دماغ سے متعلق تھوڑی سے بحث قسط ششم

Author
A

Afzal339

Advisor
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Threads
149
Messages
471
Likes
653
Points
317
#1
ایک انسانی دماغ ہزاروں نیٹ ورکس چلارہاہوتا ہیں لیکن کوشش کے باوجود اس کی صحیح تعداد آج تک پتا نہیں چلی ، یہ نیٹ ورکس جسم کے علاوہ باہر بھی کام کررہے ہوتے ہیں جن سے انسانی دماغ کا رابطہ بذریعہ سگنلز ہوتا ہے ان ہزاروں نیٹ ورکس میں ایک نیٹ ورک جس کا نام
مائنڈ انٹیلی جنس کمیونیکیشن
ہے اس نیٹ ورک میں ہر وقت دماغ سگنل کی طرف ایک لہر بھیجتا ہے اس لہر میں صاحب دماغ انسان کی پوری کاپی سمائی ہوتی ہے ۔ یہ لہردکھنے اور سننے کی صلاحیت رکھتی ہے اگر ہم اس کی آسان لفظوں تشریح کریں تو وہ اس طرح ہوگی کہ ہر انسان کے ساتھ اس کی ایک کاپی لہر کی صورت میں اس کے ارد گرد گھومتی رہتی ہے اسے
مائنڈ انٹیلی جنس مینٹل ویو
بھی کہتے ہیں اس لہر کی تیزی کی رفتار روشنی کی تیزی کی رفتار سے ہزار گنا زیادہ ہے یہ دماغی نیٹ ورک ہر وقت سگنلزٹرانسمیٹ کرتا ہے اور یہ سگنلز دماغ کے لاشعور کلیوں سے رابطے میں رہتے ہیں یہی وجہ ہے کہ اس کے ورکنگ کا پتاہمیں کسی خاص وقت یا واقعے کے ظہور کے سوا نہیں ہوتا۔چونکہ یہ نیٹ ورک دماغ کے لاشعور کلیوں سے رابطے میں رہتا ہے اور دماغ کو لاشعور کلیوں سے رابطے کے لیے تھوڑی بہت جد و جہد کی ضرورت رہتی ہے تب ہی دماغ لاشعور کلیوں سے رابطہ قائم کرسکتا ہے اسی لیے ہمیں اس کے ورکنگ کا پتا نہیں چلتا ہے
دماغ کا ایک نیٹ ورک مسلسل باہر سے موصول انٹیلی جنس رپورٹ کو انتہائی باریک بینی سے پڑھتا ہے ،پھر اس کے بعد اسے دماغ کے دوسرے نیٹ ورک کی طرف اس وقت منتقل کردیتا ہے، جب کوئی خاص واقعہ پیش آنے والا ہو اور دماغ کے فیصلہ کرنے والے خلیے بے خبر ہو
مثلا ایک انسان سورہاہے اور اس کے قریب کوئی واقعہ پیش آنے والا ہے تو مائنڈ انٹیلی جنس لہریں اس پیش آمدہ واقعے کی طرف رخ کرتی ہیں وہاں کا جائزہ لیتی ہے اب یہ جائزہ دو اعتبار سے ہوتا ہے
نمبر ایک
واقعے کے ظہور سے پہلے آثار سے واقعے کا پتا چلاکر جائزہ لینا
نمبر دو
واقعے کے عین ظہور کے وقت واقعے کو ریکارڈ کرکے جائزہ لینا

اس کے بعد یہ لہریں اس سارے منظر کی عکس بندی کرکے اسے دماغ کی طرف بھیج دیتی ہے ۔منظر کے موصول ہونے کے بعد اگر دماغ صحت کے اصولوں پر فریش ہو تو دماغ اس سارے منظر کو پڑھنے کے بعد اپنے دیگر نیٹ ورکس کے حوالے کردیتا ہے جو اس سارے منظر کوبعینہ اسی شکل یا اس سے ملتی جلتی شکل میں ترمیم یعنی ایڈٹنگ یا بغیر ترمیم کے ساتھ چلانا شروع کردیتا ہے اور یہ سارے منظر دماغ کی سکرین پر چل رہے ہوتے ہیں جسے پھر انسان خواب کی شکل میں دیکھ رہاہوتا ہے اور یہ سارا کام سیکنڈ کے ہزارویں حصے میں ہوجاتا ہے
جاری ہے۔۔۔۔۔۔
 
Author
A

Afzal339

Advisor
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Threads
149
Messages
471
Likes
653
Points
317
#2
آپ نے ابھی تک ایک قسط بھی نہیں پڑھی ہوگی
@Ata Rafi
 

Ata Rafi

Advisor
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Threads
6
Messages
127
Likes
198
Points
167
Location
Karachi
#3
آپ نے ابھی تک ایک قسط بھی نہیں پڑھی ہوگی
@Ata Rafi
نا یار، آج ہی کچھ چھوٹ ملی ہے مصروفیات سے۔
اب کچھ وقت دے پاؤں گا۔ رمضان تک ان شاء اللہ۔
جزاک اللہ آپ نے ٹیگ کیا۔ میں ضرور ساری قسطیں پڑھوں گا ان شاء اللہ
 

Abu Dujana

Advisor
Designer
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Threads
49
Messages
604
Likes
561
Points
299
Location
Karachi, Pakistan
#4
یہ تو "چھٹی حس" ہے۔ آپ نے بہت عمدہ طریقے سے وضاحت کی ہے۔
بہت شکریہ اشتراک کا
 

UrduLover

Super Star
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Threads
435
Messages
1,746
Likes
1,214
Points
562
Location
Manchester U.K
#5

  • کہتے ہیں بہت بہت شکریہ​
 
Top