موبائی لائی لانگ

X 2

 
Super Star
Most Valuable
Dynamic Brigade
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
643
Likes
1,676
Points
592
#1

آدھے گھنٹے کے اندر اندر یہ خبر پورے فورم میں پھیل چکی تھی کہ صبیح بھائی نے موبائل فون خرید لیا ہے۔ جس جس نے یہ خبر سنی وہ صبیح بھائی کو مبارک باد دینے گریٹنگ سیکشن چلا آیا۔ فخر کے مارے صبیح بھائی کا سینہ غبارے کی طرح پھولا ہوا تھا۔ وہ کسی سیاسی لیڈر یا دانشور کی طرح ہلکی سی مسکراہٹ کے ساتھ گردن ہلا ہلا کر اور لائک کا بٹن دبا دبا کرمبارک بادیں وصول کر رہے تھے۔
:poop::poop:
ہر کوئی ان سے مخصوص سوالات کر رہا تھا۔


"کتنے کا موبائل خریدا، کہاں سے خریدا، خریدا یا بس میں سے ملا ہے؟"
:pagal::pagal:
صبیح بھائی ہر ایک کو تفصیل کے ساتھ اپنی موبائل داستان سنا رہے تھے۔ کسی نے ان کا موبائل نمبر حاصل کر کے پورے فورم میں پھیلا دیا۔ اب صبیح بھائی کا موبائل فون ہر چند سیکنڈ کے بعد ایک مزاحیہ ٹون کے ساتھ بج اٹھتا تھا۔ ہر مس کال کے ساتھ صبیح بھائی کام کرتے کرتے زور سے چونک جاتے اور سامنے ہی میز پر رکھے ہوئے موبائل کو خوشی خوشی دیکھنے لگتے،
:geek::geek::geek:
صبیح بھائی کے ساتھ ہلہ گلہ سیکشن میں عطاء رفیع صاحب بیٹھتے تھے۔ انھوں نے کہا: "کیا بات ہے صبیح بھائی! پہلے ہی دن آپ کا فون اتنا بج رہا ہے۔"
صبیح بھائی نے ناک پر سے پھسلتی ہوئی عینک درست کرتے ہوئے کہا: "یہ تو لیا ہی بجانے کے لیے ہے، لیکن پتا نہیں کس کس کے نمبر ہیں۔ جن کے نمبر میرے موبائل میں محفوظ ہیں وہ فون ہی نہیں کر رہے۔"

:unsure::unsure:
ان کی بات پر سیکشن کے بہت سے لوگ ہنس پڑے۔ صبیح بھائی کے موبائل فون پر مسلسل مس کالز آ رہی تھیں۔ ان کے لیے کام کرنا دشوار ہو گیا تھا۔ انھیں نہیں معلوم تھا کہ ان کے سیکشن کے لوگ ہی انھیں مس بیلز دے رہے ہیں۔ جیسے ہی صبیح بھائی موبائل فون کی طرف ہاتھ بڑھاتے، فون بند ہو جاتا۔ وہ جھنجلا کر رہ جاتے۔
o_Oo_O
چھٹی کے بعد صبیح بھائی گھر پہنچے۔ وہاں ان کے کچھ عزیز آئے ہوئے تھے۔ گھر میں داخل ہوتے ہی صبیح بھائی کی ان لوگوں پر نظر پڑی۔ انھوں نے جھٹ اپنی جیب سے موئل فون نکالا اور بٹن دبا کر اسے یوں غور سے دیکھنے لگے جیسے کھجل سائیں نے انھیں کسی خاص مشن کے لیے میسج بھیجا ہو۔

:alien::alien::alien:
ان کی بیگم نے برآمدے سے ہی چنگھاڑ کر کہا: "ارے کیا ہو گیا؟ ادھر ہی کیوں جام ہو گئے۔ ایسا کون سا اہم فون آ گیا کسی کمبخت کا؟"
صبیح بھائی تلملا کر بولے: "فون نہیں آیا ہے، میسج بھیجا ہے تمھارے بھائی نے۔"
بیگم نے اپنی ٹھوڑی پکڑتے ہوئے کہا: "آئے ہائے، میرے بھائی کے پاس تو یہ کم بخت موبائل ہی نہیں ہے۔ کیا اس نے تمھیں کیلکولیٹر سے میسج کر دیا؟"

:maro::maro::maro:
صبیح بھائی نے بوکھلا کر مہمانوں کی طرف دیکھا، جو حیرت اسے انھیں دیکھ رہے تھے۔ صبیح بھائی وہاں نہیں رکے اور بند موبائل فون کان سے لگا کر تیز تیز آواز میں کچھ بولتے ہوئے اپنے کمرے میں چلے گئے، جیسے کسی سے بہت ہی اہم بات کر رہے ہوں۔
٭٭٭٭٭٭
ناعمہ وقار نے ان کی بیگم سے کہا: "بہن! یہ انھیں کیا ہو گیا ہے؟ انھوں نے تو سلام دعا بھی نہیں کی۔"

:mad::mad:
بیگم صاحبہ نے ناک چڑھاتے ہوئے کہا: "انہیں موبائی لائی لانگ ہو گیا ہے۔ کل سے باؤلے ہو گئے ہیں۔ کم بخت موبائل فون کیا خریدا خود کو گورنر سمجھنے لگے ہیں۔ کل رات کو کھانا کھانا بھول گئے اور رات بھر موبائل میں لگے رہے۔ صبح ناشتے کے وقت موبائل بجا تو گرم گرم چائے کا کپ کان سے لگا لیا۔"
:ROFLMAO::ROFLMAO::ROFLMAO:
وہاں بیٹھی ہوئی ایک خاتون ثوبیہ نے ٹھوڑی پکڑتے ہوئے تشویش ناک لہجے میں کہا: "اے پروین! برا مت مانیو، مجھے تو لگتا ہے کہ اس پر کسی نے تعویذ کرا دیا ہے۔ میری مان تو اسے اختر سائیں ملنگ چکی تائی کے پاس لے جا۔ دو منٹ میں جھاڑو سے گندے اثرات اتار دے گا۔"
:eek::eek:
بیگم صاحبہ نے کہا: "اس جھاڑو سے ان کے گندے اثرات کہاں اتریں گے۔ جھاڑو سے مار کھانے کے تو وہ پہلے ہی عادی ہیں۔" پھر انھوں نے جلدی سے اپنے منہ پر یوں ہاتھ رکھ لیا، جیسے کوئی غلط بات کہہ دی ہو۔
:sick::sick::sick:
آدھی رات کو سب گھر والے سو رہے تھے۔ مہمان اپنے کمرے میں تھے، اچانک ایک آواز سن کر بیگم صاحبہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھیں، انھوں نے خوف زدہ نظروں سے تاریک کمرے میں آنکھیں پھاڑ پھاڑ کر دیکھا۔ کچھ نظر نہیں آیا، لیکن وہ عجیب سی آواز مسلسل سنائی دے رہی تھی۔ اتنے میں بچے بھی جاگ گئے۔ دونوں بڑے بچے تو مارے ڈر کے چادر اوڑھ کر لیٹ گئے، جب کہ چھوٹے بچے نے دریائی گھوڑے کی طرح منھ پھاڑ کر رونا شروع کر دیا۔ بیگم نے جلدی سے اٹھ کر لائٹ جلائی۔ روشنی ہوئی تو انھوں نے دیکھا کہ صبیح صاحب اپنے بستر پر نہیں تھے۔ ادھر ان کا کالا کلوٹا، بےڈھنگا سا بچہ جسے وہ پیار سے چندا کہتی ہیں، روئے جا رہا تھا۔ بیگم صاحبہ نے اس بے وقت کی راگنی پر آگے بڑھ کر اس کے کالے گلاب جامن جیسے گال پر ایک تھپڑ جڑ دیا اور ڈانٹتے ہوئے کہا: "چپ کر جا کم بخت! ورنہ دوں گی ایک اور تھپڑ۔"
:hathora::hathora:
تھپڑ کھا کر بچے کا باجا بند ہو گیا اور وہ بستر پر لیٹ کر سکون سے سو گیا، جیسے تھپڑ کے بجائے اس نے نیند کی گولی کھائی ہو۔ اب وہ عجیب سی آواز بند ہو گئی تھی۔ بیگم صاحبہ کمرے سے باہر نکلیں اور باورچی خانے سے بیلن نکال لیا۔ اس وقت مہمانوں کے کمرے کا دروازہ کھلا اور وہ لوگ بھی باہر نکل آئے۔ چندا کے باجے نے انھیں بھی جگا دیا تھا۔ ایک لڑکے نے پوچھا: "کیا ہوا باجی! یہ کیسا شور ہے؟"
o_Oo_Oo_O
بیگم صاحبہ نے ہونٹوں پر انگلی رکھتے ہوئے دبی آواز میں کہا۔"میرا خیال ہے، کوئی کم بخت چور آگیا ہے۔ ابھی میں نے کچھ عجیب سی آوازیں سنی تھیں۔"
بوڑھی خاتون ثوبیہ بولیں: "ہائے اللہ! اب کیا ہو گا۔ کہیں وہ میرا پاندان نہ چرا لے۔"

:cry:
ناعمہ وقار نے تنک کر کہا: "اماں! تمھارے پاندان میں کون سی اشرفیاں بھری ہوئی ہیں۔ دو تین بغیر لگے ہوئے پان اور کتھا، چونا ہی تو پڑا ہوگا۔" اس سے پہلےکہ اماں پٹاخے کی طرح پھٹ پڑتیں۔ وہ سب لوگ اچھل پڑے، کیوں کہ وہی عجیب سی آواز پھر سنائی دینے لگی تھی۔ اماں کے ساتھ ان کا بھی ایک چاند سا بیٹا تھا، جو پہلے والے چاند سے کسی طرح بھی کم نہ تھا۔ وہ کانپتے ہوئے بولا: "باجی! باجی" یہ تو مجھے اڑن طشتری کی آواز لگتی ہے۔ شاید خلائی مخلوق نے
:alien::alien::alien::alien:حملہ کر دیا ہے۔"
 

X 2

 
Super Star
Most Valuable
Dynamic Brigade
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
643
Likes
1,676
Points
592
#2
بیگم نے بہت ہی برا منہ بنا کر کہا: "تمھارے ہوتے ہوئے کوئی اور مخلوق یہاں آنے کی جرات کر سکتی ہے بھلا۔ تمھیں دیکھ کر اس کا ہارٹ فیل نہیں ہو جائے گا۔ اب اپنی چونچ بند رکھنا۔"
اس کی بہن نے پوچھا: "باجی! بھائی صاحب کہاں ہیں۔"

بیگم صاحبہ نے جھنجلا کر کہا: "پتا نہیں وہ کہاں چلے گئے ہیں؟" اس کے بعد بیلن تلوار کی طرح سونت کر اس آواز کی طرف بڑھنے لگیں۔ باقی لوگ ایک لائن بنا کر ان کے پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔ چند قدم آگے جانے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ آواز اسٹور میں سے ابھر رہی ہے۔ اسٹور کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا۔

بیگم صاحبہ نے آستینیں چڑھائیں اور بیلن سر سے بلند کر کے زور سے دروازے پر لات ماری۔ اس کے ساتھ ہی اندرسے ایک گھگھیائی ہوئی آواز ابھری۔ بیگم صاحبہ نے نیم تاریکی میں ایک سائے کو دیکھا۔ انھوں نے زور سے گھما کر بیلن اس کی کھوپڑی پر جما دیا، اس بار درد میں ڈوبی ہوئی چیخ سنائی دی اور فوراً ہی صبیح بھائی اپنا سر پکڑ کر بھنگڑا ڈالتے ہوئے باہر آئے۔ ان کے ایک ہاتھ میں موبائل فون دبا ہوا تھا اور اسی میں سے وہ عجیب سی آوازیں ابھر رہی تھیں۔ آناً فاناً وہ لوگ ساری صورت حال بھانپ گئے۔ بیگم صاحبہ چلائیں: "ناس جائے اس کم بخت موبائل کا۔ آدھی رات کو اسٹور میں گھس کر اس کی پیں پیں سن رہے ہو، جیسے اب کبھی صبح تو نصیب ہوگی نہیں۔" مہمان منہ پھاڑے حیرت سے صبیح بھائی کو دیکھ رہے تھے، جو شرمندہ ہوئے بغیر اپنی کھوپڑی پر نکلنے والے نئے نویلے گومڑ کو سہلا رہے تھے۔

موبائل خریدنے سے پہلے صبیح بھائی اپنے مالک مکان کے گدھے کی مکروہ آواز پر صبح اٹھنے کے عادی تھے۔ اس گدھے میں بھی ایسا قدرتی الارم لگا ہوا تھا کہ ہر صبح عین ساڑھے پانچ بجے اس کا ڈبل ایکو ساؤنڈ اسٹارٹ ہو جاتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ نیم گرم پانی سے غرارے کر کے چلا رہا ہو۔ صبیح بھائی بیدار بخت کی طرح بیدار ہو جاتے، لیکن جب سے موبائل خریدا تھا، انھوں نے گدھے کی آواز پر انحصار کرنا چھوڑ دیا تھا، چلا چلا کر گدھے کے گلے میں درد ہو جاتا تھا۔ اب تو گدھے نے بھی ان کے موبائل کے الارم کی آواز پر اٹھنا شروع کر دیا تھا۔ الارم پر صبیح بھائی نے کسی شوخ گانے کی دھن لگا رکھی تھی۔ ایک صبح وہ آفس جانے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک پڑوسی نے آ کر اطلاع دی کہ محلے کے سب سے ضعیف بزرگ شاہ بابا کا انتقال ہو گیا ہے۔ نہ جانے ان کی اصل عمر کیا تھی۔ کچھ لوگ تو مذاق میں یہ بھی کہا کرتے تھے کہ شاہ بابا فرعون کے دربار میں دربان ہوا کرتے تھے۔ صبیح بھائی نے آفس جانے کا ارادہ ملتوی کیا اور ٹوپی لگا کر شاہ بابا کے گھر جا پہنچے۔ وہاں لوگوں کا بہت رش تھا۔ جب جنازہ اٹھانے کا وقت آیا تو لوگوں کو میت کا دیدار کرایا جانے لگا۔ صبیح بھائی بھی بھیڑ کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے۔ اتنے میں ان کے موبائل کا الارم بج گیا اور گانے کی آواز گونجنے لگی۔ صبیح بھائی بوکھلا کر جیبوں پر ہاتھ مارنے لگے۔ لوگوں نے شور مچا دیا۔ سب انھیں لعن طعن کر رہے تھے۔

"نکالو، انھیں باہر نکالو۔"
"بند کرو یہ گانا۔"
"صبیح صاحب! آپ کو میت میں آنے کی تمیز نہیں ہے۔"
"قیامت کے آثار ہیں بھیا! اب بتاؤ بھلا، میت پر گانے بجنے لگے ہیں۔" صبیح بھائی گھبراہٹ میں اپنی جیبوں میں موبائل تلاش کر رہے تھے، مگر وہ نہیں مل رہا تھا۔ اتنے میں دو پہلوان نما افراد معصوم بچہ اور ناٹی میرآگے بڑھے اور صبیح بھائی کو ڈنڈا ڈولی کر کے میت والے گھر سے باہر چبوترے پر رکھ آئے۔

 

X 2

 
Super Star
Most Valuable
Dynamic Brigade
Expert
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
643
Likes
1,676
Points
592
#3
موبائل نے صبیح بھائی کی زندگی اجیرن کر دی تھی۔ اس کے باوجود وہ اسے چھوڑنے پر آمادہ نہیں تھے۔ اب وہ اپنے بچوں سے بھی اتنا پیار نہیں کرتے تھے جتنا موبائل فون سے کرتے تھے۔ صبیح بھائی کی بیگم کو جتنے بھی کوسنے آتے تھے وہ انھیں دے چکیں تھیں، مگر ان پر کوئی اثر نہیں ہوا تھا۔ آفس میں بھی لوگ ان کے موبائل کے الارم سے تنگ آ چکے تھے، جو ہر پندرہ منٹ کے بعد بجنے لگتا تھا۔

ایک دن آفس والوں نے حیرت ناک منظر دیکھا کہ صبیح بھائی اپنی سیٹ پر گم صم بیٹھے ہوئے ہیں۔ ان کی حالت پاگلوں جیسی ہو رہی تھی۔ بال کھڑے ہوئے تھے، ایک پیر کا جوتا غائب تھا اور وہ مسلسل چھت کو گھورے جا رہے تھے۔

ان کے ایک ساتھی نے پوچھا: "کیا ہوا صبیح صاحب! یہ کیا حالت ہو رہی ہے آپ کی؟" انھوں نے کوئی جواب نہیں دیا۔
دوسرے ساتھی نے کہا: "طبعیت خراب لگتی ہے۔ میرا خیال ہے کہ کسی سے ان کا جھگڑا ہو گیا ہے اور خوب پٹ کر آ رہے ہیں۔"

ایک دم صبیح بھائی کے جسم میں حرکت ہوئی اور وہ خونی لہجے میں بولے: "میں کسی سے پٹ کر نہیں آرہا۔ میں نے اب پٹنا چھوڑ دیا ہے، کیوں کہ اب میں پہلے ہی معافی مانگ لیتا ہوں۔"
ایک ساتھی نے ہمدردی کی: "تو پھر کیا ہوا ہے، یہ جنگلیوں جیسا حلیہ کیوں ہو رہا ہے؟"

صبیح بھائی کی شکل رونے جیسی ہو گئی اور وہ کسی دکھیاری بڑھیا کی طرح دہائی دیتے ہوئے بولے: " ارے مت پوچھو بھائیو! مجھ پر تو قیامت ٹوٹ پڑی ہے۔ دل چاہتا ہے، خود کشی کر لوں،"
ان کے ایک بےتکلف دوست نے کہا: ٹھیرو! میں ابھی چلو میں پانی لے کر آتا ہوں۔"

صبیح بھائی نے اس کی بات نہیں سنی۔ وہ مسلسل بول رہے تھے: "آج صبح میں آفس آنے کے لیے بس میں سوار ہوا۔ بس میں بہت رش تھا، جب میں بس سے اترا تو معلوم ہوا کہ کسی بد بخت نے میرا پیارا موبائل فون نکال لیا ہے، ہائے، اب میں کیا کروں گا۔ میرا تو سکون برباد ہو گیا ہے۔"

کسی ساتھی نے کہا: "شکر ہے کہ اب ہمارا سکون لوٹ آیا اور آپ کی موبائی لائی لانگ کی بیماری ختم ہو گئی۔" صبیح بھائی چونک کر اسے گھورنے لگے۔ وہ ساتھی خاموشی سے وہاں سے کھسک گیا۔
 
Joined
May 9, 2018
Messages
17
Likes
28
Points
10
Location
Karaci
#7
اگرچہ پہلے بھی پڑھا تھا (پرانے زمانے میں۔۔۔ بٹن دبا کے) لیکن دوبارہ بہت مزا آیا۔
اس سے یہ بھی یاد آیا کہ آج گلبائی پر ٹریفک جام میں پھنسا ہوا تھا تو بیک مرر میں دیکھا کہ دو بندے پچھلی گاڑی میں سوار دو شہریوں سے موبائل اور پیسے چھین رہے تھے۔۔۔ پتا نہیں الکمونیا میں یہ ہوتا ہے یا نہیں۔ بہر حال میں نے اپنی باری کا انتظار شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ جو کچھ آتا تھا وہ سب پڑھ ڈالا۔ شکر ہے انہوں نے قناعت پسندی کا ثبوت دیا اور انہی چیزوں پر اکتفا کر کے رفو چکر ہو گئے۔ ورنہ میں بھی اپنے جان سے پیارے موبائل سے محروم ہو جاتا۔
دل تو لگ رہا تھا کہ آج پیٹ سے باہر ہی نکل آئے گا (پیٹ تک وہ ڈاکؤوں کو دیکھتے ہی سلپ ہو کر پہنچ گیا تھا)۔ گاڑی کے ٹھنڈے یخ اے سی میں بھی زبردست پسینہ آ گیا تھا۔
 

Doctor

 
Team Leader
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
1,600
Likes
1,966
Points
492
Location
Rawalpindi
#8
اگرچہ پہلے بھی پڑھا تھا (پرانے زمانے میں۔۔۔ بٹن دبا کے) لیکن دوبارہ بہت مزا آیا۔
اس سے یہ بھی یاد آیا کہ آج گلبائی پر ٹریفک جام میں پھنسا ہوا تھا تو بیک مرر میں دیکھا کہ دو بندے پچھلی گاڑی میں سوار دو شہریوں سے موبائل اور پیسے چھین رہے تھے۔۔۔ پتا نہیں الکمونیا میں یہ ہوتا ہے یا نہیں۔ بہر حال میں نے اپنی باری کا انتظار شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ جو کچھ آتا تھا وہ سب پڑھ ڈالا۔ شکر ہے انہوں نے قناعت پسندی کا ثبوت دیا اور انہی چیزوں پر اکتفا کر کے رفو چکر ہو گئے۔ ورنہ میں بھی اپنے جان سے پیارے موبائل سے محروم ہو جاتا۔
دل تو لگ رہا تھا کہ آج پیٹ سے باہر ہی نکل آئے گا (پیٹ تک وہ ڈاکؤوں کو دیکھتے ہی سلپ ہو کر پہنچ گیا تھا)۔ گاڑی کے ٹھنڈے یخ اے سی میں بھی زبردست پسینہ آ گیا تھا۔
آیت الکرسی کا ورد کرتے رہا کریں میں بھی جب کراچی میں رہتا تھا تو میٹروول کے علاقے میں ایک درمیانے درجے کی واردات کا شکار ہوچکا ہوں گھر سے چند قدم کے فاصلے پر لٹیرے ہاتھ دکھا گئے تھے
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#11
بیگم نے بہت ہی برا منہ بنا کر کہا: "تمھارے ہوتے ہوئے کوئی اور مخلوق یہاں آنے کی جرات کر سکتی ہے بھلا۔ تمھیں دیکھ کر اس کا ہارٹ فیل نہیں ہو جائے گا۔ اب اپنی چونچ بند رکھنا۔"
اس کی بہن نے پوچھا: "باجی! بھائی صاحب کہاں ہیں۔"


بیگم صاحبہ نے جھنجلا کر کہا: "پتا نہیں وہ کہاں چلے گئے ہیں؟" اس کے بعد بیلن تلوار کی طرح سونت کر اس آواز کی طرف بڑھنے لگیں۔ باقی لوگ ایک لائن بنا کر ان کے پیچھے پیچھے آ رہے تھے۔ چند قدم آگے جانے کے بعد معلوم ہوا کہ وہ آواز اسٹور میں سے ابھر رہی ہے۔ اسٹور کا دروازہ تھوڑا سا کھلا ہوا تھا۔

بیگم صاحبہ نے آستینیں چڑھائیں اور بیلن سر سے بلند کر کے زور سے دروازے پر لات ماری۔ اس کے ساتھ ہی اندرسے ایک گھگھیائی ہوئی آواز ابھری۔ بیگم صاحبہ نے نیم تاریکی میں ایک سائے کو دیکھا۔ انھوں نے زور سے گھما کر بیلن اس کی کھوپڑی پر جما دیا، اس بار درد میں ڈوبی ہوئی چیخ سنائی دی اور فوراً ہی صبیح بھائی اپنا سر پکڑ کر بھنگڑا ڈالتے ہوئے باہر آئے۔ ان کے ایک ہاتھ میں موبائل فون دبا ہوا تھا اور اسی میں سے وہ عجیب سی آوازیں ابھر رہی تھیں۔ آناً فاناً وہ لوگ ساری صورت حال بھانپ گئے۔ بیگم صاحبہ چلائیں: "ناس جائے اس کم بخت موبائل کا۔ آدھی رات کو اسٹور میں گھس کر اس کی پیں پیں سن رہے ہو، جیسے اب کبھی صبح تو نصیب ہوگی نہیں۔" مہمان منہ پھاڑے حیرت سے صبیح بھائی کو دیکھ رہے تھے، جو شرمندہ ہوئے بغیر اپنی کھوپڑی پر نکلنے والے نئے نویلے گومڑ کو سہلا رہے تھے۔

موبائل خریدنے سے پہلے صبیح بھائی اپنے مالک مکان کے گدھے کی مکروہ آواز پر صبح اٹھنے کے عادی تھے۔ اس گدھے میں بھی ایسا قدرتی الارم لگا ہوا تھا کہ ہر صبح عین ساڑھے پانچ بجے اس کا ڈبل ایکو ساؤنڈ اسٹارٹ ہو جاتا تھا۔ ایسا لگتا تھا کہ وہ نیم گرم پانی سے غرارے کر کے چلا رہا ہو۔ صبیح بھائی بیدار بخت کی طرح بیدار ہو جاتے، لیکن جب سے موبائل خریدا تھا، انھوں نے گدھے کی آواز پر انحصار کرنا چھوڑ دیا تھا، چلا چلا کر گدھے کے گلے میں درد ہو جاتا تھا۔ اب تو گدھے نے بھی ان کے موبائل کے الارم کی آواز پر اٹھنا شروع کر دیا تھا۔ الارم پر صبیح بھائی نے کسی شوخ گانے کی دھن لگا رکھی تھی۔ ایک صبح وہ آفس جانے کی تیاریاں کر رہے تھے۔ اتنے میں ایک پڑوسی نے آ کر اطلاع دی کہ محلے کے سب سے ضعیف بزرگ شاہ بابا کا انتقال ہو گیا ہے۔ نہ جانے ان کی اصل عمر کیا تھی۔ کچھ لوگ تو مذاق میں یہ بھی کہا کرتے تھے کہ شاہ بابا فرعون کے دربار میں دربان ہوا کرتے تھے۔ صبیح بھائی نے آفس جانے کا ارادہ ملتوی کیا اور ٹوپی لگا کر شاہ بابا کے گھر جا پہنچے۔ وہاں لوگوں کا بہت رش تھا۔ جب جنازہ اٹھانے کا وقت آیا تو لوگوں کو میت کا دیدار کرایا جانے لگا۔ صبیح بھائی بھی بھیڑ کو چیرتے ہوئے آگے بڑھے۔ اتنے میں ان کے موبائل کا الارم بج گیا اور گانے کی آواز گونجنے لگی۔ صبیح بھائی بوکھلا کر جیبوں پر ہاتھ مارنے لگے۔ لوگوں نے شور مچا دیا۔ سب انھیں لعن طعن کر رہے تھے۔

"نکالو، انھیں باہر نکالو۔"
"بند کرو یہ گانا۔"
"صبیح صاحب! آپ کو میت میں آنے کی تمیز نہیں ہے۔"
"قیامت کے آثار ہیں بھیا! اب بتاؤ بھلا، میت پر گانے بجنے لگے ہیں۔" صبیح بھائی گھبراہٹ میں اپنی جیبوں میں موبائل تلاش کر رہے تھے، مگر وہ نہیں مل رہا تھا۔ اتنے میں دو پہلوان نما افراد معصوم بچہ اور ناٹی میرآگے بڑھے اور صبیح بھائی کو ڈنڈا ڈولی کر کے میت والے گھر سے باہر چبوترے پر رکھ آئے۔

صبیح بھائی اپنے مالک مکان کے گدھے کی مکروہ آواز پر صبح اٹھنے کے عادی تھے۔
:whistle:
توبہ
:p
آپ کو غلط فہمی ہوئی ہے،میں الارم کی آواز پر اٹھتاہوں
پہلے بھی پڑھ چکاہوں لیکن اب کی بار پڑھ کر انجوائے کیا ،زبردست کہانی ہے انتہائی گدگداتے جملوں پر مشتمل ہے۔
مزہ دوبالا ہوجاتاہےاگر صبیح کامرکزی کردار باباکھجل سائیں نبھاتے
:D
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#12
ھھھ۔
بہت لطف آیا پڑھ کر۔
صبیح بھائی یہ مت کہنا کہ یہ جھوٹ نہیں ہے۔:ROFLMAO:
:p
موبائل کادور ہے،کبھی یہ فون ایسے نکل آتے ہیں کہ کہانی کے کردار پر اترتے محسوس ہوتے ہیں۔
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#13
ہاہاہا۔۔۔کتنی درگت بنا ڈالی زرا سی دیر میں، بہت بری بات ہے
:D
میرصاب اورمعصوم بچہ کے ڈنڈا ڈولی بناکر چبوترے پر چھوڑآنا درگت تونہیں ہے عزت افزائی ہے
:p
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#14
اگرچہ پہلے بھی پڑھا تھا (پرانے زمانے میں۔۔۔ بٹن دبا کے) لیکن دوبارہ بہت مزا آیا۔
اس سے یہ بھی یاد آیا کہ آج گلبائی پر ٹریفک جام میں پھنسا ہوا تھا تو بیک مرر میں دیکھا کہ دو بندے پچھلی گاڑی میں سوار دو شہریوں سے موبائل اور پیسے چھین رہے تھے۔۔۔ پتا نہیں الکمونیا میں یہ ہوتا ہے یا نہیں۔ بہر حال میں نے اپنی باری کا انتظار شروع کر دیا اور ساتھ ساتھ جو کچھ آتا تھا وہ سب پڑھ ڈالا۔ شکر ہے انہوں نے قناعت پسندی کا ثبوت دیا اور انہی چیزوں پر اکتفا کر کے رفو چکر ہو گئے۔ ورنہ میں بھی اپنے جان سے پیارے موبائل سے محروم ہو جاتا۔
دل تو لگ رہا تھا کہ آج پیٹ سے باہر ہی نکل آئے گا (پیٹ تک وہ ڈاکؤوں کو دیکھتے ہی سلپ ہو کر پہنچ گیا تھا)۔ گاڑی کے ٹھنڈے یخ اے سی میں بھی زبردست پسینہ آ گیا تھا۔
اللہ حفاظت میں رکھے، گھر سے نکلنے والی مسنون دعا کا اہتمام کیجئے
 

ناعمہ وقار

 
Super Star
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Messages
607
Likes
725
Points
337
Location
Islamabad
#15
میرصاب اورمعصوم بچہ کے ڈنڈا ڈولی بناکر چبوترے پر چھوڑآنا درگت تونہیں ہے عزت افزائی ہے
:p
اچھا آجکل عزت افزائی ایسے ہونے لگی ہے، ہمیں نہیں معلوم تھا
:D
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#16
اچھا آجکل عزت افزائی ایسے ہونے لگی ہے، ہمیں نہیں معلوم تھا
:D
آپ کو معلوم ہے میر بھائی کی خوراک؟
:p
اگر وہ اٹھاکر پٹخنے کے بجائے محض آرام سے ڈال دیں تو عزت افزائی نہیں تو اور کیا ہوگی
کہانی میں تویہی لکھاہے کہ انہوں نے پٹخا نہیں
:D
 

ناعمہ وقار

 
Super Star
Contest Winner
Dynamic Brigade
Joined
May 8, 2018
Messages
607
Likes
725
Points
337
Location
Islamabad
#17
آپ کو معلوم ہے میر بھائی کی خوراک؟
:p
اگر وہ اٹھاکر پٹخنے کے بجائے محض آرام سے ڈال دیں تو عزت افزائی نہیں تو اور کیا ہوگی
کہانی میں تویہی لکھاہے کہ انہوں نے پٹخا نہیں
:D
اوہ۔۔۔۔تو آپ اسلیئے اتنے خوش ہیں، واقعی ایسے تو میں نے سوچا ہی نہیں، اب تو آپ شکرانے کے نوافل ادا کریں ، کیونکہ میر بھائی اکیلے نہیں تھے حماد بھائی بھی انکے ساتھ تھے
:D
 

Sabih Tariq

 
Super Moderator
Dynamic Brigade
Teacher
Writer
Joined
May 5, 2018
Messages
833
Likes
1,446
Points
452
Location
Central
#18
اوہ۔۔۔۔تو آپ اسلیئے اتنے خوش ہیں، واقعی ایسے تو میں نے سوچا ہی نہیں، اب تو آپ شکرانے کے نوافل ادا کریں ، کیونکہ میر بھائی اکیلے نہیں تھے حماد بھائی بھی انکے ساتھ تھے
:D
جی ہاں بابا کھجل سائیں فرماتے ہیں کہ اس انداز میں سوچناچائیے
:D
 
Top