Bagh o Nahar باغ و بہار یعنی قصہ چہار درویش

Doctor

 
Team Leader
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
1,600
Likes
1,966
Points
492
Location
Rawalpindi
#41
غرض اس گفت و شنید اور ہاں نان میں قریب ایک مہینے کے خوف و رجا میں گزرا۔ ہر روز اس بزرگ کی خدمت میں دوڑا جاتا اور خوشامد برآمد کیا کرتا۔ غرض اس گفت و شنید اور ہاں نان میں قریب ایک مہینے کے خوف و رجا میں گزرا۔ ہر روز اس بزرگ کی خدمت میں دوڑا جاتا اور خوشامد برآمد کیا کرتا۔ اتفاقا وہ بوڑھا کا ہلا ہوا۔ اس کی بیمار داری میں حاضر رہا۔ ہمیشہ قارورہ حکیم پاس لے جاتا۔ جو نسخہ لکھ دیتا، اسی ترکیب سے بنا کر پلاتا۔ اور شولا اور غذا اپنے ہاتھ سے پکا کر کوئی نوالا کھلاتا۔ ایک دن مہربان ہو کر کہنے لگا اے جوان تو بڑا ضدی ہے۔ میں نے ہر چند ساری قباحتیں کہہ سنائیں اور منع کرتا ہوں کہ اس کام سے باز آ۔ جی ہے تو جہان ہے۔ پر خواہ مخواہ کنویں میں گرا چاہتا ہے۔ اچھا آج اپنی لڑکی سی تیرا مذکور کروں گا۔ دیکھوں وہ کیا کہتی ہے؟ یا فقر اللہ! یہ خوشخبری سن کر میں ایسا پھولا کہ کپڑوں میں نہ سمایا۔ آداب بجا لایا اور کہا کہ اب آپ نے میرے جینے کی فکر کی۔ رخصت ہو کر مکان پر آیا اور تمام شب مبارک یہی مذکور رہا۔ کہاں کی نیند اور کہاں کی بھوک؟ صبح کو نور کے وقت پھر جا کر موجود ہو۔ سلام کیا۔ فرمانے لگا کہ لو اپنی بیٹی ہم نے تم کو دی۔ خدا مبارک کرے۔ تم دونو کو خدا کے حفظ و امان میں سونپا۔ جب تلک میرے دم میں دم ہے، میری آنکھوں کے سامنے رہو۔ جب میری آنکھ مند ہو جائے گی جو تمہارے جی میں آوے گا سو کیجیو، مختار ہو۔


کتنے دن پیچھے وہ بزرگ جاں بحق تسلیم ہوا۔ رو پیٹ کر تجہیز و تکفین کیا۔ بعد تیجے کے اس نازنین مبارک ڈولے کر کارواں سرا میں لے گیا اور مجھ کہا کہ یہ امانت ملک صادق کی ہے۔ خبر دار خیانت نہ کیجو اور یہ محنت مشقت برباد نہ دیجو۔ میں نے اے کاکا! ملک صادق یہاں کہاں ہے، دل نہیں مانتا میں کیونکر صبر کروں؟ جو کچھ ہو سو ہو، جیوں یا مروں، اب تو عیش کر لو۔ مبارک نے دق ہو کر ڈانٹا کہ لڑکپن نہ کرو۔ ابھی ایک دم کچھ کا کچھ ہو جاتا ہے۔ ملک صادق کو دور جانتے ہو، جو اس کا فرمانا نہیں ہو؟ اس نے چلتے وقت پہلے ہی اونچ نیچ سب سمجھا دی ہے۔ اگر اس کے کہنے پر رہو گے اور صحیح سلامت اس کو وہاں لے چلو گی تو وہ بھی بادشاہ ہے۔ شاید تمہاری محنت پر توجہ کر کے تمہوں کو بخش دے تو کیا اچھی بات ہووے۔ پیت کی پیت رہے اور میت کا میت ہاتھ لگے۔ بارے اس کے ڈرانے اور سمجھانے سے میں حیران ہو کر چپکا ہو رہا۔ دو سانڈنیاں خرید کیں اور کجاؤں پر سوار ہو کر ملک صادق کے ملک کی راہ لی۔ چلتے چلتے ایک میدان میں آواز شور غل کی آنے لگی۔ مبارک نے کہا شکر خدا ہماری محنت نیک لگی۔ یہ لشکر جنوں کا آ پہنچا۔ بارے مبارک نے ان سے مل جل کر پوچھا کہ کہاں کا ارادہ کیا ہے؟ وہ بولے کہ بادشاہ نے تمہارے استقبال کے واسطے ہمیں تعینات کیا ہے۔ اب تمہاری فرماں بردار ہیں۔ اگر کہو تو ایک میں روبرو لے چلیں، مبارک نے کہا دیکھو کس کس محنتوں سے نے بادشاہ کے حضور میں ہمیں سرخ رو کیا اب جلدی ضرور ہے؟ اگر خدانخواستہ کچھ خلل ہو جاوے تو ہمارے محنت اکارت ہو، اور جہاں پناہ کی غضبی میں پڑیں۔ سبھوں نے کہا کہ اس کے ہم تم مختار ہو۔ جس طرح جی چاہے چلو۔ اگرچہ سب طرح کا آرام تھا پر رات دن چلنے سے کام تھا۔


جب نزدیک جا پہنچے۔ میں مبارک کو سوتا دیکھ کر اس نازنین کے قدموں پر سر رکھ کر اپنے دل کی بے قراری اور ملک صادق کے سبب سے لاچاری نہایت منت و زاری سے کہنے لگا کہ جس روز سے تمہاری تصویر دیکھی ہے، خواب و خورش اور آرام میں نے اپنے اوپر حرام کیا ہے۔ اب جو خدا نے یہ دن دکھایا تو محض بے گانہ ہو رہا ہوں۔ فرمانے لگی کہ میرا بھی دل تمہاری طرف مائل ہے کہ تم نے میری خاطر کیا کیا ہرج مرج اٹھایا اور کس کس مشقتوں سے لے آئے ہو۔ خدا کو یاد کرو اور مجھے بھی بھول نہ جائیو۔ دیکھو تو پردہ غیب سے کیا ظاہر ہوتا ہے یہ کہہ کر ایسی بے اختیار دھاڑ مار کر روئی کہ ہچکی لگ گئی۔ ایدھر میرا یہ حال، ادھر اس کا وہ احوال۔ اس گفتگو میں مبارک کی نیند ٹوٹ گئی۔ وہ ہم دونوں مشتاقوں کا رونا دیکھ کر رونے لگا اور بولا کہ خاطر جمع رکھو۔ ایک روغن میرے پاس ہے اس گل بدن کے بدن میں مل دوں گا۔ اس کی بو سے ملک صادق کا جی ہٹ جائے گا۔ غالب ہے کہ تمہیں بخش دے۔


مبارک سے یہ تدبیر سنکر دل کا ڈھارس ہو گئی۔ اس کے گلے سے لگ کر لاڈ کیا اور کہا اے دادا اب تو میرا باپ کی جگہ ہے۔ تیرے باعث میری جان بچی۔ اب بھی ایس کام کر جس میں زندگانی ہو۔ نہیں تو اس غم میں مر جاؤں گا۔ اس نے ڈھیر سی تسلی دی۔ جب روز روشن ہوا آواز جنوں کی معلوم ہونے لگی دیکھا تو کئی خواص ملک صادق کے آتے ہیں۔ اور دوسری پاو بھاری ہمارے لئے لائے ہیں اور ایک چودول موتیوں کی توڑ پڑے ہوئی ان کے ساتھ ہے۔ مبارک نے اس نازنین کو وہ تیل مل دیا۔ اور پوشاک پہنا، بناؤ کروا کر ملک صادق کے پاس لے چلا۔ بادشاہ نے دیکھ کر مجھے بہت سرفراز کیا اور عزت و حرمت سے بٹھایا اور فرمانے لگا کہ تجھ سے میں ایسا سلوک کروں گا کہ کسو نے آج تک نہ کیا ہو گا۔ بادشاہت تو تیرے باپ کی موجود ہے، علاوہ اب تو میرے بیٹے کی جگہ ہو۔ یہ توجہ کی باتیں کر رہا تھا، اتنے میں وہ نازنین بھی رو برو آئی۔ اور روغن کی بو سے یک بہ یک دماغ پراگندہ ہوا اور حال بے حال ہو گیا۔ تاب اس باس کی نہ لا سکا۔ اٹھ کر باہر چلا اور ہم دونوں کو بلوایا اور مبارک کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا کہ کیوں جی، خوب شرط بجا لائے۔ میں نے خبردار کر دیا تھا کہ اگر خیانت کرو گے تو خفگی میں پڑو گی۔ یہ بو کیسی ہے اب دیکھو تمہارا کیا حال کرتا ہوں۔ بہت جزبز ہوا۔ مبارک نے مارے ڈر کے اپنا ازار بند کھول کر دکھایا کہ بادشاہ سلامت جب حضور کے حکم سے اس کام کے ہم متعین ہوئے تھے، غلام نے پہلے اپنی اپنی علامت کاٹ کر ڈبیا میں بند کر کے ربہ مہر سکرار کے خزانچی کے سپرد کر دی تھی اور ہم مرہم سلیمانی لگا کر روانہ ہوا تھا۔



مبارک سے یہ جواب سن کر تب میری طرف آنکھیں نکال کے گھور اور کہنے لگا تو یہ تیرا کام ہے اور طیش میں آ کر منہ سے برا بھلا بکنے لگا۔ اس وقت اس کے بت کہاو سے یوں معلوم ہوتا تھا کہ شاید جان سے مجھ مروا ڈالے گا۔ جب میں نے اس کے بشرے یہ وقت دریافت کیا، اپنے جی سے ہاتھ دھو کر اور جان رکھو کر سر غلاف مبارک کی کمر سے کھینچ کر ملک صادق کی توند میں ماری۔ چھری کے لگتے ہی نہوڑا اور جھوما۔ میں نے حیران ہو کر جانا کہ مقرر مر گیا۔ پھر اپنے دل میں خیال کیا کہ زخم ایسا کاری نہیں لگا۔ یہ کیا سبب ہوا؟ میں کھڑا دیکھتا تھا کہ وہ زمین پر لوٹ لاٹ گیند کی صورت بن کر آسمان کی طرف اڑ چلا۔ ایسا بلند ہوا کہ آخر نظروں سے غائب ہو گیا۔ پھر ایک پل کے بعد بجلی کی طرح کڑکتا اور غصے میں کچھ بے معنی بکتا ہوا نیچے آیا۔ اور مجھ ایک لات ماری کہ میں تیورا کر چاروں شانے چت گر پڑا اور جی ڈوب گیا۔ خدا جانے کتنی دیر میں ہوش آیا۔ آنکھیں کھول کر جو دیکھا تو ایک ایسے جنگل میں پڑا ہوں کہ جہاں سوائے کیکر اور سیٹے اور جھڑبیری کے درختوں کے کچھ اور نظر نہیں آتا۔ اب اس گھری عقل کچھ کام نہیں کرتی کہ کیا کروں اور کہاں جاؤں؟ ناامید سے ایک آہ بھر کر ایک طرف کی راہ لی۔ اگر کہیں کوئی آدمی کی صورت نظر پڑتی تو ملک صادق کا نام پوچھتا۔ وہ دیوانہ جان کر جواب دیتا تو یہ کہ ہم نے اس کا نام بھی نہیں سنا۔


ایک روز پہاڑ پر جا کر میں نے یہی ارادہ کیا کہ اپنے تئیں گرا کر ضائع کروں جو مستعد گرنے کا ہوا، وہی سوار صاحب ذوالفقار برقع پوش آ پہنچا اور بولا کہ کیوں تو اپنی جان کھوتا ہے؟ آدمی پر دکھ درد سے ہوتا ہے۔ اب تیری برے دن گئے اور بھلے دن آئے۔ جلد روم کو جا۔ تین شخص ایسی ہی آگے گئے ہیں۔ اس سے ملاقات کر اور وہاں کے شیطان سے مل۔ تم پانچوں کا مطلب ایک ہی جگہ ملے گا۔


اس فقیر کی سیر کا یہ ماجرا ہے، جو عرض کیا۔ بارے بشارت سے اپنے مولا مشکل کشا کی مرشدوں کی حضور میں آ پہنچا ہوں اور بادشاہ ظل اللہ کی بھی ملازمت حاصل ہوئی چاہیے کہ اب سب کی خاطر جمع ہو۔


یہ باتیں چار درویش اور بادشاہ آزاد بخت میں ہو رہی تھی کہ اتنے میں ایک محل بادشاہ کے محل میں سے دوڑتا ہوا آیا اور مبارک باد کی تسلیمیں بادشاہ کے حضور بجا لایا اور عرض کی کہ اس وقت شاہ زادہ پیدا ہوا کہ آفتاب و مہتاب اس کے حسن کے روبرو شرمندہ ہیں۔ بادشاہ نے متعجب ہو کر پوچھا کہ ظاہر میں تو کسو کو حمل نہ تھا۔ یہ آفتاب کس برج حمل سے نمود ہوا؟ اس نے التماس کیا کہ ماہ رو خواص جو بہت دنوں سے غضب بادشاہی میں پڑی تھی بے کسوں کی مانند ایک کونے میں رہتی تھی۔ اور مارے ڈر کے اس کے نزدیک کوئی نہ جاتا نہ احوال پوچھتا تھا اس پر یہ فضل الٰہی ہوا کہ چاند سا بیٹا اس کے پیٹ سے پیدا ہوا۔ بادشاہ کو ایسی خوشی حاصل ہوئی کہ شاید شادی مرگ ہو جائے۔ چاروں فقیر نے بھی دعا دی کہ بھلا بابا تیرا گھر آباد رہے اور اس کا قدم مبارک ہے۔ تیرے سائے کے تلے بوڑھا بڑا ہو۔ بادشاہ نے کہا یہ تمہارے قدم کی برکت ہے۔ والا تو اپنے سان گمان میں بھی یہ بات نہ تھی۔ اجازت ہو تو جا کر دیکھوں درویشوں نے کہا بسم اللہ سدھاریے بادشاہ محل میں تشریف لے گئے، شہزادے کو گود میں لیا اور شکر پروردگار کی جناب میں کیا کلیجہ ٹھنڈا ہوا وونہیں چھاتی سے لگائے ہوئے لا کر فقیروں کے قدموں پر ڈالا۔ درویشوں نے دعائیں پڑھ کر جھاڑ کر پھونک دیا۔ بادشاہ نے جشن کی تیاری کی۔ دہری نوبتیں چھڑنے لگیں۔ خزانے کا منہ کھول دیا۔ داد دہش سے ایک کوڑی کے محتاج کو لکھ پتی کر دیا۔ ارکان دولت جتنے تھے۔ سب کو دوچند جاگیر و منصب کے فرمان ہو گئے۔ جتنا لشکر تھا، انہیں پانچ برس کی طلب انعام ہوئی۔ مشائخ اور اکابر کو مدد معاش اور المعنا عنایت ہوا، بے نواؤں کے میتے اور ٹکڑ گداؤں کے چملے اشرفی اور روپیوں کی کھچڑی سے بھر دیئے، اور تین برس کا خزانہ رعیت کو معاف کیا کہ جو کچھ بوویں جوتیں، دونوں حصے اپنے گھروں میں اٹھا لے جائیں۔ تمام شہر میں ہزاری بزاری کے گھروں میں جہاں دیکھوں وہاں تھئی تھئی ناچ ہو رہا ہے، مارے خوشی کے ہر ایک ادنی اعلی بادشاہ وقت بن بیٹھا۔ عین شادی میں ایک بارگی اندرون محل سے رونے پیٹنے کا غل اٹھا۔ خواصیں اور ترکنیاں اور اردا بیگساں اور محلی، خوجے سر میں خاک ڈالتے ہوئے باہر نکل آئے اور بادشاہ سے کہا کہ جس وقت شہزادے کو نہلا دھلا کر دائی کی گود میں دیا ایک ابر کا ٹکڑا آیا اور دائی کو گھیر لیا۔ بعد ایک دم کے دیکھیں تو انگا بے ہوش پڑی ہے اور شہزادہ غائب ہو گیا۔ یہ کیا قیامت ٹوٹی! بادشاہ تعجبات سن کر حیران ہو رہا اور تمام ملک میں واویلا پڑی۔ دو دن تلک کسو کے گھر میں ہانڈی نہ چڑھی۔ شہزادے کا غم کھاتے اور اپنا لہو پیتے تھے۔
 

Doctor

 
Team Leader
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
1,600
Likes
1,966
Points
492
Location
Rawalpindi
#42
غرض زندگی سے لاچار تھے جو اس طرح جیتے تھے۔ جب تیسرا دن ہوا، وہی بادل کھول کر پڑھا تو شقے کا تھا۔ یہی دو سطریں لکھی تھیں کہ ہمیں بھی اپنا مشتاق جانیئے، سواری کے لئے تخت جاتا ہے۔ اس وقت اگر تشریف لایئے تو بہتر ہے۔ باہم ملاقات ہو۔ سب اسباب عیش و طرب کا مہیا ہے صاحب ہی کی جگہ خالی ہے، بادشاہ آزاد بخت درویشوں کو ہمراہ لے کر تخت پر بیٹھے۔ وہ تخت حضرت سلیمان کے تخت کے مانند ہوا چلا۔ رفتہ رفتہ ایسے مکان پر جا اترے کہ عمارت عالی شان اور تیاری کا سامان نظر آتا ہے لیکن معلوم نہیں ہوتا کہ یہاں کوئی ہے یا نہیں۔ اتنے میں کسو نے ایک ایک سلائی سلیمانی سرمے کی ان پانچوں کی آنکھوں میں پھیر دی۔ دو دو بوندیں آنسو کی ٹپک پڑیں۔ پریوں کا اکھاڑا دیکھا کہ استقبال کی خاطر گلاب پاشیں لئے ہوئے اور رنگ برنگ کے جوڑے پہنے ہوئے کھڑا ہے۔ آزاد بخت آگے چلے تو وہ رویہ ہزاروں پری زاد مودب کھڑے ہیں اور صدر میں ایک ایک تخت زمرد کا دھرا ہے۔ اس پر ملک شہبال شاہ رخ کا بیٹا تکیے لگائے بڑے تزک سے بیٹھا ہے اور ایک پری زاد لڑکی رو برو بیٹھی شہزادہ بختیار کے ساتھ کھیل رہی ہے اور دونوں بغل میں کرسیاں اور صندلیاں قرینے سے بچھی ہیں۔ ان پر عمدہ زاد بیٹھے ہیں۔ ملک شہبال بادشاہ کو دیکھتے ہی سروقد اٹھا اور تخت سے اتر کر بغل گیر ہوا اور ہاتھ میں ہاتھ پکڑے اپنے برابر تخت پر لا بٹھایا اور بڑے تپاک اور کرم جوشی سے باہم گفتگو ہونے لگی۔ تمام دن ہنسی خوشی، کھانے اور میوے اور خشبوؤں کی ضیافت رہی اور راگ رنگ سنا کئے دوسرے دن پھر دونوں بادشاہ جمع ہوئے۔ شہبال نے بادشاہ سے درویشوں کے ساتھ لانے کی کیفیت پوچھی۔

بادشاہ نے چاروں بے نواؤں کا ماجرا جو سنا تھا مفصل بیان کیا۔ اور سفارش کی اور مدد چاہی کہ انہوں نے محنت اور مصیبت کھینچی ہے۔ اب صاحب کی توجہ سے اگر اپنے اپنے مقصد کو پہنچیں تو ثواب عظیم ہے۔ اور یہ مخلص بھی تمام عمر شکر گزار رہے گا۔ آپ کی نظر توجہ سے ان سب کا بیڑا پار ہوتا ہے۔ ملک شہبال نے سن کر کہا پھر آیا اور ایک پنگھولا جڑاؤ موتیوں کی توڑ پڑے ہوئی لایا۔ اسے محل میں رکھ کر آپ ہوا ہوا لوگوں نے شہزادے کو اس میں انگوٹھا چوستے ہوئے پایا۔ بادشاہ بیگم نے جلدی بلائیں لے ہاتھوں میں اٹھا کر چھاتی سے لگا لیا۔ دیکھا تو کرتا آب رواں کا موتیوں کا درد امن ٹکا ہوا گلے میں ہے اور اس پر شلوکا تمامی کا پہنایا ہے، اور ہاتھ پاؤں میں کھڑدے مرصع کے اور گلے میں ہیکل نورتن کی پڑی ہے جھنجھنا، چسنی، چٹے پٹے جڑاؤ دھرے ہیں۔ سب مارے خوشی کے واری پھری ہونے لگیں اور دعائیں دینے لگیں کہ تیری ماں کا پیٹ ٹھنڈا رہے اور تو بوڑھا آڑھا ہو۔


بادشاہ نے ایک بڑا محل تعمیر کروا کر اور فرش بچھوا اس میں درویشوں کو رکھا جب سلطنت کے کام سے فراغت ہوئی تب آ بیٹھے اور سب طرح سے خدمت اور خبر گیری کرتے۔ لیکن ہر چاند کی نو چندی جمعرات کو وہی پارہ ابر آتا اور شہزادے کو لے جاتا۔ بعد دو دن کے تحفہ کھلونے اور سوغاتیں ہر ایک ملک کی اور ہر ایک قسم کے شہزادے کے ساتھ لے آتا۔ جن کے دیکھنے سے عقل انسان کی حیران ہو جاتی۔ اسی قاعدے سے بادشاہ زادے نے خیریت سے ساتویں برس میں پاؤں دیا۔ عین سالگرہ کے روز بادشاہ آزاد بخت نے فقیروں سے کہا کہ سائیں اللہ! کچھ معلوم نہیں ہوتا کہ شہزادے کو کون لے جاتا ہے اور پھر دے جاتا ہے؟ بڑا تعجب ہے دیکھئے انجام اس کا کیا ہوتا ہے؟ درویشوں نے کہا ایک کام کرو ایک شقہ شوقیہ اس مضمون کا لکھ کر شہزادے کے گہوارے میں رکھ دو کہ تمہاری مہربانی اور محبت دیکھ کر اپنا بھی دل مشتاق ملاقات کا ہوا ہے۔ اگر دوستی کی راہ سے اپنے احوال کی اطلاع دیجئے تو خاطر جمع ہو اور حیرانی بالکل رفع ہو۔ بادشاہ نے موافق اصلاح درویشوں کے افشانی کاغذ پر ایک رقعہ اسی عبارت کا رقم کیا اور مہد زریں میں رکھ دیا۔


شہزادہ بہ موجب قاعدہ قدیم کے غائب ہوا۔ جب شام ہوئی آزاد بخت درویشوں کے بستروں پر آ بیٹھے اور کلمہ کلام ہونے لگا۔ ایک کاغذ لپٹا ہوا بادشاہ کے پاس آ پڑا۔


بہ سرو چشم، میں تمہارے فرمانے سے قاصر نہیں۔ یہ کہہ کر نگاہ کرم سے دیوؤں اور پریوں کی طرف دیکھا اور بڑے بڑے جن جو جہاں سردفار تھے، ان کو نامے لکھی کہ اس فرمان کو دیکھتے ہی اپنے تئیں حضور پر نور میں حاضر کرو۔ اگر کسی کے آنے میں توقف ہو گا تو اپنی سزا پاوے گا اور پکڑا ہوا آوے گا۔ اور آدم زاد خواہ عورت، خواہ مرد جس کے پاس ہو اسے اپنے ساتھ لئے آوے۔ اگر کوئی پوشیدہ کر رکھے گا اور ٹافی الحال ظاہر ہو گا تو اس کا زن و بچہ کولہو میں پیڑا جائے گا اور اس کا نام نشان باقی نہ رہے گا۔


یہ حکم نامہ لے کر دیو چاروں طرف متعین ہوئے۔ یہاں دونوں بادشاہ میں صحبت گرم ہوئی اور باتیں اختلاط کی ہونے لگیں۔ اس میں ملک شہبال درویشوں سے مخاطب ہو کر بولا کہ اپنے تئیں بھی بڑی آرزو لڑکے ہونے کی تھی اور دل میں عہد کیا تھا کہ اگر خدا بیٹا دے یا بیٹی تو اس کی شادی بنی آدم کے بادشاہ کے یہاں جو لڑکا پیدا ہو گا۔ اس سے کروں گا۔ اس نیت کرنے کے بعد معلوم ہوا کہ بادشاہ کے بیگم پیٹ سے ہیں۔ بارے دن اور گھڑیاں اور مہینے گنتے گنتے پورے دن ہوئے اور یہ لڑکی پیدا ہوئی موافق وعدے کے تلاش کرنے کے واسطے عالم جنیات کو میں نے حکم کیا کہ چار دانگ دنیا میں جستجو کرو۔ جس بادشاہ یا شہنشاہ کے یہاں فرزند پیدا ہوا ہو، اس کو بہ جنس احتیاط سے جلد اٹھا کر لے آؤ۔ وونہیں بہ موجب فرمان کے پری زاد چاروں سمت پراگندہ ہوئے۔ بعد دیر کے اس شہزادہ کو میرے پاس لے آئے۔ میں نے شکر خدا کا کیا اور اپنی گود میں لے لیا۔ اپنی بیٹھی سے زیادہ اس کی محبت میرے دل میں پیدا ہوئی۔ جی نہیں چاہتا کہ ایک دم نظروں سے جدا کروں۔ لیکن اس خاطر بھیج دیتا ہوں کہ اگر اس کے ماں باپ نہ دیکھیں گے تو ان کا کیا احوال ہو گا۔ لہٰذا ہر مہینے میں ایک بار منگا لیتا ہوں۔ کئی دن اپنے نزدیک رکھ کر پھر بھیج دیتا ہوں۔ انشا اللہ تعالیٰ اب ہمارے تمہارے ملاقات ہوئی۔ اس کی کتخدائی کر دیتا ہوں۔ موت حیات سب کو لگی پڑی ہے۔ بھلا جیتے جی اس کا سہرا دیکھ لیں۔
 

Doctor

 
Team Leader
Most Popular
Top Poster
Dynamic Brigade
Developer
Expert
Teacher
Writer
Joined
Apr 25, 2018
Messages
1,600
Likes
1,966
Points
492
Location
Rawalpindi
#43
بادشاہ آزاد بخت یہ باتیں ملک شہبال کی سن کر اور اس کی خوبیاں دیکھ کر نہایت محظوظ ہوئے اور بولے۔ پہلے ہم کو شہزادے کے غائب ہو جانے اور پھر آنے سے عجب عجب طرح کے خطرے دل میں آتے تھے۔ لیکن اب صاحب کی گفتگو سے تسلی ہوئی۔ یہ بیٹا اب تمہارا ہے۔ جس میں تمہاری خوشی ہو سی کیجئے۔ غرض دونوں بادشاہوں کی صحبت مانند شکر شیر کے رہتی اور عیش کرتے۔ دس پانچ کے عرصے میں بڑے بڑے بادشاہ گلستان ارم کے اور کوہستان کے اور جزیروں کے، جن کے طلب کی خاطر لوگ تعینات ہوئے تھے، سب آ کر حضور میں حاضر ہوئے۔ پہلے ملک صادق سے فرمایا کہ تیرے اس جو آدم زاد ہے حاضر کر۔ اس نے نپٹ غم و غصہ کھا کر لاچار اس گل عذار کو حاضر کیا۔ اور ولایت عمان کے بادشاہ سے زادی جن کی جس کے واسطے شہزادہ ملک نیم روز کا گاؤ سوار ہو کر سودائی بنا تھا، مانگی اس نے بہت سی عذر معذرت کر کے حاضر کی۔ جب بادشاہ فرنگ کی بیٹی اور بہزاد خان کو طلب کیا سب منکر پاک ہوئے اور حضرت سلیمان کی قسم کھانے لگے۔ آخر دریائے قلزم کے بادشاہ سب جب پوچھنے کو نوبت آئی تو وہ سر نیچا کر کے چپ ہو رہا۔ ملک شہبال نے اس کی خاطر کی اور قسم دی اور امیدوار سرفرازی کا کیا اور کچھ دھونس دھڑکا بھی دیا۔ تب وہ بھی ہاتھ جوڑ کر عرض کرنے لگا کہ بادشاہ سلامت حقیقت یہ ہے کہ جب بادشاہ اپنے بیٹے کے استقبال کی خاطر درپا پر آیا اور شہزادے نے مارے جلدی کے گھوڑا دریا میں ڈالا۔ اتفاقا میں اس روز سیر و شکار کی خاطر نکلا تھا۔ اس جگہ میرا گزر ہوا۔ سواری کھڑی کر کے یہ تماشا دیکھ رہا تھا۔ اس میں شہزادی کو بھی گھوڑی دریا میں لے گئی۔ میری نگاہ جو اس پر پڑی، دل بے اختیار ہوا۔ پری زادوں کو حکم کیا کہ شہزادی کو مع گھوڑی لے آؤ۔ اس کے پیچھے بہزاد خان نے گھوڑا پھینکا۔ جب وہ غوطے کھانے لگا۔ اس کی دلاوری اور مردانگی پسند آئی۔ اس کو بھی ہاتھوں ہاتھ پکڑ لیا۔ ان دونوں کو لیکر میں نے سواری پھیری۔ سو وہ دونوں صحیح سلامت میرے پاس موجود ہیں۔


یہ احوال کہہ کر دونوں کو روبرو بلایا۔ اور سلطان شام کی شہزادی کی تلاش بہت کی اور سبھوں سے بہ سختی و ملائمت استفسار کیا لیکن کسو نے حامی نہ بھوری اور نہ نام و نشان بتایا۔ تب ملک شہبال نے فرمایا، کہ کوئی بادشاہ یا سردار غیر حاضر بھی ہے یا سب آ چکے؟ جنوں نے عرض کی کہ جہاں پناہ سب حضور میں آئے ہیں، مگر ایک مسلسل جادوگر جس نے کوہ قاف کے پردے میں ایک قلعہ جادو کے علم سے بنایا ہے وہ اپنے غرور سے نہیں آیا ہے۔ اور ہم غلاموں کو طاقت نہیں جو بہ زور اس کو پکڑ لاویں وہ بڑا قلب مکان ہے اور خود بھی بڑا شیطان ہے۔


یہ سن کر ملک کو طیش آیا اور لڑکی فوج جنوں اور عفریتوں اور پری زادوں کی تعینات کی اور فرمایا۔ اگر راستے میں اس شہزادی کو ساتھ لیکر حاضر ہو۔ فبہا والانہ، اس کو زیر و زیر کر کے مشکیں باندھ کر لے آؤ۔ اور اس کے گڑھ اور ملک کو نیست و نابود کر کے گدھے کا ہل پھروا دو۔ وونہیں حکم ہوتے ہی ایسی کتنی فوج روانہ ہوئی کہ ایک آدھ دن کے عرصے میں ویسے جوش خروش والے سرکش کو حلقہ بگوش کر کے پکڑ لائے اور حضور میں دست بستہ کھڑا کیا۔ ملک شہبال نے ہر چند سرزش کر کر پوچھا لیکن اس مغرور نے سوائے ناں کے ہاں نہ کی۔ نہایت غصے ہو کر فرمایا کہ اس مردود کے بند بند جدا کرو اور کھال کھینچ کر کر بھس بھرو۔ اور پری زاد کے لشکر کو تعین کیا کہ کوہ قاف میں جا کر ڈھونڈ ڈھانڈھ کر پیدا کرو۔ وہ لشکر متغیہ، شہزادی کو بھی تلاش کر کے لے آیا۔ اور حضور میں پہنچایا۔ اس سب اسیروں نے اور چاروں فقیروں نے ملک شہبال کا حکم اور انصاف دیکھ کر دعائیں دیں اور شاد ہوئے۔ بادشاہ آزاد بخت بھی بہت خوش ہوا۔ تب ملک شہبال نے فرمایا کہ مردوں کو دیوان خاص میں اور عورتوں کو بادشاہی محل میں داخل کرو اور شہر میں آئینہ بندی کا حکم کرو اور شادی کی تیاری جلدی کرو۔ گویا حکم کی دیر تھی۔


ایک روز نیک ساعت مبارک مہورت دیکھ کر شہزادہ بختیار کا عقد اپنی بیٹی روشن اختر سے باندھا اور خواجہ یمن کی دمشق کی شہزادی سے بیاہا۔ اور ملک فارس کے شہزادے کا نکاح بصرے کی شہزادی سے کر دیا۔ اور عجم کے بادشاہ زادے کے فرنگ کی ملک سے منسوب کیا، اور نیم روز کے بادشاہ کی بیٹی کو بہزاد خان کو دیا۔ اور شہزادہ نیم روز کو جن کی شہزادی کے حوالے کی اور چین کے شہزادے کو اس پیر مرد عجمی کی بیٹی سے، جو ملک صادق کے قبضے میں تھی، کتخدا کیا۔ مگر ایک نامراد بدولت ملک شہبال کے اپنے اپنے مقصد اور مراد کو پہنچا۔ بعد اس کے چالیس دن تلک جشن فرمایا اور عیش و عشرت میں رات دن مشغول رہے۔ آخر ملک شہبال نے ہر ایک بادشاہ زادے کو تحفے و خاطر سوغاتیں اور مال اسباب دے دے کر اپنے اپنے وطن کو رخصت کیا۔ سب بہ خوشی بہزاد خان اور خواجہ زادہ یمن کا اپنی خوشی سے بادشاہ آزاد بخت کی رفاقت میں رہے، یعنی بختیار کی فوج کا کیا۔ جب تلک جیتے رہے، عیش کرتے رہے الٰہی! جس طرح ہر ایک نامراد کا مقصد دلی اپنے کرم اور فضل سے برلا۔ بہ طفیل پنج تن پاک، دوازادہ امام چہاردہ معصوم علیہم الصلوۃ والسلام کے۔ آمین یا الٰہ العالمین۔
 
Top