے کس کا انتظار ہے جو تو بار بار باہر تانک جھانک کر رہا ہے :alien::alien: اور میں نے یہ بھی نوٹ کیا ہے کہ کل کسی نے میرے چرس کے گودام میں گھسنے کی کوشش کی ہے :mad::mad: میں نے کچھ نادیدہ لاک لگا رکھے ہیں ان میں سے دو لاک ٹوٹے ہوئے ملے ہیں :mad::mad::mad::mad: کھجل سائیں کے لہجے میں آہستہ آہستہ غصہ نمایاں ہو رہا تھا۔

کھجل سائین کی یہ بات سن کر صبیح کے تو جیسے ہاتھوں پیروں سے جان ہی نکل گئی ۔ منہ ہی منہ میں بڑبڑایا " مروادیا تونے گل خان":sick::sick::sick::sick: ۔

اچانک کھجل سائیں نے صبیح کو کان سے پکڑا اور آسمان کی طرف بلند کرنا شروع کیا اور اتنا اوپر اٹھالیا کہ صبیح کے بمشکل پنجے زمین کو لگ رہے تھے :maro::maro::maro: "یاد رکھ بالک۔ ۔ ۔ اگر میرا دل تیری طرف سے صاف نہ ہوا تو میں تجھےدو مہینے کے لئے اپنے پیر بھائی اختر سائیں ملنگ چکی تائی کے حوالے کردوں گا اور وہاں تیرا جو حال ہوگا وہ تیری سوچ سے بھی باہر ہے۔ ۔ اختر سائیں پہلے ایک مہینے تجھے ڈڈو بناکر کسی گندے تالاب میں رکھے گا۔ اور اختر سائیں ملنگ چکی تائی کا مشہور زمانہ جھاڑو اچھے اچھوں کے دماغ کی مٹی جھاڑ دیتا ہے" کھجل سائیں نے خونخوار کہجے میں صبیح کو وارننگ دیتے ہوئے اسے زمیں پر پٹخ دیا۔ ۔ :hathora::hathora::hathora:۔

صبیح کے لئے یہ ڈوز بہت ثابت ہوئی کھجل سائیں کا یہ چند لمہوں کا قرب اور کھجل سائیں کے وجود سے اُٹھنے والے ناقابل برداشت بدبو صبیح کے رگ و پے میں سرائیت کرچکی تھی، اور وہ زمیں پر گرتے ہی دنیا و ما فیہا سے بے خبر بے ہوشی کی گہری کھائی میں گرتا چلا گیا۔
 

AM

 
Super Moderator
Expert
Teacher
Writer
Joined
May 6, 2018
Messages
122
Likes
254
Points
132
Location
Arifwala
#5
وعلیکم السلام
اچھا سلسلہ ہے۔۔ کل اس پر ایکسٹو کی پوسٹ سے آگے لکھ رہا تھا کہ کسی ضروری کام کی وجہ سے چھوڑنا پڑا۔۔ اب تو ڈاکٹر بھائی کی پوسٹ بھی آگئی ہے لہذٰا ڈاکٹر بھائی کی پوسٹ سے کہانی آگے بڑھاتے ہوئے۔۔


۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔

کھجل سائیں کا طلسم ٹوٹا خدا خدا کرکے وہ بھی تین سے چار دن بعد، صبیح بھائی جیسے ہی ہوش میں آئے آن کے ذہن میں وہی منظر پھر سے گھومنے لگا کہ کیسے کھجل سائیں نے انہیں کان سے پکڑ کر ہوا میں بلند کیا ہوا ہے،
مگر اس سے بھی زیادہ خوفناک اثر ملنگ چکی تائی والی دھمکی نے دکھایا،
وہ ابھی تک خود کو بند کمرے میں بستر پر لیٹے ہونے کی بجائے اسی منظر میں کھجل سائیں کے ساتھ محسوس کر رہے تھے۔۔۔
لہذٰا ایک دم سے راہِ فرار کی غرض سے انہوں نےباہر کی طرف دوڑ لگا دی۔۔
مگر یہ کیا؟؟؟ لاشعوری طور پر وہ آستانے کے صحن سے باہر کی طرف بھاگ رہے ہیں مگر درحقیقت وہ اپنے کمرے میں ہی دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے بستر سے اٹھ کر سامنے کی دیوار کی طرف دڑکی لگا رہے تھے۔۔۔
ان کی اس شدید ٹکر سے کمرے کی دیوار ٹوٹ چکی تھی۔۔۔اس طرح ٹکرانے سے انہیں پوری طرح سے ہوش تو آچکا تھا مگر وہ وحشیانہ کیفیت ابھی بھی ان پر طاری تھی
وہ جس طرف سے دیوار پھاڑ کر باہر نکلے تھے وہاں لوگوں کا ہجوم لگ چکا تھا۔۔ لوگ حیران تھے کہ کیسے صبیح بھائی نے ایک زوردار ٹکر سے دیوار پھاڑ ڈالی ہے۔۔ ان کے اس وحشیانہ انداز نے مجمعے کو بری طرح ہراساں کردیا تھا۔۔ ہر کوئی ان کی دہشت سے تھر تھر کانپنے لگا۔۔
کچھ ہی گھنٹوں میں صبیح بھائی پورے محلے میں "ٹکر پہلوان" کے نام سے مشہور ہوچکے تھے۔

@Doctor @ناعمہ وقار @Abu Dujana @X 2 @UrduLover @SILENT.WALKER @silentjan @Bail Gari @Derwaish @LAIQUE SHAH
 
Last edited:

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#7
ٹکرمارنے کے بعد صبیح نے کہا، وہ ایسی دنیا میں پہنچ جاتاہے جہاں پریاں ،ندیاں ،دودھ ،شہد کی نہریں بہتیں ہیں ،۔۔۔
ناعمہ سسٹر نے پوچھا،کیا وہاں آم بھی ہوتے ہیں؟

صبیح نے اثبات میں ہد ہد کی طرح سر کو ہلاتے ہوئے تفصیل بتائی۔۔۔آم کے درخت سے ایک آم سونے کا ، دوسرا آم چاندی کا اور تیسرا آم نارمل ہوتاہے،
:geek:
مجھے تربوز اچھے لگتے ہیں، اے ایم نے پوچھا:)۔۔۔
صبیح نے کہا۔۔۔۔تربوز بھی ہیں۔۔۔ تربوزوں کا سائز مٹکوں جتنا بڑا ہوتا ہے۔۔۔ لیکن جب انہیں توڑیں ان کے اندر سے سونے کے زیورات،لان، شنیل ،ریشم ۔مخمل،سوتی ملبوسات نکلتے ہیں:D۔۔۔

ناعمہ سسٹر :eek:حیرت میں ڈوب کر کہنی لگی ہمیں بھی وہاں لے جائیں۔۔۔۔۔جبکہ ڈاکٹر بھائی،ایکسٹواور اے ایم بھی صبیح کی زبانی حالات سن کر مچل اٹھے،ان کا تو چین اور سکون ہی ختم ہوگیا۔۔۔۔چاروں نے صبیح کی منت شروع کردی کہ انہیں بھی وہاں کی سیر کروائی جائے،اس کے عوض وہ بڑی سے بڑی قربانی دینے کو تیار ہیں۔۔۔
:poop:
صبیح نے کہا ،اگر سیر کرنی ہے تو اس کی بتائی ہوئی علی بابا دیوار سے ٹکراناہوگا،ایک بار ٹکرانے سے بغیر کسی درد اور تکلیف کے پار ہوجاؤ گے:pagal: ،پھر جادوئی دنیا میں پہنچ کر جتنا مرضی سونا،ملبوسات جیبوں میں بھر کر ساتھ لے آنا۔۔۔۔
:p
یہ جملہ اونٹ کی کمر پر تنکا ثابت ہوا،ان کی قوت برداشت جواب دے گئی۔۔۔۔ مچل کر کہنے لگے ۔۔۔ہمیں اسی وقت علی بابا دیوار کے پاس لے چلو۔۔:giggle:۔۔۔

انہوں نے صبیح کو اتنا پریشان کیاکہ بلاآخر وہ انہیں ساتھ لیے چل پڑا:alien:۔۔۔

چاروں کو دیوار سے بیس قدم دور کھڑا کرکے صبیح نے ہدایات دیں اور کہا،پوری طاقت سےبھاگ کر دیوار سے سر ٹکراؤ،پھرلالہ لئیق شاہ کی دودھ کی نہر کے پاس پہنچ کر میرا انتظار کرنا،۔
:pagal:
چنانچہ پہلے سے بے قرار ،بے صبروں نے صبیح کی بات مکمل بھی نہ ہونے دی کہ پوری قوت سے دوڑ لگادی:devilish:،۔۔۔دیوار کے قریب پہنچ کر انہوں نے سر آگے کردئیے ۔۔۔۔جیسے وہ لالہ لئیق شاہ کی نہر میں جا غوطہ لگائیں گے;):pagal:۔۔۔۔
یہ جا وہ جا۔۔۔۔

دیوار کے ساتھ چاروں کے سر انتہائی قوت سے ٹکرائے تو وہ گیند کی طرح اچھل کر چار قدم پیچھے زمین بوس ہوئے۔:poop::poop:۔۔ناعمہ سسٹر نے چلاتے ہوئے پوچھا۔۔۔اوئے۔۔۔مجھے کچھ دیکھائی نہیں دیتا،کیا لالہ لئیق شاہ کی نہر آگئی ہے؟۔:pagal:۔۔
ڈاکٹر بھائی نے رائے دی ۔۔۔لگتا ہے دودھ کالے رنگ کا ہے:D۔
اے ایم نےکہا ۔۔۔مجھے ایسے لگتاہے کہ یہاں رات ہے :D،۔۔۔
ایکسٹو !!مایوسی سے بولا،۔۔کاش ہم اپنے ساتھ ٹارچ بھی لاتے:oops::cautious:۔۔۔۔۔
اور پیناڈول بھی۔۔۔۔ناعمہ نے سر پکڑتے ہوئے بین کیا۔۔:pagal::pagal::pagal:۔۔

@LAIQUE SHAH @Ahsan376 @Doctor @Derwaish @UrduLover @Abu Dujana @Afzal339 @Syed Waqas @ناعمہ وقار @AM @Bail Gari @X 2 @SILENT.WALKER @UMAR ISLAM
 

AM

 
Super Moderator
Expert
Teacher
Writer
Joined
May 6, 2018
Messages
122
Likes
254
Points
132
Location
Arifwala
#9
چاروں افراد ٹکر پہلوان کی باتوں میں آکر اپنے "کُھنے کھلوا بیٹھے" تھے۔۔
سیکرٹ ایجنٹ ابودجانہ ایکسٹو کی جاسوسی میں وہاں چھپا ساری صورتحال دیکھ رہا تھا۔۔۔ ٹکر پہلوان نے جس دیوار میں سب کو ٹکریں مروائیں وہ دیوار دراصل سیکرٹ سروس کے ہیڈ کوارٹر کی عقبی دیوار تھی۔۔ ابودجانہ فوراً سمجھ گیا کہ ٹکر پہلوان نے کسی طور ایکسٹو کو یرغمال بنا کر سیکرٹ سروس کا ہیڈ کرواٹر تسخیر کرنے کی پلاننگ بنالی ہے۔۔
چنانچہ وہ اس اسکیم کے تحت ان سب کے قریب جا پہنچا اور انجان بن کر ٹکر پہلوان سے اس سارے واقعے کی وجہ دریافت کرنے لگا۔۔
ٹکر پہلوان نے شیخی بھگارتے ہوئے بڑے فخر سے ساری صورتحال سے ابودجانہ کو آگاہ کیا۔۔ جِس پر ابودجانہ فوری سمجھ گیا کہ ٹکر پہلوان کو قطعی علم نہیں کہ یہ دیوار سیکرٹ سروس کے ہیڈکوارٹر کی دیوار ہے۔۔۔ چنانچہ اس نے فوری نیا پتہ پھینکتے ہوئے کہا
"اے ٹکرِ اعظم پہلوان! تو کیونکر ان معصوموں کی بابا اختر سائیں ملنگ چکی تائی کے آستانے پر ٹکریں مروا رہے جبکہ اس وقت وہ اپنے آستانے میں موجود بھی نہیں ہے۔۔ کیا تو اختر سائیں کے آستانے کی اینٹ سے اینٹ بجانا چاہتا ہے؟"

اختر سائیں کا سن کر ٹکر پہلوان کو کھجل سائیں کے وہی کلمات یاد آگئے جو اس نے اسے کان سے پکڑ کر ہوا میں اٹھا کر ادا کیے تھے۔۔ ٹکر پہلوان کی آنکھوں میں خون اترنے لگا۔۔۔ وہ نا صرف کھجل سائیں کو قلع قمع کرنا چاہتا تھا بلکہ اپنے سر پر منڈلانے والے اخترسائیں ملنگ چکی تائی کے خطرے کو بھی ہمیشہ کے لیے ختم کرنا چاہتا تھا۔۔۔ اس پر جنونی کیفیت سوار ہوگئی۔۔
کمرے کی کچی دیوار پھاڑنے کے بعد لوگوں کی جئے جئے سن کر اور ان کے خوف و ہراس نے ٹکر پہلوان کو شدید طاقت کے زعم میں مبتلا کردیا تھا۔۔
وہ اختر سائیں کا آستانہ غرق کرنے کا جنون سر پر سوار کرکے دیوار کا نشانہ لیتا ہوا مست بھینسے کے انداز میں تیس فٹ پیچھے ہٹا، دونوں ہاتھ باری باری سینے پر مارے اور پھر ایک ساتھ دونوں ہاتھ سر پر مارتے ہوئے پھر سے دو سو کلومیٹر فی گھنٹہ کی رفتار سے دیوار کی جانب دوڑ لگا دی۔۔
۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ سلو موشن۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
ابودجانہ نے ہاتھ پر پہنی گھڑی کا کوئی بٹن پریس کیا۔۔۔ (یہ بٹن شاید ہیڈکوارٹر میں ایمرجنسی نافذ کرنے لیے تھا، اس سے نا صرف فوری ہیڈکوارٹر سیل ہوجاتا بلکہ دیواروں میں شدید برقی لہریں دوڑنا شروع ہوجاتیں)
ٹکر پہلوان کا ایک پاؤں زمین سے ایک من مٹی اڑاتا ہوا بلند ہوا، تھوڑی پر پسینے کا قطرہ نیچے گرنے کو آیا، ناعمہ وقار کی آنکھیں حیرت و خوف سے پھٹنے کو آن پہنچی،
ایکسٹو جو صورتحال کو بھانپ چکا تھا ٹکر پہلوان کو بچانے کی غرض سے ہوا میں اچھلا، اے ایم سہم کر پیچھے کی طرف بھاگا اور ڈاکٹر بھائی نے اپنا پنجہ ہوا میں لہراتے ہوئے ٹکر پہلوان کو اس اقدام سے روکنے کی کوشش کی مگر ٹکر پہلوان کی رفتار کے آگے کسی کی کچھ نا چکی سکی۔۔۔ فضا لرزناک دھماکے کی آواز سے گونج اٹھی ۔۔۔ بندوق سے نکلی گولی مانند وہ پوری رفتار کے ساتھ اختر سائیں کے آستانے کی عقبی دیوار مین جا ٹکرایاتھا۔۔
افسوس وہ بھول چکا تھا کہ پہلے جِس دیوار کو پھاڑا وہ کچی دیوار تھی۔۔جبکہ ہیڈکوارٹر ریڈبلاکس کے ساتھ تعمیر کیا گیا تھا۔۔
:pagal::pagal::pagal:
 

ناعمہ وقار

 
Super Star
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Messages
602
Likes
721
Points
337
Location
Islamabad
#11
:pagal::pagal::pagal::pagal::pagal::pagal:
ٹکر پہلوان اس آہنی ٹکر کے بعد اپنے حواسوں میں نہ رہے، کچھ اثر اس ٹکر کا تھا اور رہی سہی کسر ان برقی لہروں نے پوری کردی جو سیکرٹ ایجینٹ ابودجانہ بھائی نے ایکٹو کی تھیں

ادھر دوسری طرف گل خان بھیس بدل کر،اس تمام واقعے سے بے خبر، منصوبے کے مطابق کھجل سائیں کے آستانے پہ جا پہنچا ، جہاں مریدین کی ایک بڑی تعداد جمع تھی، اور سب کھجل سائیں کے گرد دائرے کی شکل میں بیٹھے تھے، یہ صورتحال گل خان کے لیئے قدرے غیر متوقع تھی، بہرحال حالات کا جائزہ لینے کے لیئے گل خان بھی دو مریدوں کو دائیں بائیں دھکا دیتے ہوے وہاں بیٹھ گیا
کھجل سائیں نے ایک نظر مجمع پہ ڈال کر سر جھکا لیا اور بہت ہی دھیمی آواز میں کہا ، بالکوں مجھے یہ بات کہتے بہت ہی شرم محسوس ہو رہی ہے کہ میں نے اپنے جس مرید کو بہت ہی خاص مقام دیا، جسے اپنا جانشین مقرر کرنا چاہتا تھا، اسی نے ہمیں نہ صرف نقصان پہنچانے کی کوشش کی، بلکہ ہمارے اعتبار کو ٹھیس بھی پہنچائی
بالکوں کیا تمہیں معلوم ہےکہ صبیح ہمارے چرس کے گودام کو نہ صرف خالی کر گیا ہے بلکہ جاتے جاتے ہمارا پانچ سوراخوں والا بنیان اور دھوتی بھی لے اڑا ہے
اب تک ہم جس واقعے کو حادثہ سمجھ رہے تھے وہ صرف ہمیں گمراہ کرنے کی سازش تھی
میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ فوری طور پر اس نالائق کی تلاش میں نکلو اور اس سے میری دھوتی اور بنیان ریکور کرواؤ،
یہ تمام بات سن کر گل خان میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی، اور مجمع سے بےپرواہ ہو کہ بولا۔۔۔ام تم کو نہیں چھوڑے گا صبیح بابا، تم نے گل خان کو دھوکہ دیا ہےاب تم ہماری نسواری پھونک سے نہیں بچ سکتے
 

UrduLover

 
Super Star
Dynamic Brigade
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,555
Likes
1,115
Points
287
Location
Manchester U.K
#12
:pagal::pagal::pagal::pagal::pagal::pagal:
ٹکر پہلوان اس آہنی ٹکر کے بعد اپنے حواسوں میں نہ رہے، کچھ اثر اس ٹکر کا تھا اور رہی سہی کسر ان برقی لہروں نے پوری کردی جو سیکرٹ ایجینٹ ابودجانہ بھائی نے ایکٹو کی تھیں

ادھر دوسری طرف گل خان بھیس بدل کر،اس تمام واقعے سے بے خبر، منصوبے کے مطابق کھجل سائیں کے آستانے پہ جا پہنچا ، جہاں مریدین کی ایک بڑی تعداد جمع تھی، اور سب کھجل سائیں کے گرد دائرے کی شکل میں بیٹھے تھے، یہ صورتحال گل خان کے لیئے قدرے غیر متوقع تھی، بہرحال حالات کا جائزہ لینے کے لیئے گل خان بھی دو مریدوں کو دائیں بائیں دھکا دیتے ہوے وہاں بیٹھ گیا
کھجل سائیں نے ایک نظر مجمع پہ ڈال کر سر جھکا لیا اور بہت ہی دھیمی آواز میں کہا ، بالکوں مجھے یہ بات کہتے بہت ہی شرم محسوس ہو رہی ہے کہ میں نے اپنے جس مرید کو بہت ہی خاص مقام دیا، جسے اپنا جانشین مقرر کرنا چاہتا تھا، اسی نے ہمیں نہ صرف نقصان پہنچانے کی کوشش کی، بلکہ ہمارے اعتبار کو ٹھیس بھی پہنچائی
بالکوں کیا تمہیں معلوم ہےکہ صبیح ہمارے چرس کے گودام کو نہ صرف خالی کر گیا ہے بلکہ جاتے جاتے ہمارا پانچ سوراخوں والا بنیان اور دھوتی بھی لے اڑا ہے
اب تک ہم جس واقعے کو حادثہ سمجھ رہے تھے وہ صرف ہمیں گمراہ کرنے کی سازش تھی
میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ فوری طور پر اس نالائق کی تلاش میں نکلو اور اس سے میری دھوتی اور بنیان ریکور کرواؤ،
یہ تمام بات سن کر گل خان میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی، اور مجمع سے بےپرواہ ہو کہ بولا۔۔۔ام تم کو نہیں چھوڑے گا صبیح بابا، تم نے گل خان کو دھوکہ دیا ہےاب تم ہماری نسواری پھونک سے نہیں بچ سکتے
:rolleyes:ناعمہ وقار کی کہانی میں نسوار کا ذکر:rolleyes:
 

UrduLover

 
Super Star
Dynamic Brigade
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,555
Likes
1,115
Points
287
Location
Manchester U.K
#14
انکل کہانی ناعمہ وقار کی نہیں کھجل سائیں اور گل خان کی ہے اور گل خان کو گل خان بنانے میں اسی نسوار کا عمل دخل ہے
:pagal:
کردار کھجل سایئں اور رایئٹر ناعمہ وقار مجھے رضیہ بٹ کی کہانیاں یاد آگیئں۔
 

AM

 
Super Moderator
Expert
Teacher
Writer
Joined
May 6, 2018
Messages
122
Likes
254
Points
132
Location
Arifwala
#15
:pagal::pagal::pagal::pagal::pagal::pagal:
ٹکر پہلوان اس آہنی ٹکر کے بعد اپنے حواسوں میں نہ رہے، کچھ اثر اس ٹکر کا تھا اور رہی سہی کسر ان برقی لہروں نے پوری کردی جو سیکرٹ ایجینٹ ابودجانہ بھائی نے ایکٹو کی تھیں

ادھر دوسری طرف گل خان بھیس بدل کر،اس تمام واقعے سے بے خبر، منصوبے کے مطابق کھجل سائیں کے آستانے پہ جا پہنچا ، جہاں مریدین کی ایک بڑی تعداد جمع تھی، اور سب کھجل سائیں کے گرد دائرے کی شکل میں بیٹھے تھے، یہ صورتحال گل خان کے لیئے قدرے غیر متوقع تھی، بہرحال حالات کا جائزہ لینے کے لیئے گل خان بھی دو مریدوں کو دائیں بائیں دھکا دیتے ہوے وہاں بیٹھ گیا
کھجل سائیں نے ایک نظر مجمع پہ ڈال کر سر جھکا لیا اور بہت ہی دھیمی آواز میں کہا ، بالکوں مجھے یہ بات کہتے بہت ہی شرم محسوس ہو رہی ہے کہ میں نے اپنے جس مرید کو بہت ہی خاص مقام دیا، جسے اپنا جانشین مقرر کرنا چاہتا تھا، اسی نے ہمیں نہ صرف نقصان پہنچانے کی کوشش کی، بلکہ ہمارے اعتبار کو ٹھیس بھی پہنچائی
بالکوں کیا تمہیں معلوم ہےکہ صبیح ہمارے چرس کے گودام کو نہ صرف خالی کر گیا ہے بلکہ جاتے جاتے ہمارا پانچ سوراخوں والا بنیان اور دھوتی بھی لے اڑا ہے
اب تک ہم جس واقعے کو حادثہ سمجھ رہے تھے وہ صرف ہمیں گمراہ کرنے کی سازش تھی
میں تمہیں حکم دیتا ہوں کہ فوری طور پر اس نالائق کی تلاش میں نکلو اور اس سے میری دھوتی اور بنیان ریکور کرواؤ،
یہ تمام بات سن کر گل خان میں شدید غصے کی لہر دوڑ گئی، اور مجمع سے بےپرواہ ہو کہ بولا۔۔۔ام تم کو نہیں چھوڑے گا صبیح بابا، تم نے گل خان کو دھوکہ دیا ہےاب تم ہماری نسواری پھونک سے نہیں بچ سکتے
کھجل سائیں کے بجھے ہوئے انداز اور گل خان کا جوش و جذبہ دیکھ کر مجمعے میں عجیب سراسیمگی سی پھیل گئی۔۔
مریدنی خاص ناعمہ وقار جو پردے کے دوسری جانب خواتین میں موجود ہمہ تن گوش ہو کر تمام تر گفت و شنید سن رہی تھی، کھجل سائیں اور گُل خان کا ٹکر پہلوان پر شک کرنا اور اسے موردِ الزام ٹھہرانا دیکھ کر من ہی من قہقہے لگانے گی۔۔۔
کھجل سائیں جیسا زمانہ شناس شخص بھی اپنی آستین کی سانپ کو نہیں پہچان سکا تھا اور گُل خان کا گیان آدھا کلو نسوار کھانے کے باوجود اس حقیقت سے بے خبر تھا کہ چرس کی چوری کے پیچھے اس کے دست رات ٹکر پہلوان کا نہیں بلکہ ناعمہ کا ہاتھ تھا
 
Last edited:

X 2

 
Super Star
Most Valuable
Dynamic Brigade
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
643
Likes
1,676
Points
592
#16
ناعمہ دل ہی دل میں بہت خوش تھی۔ انہوں نے ایک تیر میں تین شکار کرنے کا ناقابل یقین کام سر انجام دیا تھا۔

سب سے پہلے تو صبیح کو اپنی باتوں میں الجھا کر اس بات پر آمادہ کیا کہ کھجل سائیں کی چرس کے گودام میں گھسنے کی کوشش کرے اور وہاں سے چرس کے کچھ سامپل باہر نکالے ۔

دوسرا یہ کام کیا کہ صبیح کے سامنے ایک فرضی کہانی رکھی کی کہ یہ ساری چرس گل خان خریدنے میں دلچسپی رکھتا ہے اور وہ بہت جلد کھجل سائیں کے آستانے کے قریب کسی جگہ ملاقات کرکے ساری ڈیل کی ایڈوانس رقم اداء کرے گا نیز اس ساری ڈیل کا منافع ناعمہ اور صبیح میں آدھا آدھا تقسیم ہوگا۔

جبکہ درپردہ ناعمہ نے اصل ڈیل اختر سائیں ملنگ چکی تائی سے کر رکھی تھی جو کہ تھا تو کھجل سائیں کا پیر بھائی مگر جیسا کہ ہر پروفیشن میں جیلسی ہوتی ہے تو یہاں بھی اختر سائیں ، کھجل سائیں سے در پردہ بغض رکھتا تھا کیونکہ کھجل سائیں کا آستانہ ہر وقت مریدین سے بھر رہاتھا تھا اور اختر سائیں کے آستانے میں کبھی کبھار ہی ایسا موقع آتا تھا کہ لوگوں کی قابل ذکر تعداد جمع ہوئی ہو۔ اس لئے بھی اختر سائیں کھجل سائیں کو نیچا دکھانے کی فکر میں رہتا تھا، اختر سائیں نے دو تین بار کھجل کے خاص چیلے صبیح کو ورغلانے کی کوشش کی لیکن صبیح ہمیشہ کھجل کے خوف کی وجہ سے اختر سائیں سے معاملہ کرنے سے کتراتا تھا۔

اس بار اختر سائیں کے ہاتھ ایک نادر موقع آیا تھا کہ چرس کا ایک بڑا اختر سائیں کے ہاتھ لگنے والا تھا اور اختر سائیں اس سنہری موقع کو ہاتھ سے گنوانا نہیں چاہتا تھا۔ کیونکہ جعلی پیروں کے آستانے عقیدت نہیں بلکہ بھنگ اور چرس کی برکتوں سے پھلتے پھولتے ہیں اختر سائیں اس معاملے میں خالی ہاتھ تھا جبکہ کھجل سائیں کے چرس کے نامی گرامی ڈیلرز سے رابطے تھے اور ایک کامیاب بزنس مین کی طرح کھجل سائیں نہ صرف خود بروقت مال حاصل کرلیتا تھا بلکہ اردگرد کے لوگوں کو ایسی کسی بھی چیز کے حصول میں کامیاب نہیں ہونے دیتا تھا۔

کھجل سائیں کے آستانے کی وومن ونگ کی چیئر پرسن ناعمہ وقار اس بات پر راضی ہوچلی تھی تھی کہ اختر سائیں کو چرس کی ایک بڑی ڈیل فروخت کرے اور اس کے لئے اندرون خانہ ناعمہ نے یہ پلان بنایا تھا کہ بجائے چرس خریدنے کے مشکل کام میں پڑنے کے، کھجل سائیں کے چرس کے اسٹاک پر شب خون مارا جائے اور اس طرح علاقے میں چرس کی بادشاہی کھجل سائیں کے ہاتھوں سے نکل کراختر سائیں ملنگ چکی تائی کے پاس آجائے گی۔

ناعمہ نے جو پلان بنایا تھا وہ اب تک کامیابی سے اپنے مراحل طے کر رہا تھا، اختر سائیں کو چرس کے سامپلز فراہم کردئے گئے تھے جو اختر سائیں کو بے حد پسند آئے تھے اور اختر سائیں نے فوری طور پر ایڈوانس کی مد میں دس لاکھ روپے کیش ناعمہ کے حوالے کر دیئے تھے کیونکہ کھجل سائیں کے گودام میں پڑی چرس انٹرنیشنل مارکیٹ کے حساب سے قریب قریب تیس لاکھ سے زیادہ مالیت کی تھی۔

اب ناعمہ سوچ رہی تھی کہ سارا مال کھجل سائیں کے گودام سے کب اور کسطرح نکالا جائے ۔ دو تین دن اسی ادھیڑ بن میں رہنے کے بعد ایک دن اچانک ناعمہ کو ایک بہترین ترکیب ذہن میں ائی۔ جس میں ناکامی کا امکان نہ ہونے کے برابر تھا۔ ناعمہ کی خوشی کا کوئی عالم نہ رہا تھا ناعمہ کو یوں محسوس ہورہا تھا کہ آسمان سے چرس کے ٹکڑے اس پر برس رہے ہیں اور پوری فضاء چرس کی بدبو سے مہک رہی ہے اور پھر اچانک ناعمہ نے محسوس کیا کہ اس کے پر نکل آئے ہیں اور وہ کسی پری کی طرح فضاؤں میں اڑتی پھر رہی ہے۔​
 

UrduLover

 
Super Star
Dynamic Brigade
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,555
Likes
1,115
Points
287
Location
Manchester U.K
#18
اچانک ناعمہ نے محسوس کیا کہ اس کے پر نکل آئے ہیں اور وہ کسی پری کی طرح فضاؤں میں اڑتی پھر رہی ہے۔
خواب میں اڑنا کی تعبیر خیالی پلاو ہوتا ہے اور عملی طور پر کچھ نہ کرنا۔لیکن کردار تو بہت مظبوط سا ہے،عملی زنگدگی اور خواب میں بھی کھلا تضاد​
 

Abu Dujana

 
Advisor
Designer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
464
Likes
490
Points
182
Location
Karachi, Pakistan
#19
,
ٹکر پہلوان اس آہنی ٹکر کے بعد اپنے حواسوں میں نہ
رہے، کچھ اثر اس ٹکر کا تھا اور رہی سہی کسر ان برقی لہروں نے پوری کردی جو سیکرٹ ایجینٹ ابودجانہ بھائی نے ایکٹو کی تھیں


اس تسلسل میں مزید کہانی پڑھیئے
:)

جب ٹکر پہلوان باباجی کا سر چکرایا تو بیہوش ہو گئے.
انہیں الکمونیا کے اسپتال پہنچایا گیا

کچھ دیر بعد ہوش آیا تو انہوں نے دماغ پر زور دیا کہ میرے ساتھ ہوا کیا تھا. خیال آیا کہ میں نے آستانہ کھجلیہ میں خانہ خدا میں مرنے کی دعا کی تھی شاید وہ قبول ہو گئی ہے.
آس پاس نظر دوڑائی. صاف ستھرا اسپتال، سفید براق بستر اور اس پر سفید چادریں.
اتنی صفائی کھجل سائیں کے آ ستانے میں کہاں دیکھی تھی.
سمجھا مر چکا ہوں اور اب جنت میں ہوں.
جلدی سے بستر سے اترے اور اپنے محل کی وسعت کا اندازہ لگانے کمرے سے باہر نکلے.
سامنے نازک اندام نرس سفید یونیفارم میں اپنے کام میں مگن تھی.
ٹکر پہلوان تو اس زوردار ٹکر سے پچھلی دنیا بھول چکے اور الکمونیا کی عجیب وغریب دل کو موہ لینے والی دنیا کو جنت تسلیم کرچکے تھے۔
اتنے میں
، کسی گڑیا کی مانند نازک اندام نرس کو جنت کی حور سمجھنا فطری بات تھی
ٹکر پہلوان باباجی فرطِ جذبات سے مغلوب ہو کر پکار اٹھے.
ماشاءاللہ!!! حور العین!!! حور العین!!! حور العین!!!۔۔

اسپتال میں کھلبلی مچ گئی.

آس پاس جتنی بھی نرسیں تھیں. سب بابا جی کو کنٹرول کرنے کے لیے دوڑی چلی آئیں. خیال تھا کہ
برقی لہروں اور آہنی ٹکر سے باباجی سٹھیا گئے ہیں لیکن بابا جی تو کسی اور دنیا میں تھے. سمجھے ستر کی ستر حوروں نے ایک ساتھ ہی ہلہ بول دیا ہے.
:pagal::pagal::pagal:

بڑے سٹپٹائے اور بیچارگی سے کہنے لگے،

الکمونیا میں تو ایسا نہیں ہوتا۔۔۔۔۔
:pagal::pagal::pagal:
باباجی ٹکر پہلوان حیران تھے کہ یہ حوریں ہیں یا پھر بابا کھجل سائیں کے آستانے کی بد روحیں۔۔۔جو ٹکر پہلوان بابا سائیں کو جنت سے واپس دنیا میں بھیجنے پر تلی ہوئیں ہیں۔

:pagal::pagal::pagal:
 

UrduLover

 
Super Star
Dynamic Brigade
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Messages
1,555
Likes
1,115
Points
287
Location
Manchester U.K
#20
زندہ ہوتے ہوئے جنت مل جا تو الکمونیا میں ہی ہو سکتا ہے۔​
 
Top