شعبان المظم کی فضیلت احادیث کی روشنی میں

Author
A

Afzal339

Advisor
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Threads
149
Messages
471
Likes
653
Points
317
#1
شعبان المظم

اسلامی سال کاآغاز ماہِ محرم سے اور اختتام ماہِ ذوالحجہ پر ہوتا ہے۔ اور "شعبان "اسلامی سال کا آٹھواں مہینہ ہے ۔ بعض اہل علم کے نزدیک اس کی وجہ تسمیہ یہ ہے کہ شعبان تشعب سے ماخوذ ہے اور تشعب کے معنیٰ تفرق کے ہیں۔ چونکہ اس ماہ میں بھی خیر کثیر متفرق ہوتی ہے۔ نیز بندوں کو رزق اس مہینہ میں متفرق اور تقسیم ہوتے ہیں۔ اس لیے اس مہینے کا نام شعبان رکھا گیا ہے۔اور بعض اہل علم نے کہا ہیں :- کہ شعبان عربی زبان کے لفظ "شَعّْبْ" سے بنا ہے، جس کے معنی پھیلنے کے آتے ہیں اور چوں کہ اس مہینے میں رمضان المبارک کے لیے خوب بھلائی پھیلتی ہے اسی وجہ سے اس مہینے کا نام "شعبان" رکھاگیا۔
شعبان نام کے پانچ حروف
حضرت شیخ عبدالقادرجیلانی رحمۃ اللہ علیہ ’’شعبان‘‘کے پانچ حروف:’’ش،ع،ب،ا،ن‘‘کے متعلق نقل فرماتے ہیں :ش سے مراد ’’شرف‘‘یعنی بزرگی،ع سے مراد’’عُلوّ‘‘یعنی بلندی،ب سے مراد’’بِر‘‘یعنی احسان وبھلائی ،اسے مراد’’الفت‘‘اورن سے مراد’’نور‘‘ہے تویہ تمام چیزیں اللہ تعالیٰ اپنے بندوں کواس مہینے میں عطافرماتاہے غنیہ الطالبین جلد نمبر ایک صفحہ نمبر 341
شعبان المظم کی انفرادیت
چونکہ اسلامی سال کے تمام مہینوں کو کچھ نہ کچھ خصوصیات ملی ہوئیں ہیں اس لیے اس مہینے کو بھی اللہ تعالیٰٰ نے کچھ خصوصیات عطا فرمائی ہیں، جن میں سے کچھ یہ ہیں کہ اس مہینہ میں ماہ ِرمضان کے روزوں، تراویح اور دیگر عبادات کی تیاری کا موقع ملتا ہے۔ رمضان جو اپنی برکتوں، رحمتوں اور عنایات ربانی کا موسم بہار ہے اس کی تیاری کا ماہِ شعبان سے شروع ہونا اس کی عظمت کو چار چاند لگا دیتاہے۔ گویا شعبان کو رمضان کا ”مقدمہ“ کہنا چاہیے۔یا پھر یہ مہینہ رمضان کے لیے پیش خیمہ کی حیثیت رکھتا ہے اور اسے استقبال رمضان کا مہینہ بھی کہ سکتے ہیں۔
اس مہینے کی خصوصیات
اس مہینے میں حضورﷺ نے خصوصیت سے خیر و برکت کی دعا فرمائی ہے۔ چنانچہ حضرت انس رضی اللہ عنہ فرماتے ہیں :-جب رجب کا مہینہ آتا تو حضورﷺ یہ دعا فرمایا کرتے تھے: اے اللہ! ہمارے لیے رجب اور شعبان میں برکت عطا فرما اورہمیں رمضان کے مہینے تک پہنچا۔حوالہ مشکوۃ حدیث نمبر 1396
حضرت حسن رضی اللہ تعالیٰ عنہ سے مروی ہے کہ حضورﷺ نے ارشادفرمایاکہ:رجب اللہ تعالیٰ کامہینہ ،شعبان میرامہینہ ہے اورمضان میری اُمّت کامہینہ ہے۔ حوالہ کنزالعمال حدیث نمبر 35164 اس مہینے میں حضور ﷺ کا روزوں کا اہتمام
سیدہ ام سلمہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: میں نے حضورﷺ کو کبھی بھی دو ماہ مسلسل روزے رکھتےہوئے نہيں دیکھا، لیکن حضورﷺ شعبان کو رمضان کے ساتھ ملایا کرتے تھے۔۔حوالہ سنن نسائی حدیث نمبر 2174
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ حضورﷺ جب روزے رکھنا شروع فرماتےتو ہم کہتے کہ حضورﷺ اب روزہ رکھنا ختم نہ کریں گے اور جب کبھی حضورﷺ روزہ نہ رکھنے پہ آتے تو ہم یہ کہتے کہ حضورﷺ اب روزہ کبھی نہ رکھیں گے۔ میں نے حضورﷺ کورمضان شریف کے علاوہ کسی اور مہینہ کے مکمل روزے رکھتے نہیں دیکھا اورمیں نے حضورﷺ کو شعبان کے علاوہ کسی اور مہینہ میں کثرت سے روزہ رکھتے نہیں دیکھا۔حوالہ صحیح بخاری حدیث نمبر 1369
حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے کہ میں نےحضورﷺ کو کسی مہینہ میں شعبان کے مہینہ سے زیادہ روزے رکھتے نہیں دیکھا۔ حضورﷺکچھ دنوں کے علاوہ پورے شعبان کے روزے رکھتے، بلکہ حضورﷺ تو پورے شعبان کے روزے رکھا کرتے تھے۔حوالہ جامع الترمذی حدیث نمبر 736
ماقبل کی کچھ احادیث سے روزہ رکھنے کے اعتبار سے دو طرح کا مفہوم سمجھ میں آتا ہے ایک یہ کہ حضور ﷺ پورا شعبان روزہ رکھا کرتے اور دوسرا مفہوم یہ ہے کہ اکثر شعبان روزہ رکھا کرتے ۔اس حوالے سے محدثین کی دو رائے ہیں بعض محدثین کی رائے یہ ہے کہ یہ مختلف اوقات میں تھا، کہ بعض سالوں میں تو حضورﷺ نے پورے شعبان کے روزہ رکھے ہیں اور بعض سالوں میں شعبان کے اکثر ایام کے روزے رکھے ہیں
جبکہ جمہور محدثین کی رائے یہ ہے کہ حضورﷺ رمضان المبارک کے علاوہ کسی اور مہینہ میں مکمل مہینہ کے روزے نہیں رکھتے تھے۔ اور یہی صحیح ہے رہ گئی بات اوپر احادیث کی تو انہوں نے ان کو اکثر پر محمول کیا ہے، کیونکہ اگر کوئی مہینہ کے اکثر ایام میں روزے رکھے تو لغت میں بطور مبالغہ یہ کہنا جائز ہے کہ اس نے مکمل مہینہ کے روزے رکھے۔ آسان لفظوں میں یہ ہے کہ یہاں پورے شعبان کے روزے رکھنے سے مراد یہ ہے کہ حضورﷺ اکثر شعبان روزے رکھا کرتے تھے، کیونکہ بعض مرتبہ اکثر پر” کل“ کا اطلاق کر دیا جاتا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے کہ جیسے عام طور پر کہاجات ہے فلاں شخص تو ساری زندگی نیکی ہی نیکی میں مشغول رہتا ہے ، نیکی کے علاوہ تو اس کا کوئی کام ہی نہیں حالانکہ یہ بات کل کے اعتبار سے درست نہیں کیوں کہ کوئی بھی شخص دن رات کے چوبیس گھنٹے یا ہفتے کے سات دن نیکی نہیں کرسکتا ہے بلکہ بعض اوقات انسان نیکی کے علاوہ کاموں میں بھی مشغول رہتا ہے اب جب یہ بات ثابت ہوگئی کہ اکثر کے لیے کل کا لفظ لانا لغوی اعتبار سے جائز ہے تو اب دوسرے مفہوم کے ثبوت کے نقلی دلائل بھی ملاحظہ کیجیے ۔
دوسرے مفہوم کے صحیح ہونے کے دلائل
سیدہ عائشہ رضی اللہ عنہا سے مروی ہے: کہ میرے علم میں نہيں کہ اللہ تعالیٰ کے نبی ﷺ نے کبھی بھی ایک ہی رات میں پورا قرآن مجید ختم کیا ہو، اورصبح تک ساری رات ہی نماز پڑھتے رہے ہوں، اوررمضان کے علاوہ کسی اورمکمل مہینہ کے روزے رکھے ہوںحوالہ صحیح مسلم حدیث نمبر 746
اسی طرح بخاری اور مسلم میں ایک اور روایت میں حضرت عبد اللہ بن عباس رضی اللہ عنہما سے بھی مروی ہے: کہ حضؤرﷺ نے رمضان کے علاوہ کسی اورمہینہ کےمکمل روزے نہيں رکھے۔۔۔۔۔۔۔اسی طرح ایک اور روایت میں ہے کہ حضورﷺنے فرمایا:جب شعبان کا مہینہ آدھا رہ جائے توروزہ نہ رکھا کرو۔حوالہ جامع الترمذی حدیث نمبر 738
ان جیسی روایت کے پیش نظر فقہاءِکرام نے نصف شعبان یا کل شعبان کے روزہ رکھنا مکروہ قرار دیا ہے، البتہ چند صورتوں کومستثنی فرمایا ہےکہ ان میں پندرہ شعبان کے بعد روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں۔وہ صورتیں یہ ہیں: نمبر ایک : کسی کے ذمہ قضاءروزے ہوں یا واجب (کفارہ وغیرہ کے) روزے ہوں اور وہ انہیں ان ایام میں رکھنا چاہتا ہو۔ نمبر دو:ایسا شخص جو شروع شعبان سے روزے رکھتا چلاا ٓ رہا ہو۔ نمبر تین :ایسا شخص کہ جس کی عادت یہ ہےکہ مخصوص دنوں یا تاریخوں کے روزے رکھتا ہے، اب وہ دن یا تاریخ شعبان کے آخری د نوں میں آ رہی ہے تو روزہ رکھنے میں کوئی حرج نہیں بشرطیکہ ایسی کمزوری کا خطرہ نہ ہو کہ جس سےرمضان کے روزوں کا حرج ہونے کا اندیشہ ہو۔
حوالہ درس ترمذی۔
شعبان میں زیادہ روزے رکھنے کی حکمت
حضرت اسامہ بن زید رضی اللہ عنہ سے مروی ہے کہ میں نے حضور ﷺ سے پوچھا کہ آپ جتنے روزے شعبان میں رکھتے ہیں کسی اورمہینہ میں اتنے روزے نہیں رکھتے؟ تو حضورﷺ نے جواب میں فرمایا: یہ ایسا مہینہ ہے جس میں لوگ غفلت کاشکار ہوجاتے ہیں جو رجب اوررمضان کے مابین ہے، یہ ایسا مہینہ ہے جس میں اعمال رب العالمین کی طرف اٹھائے جاتے ہیں، میں یہ پسند کرتا ہوں کہ میرے اعمال روزے کی حالت میں اٹھائے جائیں۔
حوالہ صحیح نسائی حدیث نمبر 2356

 

UrduLover

Super Star
Top Poster of a Month
Dynamic Brigade
ITD Express
Designer
Teacher
Writer
Joined
May 9, 2018
Threads
435
Messages
1,746
Likes
1,214
Points
562
Location
Manchester U.K
#2

  • کہتے ہیں بہت بہت شکریہ​
 
Top